Tafseer-e-Mazhari - Al-Faatiha : 1
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بِ : سے     اسْمِ : نام     اللّٰهِ : اللہ     ال : جو     رَحْمٰنِ : بہت مہربان     الرَّحِيمِ : جو رحم کرنے والا
شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
( سورة الفاتحہ ) یہ سورة مکی و مدنی ہے وجہ تسمیہ سورة الحمد شریف کا نام ” فاتحۃ الکتاب “ اور ” امّ القرآن “ اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ سورة قرآن مجید کی اصل ہے قرآن اسی سے شروع ہوتا ہے اور اسی سورت کو سبع مثانی کہتے ہیں کیونکہ اس کی بالاتفاق سات آیتیں ہیں اور نماز میں مکرر پڑھی جاتی ہیں ‘ یا اس لیے مثانی کہا گیا ہے کہ ایک بار مکہ میں نازل ہوئی ہے اور ایک بار مدینہ میں، زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ سورة فاتحہ مکی ہے اور سورة حجر سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ ابن جریر نے بحوالہ حضرت ابوہریرہ بیان کیا کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا سورة فاتحہ یعنی الحمد امّ القرآن ہے۔ ” فاتحۃ الکتاب “ ہے ‘ سبع مثانی ہے انتہیٰ ۔ سورة الحمد کا نام سورة الکنز بھی ہے۔ اسحاق بن راہویہ نے حضرت علی (رض) کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ یہ سورت اس خزانہ سے نازل ہوئی ہے جو عرش کے نیچے ہے اس سورت کا نام سورة شفاء بھی ہے چناچہ ہم اس کے فضائل میں عنقریب ذکر کریں گے کہ یہ ہر بیماری کے لیے شفا ہے۔ بسم اللہ ( شروع کرتا ہوں میں ساتھ نام اللہ) میں لفظ اسم کا الف کثرت استعمال کے باعث ساقط ہوگیا ہے اور اس کے بدلے ب لمبی لکھی جاتی ہے۔ امام بغوی نے عمربن عبد العزیز کا قول نقل کیا ہے کہ لوگو ب کو دراز لکھو اور اس کو اچھی طرح ظاہر کرو اور م کو گول لکھاکرو اس میں کتاب اللہ کی تعظیم ہے۔ اسم۔ سمو سے مشتق ہے نہ کہ وسم سے کیونکہ سُمّیٌ اور سُمَیَّۃ اس کی دلیل ہیں۔ (١) [ عربی زبان کا عام ضابطہ ہے کہ کسی لفظ کے مادہ کے اصلی حروف تصغیر میں ظاہر کردیئے جاتے ہیں اس قاعدہ کے موافق اگر اسم کی اصل سموٌ نہ قرار دی جائے بلکہ وسم قرار دی جائے تو تصغیر میں وُسَیْمٌ اور وُسَیْمَۃٌ ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے بلکہ اسم کے تصغیر سُمَیٌّ اور سُمَیَّۃٌ آتی ہے معلوم ہوا کہ اسم کی اصل سموٌ تھی اور سموٌ کی سمیٌّ اور سُمَیَّۃ قاعدہ کے مطابق ہے۔] اور حرف ب مصاحبت یا استعانت یا تبرک کے لیے ہے اور استعانت اللہ کے ذکر سے ہوا کرتی ہے اور یہ ب اس فعل سے متعلق ہے جو الرَّحیم کے بعد مقدر ہے ٢ ؂ جیسے بِسْمِ اللّٰہِ مَجْریْھَا وَ مُرْسٰھَا میں اور یہ بات محقق ہے کہ ابتداء بسم اللہ ہی سے ہونی چاہئے۔ عبد القادر الرہاوی نے اربعین میں حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو بڑا کام بسم اللہ سے شروع نہ ہو وہ نا تمام رہے گا۔ ( بسم اللہ کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کے نام سے پڑھنا شروع کرتا ہوں) لفظ اللہ بعض قول کے مطابق اسم جامد ہے اور حق یہ ہے کہ الٰہ بمعنی معبود سے مشتق ہے ہمزہ حذف کرکے الف لام اس کے عوض لا یا گیا ہے اور چونکہ یہ عوض بطور لزوم ہے اس لیے یا اللہ کہنا جائز ہوگیا۔ کیونکہ اشتقاق کے معنی ہی یہ ہیں کہ دو لفظ معنی اور ترکیب میں مشترک ہوں۔ پھر یہ لفظ اس ذات واجب الوجود کا عَلَم ہوگیا ہے جو مستجمع کمالات اور رذائل سے پاک ہے اور اس لیے یہ لفظ خود موصوف ہوا کرتا ہے۔ کسی اور لفظ کی صفت واقع نہیں ہوتا اور ( اظہار) توحید کے وقت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہا جاتا ہے اور کبھی اس کا اطلاق اصل معنی پر ہوتا ہے فرمایا : وَ ھُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ ۔ (آسمانوں اور زمینوں میں صرف وہی معبود ہے) الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ( بخشش کرنے والے مہربان کے) یہ دونوں لفظ رَحْمَۃ سے مشتق ہیں اور رحمت رقت قلب (دِل کی نرمی) کو کہتے ہیں جس کا مقتضٰی فضل و احسان ہے مگر یہ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء صفات میں مبادی و الفاظ کا لحاظ نہیں ہے بلکہ غایت و معانی کا لحاظ رکھا گیا ہے ( رحمت کا انجام احسان ہے۔ انجام کو غایات کہتے ہیں اور آغاز کو مبادی) اور یہ ظاہر ہے کہ مبادی انفعالات ہوا کرتے ہیں ( اور انفعالات سے اللہ تعالیٰ منزہ ہے) بعض کا قول ہے کہ یہ دونوں ہم معنی لفظ مبالغہ کے صیغے ہیں اور حق یہ ہے کہ رحمن میں زیادتی لفظ کے باعث رحیم کی نسبت مبالغہ زیادہ تر ہے۔ اسی لیے لفظ رحیم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص نہیں ہوا (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : کی نسبت بالمؤمنین رؤف رحیم موجود ہے اور رحمن صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے ) ۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ دونوں اسم مہربانی پر دال ہیں اور ایک دوسرے کی نسبت زیادتی اور مبالغہ پایا جاتا ہے پھر یہ زیادتی کبھی مقدار ( کمی بیشی) کے لحاظ سے ہوتی ہے ( یعنی رحمت سے فائدہ اٹھانے والے زیادہ ہوتے ہیں) اس اعتبار سے اللہ کو رَحْمٰنُ الدنیا وَ رَحِیْمُ الْاٰخِرَۃ کہتے ہیں کیونکہ رحمت آخرت میں صرف پرہیزگاروں کا حصہ (٢) [ یعنی آخرت میں رحمت سے فائدہ اٹھانے والے صرف مومن ہوں گے اور دنیا میں سب ہی لوگ تمتع اندوز ہیں۔ مومن بھی اور کافر بھی۔] ہے اور کبھی یہ زیادتی محض کیفیت کے لحاظ سے ہوتی ہے اس لحاظ سے اللہ کو رحمن الدنیا والاخرۃ و رحیم الدنیا کہتے ہیں کیونکہ آخرت کی تمام نعمتیں بیش قیمت ہیں اور دنیا کی بعض نعمتیں حقیر ہیں اور بعض جلیل القدر چونکہ لفظ رحمن اعلام کی طرح اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اس لیے لفظ رحیم پر مقدم رکھا گیا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ رحمت کو تقدم زمانی حاصل ہے اور عموم رحمت دنیا میں مقدم ہے۔ قراء مدینہ و بصرہ اور ابوحنیفہ وغیرہ فقہاء کوفہ کا یہ مذہب ہے کہ بسم اللہ نہ سورة فاتحہ کا جز ہے نہ اور کسی سورت کا بلکہ تبرکاً ( یا دو سورتوں کو جدا کرنے کے لیے) ہر سورت کا آغاز اس سے ہوا ہے پھر بعض کا قول ہے کہ بسم اللہ قرآن ہی میں داخل نہیں مگر حق یہ ہے کہ بسم اللہ ضرور داخل قرآن ہے ( دو سورتوں میں) فاصلہ کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے حاکم نے شیخین کی شرطوں پر اس روایت کی تصحیح کی ہے کہ عبد اللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو سورتوں کا فاصلہ معلوم نہ فرماتے تھے یہاں تک کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نازل ہوئی۔ ابو داؤد نے اس حدیث کو مرسلاً روایت کرکے لکھا ہے کہ اس کا مرسل ہونا اصح ہے۔ امام محمد بن حسن سے بسم اللہ کی بابت سوال ہوا تو فرمایا جو کچھ دونوں گتوں میں ہے سب قرآن مجید ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بسم اللہ اگر داخل قرآن نہ ہوتی تو لکھنے والے باوجود قرآن میں مبالغہ تجرید (٣) [ بعض مؤلفین کا قاعدہ تھا کہ جو لفظ قرآن مجید کا جز نہ ہوتا اس کو قرآنی عبارت کے ساتھ اس طرح نہیں لکھتے تھے کہ سطحی نظر والے کو وہ قرآن کی آیت کا جزء معلوم ہونے لگے اس لیے ” ولا الضالین “ کے بعد ” اٰمین “ نہیں لکھی جاتی تھی اگرچہ سورة فاتحہ ختم کرنے کے بعد اٰمین کہنا مسنون ہے اور تمام علماء سلف قرآن فاتحہ کے بعد آمین ضرور کہتے تھے لیکن قرآن میں لکھتے نہ تھے تاکہ جزء قرآن ہونے کا دھوکہ نہ ہو۔] کے اسے ہر سورت سے پہلے نہ لکھتے جیسا کہ لفظ اٰمین کو نہیں لکھا اور بسم اللہ کے جز فاتحہ نہ ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے جو بخاری و مسلم میں حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق اور جناب عمر فاروق (رض) کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں۔ ان میں سے کسی نے بسم اللہ کو بلند آواز سے نہیں پڑھا۔ اور دوسری دلیل ابوہریرہ کی یہ حدیث ہے۔ قَسَّمْتُ الصَّلٰوۃَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ عَبْدِی نِصْفَیْنِ ( میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندہ کے مابین آدھوں آدھ تقسیم کردیا ہے) اس حدیث کو ہم فضائل میں عنقریب بیان کریں گے۔ تیسری دلیل وہ حدیث ہے جو احمد نے عبد اللہ بن مغفل سے روایت کی ہے کہ مجھ کو میرے باپ نے نماز میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ الحمد اللہ رب العالمین بلند آواز سے پڑھتے سنا اور بعد فراغ کہا بیٹے ! اسلام میں بدعت اور نئی بات پیدا کرنے سے احتراز کر، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) وعمر (رض) و عثمان (رض) کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں یہ تو قرأت کو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع نہ کرتے تھے اور میں نے نہیں دیکھا کہ ان سے زیادہ کوئی بدعت کا دشمن ہو۔ ترمذی نے اس روایت میں یہ لفظ کہے ہیں کہ میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر اور عمر اور عثمان کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور کسی کو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھتے نہیں سنا قراء مکہ اور کوفہ اور اکثر فقہاء حجاز اس طرف گئے ہیں کہ بسم اللہ سورة فاتحہ کے سوا اور کسی سورت کا جز نہیں ہے بلکہ دیگر سورتوں میں فصل کے لیے لکھ دی گئی ہے کیونکہ حاکم نے سند صحیح کے ساتھ وَلَقَدْ اٰتَیْنَاکَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِی وَ الْقُرانَ الْعَظِیْمَ کی تفسیر میں سعید بن جبیر کی یہ روایت بیان کی ہے کہ سبع مثانی ام القرآن سورة فاتحہ ہے اور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اس کی ساتویں آیت ہے عبد اللہ بن عباس (رض) نے اس کو اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے پڑھا اور پھر یہ فرمایا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ساتویں آیت ہے۔ دوسری دلیل ترمذی کی حدیث ہے جو ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی نماز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے شروع کیا کرتے تھے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں پہلی حدیث میں ابن عباس کا یہ قول کہ بسم اللہ ساتویں آیت ہے فقط ابن عباس کا گمان ہے مرفوع حدیث نہیں اور ترمذی کی حدیث باعتبار اسناد قوی نہیں۔ ایک گروہ کا یہ قول ہے کہ بسم اللہ سورة توبہ کے سوا سورة فاتحہ اور دیگر تمام قرآنی سورتوں کا جزء ہے۔ سفیان ثوری ‘ ابن مبارک اور شافعی اسی طرف گئے ہیں کیونکہ بسم اللہ قرآن میں ہر جگہ اسی خط سے لکھی گئی ہے جس خط سے تمام قرآن لکھا گیا ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں کہ یہ تو اس بات کی دلیل ہے کہ بسم اللہ داخل قرآن ہے نہ کہ اس بات کی کہ وہ ہر سورت کا جزء ہے اور یہ کیونکر ہوسکتا ہے حالانکہ صحیح حدیث ہے کہ جناب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورة ملک کی بابت فرمایا ہے سورة من القرآن ثلٰثون [ الایۃ ] (سورۂ ملک تیس آیتوں کی ہے) اس کو ہم اپنے موقع پر انشاء اللہ تعالیٰ مفصل بیان کریں گے۔ یہاں اس قدر کہنا کافی ہے کہ سورة ملک کی آیتیں گننے والوں نے اتفاق کیا ہے کہ اس سورت میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کو الگ کرکے تیس آیتیں ہیں۔
Top