Tafseer-e-Mazhari - Yaseen : 19
قَالُوْا طَآئِرُكُمْ مَّعَكُمْ١ؕ اَئِنْ ذُكِّرْتُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ
قَالُوْا : انہوں نے کہا طَآئِرُكُمْ : تمہاری نحوست مَّعَكُمْ ۭ : تمہارے ساتھ اَئِنْ : کیا ذُكِّرْتُمْ ۭ : تم سمجھائے گئے بَلْ : بلکہ اَنْتُمْ : تم قَوْمٌ : لوگ مُّسْرِفُوْنَ : حد سے بڑھنے والے
انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی۔ بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو
قالوا طآئرکم معکم ائن ذکرتم بل انتم قوم مسرفون رسولوں نے کہا : تمہاری نحوست تو تمہارے ساتھ ہی لگی ہوئی ہے۔ کیا (اس کو تم نحوست سمجھتے ہو کہ) تم کو نصیحت کی جا رہی ہے (نحوست کی اور کوئی وجہ نہیں ہے) بلکہ تم خود حد (شریعت و عقل) سے نکل جانے والے لوگ ہو۔ یعنی تمہاری نحوست کا سبب تمہارے ساتھ موجود ہے۔ مراد یہ ہے کہ نحوست کا سبب تمہارا کفر ہے۔ حضرت ابن عباس نے یہ مطلب بیان کیا : تمہارے نصیب کی بھلائی اور برائی تمہارے ساتھ ہے ‘ وہ ضرور تم کو پہنچے گی ‘ تم سے دور نہیں ہوگی۔ اَءِنْ ذُکِّرْتُمْط میں استفہام انکاری ہے ‘ یعنی اگر تم کو نصیحت کی جا رہی ہے تو کیا اس کو تم ہماری نحوست سمجھتے ہو اور ہم کو سنگسار کردینے کی دھمکیاں دیتے ہو ؟ ایسا سمجھنا مناسب نہیں بلکہ تم کو ہمارا منت کش اور احسان مند ہونا چاہئے۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ یعنی گناہ میں حد سے آگے بڑھ جانا تمہارا شیوہ ہی ہے۔ وہ رسول جن کو برکت کا ذریعہ سمجھنا چاہئے ‘ تم ان کو منحوس سمجھتے ہو۔
Top