Tafseer-e-Mazhari - Saad : 13
وَ ثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الْاَحْزَابُ
ثَمُوْدُ : اور ثمود وَقَوْمُ لُوْطٍ : اور قوم لوط وَّاَصْحٰبُ لْئَيْكَةِ ۭ : اور ایکہ والے اُولٰٓئِكَ : یہی وہ الْاَحْزَابُ : گروہ
اور ثمود اور لوط کی قوم اور بن کے رہنے والے بھی۔ یہی وہ گروہ ہیں
وثمود وقوم لوط واصحب الایکۃ اولئک الاحزاب اور ثمود اور لوط کی قوم نے اور مدین والوں نے (یعنی قوم شعیب نے اپنے اپنے زمانے کے نبیوں کی) تکذیب کی تھی ‘ وہ گروہ یہی امتیں تھیں (آخری آیت کا ترجمہ عام اہل تفسیر نے تقریباً یہی کیا ہے ‘ حضرت مفسر کی بھی یہی رائے ہے جو ذیل میں بیان کردی گئی ہے ‘ لیکن ہیچ مداں فقیر کی نظر میں اگر اولٰٓئک الاحزاب کو قوم نوحٍ وعادٌ الخ سے بدل یا ان کا بیان قرار دیا جائے تو ترجمہ بےمحاورہ اور نامناسب نہ ہوگا ‘ ترجمہ اس طرح ہوگا : ان کافروں سے پہلے قوم نوح نے اور عاد نے اور فرعون نے اور ثمود نے اور قوم لوط نے اور مدین والوں نے ‘ ان سب گروہوں نے تکذیب کی ‘ اس صورت میں اولٰٓئک الاحزاب مبتداء خبر کا جملہ نہ ہوگا ‘ بلکہ اشارہ مشار الیہ کا ہوگا اور مختلف اقوام (مذکورہ) سے بدل قرار پائے گا ‘ وا اللہ اعلم۔ مترجم) قبلھم یعنی مکہ والوں سے پہلے۔ قوم معنی کے لحاظ سے مؤنث ہے ‘ اسلئے کذبتمؤنث کا صیغہ استعمال کیا۔ حضرت ابن عباس اور محمد بن کعب نے ذوالاوتاد کا ترجمہ کیا : مضبوط عمارتوں والا۔ بعض علماء نے ترجمہ کیا : قوی ‘ پائیدار حکومت والا۔ قتیبی نے کہا : عرب بولتے ہیں : وہ لوگ گڑی ہوئی میخوں والی عزت کے مالک ہیں ‘ یعنی لازوال قوی عزت ان کو حاصل ہے۔ ضحاک نے کہا : مضبوط قوت اور گرفت والا۔ عطیہ نے کہا : کثیر لشکروں والا اور بڑے جتھوں والا۔ جس طرح کسی چیز کو مضبوط بنانے کیلئے اس میں کیلیں یا میخیں ٹھونک دی جاتی ہیں ‘ اسی طرح فرعون کی قوم نے اپنی حکومت اور اقتدار کو مضبوط اور طاقتور بنا رکھا تھا۔ فوجوں کو میخیں (اوتاد) اسلئے کہا جاتا ہے کہ سفر کی حالت میں پڑاؤ پر وہ بہت سے ڈیرے ‘ خیمے لگاتے اور میخوں سے ان کو باندھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس کا قول عطیہ کی روایت میں یہی آیا ہے۔ کلبی اور مقاتل نے کہا : اوتاد ‘ وتد کی جمع ہے۔ فرعون جب کسی پر عتاب کرتا تھا تو اس کو چت کر کے زمین سے کچھ اوپر ہر ہاتھ اور ٹانگ ایک ایک ستون میں ٹھونک دیتا تھا ‘ اس طرح وہ چت معلق رہتا تھا ‘ نہ اوپر جاسکتا تھا نہ نیچے زمین پر گر سکتا تھا ‘ اسی طرح مرجاتا تھا۔ مجاہد اور مقاتل کا (یہ بھی) بیان ہے کہ جس شخص کو سزا دینی ہوتی ‘ فرعون اس کو زمین پر چت لٹاتا ‘ پھر اس کے ہاتھ پاؤں علیحدہ علیحدہ پھیال کر چومیخا کردیتا تھا۔ سدی نے کہا : چومیخا مضبوط کر کے بچھو اور سانپ اس پر چھوڑ دیتا تھا۔ قتادہ نے کہا : فرعون کے پاس (کھلاڑیوں کی) کچھ پارٹیاں تھیں ‘ کھیل کے میدان تھے ‘ میخیں تھی ‘ اس کے سامنے کھلاڑی میخوں پر (اپنے کرتب دکھاتے اور) کھیلتے تھے۔ اصحاب الایکۃ مدین والے ‘ یعنی قوم شعیب۔ اولٰٓئک الاحزاب ‘ الاحزاب میں الف لام عہدی ہے ‘ یعنی وہی احزاب جن کا ذکر آیت جُنْدٌ مَّا ھُنَالِکَ مَھْزُوْمٌ مِّنْ الْاَحْزَاب میں کردیا گیا ہے۔ یہ سب لوگ پیغمبروں کے خلاف اپنے اپنے زمانہ میں جتھابند ہوگئے تھے ‘ رسول اللہ ﷺ نے خلاف مشرکین مکہ نے بھی ایک جتھا بنا لیا تھا۔
Top