بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Mazhar-ul-Quran - Saad : 1
صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ
صٓ : صاد وَالْقُرْاٰنِ : قرآن کی قسم ذِي الذِّكْرِ : نصیحت دینے والے
ص قسم ہے1، اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (جس سے تم دعوت کرتے ہو حق ہے)
(ف 1) شان نزول : حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھلبلی مچ گئی اس لیے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابوطالب کے پاس گئی اور ابوطالب سے نبی ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ، ابوطالب نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو، نبی ﷺ نے جواب دیا کہ میں قوم کے لوگوں سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کے بعد تمام عرب وعجم ان کے فرمانبردار ہوجائے، وہ خوش ہوکربولے کہ بتلائیے کہ وہ کلمہ کیا ہے آپ ایک کلمہ کہتے ہیں ہم آپ کے دس کلمے ماننے کے لیے تیار ہیں تو آپ نے فرمایا، زیادہ نہیں صرف ایک کلمہ، لا الہ الا اللہ۔ یہ سنتے ہی طیش میں آکرکھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کیا اتنے خداؤں کو ہٹا کر اکیلا ایک خدا بنادیا، چلوجی یہ اپنے منصوبے سے کبھی باز نہ آئیں گے یہ تو انہی ہمارے معبودوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں تم بھی مضبوطی سے اپنے معبودوں کی عبادت وحمایت پر جمے رہو، اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔
Top