Tafseer-e-Mazhari - Saad : 42
اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ
اُرْكُضْ : (زمین پر) مار بِرِجْلِكَ ۚ : اپنا پاؤں ھٰذَا : یہ مُغْتَسَلٌۢ : غسل کے لیے بَارِدٌ : ٹھنڈا وَّشَرَابٌ : اور پینے کے لیے
(ہم نے کہا کہ زمین پر) لات مارو (دیکھو) یہ (چشمہ نکل آیا) نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو (شیریں)
ارکض برجبلک ھذا مختسل بارد و شراب اپنا پاؤں مارو ‘ یہ نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا۔ اُرْکُضْیعنی ہم نے ایوب سے کہا کہ اپنا پاؤں زمین پر مارو۔ انہوں نے پاؤں مارا ‘ فوراً ایک چشمہ نکل آیا۔ ہم نے کہا : یہ نہانے کا ٹھنڈا پانی ہے ‘ اس میں غسل کرو اور یہ پینے کا پانی ہے ‘ اس کو پیو۔ انہوں نے غسل کرلیا تو ظاہر جلد کے سارے روگ دور ہوگئے اور پانی پیا تو اندرونی بیماریاں زائل ہوگئیں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت ایوب نے دو مرتبہ زمین پر پاؤں مارا ‘ ایک بار مارنے سے سرد چشمہ نکل آیا اور دوسری بار پاؤں مارنے سے گرم چشمہ برآمد ہوگیا۔ ایک سے وہ نہائے اور دوسرے کا پانی پیا۔ عبد بن حمید اور ابن المنذر نے مجاہد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ایوب نے اپنا دایاں پاؤں مارا تو ایک چشمہ پھوٹ نکلا اور دایاں ہاتھ پشت کے پیچھے مارا تو دوسرا چشمہ نکل آیا۔ ایک کا پانی انہوں نے پیا اور دوسرے کے پانی سے غسل کیا۔
Top