Tafseer-e-Mazhari - Al-Faatiha : 2
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
الْحَمْدُ : تمام تعریفیں     لِلّٰہِ : اللہ کے لیے     رَبِّ : رب     الْعَالَمِينَ : تمام جہان
سب طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہے
اَلْحَمْدُ ( سب تعریف) کسی اختیاری خوبی پر زبان سے تعریف کرنے کو حمد کہتے ہیں۔ خواہ ( اس میں) نعمت کی خصوصیت ہو یا نہ ہو۔ اس لیے حمد با عتبار متعلق شکر کی نسبت عام ہے کیونکہ شکر نعمت کے ساتھ مخصوص ہے اور باعتبار مورد کے خاص ہے (ادائیگی کے اعتبار سے شکر سے خاص ہے ‘ ١٢) کیونکہ شکر زبان و دل اور دیگر تمام اعضاء سے صادر ہوسکتا ہے ( اور حمد صرف زبان سے خصوصیت رکھتی ہے) اسی لیے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : (الحمد رأس الشکر بما شکر اللہ عبد لا یحمدہ ‘ ١٢) کہ حمد شکر کی اصل ہے جس شخص نے خدا کی حمد نہ کی اس نے ذرا بھی شکر نہ کیا۔ اس حدیث کو عبدالرزاق نے بروایت قتادہ اور انہوں نے بروایت عبد اللہ بن عمر بیان کیا ہے اور مدح حمد کی نسبت عام ہے کیونکہ مدح صرف خوبی پر ہوا کرتی ہے (اس کا اختیاری یا غیر اختیاری ہونا ضروری نہیں) الحمد میں لام تعریف یا تو جنس کے لیے ہے اور حمد کے اس مضمون کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جسے ہر شخص جانتا ہے یا استغراقی ہے کیونکہ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے وہ افعال عباد کا خالق ہے خود فرماتا ہے : و ما بکم من نعمۃ فمن اللہ ( لوگو ! تم کو جو کچھ نعمت ملی ہے خدا ہی کی طرف سے ہے) اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ و قادر ‘ ارادہ کا مالک اور عالم ہے اس لیے ہر طرح کی حمد کا مستحق ہے۔ لِلّٰهِ ( اللہ کو ہے) اس میں لام اختصاص کا ہے جیسا کہ الدار لزید میں ( یعنی ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے) اور جملہ خبریہ اسمیہ استحقاق حمد کے استمرار پر دلالت کررہا ہے اور اس جملہ سے ثناء کرنا مقصود ہے اور بندوں کو حمد کی تعلیم دی گئی ہے۔ تقدیر جملہ یہ ہے قولُوْا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ (لوگو ! الحمد اللہ کہا کرو) اس تقدیر کی ضرورت اس لیے ہے کہ آیت اِیَّاکَ نَعْبُدُ سے مناسبت پیدا ہوجائے۔ ( کیونکہ نَعْبُدُ کے قائل بندے ہے۔ ) رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ( جو صاحب سارے جہان کا ہے) رب کے معنیٰ مالک کے ہیں۔ جیسا کہ رب الدار ( گھر کا مالک) اور لفظ رب تربیت ( مصدر) کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔ آہستہ آہستہ درجہ کمال تک پہنچا دینے کو تربیت کہتے ہیں اس وقت مصدر کا اطلاق بطورمبالغہ ہوگا جیسا کہ خالدٌ صَوْمٌ اور زَیْدٌ عَدْلٌ میں رب کا اطلاق بلاقید اضافت وغیرہ غیر اللہ پر نہیں ہوسکتا۔ اس آیت میں اشارہ ہے کہ عالم (١)[ یعنی قرآن اور حدیث میں لفظ عالم بصیغہ مفرد استعمال نہیں کیا گیا ] ابتداء کی طرح بقا میں بھی رب کا محتاج ہے اور عالَمِیْنَ عالَم کی جمع ہے اور استعمال میں اس کے لفظ سے اس کا واحد نہیں پایا جاتا۔ عالم اس چیز کو کہتے ہیں جس سے صانع معلوم ہو جیسا کہ خاتم ( وہ چیز ہے جس سے مہر کی جائے) اور عالم تمام ممکنات ہیں کیونکہ تمام ممکنات پر عالم صادق آتا ہے۔ فرعون نے جب کہا و ما رب العالمین (رب العالمین کیا چیز ہے) حضرت موسیٰ نے جواب دیا : رب السمٰوٰت والارض و ما بینھما ( یعنی رب العالمین وہ ہے جو آسمان و زمین اور ان کے مابین کا مالک ہے) چونکہ عالم کے تحت میں اجناس مختلف موجود ہیں اس لیے عالمین بصیغہ جمع لایا گیا ہے اور جمع ذوی العقول باعتبار تغلیب ہے۔ وہب کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ ہزار عالم پیدا کئے ہیں ان میں سے ساری دنیا ایک عالم ہے تمام مکانات اور جنگلوں کو ایسا سمجھنا چاہئے گویا کسی صحرا میں ایک طشت رکھا ہوا ہے کعب احبار کہتے ہیں عالموں کی تعداد اور خدا کے لشکروں کی گنتی اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ بعض کا قول ہے کہ اہل علم یعنی فرشتوں اور انسان اور جنات کا نام عالم ہے۔ دیگر اشیاء تبعًا ان کے ماتحت ہیں۔
Top