Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ
: آپ صبر کریں
عَلٰي
: اس پر
مَا يَقُوْلُوْنَ
: جو وہ کہتے ہیں
وَاذْكُرْ
: اور یاد کریں
عَبْدَنَا
: ہمارے بندے
دَاوٗدَ
: داؤد
ذَا الْاَيْدِ ۚ
: قوت والا
اِنَّهٗٓ
: بیشک وہ
اَوَّابٌ
: خوب رجوع کرنے والا
صبر کریں آپ اس بات پر جو یہ لوگ کہتے ہیں ، اور تذکرہ کریں آپ ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا جو قوت والے تھے بیشک وہ رجوع رکھنے والے تھے ۔
ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کا رد کیا جو اس بات پر استعجاب کرتے تھے کہ پیغمبر (علیہ السلام) نے تمام معبودوں کی بجائے صرف ایک معبود کی طرف دعوت دی ہے اس دعوت کے جواب میں مشرکین نے کہا کہ اس شخص کی بات نہ مانو بلکہ اپنے معبودوں پر جمے رہو ، کہنے لگے یہ شخص جھوٹ موٹ گھڑ کرلے آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں سے ہی ایک شخص کو نزول وحی کے لیے منتخب کرلیا گیا ہو اس منصب کے لیے تو کوئی بڑا آدمی ہونا چاہئے تھا اللہ نے فرمایا کہ رسالت کے ان منکرین نے ابھی ہماری سزا کا مزا نہیں چکھا ، نیز فرمایا کہ ان کے پاس خدا کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جس کو چاہیں دیں اور جس سے چاہیں روک لیں ، آسمان و زمین کی بادشاہی تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ان کے پاس کیا ہے ؟ اگر انکے پاس کوئی اختیار ہے تو یہ رسیاں تان کر آسمان پر چڑھ جائیں اور ہمارے نبی کو عطا ہونے والی نبوت کو روک لیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دی ہے کہ آپ گھبرائیں نہیں مشرکین کی ایذا رسانیوں پر دل برداشتہ نہ ہوں ، اس قسم کا سلوک سابقہ انبیاء سے بھی ہوا سابقہ اقوام بھی تکذیب رسل کی مرتکب ہوئیں جس کے نتیجے میں ان پر اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی اور وہ سب ملیا میٹ ہوگئے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا یہ لوگ بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ یکدم کوئی آسمانی چیخ آئے جو ان سب کے جگر پھاڑ کر انکو نیست ونابود کر دے ؟ یہ اتنے بےادب اور گستاخ ہیں کہ کہتے ہیں ہمیں جو بھی جزا یا سزا ملنی ہے ابھی مل جائے ہم قیامت کا انتظار نہیں کرسکتے ۔ (صبر کی تلقین) ارشاد خداوندی ہے اے پیغمبر ﷺ (آیت) ” اصبر علی ما یقولون “ یہ مشرک لوگ جو کچھ کہتے ہیں اور جس قسم کی بیہودہ اور اذیت ناک باتیں کرتے ہیں آپ اس پر صبر کریں ، صبر دین ابراہیمی کا ایک اہم اصول ہے ، انسانی زندگی میں صبر کرنے کے بہت سے مواقع آتے ہیں ، مثلا اطاعت گزاری کے لیے بھی صبر کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ معاصی سے بچنے کے لیے بھی صبر کرنا پڑتا ہے مصائب و تکالیف میں صبر کرنے سے انسان کے درجات بلند ہوتے ہیں لہذا اس اصول کے پیش نظر آپ مشرکین کی ساری بیہودگیوں اور کٹ حجتیوں پر صبر کا دامن تھامے رکھیں ، صبر کے علاوہ دین ابراہیمی کے دیگر بڑے بڑے اصول یہ ہیں ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننا ، کفر وشرک سے نفرت وبیزاری خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ، ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرنا ، شعائر اللہ کی تعظیم۔ (داؤد (علیہ السلام) کا تذکرہ) آگے اللہ تعالیٰ نے صبر کی مثال کے طور پر اپنے جلیل القدر پیغمبر حضرت داؤد (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر عبدنا داؤد ذالاید “۔ آپ ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کا تذکرہ کریں جو صاحب قوت تھے (آیت) ” ذالاید “ کا لغوی معنی ہے ہاتھوں والے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غیر معمولی جسمانی قوت سے نوازا تھا حتی کہ آپ کے ہاتھ پر لوہے کو نرم کردیا تھا اور آپ بغیر تپائے اس سے زرہیں بناتے تھے اور اس طرح ہاتھوں کی کمائی سے رزق حلال کماتے تھے ، آپ نے اللہ کے حکم سے اس دور کے نبی کی قیادت میں جالوت پر فتح پائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکومت اور نبوت عطا فرمائی ۔ اس تذکرہ سے حضور نبی کریم ﷺ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ کی طرح داؤد (علیہ السلام) بھی معمولی حیثیت کے آدمی تھے یہ کسی خاندانی بادشاہت کے مالک نہیں تھے بلکہ اپنی قوت بازو کے بل پر جالوت کے مقابلے میں فتح پائی تو اس وقت کے بادشاہ طالوت کے بعد آپ کو حکومت بھی ملی اور نبوت بھی یہ لوگ آپ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اس شخص کی مالی حالت اچھی نہیں ۔ باغات اور کوٹھیاں نہیں ، نوکر چاکر اور مال و دولت نہیں تو یہ نبی کیسے بن گیا ، فرمایا آپ صبر کریں ، اللہ تعالیٰ داؤد (علیہ السلام) کی طرح آپ کو بھی حکومت اور اس کے تمام لوازمات عطا کرے گا ، اور یہ سب لوگ مغلوب ہو جائینگے ۔ (داؤد (علیہ السلام) کی خوش الحان تسبیح) فرمایا داؤد (علیہ السلام) کو یاد کریں کہ وہ قوت والے تھے نیز (آیت) ” انہ اواب “۔ آپ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے ، قرآن پاکی مختلف سورتوں میں آپ کی بعض خصوصیات بیان کی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انتہائی درجے کی خوش الحانی عطا فرمائی تھی جب آپ اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتے اور زبور کی تلاوت کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی آپ کے ساتھ تسبیح میں ہم نوا ہوجاتے تھے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” انا سخرنا الجبال معہ “۔ ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا یعنی ان کے تابع کردیا تھا ، جب آپ نہایت خوش الحانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے (آیت) ” یسبحن بالعشی والاشراق “ تو آپ کے ساتھ پہاڑ بھی پچھلے پہر اور صبر کے وقت تسبیح بیان کرتے تھے اس کا مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرنے سے پہاڑوں کی باز گشت سنائی دیتی تھی جیسے ۔۔۔۔۔۔ سے جوابی آواز آتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں میں شعور پیدا کردیا تھا اور داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء میں شامل ہوجاتے تھے اور صرف پہاڑ ہی نہیں بلکہ (آیت) ” والطیر محشورہ “۔ اکٹھے ہوئے پرندے بھی آپ کے ساتھ تسبیح میں ہمنوا ہوجاتے تھے ، اسی خصوصیت کو اللہ تعالیٰ نے سورة الانبیاء میں اس طرح بیان فرمایا ہے (آیت) ” وسخرنا مع داؤد الجبال یسبحن والطیر “۔ (آیت : 79) ہم نے داؤد (علیہ السلام) کے لیے پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا اور پہاڑ اور پرندے آپ کے ساتھ تسبیح میں شامل ہوجاتے تھے ، سورة سبا میں ہے ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو اپنی طرف سے فضیلت بخشی (آیت) ” یجبال اوبی معہ والطیر (آیت : 10) اور پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دیا کہ آپ کے ساتھ تسبیح میں شامل ہوجائیں ، فرمایا (آیت) ” کل لہ اواب “۔ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع رکھنے والے ہیں ، پہاڑوں اور پرندوں کے علاوہ شجر ، حجر ، انسان ، درندے ، کیڑے مکوڑے غرضیکہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” یسبح للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ (الجمعۃ ۔ 1) زمین وآسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے سورة بنی اسرائیل میں ہے (آیت) ” وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم “۔ (آیت ، 44) کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے ۔ (داؤد (علیہ السلام) کی دیگر خصوصیات) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وشددنا ملکہ “۔ ہم نے آپ کی بادشاہی کو مضبوط کردیا ، سلطنت کی مضبوطی کا مطلب یہ ہے کہ جنگ وامن کے زمانے کے تمام لوازمات موجود تھے ، عمال حکومت دیانتدار اور فوج چوکس تھی ضروریات زندگی میسر تھیں اور لوگ خوشحال تھے اور کسی دوسری سلطنت کو اس سلطنت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں ہوتی تھی ، فرمایا (آیت) ” واتینہ الحکمۃ “ ہم نے آپ کو حکمت بھی عطا فرمائی حکم کا معنی گہری دانش مندی اور عقل وفہم کی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عنایت فرمائی تھی ، آپ صاحب کتاب اور صاحب شریعت نبی اور رسول تھے اور حکمت نبوت و رسالت کا ایک اہم حصہ ہے اسی کے علاوہ فرمایا (آیت) ” وفصل الخطاب “۔ ہم نے آپ کو فیصلہ کن خطاب بھی عطا فرمایا آپ کی تقریر وبیان نہایت واضح ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو امور سلطنت کو نمٹانے کے لیے قوت فیصلہ بھی حد درجے کی دی تھی اور ظاہر ہے کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ عقل وفہم اور قادر الکلامی پر دلالت کرتی ہے ۔ (عبادت خانہ میں مداخلت) آگے اللہ تعالیٰ نے وہ واقعہ بیان کیا ہے جس کی بنا پر داؤد (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا گیا پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وھل اتک نبؤالخصم “۔ کیا آپ کے پاس پہنچی ہے جھگڑا کرنے والوں کی خبر ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو اس واقعہ کا علم نہیں ہے تو اب بذریعہ وحی بتلایا جا رہا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ کس قسم کا واقعہ پیش آیا (آیت) ” اذتسوروالمحراب “ جب کہ انہوں نے عبادت خانے کی دیوار کو پھلانگ لیا ، یہاں پر محراب سے مراد مسجد کا محراب نہیں جیسا کہ اب رواج ہے بلکہ محرام کمرے کو کہتے ہیں اور اس سے مراد عبادت کرنے کا کمرہ ہے محراب کا ذکر حضرت ذکریا (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی آتا ہے جب آپ کو یحی بیٹے کی بشارت مل گئی (آیت) ” فخرج علی قومہ من المحراب “۔ (مریم) تو وہ اپنے عبادت خانہ سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو انہیں اشارے کے ساتھ کہا کہ صبح شام اپنے رب کو یاد کرتے رہیں ۔ بہرحال یہ جھگڑالو لوگ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے عبادت خانے کی دیوار پھلانگ کر اندر آگئے آپ کا معمول یہ تھا کہ آپ نے امور سلطنت کی انجام دہی اور عبادت کے لیے اوقات مقرر کر رکھے تھے جب آپ عبادت خانے ہوتے تو کسی شخص کو اندر آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور اس ضمن میں پہریداروں کو سخت ہدایات دی گئی تھی اس کے برخلاف (آیت) ” اذ دخلوا علی داؤد “۔ جب وہ جھگڑالو آدمی داؤد (علیہ السلام) کے پاس داخل ہوگئے ۔ (آیت) ” ففزع منھم تو داؤد (علیہ السلام) گھبرا گئے یہ انکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کی عبادت کے دروان میں اس طرح کچھ لوگ انکی تنہائی میں مداخلت کرسکتے ہیں آپ فوری طور پریشان ہوگئے مگر (آیت) ” قالوا لاتخف “ درآنے والوں نے کہا ، آپ خوف نہ کھائیں ، ہم کسی بری نیت سے ، یا آپ کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں آئے بلکہ (آیت) ” خصمن بغی بعضنا علی بعض “۔ ہم دو مخالف فریق ہیں جن میں سے بعض نے بعض پر زیادتی کی ہے ہم اپنا مقدمہ آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ (آیت) ” فاحکم بیننا بالحق “۔ پس ہمارے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیں ۔ (آیت) ” ولا تشطط “۔ اور کسی فریق کے ساتھ زیادتی نہ کریں بلکہ (آیت) ” واھدنا الی سوآء الصراط “۔ ہمیں سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کریں ، ہم آپ کے پاس صرف فیصلہ لینے کے لیے آئے ہیں ۔ (مقدمے کا فیصلہ) اپنا تعارف کرانے کے بعد شکایت کنند شخص نے اپنا مقدمہ فورا ہی داؤد (علیہ السلام) کے سامنے پیش کردیا ، کہنے لگا (آیت) ” ان ھذا اخی “ یہ شخص میرا بھائی ہے اس سے حقیقی بھائی مراد نہیں بلکہ محض دینی یا قومی بھائی مراد ہے کہ اس بھائی سے میرا جھگڑا ہے (آیت) ” لہ تسع وتسعون نعجۃ “۔ اس کے پاس ننانوے (99) دنبیاں ہیں (آیت) ” ولی نعجۃ واحدۃ “۔ جب کہ میرے پاس صرف ایک دنبی ہے (آیت) ” فقال اکفلنیھا “ میرا یہ بھائی کہتا ہے کہ اپنی ایک دنبی بھی میری کفالت میں دیدے یعنی میرے حوالے کردے ۔ (آیت) ” وعزنی فی الخطاب “ اور یہ بات چیت میں مجھ پر غالب آگیا ہے گویا یہ زبردست آدمی ہے اور میری واحد دنبی مجھ سے زبردستی چھین کر اپنی سو پوری کرنا چاہتا ہے ۔ یہ شکایت سن کر داؤد (علیہ السلام) فورا بول اٹھے (آیت) ” قال لقد ظلمک بسؤال نعجتک الی نعاجہ “۔ اور شکایت کنندہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دوسرے شخص نے تیری واحد دنبی اپنی دنبیوں کے ساتھ ملا لینے کا سوال کر کے بڑی زیادتی کی ہے اور پھر ساتھ یہ بھی کہا (آیت) ” وان کثیرا من الخلطآء لیبغی بعضھم علی بعض “۔ کہ بیشک بہت سے شراکت دار ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں یعنی امور شراکت میں اکثر قباحتیں پیدا ہوتی ہیں ، (آیت) ” الا الذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ ہاں مگر ایماندار لوگ جو نیک اعمال انجام دیتے ہیں وہ اس قسم کی زیادتی کا ارتکاب نہیں کرتے انکے شراکتی معاملات خوش اسلوبی سے طے پاتے ہیں (آیت) ” وقلیل ماھم “ مگر ایسے دیانتدار لوگ بہت قلیل تعداد میں ہیں وگرنہ اکثریت کے معاملات میں گڑ بڑ ہی پیدا ہوتی ہے ۔ (شراکتی کاروبار) مفسرین کرام نے خلطاء کے لفظ سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ شراکت کا کاروبار درست اور جائز ہے چند آدمی یا دس بیس اشخاص مل کر کوئی تجارت وغیرہ کریں تو یہ کاروبار درست ہوگا ، بشرطیکہ دیانت وامانت کا لحاظ رکھا جائے اگر کاروبار میں کسی شراکت دار کی طرف سے بددیانتی ہوگی تو کاروبار میں لازما گڑبڑ ہوگی ایک دوسرے پر زیادتی بھی ہوگی مگر ایماندار آدمی کسی خیانت میں ملوث نہیں ہوتے ایمان اور اعمال صالحہ کے ذریعہ انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم رہتا ہے اور انسان خیانت اور بددیانتی سے بچا رہتا ہے مگر ایسے لوگ بہت کم تعداد میں پائے جاتے ہیں ہمارے ہاں تو عجیب حال ہے لوگ اعمال صالحہ بھی انجام دیتے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ بددیانتی کا ارتکاب بھی کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ محفوظ فرمائے جہاں تعلق باللہ درست ہوگا وہاں بددیانتی نہیں ہوگی اور معاملات درست رہیں گے ۔ (داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش) یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وظن داؤد انما فتنہ “۔ داؤد (علیہ السلام) نے گمان کیا کہ بیشک ہم نے ان کو آزمائش میں ڈال دیا ہے یہ خیال آتے ہی (آیت) ” فاستغفر ربہ وخرراکعا “ پس بخشش طلب کی اپنے پروردگار سے ۔۔۔۔۔ رکوع کرتے ہوئے ، سجدہ میں ، (آیت) ” واناب “ اور آپ تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس لغزش کی بناء پر حضرت داؤد (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا گیا ، اس سلسلہ میں مفسرین نے کئی ایک وجوہات بیان کی ہیں البتہ بائیبل کا بیان تو سراسر جھوٹ اور بہتان طرازی پر مبنی ہے اس بیان کے مطابق اور یاہ نامی ایک شخص کی بیوی بنت سبع بڑی خوبصورت عورت تھی حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نظر کسی طرح اس عورت پر پڑی تو پسند آگئی ، اسے بلا کر گھر میں رکھ لیا اور پھر اس سے (العیاذ باللہ) بدکاری بھی کی ، اس عورت نے بتایا کہ اس کا تو خاوند بھی زندہ ہے جو آپ کی فوج میں عہدیدار ہے پھر داؤد (علیہ السلام) نے اپنے راستے کے اس روڑے کو ہٹانے کے لیے یہ حیلہ کیا کہ اس فوجی افسر کو کسی جنگ کے اگلے مورچوں پر تعینات کردیا وہ مارا گیا تو داؤد (علیہ السلام) نے اس عورت سے نکاح کرلیا ، البتہ نکاح سے پہلے بدکاری کرنے کے نتیجے میں آپ کی اولاد بھی ہوئی ، فرمایا کرام فرماتے ہیں کہ مذکورہ واقعہ سراسر جھوٹا ہے حضرت داؤد (علیہ السلام) تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے اس کے جلیل القدر پیغمبر اور صاحب کتاب اور صاحب شریعت نبی تھی ان سے ایسی معصیت کے ارتکاب کا سوچا بھی نہیں جاسکتا ، ان کے متعلق تو خود حضور ﷺ کا ارشاد مبارک (1) بھی ہے کہ داؤد (علیہ السلام) ” کان اعبد البشر “ یعنی آپ اپنے دور کے سب سے زیادہ عبادت گزار تھے ، انہوں نے عبادت خانے کا نظام اس طریقے سے قائم کر رکھا تھا کہ ان کا عبادت خانہ کسی وقت بھی عبادت سے خالی نہیں ہوتا تھا ، حضرت داؤد (علیہ السلام) خود ، آپ کی کوئی بیوی یا گھر کا کوئی دوسرا فرد ضرور عبادت خانے میں عبادت میں مصروف ہوتا تھا ، تو ایسے مقرب الی اللہ پر بدکاری کا الزام لگانا بجائے خود ایک نہایت ہی قبیح فعل ہے اسی تفسیر روایات (2) میں آتا ہے کہ حضرت علی ؓ نے یہ حکمنامہ جاری کیا تھا کہ جو شخص حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ اور یاہ کی بیوی والا قصہ منسوب کرے گا اسے کوڑے لگائے جائیں گے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اور شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام (3) فرماتے ہیں کہ بائیبل کا قصہ تو جھوٹا ہے ، البتہ اس کا کچھ حصہ لغویات سے الگ کرکے تسلیم کیا جاسکتا ہے ، اور وہ یہ کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کسی عورت کو اپنے نکاح میں لانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا حالانکہ وہ عورت پہلے سے منکوحہ تھی بس اس خواہش کا اظہار کیا تھا حالانکہ وہ عورت پہلے سے منکوحہ تھی بس اس خواہش کے اظہار پر ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا کہ آپ جیسے جلیل القدر پیغمبر کے دل میں یہ خواہش بھی پیدا نہیں ہونی چاہئے تھے تاہم بعض دوسرے مفسرین اس واقعہ کا مطلقا انکار کرتے ہیں ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں (4) کہ دیوار پھلانگ کر آنے والے انسان نہیں بلکہ فرشتے تھے اور دنبیوں کا واقعہ حقیقی واقعہ نہیں تھا ، بلکہ فرشتوں نے محض تمثیل کے طور پر بیان کیا تھا اور اس سے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو تنبیہ کرنا مقصود تھا ، بعض کہتے (1) کہ جب شکایت کنندہ نے اپنی شکایت پیش کی تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فورا فیصلہ دے دیا کہ نناوے دنبیوں کے مالک کو ایک مزید دنبی کا مطالبہ کرنا بڑی زیادتی ہے کسی مقدمہ کو نمٹانے کے لیے ضروری ہے کہ فریقین کی بات سننے کے بعد فیصلہ صادر کیا جائے ، مگر حضرت داؤد (علیہ السلام) نے صرف شکایت کنندہ فریق کی بات سن کر فورا فیصلہ کردیا اور فریق ثانی کو صفائی پیش کرنے کا موقع ہی نہ دیا ، یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی ، لہذا حضرت داؤد (علیہ السلام) کو تنبیہہ کرنے کے لیے آزمائش میں ڈال دیا ۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے (2) ہیں کہ دنبیوں والے قصے کی کوئی حقیقت نہیں ، یہ تو ایک مثال تھی ، البتہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے مستدرک حاکم میں منقول ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے نظام حکومت نہایت اعلی درجے پر قائم کر رکھا تھا ، آپ کی سلطنت میں ہر چیز کی فراوانی تھی اور رعایا خوشحال تھی ، ادھر عبادت خانے کا نظام بھی کمال درجہ کا تھا جس کی وجہ سے یہ عبادت خانہ شب وروز میں کسی لمحہ بھی عبادت سے خالی نہیں ہوتا تھا تو حضرت داؤد (علیہ السلام) کے دل میں استعجاب پیدا ہوا کہ انہوں نے کیسے اچھے نظام قائم کر رکھے ہیں بس یہی بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آئی کہ تمہیں اپنے نظام کی حسن کارکردگی تو نظر آگئی ہے مگر میری توفیق کی طرف نگاہ نہیں اٹھی کہ جس کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں چناچہ اتنی سی بات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش آگئی اور دیوار پھاند کر آنے والے فرشتوں نے عبادت خانے میں مخل ہو کر اس کا نظام درہم برہم کردیا حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اپنی لغزش کا فورا احساس ہوگیا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کی اور ساتھ ہی سجدہ ریز ہوگئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فغفرنا لہ ذلک “۔ پھر ہم نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کا یہ قصور معاف کردیا (آیت) ” وان لہ عندنا لزلفی “۔ بیشک ان کے لیے ہمارے ہاں مرتبہ ہے (آیت) ” وحسن ماب “۔ اور لوٹ کر جانے کا اچھا ٹھکانا بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کا قصور معاف کر کے آخرت میں اعلی قدر ومنزلت کی طرف بھی اشارہ کردیا آپ قیامت کے دن نبیوں اور عادلوں کا درجہ پائیں گے اور حدیث میں ہے کہ عادل لوگ نور کے منبروں پر رحمان کے دائیں جانب ہوں گے حدیث میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے دوست اور مقرب ترین لوگ عادل بادشاہ ہوں گے اور سب سے زیادہ دشمن اور سخت عذاب میں مبتلا ظالم حکمران ہوں گے ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی دنیا وآخرت میں کامیابی کی بشارت بھی سنا دی ۔ (سجدہ تلاوت) اس درس میں سجدہ کی آیت بھی آئی ہے جس کے پڑھنے سننے سے سجدہ تلاوت لازم آتا ہے ، البتہ اس مقام کو اس لحاظ سے انفرادیت حاصل ہے کہ یہاں پر لفظ سجدا کی بجائے راکعا آیا ہے جس کا معنی رکوع کرنا ہوتا ہے ، سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہاں پر سجدہ کرنا ضروری ہے یا صرف رکوع کرنے سے بھی تعمیل حکم ہوجائے گی ، نسائی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے اس مقام پر سجدہ کرکے فرمایا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا یہ سجدہ تو توبہ کے لیے تھا اور ہمارا سجدہ شکر کے لیے ہے مسنداحمد میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کا بیان (1) (مسنداحمد) ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ میں سورة ص لکھ رہا ہے ، پھر جب میں آیت سجدہ پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ میرا قلم دوات اور آس پاس کی تمام چیزوں نے سجدہ کیا ہے ، انہوں نے اپنا یہ خواب حضور ﷺ کے سامنے سنایا تو پھر آپ بھی اس آیت کی تلاوت کرتے وقت برابر سجدہ کرتے رہے ، ترمذی شریف میں ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں جب میں نے سجدہ کی آیت پڑھی تو سجدہ کیا تو میرے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا اور میں نے سنا کہ درخت یہ دعا کر رہا ہے ، ” اللھم اکتب لی بھا عندک اجراجعلھا لی عندک ذخرا وضع بھا عنی وزرا واقبلھا منی کما قبل تھا من عبدک داؤد “۔ اے اللہ ! میرے اس سجدے کو تو اپنے پاس میرے لیے اجر اور خزانے کا سبب بنا دے اس سے تو میرے بوجھ ہلکا کر دے اور اسے مجھ سے اسی طرح قبول فرما لے جس طرح تو نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے سجدے کو قبول کیا تھا ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں (1) پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور سجدے کی آیت پڑھ کر سجدہ کی اور اس سجدے میں وہی دعا پڑھی جو اس شخص نے درخت سے سنی تھی ، بہرحال مفسرین کرام اس مقام پر سجدے کے وجوب کے حق میں بعض دیگر دلائل بھی پیش کرتے ہیں البتہ امام شافعی (رح) اس مقام پر سجدے کے قائل نہیں ان کے مطابق سورة الحج میں دو سجدے ہیں آیت نمبر 18 پر سجدے کے سبھی قائل ہیں البتہ امام شافعی (رح) آیت نمبر 88 پر بھی سجدہ کرتے ہیں ۔ دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ چونکہ اس مقام پر لفظ راکعا آیا ہے لہذا اگر کوئی شخص نماز کی حالت میں یہ آیت تلاوت کرنے کے فورا بعد سجدے کی نیت سے رکوع میں چلا جائے تو سجدہ ادا ہو جاے گا مزید سجدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور بہتر یہ ہے کہ یہ آیت تلاوت کرنے کے بعد سجدہ کرے اور پھر اٹھ کر مزید تلاوت کرے اور پھر رکوع میں جائے جیسا کہ عام معمول ہے اور اگر یہ آیت نماز کے علاوہ تلاوت کی ہے تو پھر لازم سجدہ کرنا ہوگا جس کیلئے باوضو ہونا قبلہ رخ ہونا اور پیشانی کا زمین پر رکھنا ضروری ہے ۔
Top