Tafseer-e-Mazhari - Saad : 83
اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ
اِلَّا : سوائے عِبَادَكَ : تیرے بندے مِنْهُمُ : ان میں سے الْمُخْلَصِيْنَ : (جمع) مخلص
سوا ان کے جو تیرے خالص بندے ہیں
الا عبادت منھم المخلصین سوائے ان تیرے بندوں کے جو ان میں سے (تیرے) منتخب ہوں گے فَبِعِزَّتِکَ میں بھی فاء سببی ہے۔ ابلیس کو مہلت مل جانا ہی عزم اغواء کا سبب ہے ‘ اگر اللہ کی طرف سے اس کو مہلت نہ ملتی تو وہ اغواء پر قادر نہ ہوتا۔ ابلیس ملعون نے اللہ کی عزت یعنی غلبۂ کامل اور ہمہ گیر قدرت کی قسم کھائی تاکہ اس ذریعہ سے اس کو بنی آدم کے اغواء پر تسلط حاصل ہوجائے۔ الْمُخْلَصِیْنَ یعنی وہ لوگ جن کو اللہ نے اپنی طاعت کیلئے منتخب کرلیا ہے اور گمراہی سے محفوظ بنا دیا ہے
Top