Tafseer-e-Mazhari - Saad : 86
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ : فرما دیں مَآ : نہیں اَسْئَلُكُمْ : میں مانگتا تم سے عَلَيْهِ : اس پر مِنْ اَجْرٍ : کوئی اجر وَّمَآ اَنَا : اور نہیں میں مِنَ : سے الْمُتَكَلِّفِيْنَ : بناوٹ کرنے والے
اے پیغمبر کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں
قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکفین (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس کا (یعنی تبلیغ قرآن کا یا ڈرانے کا) نہ کوئی معاوضہ چاہتا ہوں ‘ نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں ‘ یعنی قرآن خود بنانے والا نہیں ہوں۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کسی ایسی چیز کے مدعی بن بیٹھتے ہیں جو ان کے اندر نہیں ہوتی ‘ مطلب یہ ہے کہ میں واقعی نبی ہوں ‘ میری نبوت کا دعویٰ جھوٹا نہیں ہے۔ بخاری نے حضرت عمر کا قول نقل کیا ہے کہ ہم کو بناوٹ سے منع کردیا گیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مسروق نے کہا : ہم حضرت ابن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ آپ نے فرمایا : اگر کوئی شخص کوئی بات جانتا ہو تو کہہ دے اور معلوم نہ ہو تو ” اللہ جانے “ کہہ دے ‘ کیونکہ جس بات کو نہ جانتا ہو ‘ اس کے متعلق ” اللہ اعلم “ کہہ دینا بھی علم ہی کی ایک شاخ ہے۔ اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا ہے : قُلْ مَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ ۔ میں کہتا ہوں : مَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ- مَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍکی تاکید ہے ‘ کیونکہ جو شخص کسی معاوضہ کا طلبگار نہ ہو ‘ وہ بات میں بناوٹ نہیں کرتا۔
Top