تفسیرِ مظہری
Tafseer-e-Mazhari · 4. An-Nisaa · Ayah 150
اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا﴿150﴾
- اِنَّبیشک
- الَّذِيْنَجو لوگ
- يَكْفُرُوْنَانکار کرتے ہیں
- بِاللّٰهِاللہ کا
- وَاور
- رُسُلِهٖاس کے رسولوں
- وَيُرِيْدُوْنَاور چاہتے ہیں
- اَنْکہ
- يُّفَرِّقُوْافرق نکالیں
- بَيْنَدرمیان
- اللّٰهِاللہ
- وَرُسُلِهٖاور اس کے رسول
- وَيَقُوْلُوْنَاور کہتے ہیں
- نُؤْمِنُہم مانتے ہیں
- بِبَعْضٍبعض کو
- وَّنَكْفُرُاور نہیں مانتے
- بِبَعْضٍبعض کو
- وّاور
- َيُرِيْدُوْنَوہ چاہتے ہیں
- اَنْکہ
- يَّتَّخِذُوْاپکڑیں (نکالیں)
- بَيْنَ ذٰلِكَاس کے درمیان
- سَبِيْلًاایک راہ
Translation · Tafseer-e-Mazhari
جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں
Tafseer · Tafseer-e-Mazhari
ان الذین یکفرون باللہ ورسلہ جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں کا انکار کرتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے یہ آیت یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ یہودیوں نے جب محمد ﷺ کا اور قرآن کا اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کیا تو گویا سب پیغمبروں کا انکار کیا کیونکہ ہر پیغمبر دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اور چونکہ اللہ کے احکام کا انہوں نے انکار کیا تھا تو گویا اللہ کا انکار کردیا۔
ویریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ اور چاہتے ہیں اللہ کے اور اس کے پیغمبروں کے درمیان فرق رکھنا کہ اللہ کو تو مانتے ہیں اور پیغمبروں کا انکار کرتے ہیں جیسے مشرک (کہ صرف خدا کو مانتے ہیں) اور یہودی کہ اللہ اور موسیٰ ( علیہ السلام) کو تو اپنے خیال کے مطابق مانتے ہیں اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور محمد ﷺ اور دوسرے پیغمبروں کا انکار کرتے ہیں اور قرآن و انجیل کو بھی نہیں مانتے۔
ویقولون نومن ببعض ونکفر ببعض اور کہتے ہیں ہم بعض (پیغمبروں) کو مانتے ہیں اور بعض کو (سچا) نہیں جانتے۔
ویریدون ان یتخذوا بین ذلک سبیلا اور چاہتے ہیں (کفر و اسلام) کے درمیان راہ اختیار کرنا۔