Mualim-ul-Irfan - Saad : 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ
اِذْ قَالَ : جب کہا رَبُّكَ : تمہارا رب لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں کو اِنِّىْ : کہ میں خَالِقٌۢ : پیدا کرنے والا بَشَرًا : ایک بشر مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
جب فرمایا تیرے پروردگار نے فرشتوں سے بیشک میں پیدا کرنے والا ہوں انسان مٹی سے ۔
ربط آیات : گذشتہ درس میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا اور پھر اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ملاء اعلی کا ذکر بھی کیا ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد اور قہار ہے اور جو ارض وسما اور ان کے درمیان کی چیزوں کا پروردگار ہے پھر اللہ تعالیٰ نے توحید رسالت اور نزول قرآن کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو ، مجھے تو ملاء اعلی کی تکرار کا علم نہیں تھا میری طرف یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل فرمائی ہے ، ملاء اعلی کے متعلق حضور ﷺ نے خود بھی تشریح فرمائی ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اگلی آیات میں آمد و تخلیق آدم کا واقعہ بھی ملاء اعلی کے بحث مباحثہ کا موضوع تھا ۔ (تخلیق آدم علیہ السلام) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اذ قال ربک للمئکۃ “۔ اس واقعہ کو دھیان میں لاؤ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا (آیت) ” انی خالق بشر من طین “۔ کہ میں مٹی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں اور ساتھ یہ حکم بھی دای (آیت) ” فاذا سویتہ “ پھر جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک بنادوں یعنی انسانی ڈھانچے کے گوشت پوست ہڈیوں جوڑوں اور تمام اعضاء کو اپنے اپنے مقام پر درست طور پر رکھ دوں اور اس کی ظاہری اور باطنی قوی کو مکمل کر دوں (آیت) ” ونفخت فیہ من روحی “۔ اور اس میں اپنی جانب سے روح بھی پھونک دوں ، انسان مادہ اور روح دونوں چیزوں سے مرکب ہے انسانی ڈھانچہ تو مادی عناصر سے تیار ہوتا ہے مگر اس کی روح عالم بالا کی طرف سے آتی ہے جب انسانی تخلیق کے ابتدائی چار ماہ گزر جاتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس میں روح ڈال دی جاتی ہے یہ روح اس نسمہ میں ڈالی جاتی ہے جو انسانی جسم کے ساتھ ہی پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے اور پھر اس روح کی وجہ سے انسان میں صفات کمال پیدا ہوتی ہیں ۔ (فرشتوں کا سجدہ ابلیس کا انکار) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا جب میں آدم (علیہ السلام) کا ڈھانچہ تیار کرکے اس میں اپنی جانب سے روح پھونک دوں (آیت) ” فقعوالہ سجدین “۔ تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا ، اس سے آدم (علیہ السلام) کا شرف وفضیلت ظاہر کرنا مراد تھا چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین کی تھوڑی تھوڑی مٹی لے ڈھانچہ مکمل کیا اور پھر اس میں روح ڈالی (آیت) ” فسجدالملئکۃ کلھم اجمعون “۔ تو سب کے سب فرشتے سجدہ ریز ہوگئے ، (آیت) ” الا ابلیس “ سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ نہ کیا (آیت) ” استکبر “ اس نے تکبر کیا (آیت) ” وکان من الکفرین “ اور وہ کفر کرنے والوں میں تھا ۔ یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سجدے کا حکم تو فرشتوں کو دیا تھا مگر ابلیس کا انکار درمیان میں کیسے آگیا تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اعلی درجے کی مخلوق کے لیے حکم ادنی درجہ کی مخلوق پر خود بخود عائد ہوتا ہے چانچہ جب فرشتوں کو سجدے کا حکم ہوا تو ان سے ادنی مخلوق جنات پر یہ حکم بطریق اولی عائد ہوگیا مطلب یہ کہ فرشتوں کے ساتھ جنات کو بھی سجدے کا حکم دیا گیا تھا اس بات کی صراحت سورة الاعراف میں آمدہ مضمون سے بھی ہوتی ہے جب ابلیس نے سجدہ سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مخاطب کر کے فرمایا (آیت) ” مامنعک الا تسجداذ امرتک “۔ (آیت 12) جب میں نے تجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا تو پھر کس چیز نے تمہیں اس سے روکا ؟ معلوم ہوا کہ فرشتوں کے ساتھ ساتھ جنوں کو بھی سجدے کا حکم ہوا اور ابلیس جنات میں سے تھا جیسے فرمایا (آیت) ” کان من الجن ففسق عن امر ربہ “۔ (الکہف : 50) یہ جنات میں سے تھا پس اس نے اپنے پروردگار کے حکم کی نافرمانی کی ۔ آیت زیر درس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمام طبقات کے فرشتے سجدہ ریز ہوئے تھے تاہم امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم صرف ملاء سافل کے لیے تھا اور ملاء اعلی کے فرشتے اس حکم میں شامل نہیں تھے ، اور جنات ملاء سافل میں ہی رلے ملے تھے ، لہذا فرشتوں اور جنات سب کو سجدے کا حکم ہوا تھا ممکن ہے کہ صرف ملاء سافل کو حکم ہوا ہو یا سارے کے سارے فرشتے شامل تھے ، بہرحال ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا کیونکہ وہ متکبر تھا اور کافروں میں سے تھا ۔ (ابلیس سے باز پرس) ابلیس کے انکار پر اللہ تعالیٰ نے اس سے اس طرح باز پرس کی ” قال “ فرمایا (آیت) ” یابلیس مامنعک ان تسجد لما خلقت بیدی “۔ اے ابلیس ! تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا تھا اس کے سامنے جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا تھا (آیت) ” استکبرت “ کیا تو نے تکبر کیا تھا ؟ (آیت) ” ام کنت من العالین “ یا تو نے اپنے آپ کو اونچے درجے والا سمجھا ، ” قال “ ابلیس نے جواب دیا (آیت) ” انا خیر منہ “ کہ میں تو اس سے بہتر ہوں ، پھر بھلا میں آدم (علیہ السلام) کے سامنے کیوں سجدہ ریز ہوتا اور بہتری کی وجہ یہ بیان کی (آیت) ” خلقتنی من نار وخلقتہ من طین “۔ پروردگار ! میری تخلیق تو تو نے آگ سے کی جب کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا آگ لطیف اور بلند چیز ہے جب کہ مٹی ایک کثیف چیز ہے تو پھر بھلا میں اعلی ہر کر آدنی کے سامنے کیوں سجدہ کروں ، گویا اس نے تکبر کی وجہ سے آدم (علیہ السلام) کو حقیر جانا جس کی وجہ سے فرشتوں کے ساتھ انجام پانے والی اس کی لاکھوں سال کی تسبیح اور دیگر عبادات رائیگاں چلی گئیں ۔ (اللہ تعالیٰ کے ساتھ) ان آیات میں بیان کردہ دو چیزیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اگر بعینہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بھی انسانوں کے ہاتھوں جیسے تصور کئے جائیں تو یہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے جسم ثابت ہوگا اور یہ کفر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جسم ، جہت اور مادیت سے وراء الوراء ہے انسان اللہ تعالیٰ کی ذات کو عقل سے نہیں سمجھ سکتا کیونکہ اس کی ذات بےمثل اور بےمثال ہے اس کا اپنا ارشاد ہے (آیت) ” لیس کمثلہ شیئ “۔ (الشوری۔ 11) اس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے ہم ہر وقت اس کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں اور سبحان اللہ کہتے ہیں تو اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب ، نقص اور مادیت سے پاک اور منزہ ہے لہذا ہمیں یہی اعتقاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ تو ہیں مگر مخلوق کے ہاتھوں کی طرح نہیں بلکہ جس اس کی شان کے لائق ہیں ہم اسے خیال میں لانے سے قاصر ہیں ، بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ، وہاں بائیں کا بھی کوئی تصور نہیں ہے کیونکہ بایاں ہاتھ کمزوری اور عیب کی علامت ہے کہ ہم اس سے استنجا پاک کرتے ہیں اور نجاست کو دور کرتے ہیں ، لہذا اگر بائیں کی نسبت خدا کی طرف کی جائیگی تو اس سے عیب ثابت ہوگا جو کہ خدا کی شان کے لائق نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کے علاوہ بعض دیگر اعضاء مثلا چہرہ ، پنڈلی روا آزار اور قدم کا ذکر بھی آتا ہے بعض روایات میں قدم کو دوزخ میں ڈالنے اور پنڈلی کو کھولنے کا ذکر بھی ملتا ہے تو اس سلسلہ ۔۔۔۔۔ مسلک یہ ہے یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں یہودی کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں وہ نعوذ باللہ بخیل ہوگیا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” بل یدہ مبسوطتن ، ینفق کیف یشآئ “۔ (المائدہ 64) بلکہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں مگر وہ اپنی مرضی سے خرچ کرتا ہے جسے چاہے دیتا ہے اور جسے چاہے روک لیتا ہے ، یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھوں کا ذکر ہے اور آیت زیر درس میں بھی فرمایا کہ میں نے آدم (علیہ السلام) کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تخلیق کیا تو دیگر اعضاء کی طرح اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بھی اس کی صفات میں داخل ہیں اور یہ ویسے ہی ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ دونوں ہاتھوں کے مجازی معنی مراد ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور قوت کے ہاتھ ، انسان کی تخلیق میں مادیت اور لطافت دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے مادی جہان کے تمام عناصر کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور عالم بالا سے آنے والی روح کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے تو اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ بایں معنی مراد ہیں کہ مادیت اور لطافت دونوں اشیاء اسی کی پیدا کردہ ہیں ۔ (آگ اور مٹی کا تقابل) ان آیات میں پیش آمدہ دوسری قابل غور چیز آگ اور مٹی کا تقابل ہے ابلیس نے اپنی برتری بایں وجہ جتلائی کہ آگ چمکدار ، تیز اور طیش والی ہے جب کہ مٹی میں عجزوانکساری پائی جاتی ہے اور یہ پاؤں کے نیچے پامال ہوتی ہے بشار ابن برد ایک مجوسی شاعر گزرا ہے کہتے ہیں کہ یہ بعد میں مسلمان ہوگیا تھا مگر حقیقت میں وہ آتش پرست ہی تھا ظاہر ہے کہ آگ کی پوجا کرنے والے اور اس کو معبود ماننے والے اسی کو اعلی وارفع بتلائیں گے چناچہ اس نے ابلیس کی ہمہ نوائی میں مزاحیہ انداز میں کچھ اشعار کہے تھے ۔ ابلیس افضل من ابیکم ادم فتبینوا یا معشر الاشرار النار عنصرہ وادم طینۃ والطین لا یسموسموا لنار الارض مظلمۃ والنار مشرقۃ والنار معبودۃ مذکانت النار : اے گروہ اشرار ! ابلیس تمہارے جد امجد آدم (علیہ السلام) سے افضل ہے کیونکہ ابلیس کا مادہ تخلیق آگ ہے اور آدم (علیہ السلام) کا مٹی ہے اور مٹی آگ کی بلندی کو نہیں پہنچ سکتی ، آگ چمکدار ہے جب کہ مٹی تاریک ہے اور آگ جب سے پیدا ہوئی ہے اس کی پوجا ہو رہی ہے اس کے بچاری مجوسی آگ کو چوبیس گھنٹے آتش کدہ میں جلائے رکھتے ہیں ۔ غرضیکہ ابلیس نے اپنے آپ کو ناری ہونے کی بناء پر برتر ظاہر کیا جبکہ حضرت مجدد الف ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو شرف مٹی اور خاک کو بخشا ہے وہ تو فرشتوں میں بھی نہیں پایا جاتا ہے فرشتوں پر اللہ تعالیٰ کی صفاتی تجلیات پڑتی ہیں جب کہ انسان اس کی واحد مخلوق ہے جس پر اس کی ذاتی تجلیات کا نزول ہوتا ہے ابلیس کو دھوکہ ہوا جو آگ کی ظاہری چمک دمک پر مفتون ہوگیا اور آدم (علیہ السلام) پر اپنی برتری جتلائی ، حقیقت یہ ہے کہ آگ میں طیش ، گرمی اور اچھلنے کا مادہ تو ہے مگر اس میں سکون کی دولت نہیں ہے ، وقار ، تواضع اور انکساری نہیں ہے اور یہی وہ چیزیں ہیں جو مٹی کو آگ پر فوقیت دلاتی ہیں ۔ (ابلیس پر لعنت) جب ابلیس نے سجدہ ریز ہونے سے انکار کردیا اور غرور وتکبر کی بنا پر اپنی برتری کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” قال فاخرج منھا “َ یہ ان سے نکل جاؤ ابلیس فرشتوں کے ساتھ ہی رہتا تھا اور جنت میں بھی اس کی آمد ورفت تھی مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہاں سے دفع ہوجاؤ ، (آیت) ” فانک رجیم “۔ تم مردود ہو (آیت) ” وان علیک لعنتی الی یوم الدین “۔ تم پر انصاف کے دن یعنی قیامت تک میری لعنت اور پھٹکار ہی پڑتی رہے گی ، رجیم کا معنی پھینکا ہوا یا مارا ہوا تم میری رحمت سے دور ہوچکے ہو لہذا تم پر قیامت تک لعنت ہی برستی رہے گی (آیت) ” قل رب فانظرنی الی یوم یبعثون “۔ کہ ابلیس کہنے لگا ، پروردگار ! مجھے مہلت دے دے اس دن تک جب یہ لوگ دو بار اٹھائے جائیں گے مجھے اختیار دے دے کہ میں اس دن تک تیرے بندوں کو گمراہ کرتا رہوں تا کہ ثابت کرسکوں کہ آدم کو مجھ پر فضیلت نہیں ہے (آیت) ” قال فانک من المنظرین “۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا پس بیشک تو مہلت دے ہوؤں میں سے ہے تجھے اجازت ہے کہ انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے پورا پورا زور لگالے مگر یہ مہلت (آیت) ” الی یوم الوقت المعلوم “۔ ایک معلوم وقت کے دن تک ہے اس سے مراد پہلے صور پھونکے جانے کا دن ہے جب ہر چیز فنا ہوجائے گی اور بعض اس کے بعد دوسرے صور پھونکے جانے پر ہوگا ۔ ابلیس فنا کے بعد والا وقت بھی چاہتا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے وہ نہیں دیا کیونکہ اس کے بعد تو ابلیس کو عملی طور پر سزا ملنی شروع ہو جائیگی ، سورة مریم میں ہے (آیت) ” فوربک لنحشرنھم والشیطین ثم لنحضرنھم حول جھنم جثیا “۔ (آیت : 68) تیرے پروردگار کی قسم ہم ان کو اور شیاطین کو اکٹھا کریں گے پھر انہیں جہنم کے گرد حاضر کریں گے اور وہ گھٹنوں کے بل گرنے والے ہوں گے ، اس وقت شیطان کے بچاری اس کی ملامت کریں گے کہ تیرے اغوا کی وجہ سے ہمیں جہنم کا مزا چکھنا پڑا ، مگر وہ صاف انکار کر دے گا کہ میں نے تم سے کوئی بات جبرا تو نہیں منوائی تھی میں نے تو صرف وسوسہ اندازی کی تھی اور تم نے نیک لوگوں کی بات پر یقین نہ کیا اور میری بات کو سچا تسلیم کرلیا (آیت) ” ولا تلومونی ولوموا انفسھم “۔ (ابراہیم 22) آج مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو کیونکہ تم نے خود ہی غلط راستہ اختیار کیا ۔ محدثین اور مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے ابلیس جیسے ملعون کی دعا بھی قبول کرلی اور اسے قیامت تک کے لیے مہلت دیدی اس کا مطلب یہ ہوا کہ دعا کی قبولیت نیکی کی علامت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ چاہے تو بدترین شخص کی دعا بھی قبول کرلے ، مسند احمد شریف کی روایت میں آتا ہے کہ آخر زمانہ کے سخت نافرمان اور ناہنجار لوگوں کی دعا بھی اللہ تعالیٰ قبول کرے گا ۔ (شیطان کا اغوا) جب شیطان کو حسب خواہش مہلت مل گئی تو اس نے اپنی بدبختی کا کھل کر اظہار کردیا (آیت) ” قال فبعزتک لاغوینھم اجمعین “۔ کہنے لگا ، تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کروں گا میں ان کے دائیں بائیں ، آگے پیچھے سے ، دنیا کے راستے سے ، دین کے راستے سے ، خواہشات کے راستے ، آخرت کے راستے سے ، غرضیکہ ہر راستے سے آکر انکو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا ، چناچہ حضور ﷺ کا فرمان مبارک بھی ہے کہ جب کوئی آدمی جہاد کے لیے نکلتا ہے ، نماز کے لیے جاتا ہے یا صدقہ خیرات کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان اس کے دل میں وسوسہ اندازی کرکے اسے ہر نیک کام سے روکنے کی کوشش کرتا ہے ، تو ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر کہا کہ میں ضرور ان کو گمراہ کروں گا ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے ، اس کا علاج بھی پیدا فرمایا ہے چناچہ جب شیطان نے قسم اٹھا کر انسانوں کو گمراہ کرنے کا وعدہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا کہ مجھے میری عزت بڑائی عظمت اور جبروت کی قسم ہے کہ میرے بندے جب تک مجھ سے معافی مانگتے رہیں گے میں انہیں معاف کرتا رہوں گے گویا اللہ تعالیٰ نے گمراہی جیسی مہلک بیماری کا علاج بھی پیدا کردیا ، لہذا انسانوں کو چاہئے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے رہیں ۔ (مخلصین کا استثنی) شیطان نے اغوا کی قسم تو اٹھالی کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا مگر ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کو مستثنی بھی کردیا ، (آیت) ” الا عبادک منھم المخلصین “۔ ان میں سے تیرے مخلص بندوں پر میرا داؤ نہیں چلے گا ، لہذا وہ میرے اغواء سے بچ جائیں گے ، حقیقت بھی یہی ہے کہ ابلیس کا داؤد پیچ عام لوگوں پر ہی چلتا ہے جب کہ اس کے منتخب اور برگزیدہ بندے محفوظ رہتے ہیں (آیت) ” قال فالحق “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیری بات تو ٹھیک ہے کہ میرے مخلص بندے تیرے اغوا میں نہیں آئیں گے (آیت) ” والحق اقول “۔ اور میں بھی حق بات ہی کہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جو انسان تیری پیروی کریں گے (آیت) ” لاملئن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین “۔ میں تجھے اور تیرے تمام پیروکاروں کو جہنم میں ڈال کر جہنم کو بھر دوں گا ، میرطرف سے بھی یہ اعلان ہے ، اب یہ انسانوں کا کام ہے کہ وہ ابلیس کے اغوا کا شکار ہو کر جہنم کا ایندھن بنتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی توحید اور ایمان کو تسلیم کرکے اس کے مخلص بندوں میں شامل ہوتے ہیں ۔
Top