Tafseer-e-Mazhari - Saad : 77
قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ
قَالَ : اس نے فرمایا فَاخْرُجْ : پس نکل جا مِنْهَا : یہاں سے فَاِنَّكَ : کیونکہ تو رَجِيْمٌ : راندہ درگاہ
فرمایا یہاں سے نکل جا تو مردود ہے
قال فاخرج منھا فانک رجیم اللہ نے فرمایا : تو یہاں سے نکل جا ‘ بلاشبہ تو مردود ہے۔ منھا یعنی جنت سے یا آسمان سے نکل جا۔ حسن اور ابو العالیہ نے کہا : اس بناوٹ (اور خوبصورت تخلیق) سے نکل جا ‘ جس میں تو بنایا گیا ہے۔ حسن بن فضل نے کہا : یہ تشریح اچھی ہے ‘ چناچہ اس حکم کے بعد ابلیس کا رنگ سیاہ ہوگیا اور خوبصورتی ‘ بدصورتی سے بدل گئی۔ فَاِنَّکَ رَجِیْمٌ5 رجیم ‘ مردود ‘ راندۂ درگاہ ‘ یعنی تو آدم سے افضل نہیں ہے۔ یہ جملہ حکم خروج کی علت ہے (یعنی تجھے نکل جانے کا حکم اسلئے دیا گیا کہ اب تو راندۂ درگاہ ہوگیا) ۔
Top