Mualim-ul-Irfan - Saad : 34
وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ
وَلَقَدْ : اور البتہ فَتَنَّا : ہم نے آزمائش کی سُلَيْمٰنَ : سلیمان وَاَلْقَيْنَا : اور ہم نے ڈالا عَلٰي كُرْسِيِّهٖ : اس کے تخت پر جَسَدًا : ایک دھڑ ثُمَّ اَنَابَ : پھر اس نے رجوع کیا
اور البتہ تحقیق ہم نے آزمائش میں ڈالا سلیمان (علیہ السلام) کو اور ڈال دیا ان کی کرسی پر ایک دھڑ پھر انہوں نے رجوع کیا اللہ تعالیٰ کی طرف ۔
ربط آیات : پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش ، پریشانی اور ان کے رجوع الی اللہ کا ذکر کیا پھر آپ کے فرزند اور اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر صاحب شریعت رسول اور خلیفۃ اللہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوا ، ان پر ہونے والا انعامات کا ذکر ہوا گھوڑوں کی دیکھ بھال میں نماز فوت ہوجانے کی وجہ سے ان پر آنے والی ابتلاء اور پھر ان کی طرف سے ان قیمتی گھوڑوں کی قربانی کا حال بیان ہوا اب آج کے درس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دوسری آزمائش کا ذکر ہورہا ہے ۔ (دوسری آزمائش) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد فتنا سلیمن “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کو آزمائش میں ڈالا ، فتنہ کا معنی آزمائش ، ابتلاء یا جانچنا ہوتا ہے اور آزمائش یہ تھی (آیت) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “۔ کہ ہم نے ان کی کرسی یا تخت پر ایک دھڑ کو لا کر ڈالدیا (آیت) ” ثم اناب “ اور پھر آپ نے اللہ تعالیٰکی طرف رجوع کیا مفسرین کرام نے اس آیت کریمہ کی تفسیر دو طریقے سے کی ہے ۔ (پہلی تفسیر) پہلی تفسیر جو عام طور پر مفسرین کرتے ہیں وہ اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے اور صحیح نہیں ہے ، کہتے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس ایک انگوٹھی تھی جس پر اسم اعظم کندہ تھا اور آپ اس کی برکت سے نظام سلطنت نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتے تھے ، ایک دفعہ ایسا ہوا کہ آپ نے غسل خانے میں جانے سے پہلے انگوٹھی اپنی کسی خادمہ کو دے دی کہ فارغ ہو کرلے لوں گا ، اس اثناء میں صخر نامی ایک جن نے کبھی حیلے سے وہ انگوٹھی خادمہ سے حاصل کرلی ، روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ وہ جن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی شکل میں آیا اور انگوٹھی طلب کی تو خادمہ نے اسے اپنا آقا سمجھ کر انگوٹھی اس کے حوالے کردی پھر کیا تھا وہ جن تخت سلیمانی پر بیٹھ گیا اور پوری انگوٹھی اس کے حوالے کردی پھر کیا تھا وہ جن تخت سلیمانی پر بیٹھ گیا اور پوری سلطنت پر قابض ہوگیا یہ حضرات ٹکڑا آیت (آیت) ” والقینا علی کرسیہ جسدا “۔ کا یہی مطلب لیتے ہیں کہ جن تخت پر قابض ہوگیا ، جب سلیمان (علیہ السلام) فارغ ہوئے اور خادمہ سے انگوٹھی طلب کی تو اس نے آپ کو پہچاننے سے ہی انکار کردیا کیونکہ سارا معاملہ ہی تبدیل ہوچکا تھا ، پھر سلیمان (علیہ السلام) کو خطرہ پیدا ہوا کہ جن سلطنت پر تو قابض ہو ہی چکا ہے ، کہیں وہ ان کو قتل ہی نہ کرا دے ، لہذا آپ چھ ماہ تک کہیں روپوش رہے ، رعایا کو علم ہی نہیں تھا کہ سلیمان (علیہ السلام) روپوش ہوچکے ہیں اور جن نقلی سلیمان بن کر ان پر حکومت کر رہا ہے پھر ایسا اتفاق ہوا کہ وہ انگوٹھی جن کے ہاتھ سے کسی طرح سمندر میں گر گئی جسے مچھلی نے نگل لیا وہ مچھلی شکار ہوئی اور بکتی بکاتی سلیمان (علیہ السلام) تک پہنچ گئی ، جب انہوں نے مچھلی کا پیٹ چاک کیا تو اس میں سے آپ کی انگوٹھی برآمد ہوگئی جسے آپ نے فورا پہن لیا اور آپ کا کاروبار سلطنت پھر بحال ہوگیا تو بعض مفسرین نے اس واقعہ کو سلیمان (علیہ السلام) کی ابتلاء سے تعبیر کیا تھا ۔ تاہم امام رازی (رح) مفسر قرآن فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس واقعہ کو بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ مگر یہ بالکل من گھڑت ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں فرماتے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ کوئی جن سلیمان (علیہ السلام) کی شکل میں آکر اس قسم کی دھاندلی کرتا کیونکہ آپ اللہ کے جلیل القدر نبی اور رسول تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلافت ارضی بھی عطا فرمائی ، جن کے لیے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ آپ کی شکل اختیار کرتا ۔ اس واقعہ سے متعلق بعض حضرات اس بات کا ذکر بھی کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے گھر میں کوئی مشرکہ عورت تھی آپ نے اس کے بارے میں کچھ تغافل کیا اور آپ کو پتہ ہی نہ چلا اس وجہ سے انگوٹھی آپ سے گم ہوگئی اور یہ آزمائش آئی یہ قصہ بھی بالکل غلط ہے کیونکہ اللہ کے نبی کے بارے میں کیا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ (دوسری تفسیر) بخاری ، مسلم اور دیگر کتب احادیث میں آنے والی احادیث کے مضامین کو مربوط کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے ایک موقعہ پر اپنے فوجیوں میں کچھ سستی کا احساس پایا تو آپ سخت دل برداشتہ ہوئے اور انہیں نے قسم اٹھائی کہ میں رات کو اپنی سو یا کم وبیش ہر ایک بیوی کے پاس جاؤں گا وہ حاملہ ہوں گی اور ان سے پیدا ہونے والا ہر بچہ مجاہد بن کر فوج میں خدمات انجام دے گا ، مگر اس قسم کے ساتھ آپ انشاء اللہ کہنا بھول گئے حالانکہ یہ چیز آپ کے ذہن میں تھی اور فرشتے نے بھی آپ کو یاد دلایا تھا مگر یہ ابتلا آنی تھی ، لہذا سے نسیان ہوگیا اور انشاء اللہ نہ کہہ سکے ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام بیویوں میں سے صرف ایک بیوی حاملہ ہوئی اور اس کے ہاں بھی ایک ادھورا یعنی اپاہج سا بچہ پیدا ہوا جسے لا کر آپ کے تخت پر ڈال دیا گیا تاکہ آپ جان سکیں کہ آپ کی قسم کا یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے ، اس پر سلیمان (علیہ السلام) کو اپنی لغزش کا احساس ہوا ، انہوں نے پروردگار کی طرف رجوع کیا اور اس کوتاہی پر معافی مانگی ۔ صحیح حدیث میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی موجود ہے کہ اگر سلیمان (علیہ السلام) قسم اٹھاتے وقت انشاء اللہ کہہ دیتے تو انہیں مقصد حاصل ہوجاتا مگر نہ کہنے کی وجہ سے آپ پر ابتلاء آئی اور ایک ادھورا بچہ آپ کی کرسی پر ڈال دیا گیا ، پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور معافی طلب کی یہ ایک ایسی معمولی سی لغزش تھی جو عام لوگوں کے لیے گناہ نہیں ہوتا مگر اللہ کے نبی کے لیے اتنی کوتاہی بھی قابل مواخذہ بن جاتی ہے ، اس آیت کریمہ کی یہ تفسیر صحیح احادیث میں ملتی ہے اور یہی زیادہ قرین قیاس ہے ۔ (مودودی صاحب کی غلطی) مذکورہ بالا حدیث کو تسلیم نہ کرکے مولانا مودودی مرحوم نے شدید غلطی کی ہے کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مضمون اس لحاظ سے خلاف عقل ہے کہ کوئی شخص ایک رات میں اتنی تعداد میں بیویوں کے پاس کیے جاسکتا ہے پھر انہوں نے رات کے اوقات کو تقسیم کرکے ہر بیوی کے حصے میں آنے والے منٹوں کا حساب لگا کر بتایا کہ کسی شخص کے لیے ایسا ممکن ہی نہیں ، یہی آپ کی غلطی ہے اگرچہ یہ ایک عام آدمی کے لیے ممکن نہیں مگر نبی کے لیے معجزے کے طور پر تو ہر چیز ممکن ہے عقل کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جاسکتا ، بلاشبہ سارے معجزے خلاف عقل ہوتے ہیں کیا تمام معجزات کو عقل کے ترازو میں تولا جائے گا ؟ اس سے پہلے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے واقعہ میں مودودی صاحب نے ایسی ہی غلطی کی ہے آیت 26 میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے درمیان فیصلہ کرنا (آیت) ” ولا تتبع الھوی اور خواہش کی پیروی کرنا ورنہ آپ سیدھے راستے سے بہک جائیں گے ہواں بھی مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ داؤد (علیہ السلام) کی آزمائش میں خواہش نفسانی کا ضرور کچھ نہ کچھ دخل تھا ، حالانکہ اس کا یہ مطلب نہیں ، اللہ کے فرمان کا مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح پہلے کبھی خواہش کی پیروی نہیں کی اس طرح آئندہ بھی نہ کرنا اس کی مثال تو وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا ہے (آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک (الزمر ، 65) اگر آپ نے بھی شرک کیا تو آپ کے سارے عمل ضائع ہوجائیں گے تو کیا وہاں پر شرک کو کوئی دخل تھا ، العیاذ باللہ ، اس جملے کا مطلب بھی یہی ہے کہ آپ نے نہ تو پہلے کبھی شرک کیا ہے اور نہ آئندہ کرنا ، بہرحال اللہ کے معصوم نبی کی شان میں خواہش نفسانی کی بات کرنا ہرگز درست نہیں بہرحال حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر سلیمان (علیہ السلام) انشاء اللہ کہہ دیتے تو سب بیویاں حاملہ ہو کر بچے جنم دیتیں ، مگر اس لغزش کی وجہ سے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا گیا ۔ (بےمثال سلطنت کے لیے دعا) اس کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے معافی اور بےمثال سلطنت کی دعا کی ، (آیت) ” قال رب اغفرلی “۔ کہنے لگے پروردگار ! مجھے معاف کر دے ، میری کوتاہی کو درگزر فرما ، پہلے (آیت) ” ثم اناب “۔ کے الفاظ تو آہی چکے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے اور پھر بخشش ومعافی کی درخواست پیش کی اور ساتھ یہ بھی عرض کی (آیت) ” وھب لی ملئکا لاینبغی لاحد من بعدی “۔ مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو (آیت) ” انک انت الوھاب “ تو بہت بخشش کرنے والا ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے بےمثال سلطنت کی درخواست نامناسب نہیں ہے کیونکہ آپ کا مقصد محض حصول اقتداء تعیش ، آرام طلبی یا مالی منفعت حاصل کرنا نہیں تھا ، اتنی عظیم الشان اور بیمثال سلطنت کے وارث ہونے کے باوجود آپ بیت المال سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے تھے بلکہ اپنے اور اہل و عیال کے اخراجات ہاتھ سے ٹوکریاں بنا کر پورے کرتے تھے ایسی حکومت کے حصول سے آپ کا مقصد اللہ کے دین اور شریعت کا نفاذ عدل و انصاف کا قیام ، اللہ کی مخلوق کے ساتھ خیر خواہی ان کے حقوق کی ادائیگی اور ظلم وتعدی کی بیخ کنی تھی ۔ (ہوا کی تسخیر) اللہ نے اپنے ہر نبی کو اختیار دیا تھا کہ وہ کوئی سی ایک دعا مانگ لیں جو قبول کی جائے گی سلیمان (علیہ السلام) نے مذکورہ دعا کی جو اللہ تعالیٰ نے منظور فرمائی اور آپ کو بےمثال سلطنت عطا فرمائی پھر آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض انعامات کا ذکر کیا ہے جو اس بےمثال حکومت کا حصہ تھے فرمایا (آیت) ” فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخآئ “۔ ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسکر کردیا ، جو آپ کے حکم سے نرم نرم چلتی تھی اور اس ہوا کے ذریعے (آیت) ” حیث اصاب “ آپ جہاں بھی جانا چاہتے ، بحفاظت سرعت کے ساتھ باسانی پہنچ جاتے تھے آپ یمن اور شام وغیرہ کا سفر ہوا کے دوش پر کرتے تھے جہاں جانا مقصود ہوتا تھا آپ تخت پر بمع لشکر اور سامان بیٹھ جاتے اور ہوا یہ تخت اٹھا کر آپ کو مطلوبہ مقام تک نہایت تیزی کے ساتھ پہنچا دیتی سورة سبا میں ہے (آیت) ” غدوھا شھرو ورواحھا شھر “۔ (آیت : 12) آپ صبح کے وقت ایک ماہ کا سفر طے کرلیتے تھے اور شام کے وقت میں بھی اتنی مسافت آسانی سے طے کر جاتے تھے یہ بھی معجزہ تھا جو عقل کے خلاف تھا مگر اللہ نے ہوا سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردی تھی ، پہلے گزر چکا ہے کہ آپ نے اپنے تیز رفتار گھوڑے کو پہلی لغزش کے ازالے کے طور پر قربان کردیئے لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کا نعم البدل ہوا کی صورت میں دیا جس کی وجہ سے آپ گھوڑوں کی نسبت بہتر زیادہ تیز رفتار سے نقل و حرکت کرسکتے تھے ۔ (مولانا اصلاحی کی غلطی) اس مقام پر ہمارے زمانے کے ایک دوسرے مفسر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی نے شدید غلطی کی ہے وہ اس ہوا کو سمندری ہوا پر محمول کرتے ہیں جس کے ذریعے سلیمان (علیہ السلام) کی بادبانی کشتیوں کا بیڑا بڑی آسانی اور تیز رفتاری سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتا تھا نہیں بلکہ ا س مراد خشکی پر چلنے والی ہوا ہے جو معجزے کے طور پر آپ کے تخت کو اٹھائے پھرتی تھی اسی طرح اصلاحی صاحب نے واقعہ معراج کو خواب کا واقعہ قرار دیا ہے حالانکہ بہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے پینتالیس 45 صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین نے حضور ﷺ کی زبان مبارک سے نقل کیا ہے ، ایسے لوگوں کی بنیادی غلطی یہی ہے کہ معجزے کو تسلیم نہیں کرتے وگرنہ اللہ تعالیٰ کے لیے کون سا کام مشکل ہے ، اگر معراج خواب میں ہی ہوا تھا تو پھر جھگڑا کس بات کا تھا کہ مشرک لوگ اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے خواب میں تو بڑے بڑے عجیب و غریب مناظر دیکھنے میں آتے ہیں مگر کبھی کسی نے ایسے مشاہدے پر شک نہیں کیا اور نہ کبھی مناظرہ بازی کی نوبت آئی ہے بہرحال یہ بھی غلط تفسیر کا ایک نمونہ ہے ۔ (جنات کی تسخیر) سلیمان (علیہ السلام) پر کیے گئے احسانات میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک یہ احسان بھی ذکر کیا (آیت) ” والشیطین “۔ اور ہم نے شیطانوں یعنی جنات کو بھی آپ کے لیے مسخر کردیا (آیت) ” کل بنآئ “۔ جن میں سے ہر ایک عمارتیں بنانے والا تھا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جنات کے ذریعے بڑی بڑی عمارات تعمیر کروائیں جنات بڑے بڑے بھاری پتھر دور دراز سے اٹھا کر لاتے ان کو تراشتے اور اوپر کی منزلوں تک پہنچاتے آپ ان سے شیشے کی قطع برید اور دھاتوں کی ڈھلائی کا کام بھی لیتے تھے جس سے عمارات کے جملہ لوازمات تیار ہوتے تھے اس کے علاوہ فرمایا (آیت) ” وغواص “۔ ان میں غوطہ خور شیاطین بھی تھے جو سمندر کی گہرائیوں سے قیمتی موتی اور ضروریات کی دوسری چیزیں نکال لاتے تھے فرمایا (آیت) ” واخرین مقرنین فی الاصفاد “ ، جنات میں بعض ایسے بھی تھے جو بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے سلیمان (علیہ السلام) شرارتی جنوں کو سزا کے طور پر قید بھی کردیتے تھے ، ان میں سے بعض آج تک جکڑے ہوئے سمندروں اور دور دراز جزیروں میں موجود ہیں جو قرب قیامت میں جا کر آزاد ہوں گے بہرحال انسانوں اور پرندوں کے ساتھ ساتھ جنات بھی سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر میں شامل ہوتے تھے اور آپ کے ہر حکم کی تعمیل کرتے تھے ۔ (باز پرس سے استثنی) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے (آیت) ” ھذا عطآؤنا “۔ یہ سب کچھ ہماری طرف سے تمہیں عطا ہوا ہے اب آپ کو اختیار ہے (آیت) ” فامنن “۔ کہ جس پر چاہیں تقسیم کرکے احسان کریں (آیت) ” اوامسک “۔ یا جس سے چاہیں روک لیں یعنی کچھ نہ دیں اور اس ضمن میں آپ جو بھی کاروائی کریں گے وہ (آیت) ” بغیر حساب “ بغیر حساب کتاب کے ہوگی یعنی اس تقسیم کی صحت یا عدم صحت پر آپ سے قیامت کو کوئی باز پرس نہیں ہوگی ، آپ کو اس سے مستثنی قرار دے دیا گیا ہے ظاہر ہے کہ انسان جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو اسے آخرت کے محاسبے کا خوف دامن گیر ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دل جمعی کے لیے آپ کو ہر قسم کے محاسبے سے بری کردیا ، دلجمعی بہت بڑی چیز ہے اسی لیے بزرگان دین اور صوفیاء کرام اس کے درپے ہوتے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ دل میں کوئی شک وتردد نہ رہے بلکہ شیشے کی مانند صاف ہوجائے ۔ (اللہ کے ہاں مرتبہ) دنیا کی عظیم الشان اور بےمثال حکومت کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) پر کیے جانے والے ایک اور انعام کا ذکر بھی کیا ، فرمایا (آیت) ” وان لہ عندنا لزلفی “۔ آپ کے لیے ہمارے ہاں بہت بڑا مرتبہ ہے ہمارے انعامات دنیا تک ہی محدود نہیں بلکہ آخرت میں بھی آپ کا بہت بڑا مرتبہ ہے ، ہمارے انعامات دنیا تک ہی محدود نہیں بلکہ بلکہ آخرت میں بھی آپ کا بہت بڑا حصہ ہے (آیت) ” وحسن ماب “۔ اور آگے بہت اچھا ٹھکانا بھی ہے اسی لیے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹی کی بات سن کر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کا شکر ادا کیا تھا اور ساتھ یہ دعا بھی کی تھی (آیت) ” وادخلنی برحمتک فی عبادک الصلحین “۔ (النمل ، 19) مولا کریم ! اپنی مہربانی سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما لے ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت بلند مرتبہ عطا فرمایا اور اچھا ٹھکانا بھی جو آگے چل کر حاصل ہوگا ۔
Top