Tafseer-e-Mazhari - Saad : 66
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ
رَبُّ : پروردگار السَّمٰوٰتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان دونوں کے درمیان الْعَزِيْزُ : غالب الْغَفَّارُ : بڑا بخشنے والا
جو آسمانوں اور زمین اور جو مخلوق ان میں ہے سب کا مالک ہے غالب (اور) بخشنے والا
رب السموت والارض وما بینھما العزیز الغفار وہی یگانہ ‘ سب پر غالب ‘ آسمانوں کا ‘ زمین کا اور ان دونوں کی درمیانی کائنات کا مالک و منتظم ہے ‘ زبردست (اور گناہوں کو) بہت بخشنے والا ہے۔ اِنَّمَا اَنَا مُنْذِرٌکا تعلق کافروں کے سابق مقولے سے ہے ‘ کافروں نے جو کہا تھا : ھٰذا ساحر کذّاب اس کا جواب دینے کیلئے فرمایا : آپ کہہ دیجئے کہ میں تو ڈرانے والا ہوں ‘ اللہ کے عذاب سے ڈرا رہا ہوں ‘ یعنی میں ساحر و کذاب نہیں ہوں۔ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ الاَّ اللّٰہُاس جملہ کا رخ اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًاکی طرف ہے اور اس سے اس کا تعلق ہے۔ الواحد (بہمہ جات) ایک نہ اپنی ذات میں کسی کی شرکت رکھتا ہے ‘ نہ اپنی کسی صفات میں۔ القھّار ہر شے پر غالب ‘ اس لفظ میں کافروں کیلئے دھمکی ہے۔ العزیز ایسا زبردست کہ اگر سزا دے تو کوئی مقابلہ پر آکر اس پر غالب نہ آسکے۔ الغفّار چھوٹے بڑے گناہ جس کے چاہے ‘ معاف کر دے۔ ان صفات سے توحید کا مکمل اثبات ہوجاتا ہے ‘ اس میں درپردہ موحدین کیلئے وعدہ اور مشرکوں کیلئے انتقام و عذاب کی دھمکی ہے۔ القھار کہنے سے خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ شاید اللہ کی صفت قہر ہی ہے ‘ اس خیال کو زائل کرنے کیلئے الغفار فرمایا۔
Top