تفسیرِ مظہری

Tafseer-e-Mazhari · 4. An-Nisaa · Ayah 154

  1. وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا﴿154﴾

    1. وَرَفَعْنَااور ہم نے بلند کیا
    2. فَوْقَھُمُان کے اوپر
    3. الطُّوْرَطور
    4. بِمِيْثَاقِهِمْان سے عہد لینے کی غرض سے
    5. وَقُلْنَااور ہم نے کہا
    6. لَهُمُان کیلئے (ان سے)
    7. ادْخُلُواتم داخل ہو
    8. الْبَابَدروازہ
    9. سُجَّدًاسجدہ کرتے
    10. وَّقُلْنَااور ہم نے کہا
    11. لَهُمْان سے
    12. لَا تَعْدُوْانہ زیادتی کرو
    13. فِيمیں
    14. السَّبْتِہفتہ کا دن
    15. وَاَخَذْنَااور ہم نے لیا
    16. مِنْهُمْان سے
    17. مِّيْثَاقًاعہد
    18. غَلِيْظًامضبوط
Translation · Tafseer-e-Mazhari
اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاویز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا
Tafseer · Tafseer-e-Mazhari
ورفعنا فوقہم الطور بمیثاقہم یعنی چونکہ انہوں نے قبول کرنے کا پختہ وعدہ کیا تھا اس لئے طور کو ہم نے ان کے اوپر اٹھا لیا۔ وقلنا لہم اور ہم نے ان سے کہا یعنی جب طور ان کے سروں پر سایہ افگن تھا اس وقت موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبان سے ہم نے کہلوایا۔ ادخلوا الباب سجدا کہ (ایلیا کے) دروازہ میں سر جھکائے داخل ہو۔ وقلنا لہم اور ہم نے ان سے کہا یعنی حضرت داؤد کی زبانی کہلوایا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ آئندہ کلام بھی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبانی اس وقت کہلوایا جب پہاڑ بنی اسرائیل کے سروں پر جھکا ہوا تھا کیونکہ سنیچر (کے روز کی عبادت) کی مشروعیت اسی دور میں ہوچکی تھی البتہ اس حکم کی خلاف ورزی اور عذاب مسخ حضرت داؤد کے زمانہ میں ہوا۔ لا تعدوا فی السبت سنیچر کے معاملہ میں زیادتی نہ کرو یعنی سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑ کر اپنے نفوس پر ظلم نہ کرو۔ واخذنا منہم میثاق غلیظا اور ہم نے ان سے پکا وعدہ لے لیا کہ وہ تورات کے حکم کو قبول کریں گے اور سنیچرکے معاملہ میں زیادتی نہیں کریں گے یہاں تک کہ انہوں نے بسر و چشم اس حکم کی تعمیل کا وعدہ کیا۔