Tafseer-e-Mazhari - Saad : 16
وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ
وَقَالُوْا : اور انہوں نے کہا رَبَّنَا : اے ہمارے رب عَجِّلْ : جلدی دے لَّنَا : ہمیں قِطَّنَا : ہمارا حصہ قَبْلَ : پہلے يَوْمِ الْحِسَابِ : روز حساب
اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دے دے
وقالوا ربنا عجل لنا قطنا اے ہمارے رب ! ہمارا صحیفہ تو (ہم کو دنیا میں ہی) جلد دے دے۔ قِط وہ کاغذ جس میں ہر چیز کا اندارج ہو۔ حضرت ابن عباس نے یہی فرمایا۔ رواہ سعید بن جبیر عنہ۔ قبل یوم الحساب حساب کے دن سے پہلے۔ سعید بن جبیر نے کہا : کافروں کی مراد یہ تھی کہ محمد ﷺ جس جنت کا ذکر کرتے ہیں ‘ اس کے اندر ہمارا جو نصیب اور حصہ ہو ‘ وہ ہم کو یہیں دے دے۔ حسن ‘ قتادہ ‘ مجاہد اور سدی نے کہا : ان کا مطلب یہ تھی کہ جس عذاب آخرت کی محمد ﷺ ہم کو دھمکی دیتے ہیں ‘ اس کا ہمارا مقررہ حصہ یہیں دنیا میں ہم کو دے دے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ مجاہد نے قِط کا ترجمہ حساب کیا۔ عطاء نے کہا : یہ قول نضر بن حارث کا تھا ‘ اس نے کہا تھا : اَللَّھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اے اللہ ! اگر یہی حق ہے (اور) تیری طرف سے (نازل ہوا) ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے۔
Top