Tafseer-e-Majidi - Saad : 86
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے اس (قرآن) پر کوئی بھی معاوضہ نہیں چاہتا ہوں اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں،73۔
73۔ (کہ اپنی عادت تصنع کے مطابق جھوٹا دعوئے نبوت کررہا ہے) جھوٹے دعوئے نبوت کے محرک دو ہی ممکن تھے، یا جاہ ومال کے قسم سے کسی معاوضہ کا خیال تو اس کی نفی (آیت) ” مااسئلکم علیہ من اجر “۔ میں آگئی۔ اور یا محض عادت یا اقتضاء طبعی۔ سو اس کی نفی (آیت) ” وما انا من المتکلفین “۔ سے ہورہی ہے۔
Top