Tafseer-e-Mazhari - Saad : 20
وَ شَدَدْنَا مُلْكَهٗ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحِكْمَةَ وَ فَصْلَ الْخِطَابِ
وَشَدَدْنَا : اور ہم نے مضبوط کی مُلْكَهٗ : اس کی بادشاہت وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے اس کو دی الْحِكْمَةَ : حکمت وَفَصْلَ : اور فیصلہ کن الْخِطَابِ : خطاب
اور ہم نے ان کی بادشاہی کو مستحکم کیا اور ان کو حکمت عطا کی اور (خصومت کی) بات کا فیصلہ (سکھایا)
وشددنا ملکہ واتینہ الحکمۃ وفصل الخطاب اور ہم نے ان کی سلطنت کو بڑی قوت دی تھی اور ہم نے ہی ان کو حکمت اور فیصلہ کرنے والی تقریر عطا کی تھی۔ وَشَدَدْنَا مُلْکَہٗ یعنی ان کی حکومت کے ڈر (کو لوگوں کے دلوں میں ڈال دیا تھا) اور اپنی طرف سے نصرت اور فوجوں کی کثرت سے ان کی حکومت کو مستحکم کردیا تھا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے تمام بادشاہوں سے بڑھ کر حضرت داؤدک اقتدار عطا فرمایا تھا ‘ ان کے قلعہ (اور شاہی محل) کی نگرانی ہر رات 36 ہزار سپاہی کرتے تھے۔ بغوی نے بروایت عکرمہ ‘ حضرت ابن عباس کا یہ بیان بھی نقل کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے کسی آدمی نے کسی بڑے آدمی پر حضرت داؤد کے سامنے دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائیں چھین لی ہیں۔ حضرت داؤد نے مدعیٰ علیہ سے پوچھا ‘ اس نے انکار کردیا۔ آپ نے مدعی سے گواہ طلب کئے ‘ اس کے پاس گواہ نہ تھے۔ آپ نے فرمایا : اب چلے جاؤ ‘ میں تمہارے معاملہ میں غور کر کے فیصلہ کروں گا۔ اللہ نے خواب میں حضرت داؤد کے پاس وحی بھیجی کہ مدعیٰ علیہ کو قتل کردیا جائے۔ بیدار ہونے کے بعد آپ نے خیال کیا کہ یہ ایک خواب ہے ‘ میں فیصلہ میں جلدی نہیں کروں گا۔ دوسرے روز پھر یہی خواب دیکھا ‘ لیکن آپ نے خواب کی تعمیل نہیں کی۔ تیسری بار خواب میں وہی آئی کہ مدعیٰ علیہ کو قتل کر دو یا سخت سزا دو ۔ بیدار ہونے کے بعد حضرت داؤد نے مدعیٰ علیہ کو طلب کیا اور فرمایا : اللہ نے میرے پاس وحی بھیجی ہے کہ میں تجھے قتل کرا دوں۔ اس نے کہا : کیا بغیر ثبوت کے آپ مجھے قتل کرا دیں گے ؟ حضرت داؤد نے فرمایا : ہاں ‘ اللہ کی قسم ! میں تیرے معاملہ میں اللہ کا حکم نافذ کر کے رہوں گا۔ جب اس شخص نے دیکھا کہ حضرت داؤد مجھے قتل ہی کرا دیں گے تو بولا : آپ عجلت سے کام نہ لیں ‘ میں آپ کو اصل واقعہ بتائے دیتا ہوں۔ میرے لئے اس جرم کی یہ سزا تجویز نہیں کی گئی ہے ‘ بلکہ میری یہ پکڑ ایک اور جرم میں ہوئی ہے۔ میں نے اس مدعی کے باپ کو دھوکا دے کر اچانک قتل کردیا تھا ‘ اس کی مجھے یہ سزا دی گئی ہے۔ حضرت داؤد نے (اس اقرار کے بعد) اس کو قتل کرنے کا حکم دے دیا اور قتل کرا دیا۔ اس واقعہ سے بنی اسرائیل کے دلوں پر حضرت داؤد کی ہیبت چھا گئی اور آپ کی حکومت بڑی مستحکم ہوگئی۔ عبد بن حمید ‘ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے بھی اسی بیان کی حضرت ابن عباس کی طرف نسبت کی ہے۔ الحکمۃ حکمت سے مراد ہے نبوت ‘ کامل علم اور عمل کا استحکام۔ فصل الخطاب بغوی نے حضرت علی کا قول نقل کیا ہے کہ فصل الخطاب الْبَیِّنَۃُ عَلَی الْمُدَّعِیْ وَالْیَمِیْنُ عَلٰی مَنْ اَنْکَرَہے (مدعی پر لازم ہے کہ گواہ پیش کرے اور گواہ نہ ہوں تو مدعیٰ علیہ سے حلف لیا جائے) یہ ضابطہ تمام جھگڑوں کو طے کردیتا ہے ‘ فریقین کی بات ہی ختم ہوجاتی ہے۔ حضرت ابی بن کعب کا قول بھی یہی روایت میں آیا ہے ‘ حضرت ابی نے فرمایا : فصل الخطاب گواہ اور قسم ہے۔ مجاہد اور عطاء بن رباح کا یہی قول ہے۔ حضرت ابن مسعود ‘ حسن ‘ کلبی اور مقاتل کے نزدیک فصل الخطاب سے مراد ہے بصیرت فیصلہ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : واضح کلام مراد ہے ‘ یعنی ایسا کلام جس سے مقصد واضح ہوجائے ‘ مخاطب کو مطلب سمجھنے میں کوئی اشتباہ نہ رہے جس میں فصل ‘ وصل ‘ عطف ‘ اضمار ‘ اظہار وغیرہ تمام قواعد بلاغت کا لحاظ رکھا گیا ہو ‘ نہ اس میں اتنا اختصار ہو کہ مطلب سمجھنے میں خلل پیدا ہو ‘ نہ اتنا طول ہو جو سننے والوں کے دلوں کو اکتا دے۔ آیت فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْہِ وَاَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَدْھَا کی تفسیر کے ذیل میں سورة توبہ میں ہم نے ہجرت کے واقعہ میں ام معبد کی ایک حدیث نقل کی ہے جس میں ام معبد نے رسول ان ﷺ کے کلام کے متعلق بیان کیا تھا کہ ان کا کلام نہ اتنا کم تھا کہ مطلب فہمی میں خلل انداز ہو ‘ نہ اتنا زیادہ تھا کہ طبیعت کو اکتا دے (لاَ نَزِرٌ وَلاَ ھَذِرٌ نہ ناقص نہ بیکار بکواس) ۔ شعبی نے کہا : حمد وثناء کے بعد جب آدمی مقصد بیان کرنا چاہتا ہے اور بیان مقصد سے پہلے امّا بعد کہتا ہے تو یہ فصل الخطاب ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : یہ فصل الخطاب اسلئے ہے کہ یہ لفظ حمد وثناء کو بیان مقصد سے جدا کردیتا ہے۔
Top