Tafseer-e-Mazhari - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ : اور کیا اَتٰىكَ : آپ کے پاس آئی (پہنچی) نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ : خبر جھگڑنے والے اِذْ : جب تَسَوَّرُوا : وہ دیوار پھاند کر آئے الْمِحْرَابَ : محراب (مسجد)
بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی بھی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں داخل ہوئے
وھل اتاک نبأ الخصم اذ تسوروا المحراب اور بھلا ان اہل مقدمہ کی بھی خبر پہنچی ہے جبکہ وہ لوگ (داؤد کے) عبادت خانہ کی دیوار پھلانگ کر داؤد کے پاس پہنچے تھے۔ آیت میں استفہام تعجب آگیں ہے جو واقعہ سننے کا شوق دلانے کیلئے ہے۔ الخصم اصل میں مصدر ہے ‘ اسی لئے اس کا اطلاق (ایک) دو اور زیادہ پر بھی ہوتا ہے ‘ یہاں مراد ہیں دو جھگڑنے والے۔ اس کی جمع کی ضمیر خصم کی طرف راجع کی گئی اور دو کی طرف جمع کی ضمیر راجع کرنا عربی زبان میں درست ہے ‘ جیسے ایک دوسرے آیت میں فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا کہا گیا ہے اور اس میں تثنیہ کی ضمیر اضافت کی گئی ہے۔ اِذْ تَسَوَّرُوْا ‘ تسور دیوار پر چڑھنا۔ یہ لفظ سور سے ماخوذ ہے جیسے تسَنُّم ‘ سنام (کوہان) سے ماخوذ ہے۔ المحرا بقلعہ۔ قلعہ کو محراب اسلئے کہا جاتا ہے کہ قلعہ کی دیوار پر چڑھ کر (باہر والوں سے) جنگ لڑی جاتی ہے ‘ یا محراب سے عبادت خانہ مراد ہے ‘ عبادت خانہ بھی شیطان سے لڑنے کا مقام ہے۔ الخصم سے پہلے تحاکم کا لفظ محذوف ہے اور اِذْ کا تعلق تحاکم سے ہے یا نبأ سے ‘ مراد ہے حضرت داؤد کے زمانہ کا ایک واقعہ اور لفظ قصہ نبأ سے پہلے محذوف ہے ‘ اس صورت میں اِذْ کا تعلق نبأ سے ہوسکتا ہے۔ اہل مقدمہ کا دیوار پھاند کر آنا حقیقت میں حضرت داؤد کا امتحان تھا۔ یہ امتحان کیوں لیا گیا ‘ بغوی نے لکھا ہے : اس کے متعلق علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ حضرت داؤد نے ایک روز تمنا کی کہ ان کو بھی ان کے اسلاف ابراہیم ‘ اسحاق اور اسرائیل کا ہم مرتبہ بنا دیا جائے اور اللہ سے دعا کی کہ جس طرح میرے بزرگوں کا تو نے امتحان لیا اور امتحان کے بعد ان کو مراتب عنایت کئے ‘ اسی طرح مجھے بھی ان کی طرح مرتبہ میرا امتحان لینے کے بعد عطا فرما دیا جائے۔ سدی ‘ کلبی اور مقاتل نے الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ اپنی اپنی اسناد کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضرت داؤد نے وقت کے تین حصے کر رکھے تھے : ایک روز تو لوگوں کے فیصلوں کے کیلئے مخصوص کردیا تھا ‘ ایک دن اللہ کی عبادت کیلئے مخصوص تھا اور ایک روز اپنی عورتوں اور دوسرے مشاغل کیلئے۔ عبد بن حمید ‘ ابن جریر اور ابن المنذر نے حسن کے حوالے سے بیان کیا کہ داؤد نے اپنے وقت کو چار حصوں میں بانٹ دیا تھا ‘ چوتھا دن وعظ کیلئے مقرر کردیا تھا۔ حضرت داؤد جو (آسمانی) کتابیں پڑھتے تھے ‘ ان میں حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی فضیلت کا تذکرہ تھا۔ ایک روز انہوں نے دعا کی : اے رب ! میں سمجھتا ہوں کہ ساری خوبیاں تو میرے آباؤ اجداد لے گئے جو مجھ سے پہلے گذر چکے (مجھے بھی ان کا درجہ عنایت فرما) اللہ نے وحی بھیجی : ان کو تو (مختلف) آزمائشوں میں مبتلا کیا گیا تھا اور ویسی آزمائشوں میں تم کو مبتلا نہیں کیا گیا۔ ابراہیم کا امتحان تو نمرود کی طرف سے ایذاؤں کی شکل میں اور بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دے کرلیا گیا اور اسحاق کا امتحان ذبح ہونے پر راضی ہونے کی صورت میں لیا گیا اور نابینا بھی ان کو بنایا گیا ‘ یہ بھی ان کا امتحان ہوا اور یعقوب کا امتحان یوسف کی جدائی کے غم کی شکل میں لیا گیا (اور سب نے مصائب پر صبر کیا) حضرت داؤد نے عرض کیا : اے میرے رب ! اگر تو میرا بھی ان کی طرح امتحان لے گا تو میں بھی ثابت قدم رہوں گا۔ اللہ نے وحی بھیجی : اچھا ‘ تمہارا امتحان فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کو لیا جائے گا ‘ چوکنے رہنا۔ جب اللہ کی مقرر کردہ امتحانی تاریخ آئی تو حضرت داؤد اپنے عبادت خانے کے اندر جا کر زبور پڑھنے میں مشغول ہوگئے۔ دوران قراءت شیطان کبوتر کی شکل میں سامنے آیا ‘ وہ کبوتر سونے کا بنا ہوا تھا ‘ ہر خوبصورت رنگ اس میں موجود تھا۔ بعض اقوال میں آیا ہے : اس کے بازو موتی اور زمرد کے تھے۔ کبوتر آکر حضرت داؤد کے سامنے رک گیا۔ آپ کو اس کی خوبصورتی عجیب معلوم ہوئی ‘ پکڑنے کیلئے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ بنی اسرائیل کو بھی دکھائیں اور وہ بھی اللہ کی قدرت کا مشاہدہ کریں۔ جونہی پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا ‘ کبوتر اڑ کر اتنے فاصلہ پر جا بیٹھا کہ حضرت داؤد کو آگے بڑھ کر پکڑ لینے کا لالچ ہو ‘ زیادہ دور نہیں گیا۔ حضرت داؤد اس کی طرف بڑھے تو وہ کنارے تک پہنچ گیا ‘ حضرت داؤد نے وہاں بھی اس کا پیچھا کیا تو وہ اڑ کر روشندان میں جا بیٹھا۔ حضرت داؤد وہاں بھی پکڑنے کیلئے پہنچے تو وہ روشندان سے نکل کر اڑ گیا۔ حضرت داؤد روشندان سے دیکھتے رہے کہ یہ کہاں جا کر بیٹھتا ہے ‘ مقصد یہ تھا کہ کسی کو بھیج کر اس کو پکڑوا لیں۔ یہ دیکھ ہی رہے تھے کہ ایک حوض کے کنارے باغیچہ میں ایک عورت پر نظر پڑگئی جو غسل کر رہی تھی۔ یہ الفاظ کلبی کی روایت کے ہیں ‘ سدی کا بیان ہے کہ وہ عورت اپنی چھت پر غسل کر رہی تھی اور انتہائی حسین تھی۔ حضرت داؤد اس کے حسن کو دیکھ کر اچنبھے میں پڑگئے۔ اتفاقاً عورت کی نظر بھی پڑگئی اور اس نے (کسی مرد کی) پرچھائیں دیکھ لی تو فوراً اپنے بال بکھیر کر جسم کو چھپالیا ‘ حضرت داؤد کو اس پر اور بھی تعجب ہوا۔ آپ نے لوگوں سے اس عورت کی بابت معلومات کیں تو بتایا گیا کہ وہ شافع کی بیٹی تشایع ‘ اور یا بن حنانا کی بیوی ہے اور اس کا شوہر حضرت داؤد کے بھانجے ایوب بن صوریا کے ساتھ بلقاء کے جہاد پر گیا ہوا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت داؤد چاہتے تھے کہ اور یا جہاد میں شہید ہوجائے اور اس کی بیوی سے آپ نکاح کرلیں ‘ یہی آپ کا قصور تھا۔ بعض نے بیان کیا کہ حضرت داؤد نے اپنے بھانجے ایوب کو لکھا کہ اور یا کو فلاں جگہ (جہاد کیلئے) بھیج دو اور تابوت سے اس کو آگے رکھنا ‘ کیونکہ اس زمانہ میں یہی حکم تھا کہ جس شخص کو تابوت سے آگے بڑھا دیا جاتا اس کیلئے سوائے اس کے اور کوئی صورت جائز نہیں تھی کہ یا تو وہ فتح یاب ہو کر لوٹے یا شہید ہوجائے۔ ایوب نے اور یا کو آگے بھیج دیا ‘ لیکن وہ فتحیاب ہوگیا۔ ایوب نے حضرت داؤد کو اس کی اطلاع دے دی۔ حضرت داؤد نے ایوب کو دوسری تحریر بھیجی کہ فلاں فلاں دشمن کے مقابلہ پر اور یا کو بھیج دو ۔ ایوب نے حکم کی تعمیل کی ‘ لیکن اور یا پھر بھی فتحیاب ہوگیا۔ ایوب نے حضرت داؤد کو واقعہ لکھ دیا۔ حضرت داؤد نے تیسری بار لکھا کہ فلاں دشمن جو بڑا قوی اور جنگجو ہے ‘ اور یا کو اس کے مقابلہ پر بھیجو۔ اس مرتبہ اور یا شہید ہوگیا اور عدت گذرنے کے بعد حضرت داؤد نے اس کی بیوہ سے نکاح کرلیا ‘ یہی بی بی حضرت سلیمان کی ماں ہوئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : حضرت داؤد کا گناہ یہ ہوا کہ انہوں نے ایک شخص سے اپنی بیوی کو طلاق دینے کیلئے درخواست کی (تاکہ اس کی بیوی سے خود نکاح کرلیں) اہل تفسیر نے لکھا ہے : بنی اسرائیل کیلئے یہ بات گو جائز تھی ‘ لیکن اللہ کو یہ عمل پسند نہیں آیا ‘ کیونکہ اس عمل سے دنیا کی رغبت اور عورتوں سے زیادتی کی خواہش مترشح ہوتی ہے (جو پیغمبر کیلئے زیبا نہیں) اللہ نے تو حضرت داؤدکو اور عورتیں عطا فرما دی تھیں ‘ اس ایک عورت کی (مزید) ضرورت ہی نہیں تھی۔ بغوی نے حسن کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت داؤد نے اپنے وقت کو چار حصوں میں تقسیم کردیا تھا ‘ یہی قول عبد بن حمید کا بھی تھا۔ حسن کے بیان میں اتنا زیادہ ہے : ایک روز بنی اسرائیل کو وعظ کہنے کا آپ نے مقر کردیا تھا ‘ بنی اسرائیل کے ساتھ مل کر آپ ذکر خدا کرتے ‘ خود بھی روتے اور ان کو بھی رلاتے تھے۔ ایک روز بنی اسرائیل نے کہا : کیا کوئی ایسا آدمی بھی ہے جس کا کوئی دن ایسا بھی گذرتا ہے جس میں کوئی گناہ نہ کرتا ہو ؟ حضرت داؤد نے اپنے دل میں کہا : ہاں ‘ میں ایسا کرسکتا ہوں۔ بعض اہل روایت نے بیان کیا کہ ایک روز آپ کے سامنے عورتوں کا تذکرہ لوگوں نے کیا (کہ ان کے جال سے کوئی بچ نہیں سکتا) حضرت داؤد نے اپنے دل میں کہا : اگر میرا امتحان لیا گیا تو میں محفوظ رہوں گا۔ چناچہ جب آپ کی عبادت کا دن آیا تو آپ نے عبادت گاہ میں داخل ہو کر دروازے بند کرا دئیے اور حکم دے دیا کہ کسی کو میرے پاس آنے کی اجازت نہ دی جائے ‘ پھر آپ توریت کی تلاوت میں ہمہ تن مشغول ہوگئے ‘ اسی حالت میں ایک سونے کا بنا ہوا کبوتر آپ کے سامنے آگیا۔ اس سے آگے کا واقعہ سطور بالا میں ذکر کردیا گیا ہے۔ اور یا کے شہید ہوجانے کے بعد جب اس کی بیوہ سے آپ نے نکاح کرلیا تو کچھ ہی مدت گذری تھی کہ اللہ نے دو فرشتے دو آدمیوں کی شکل میں خاص عبادت کے دن بھیج دئیے اور انہوں نے عبادت خانے میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی۔ پہرے داروں کے انکار پر دونوں شخص دیوار پھاند کر اندر حضرت داؤد کے پاس پہنچ گئے۔ آپ نماز پڑھ رہے تھے ‘ آپ کو اس وقت علم ہوا جب وہ آپ کے سامنے جا کر بیٹھ گئے۔ یہ دونوں فرشتے حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل تھے۔
Top