Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Saad : 86
قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ
قُلْ
: فرما دیں
مَآ
: نہیں
اَسْئَلُكُمْ
: میں مانگتا تم سے
عَلَيْهِ
: اس پر
مِنْ اَجْرٍ
: کوئی اجر
وَّمَآ اَنَا
: اور نہیں میں
مِنَ
: سے
الْمُتَكَلِّفِيْنَ
: بناوٹ کرنے والے
آپ کہہ دیجئے (اے پیغمبر ﷺ میں نہیں مانگتا تم سے اس (پیغام رسانی) پر کوئی بدلہ اور نہیں ہوں میں تکلف کرنے والوں میں ۔
ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دین کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت وقوع قیامت اور قرآن کی حقانیت بیان کے ہیں ، رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بطور نمونہ پیش کرکے ان کے صبر و استقلال کا ذکر کیا ہے ، علاوہ ازیں مشرکین کا رد ، سابقہ اقوم کی نافرمانیاں اور تکذیب رسل کا ذکر ہے اور پھر نافرمان قوموں کی سزا کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور دیگر نیک بندوں کے انعامات کا ذکر بھی فرمایا ہے ، خاص طور پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی نبوت و رسالت ، اقتدار وخلافت اور کتاب و شریعت جیسی عظیم نعمتوں کا ذکر کیا ہے ، یہ سب چیزیں بطور نمونہ اور عبرت بیان کی گئی ہیں ، اس کے علاوہ ملاء اعلی کا ذکر ، فرشتوں کو سجدے کا حکم ابلیس کا انکار بھی اس سورة مبارکہ میں بیان ہوا ہے ، توحید و رسالت کا بار بار ذکر آیا ہے خاص طور پر حضور ﷺ کی زبان مبارک سے یہ اعلان کروایا کہ میں تو محض منذر (ڈرسنانے والا) ہوں معبود برحق تو صرف ذات خداوندی ہے آخر میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کے اغور اور اس اور اس کی جماعت کا حشر بھی بیان فرمایا ہے ۔ (بےلوث تبلیغ) سورة کی آخری آیات زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں کا تذکرہ فرمایا ہے ، پہلی چیز انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی بےلوث تبلیغ سے متعلق ہے ارشاد ہوتا ہے ” قل “ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے (آیت) ” ما اسئلکم علیہ من اجر “۔ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا ، مطلب یہ کہ میں جو خدا کا کلام تم کو پڑھ کر سناتا ہوں اور جو احکام دین و شریعت تم تک پہنچاتا ہوں ، اس کے لیے میں تم سے کوئی اجرت تو نہیں مانگتا بلکہ یہ خدمت تو میں بغیر کسی ذاتی غرض کے انجام دے رہا ہوں ، اب یہ تمہارا فرض ہے کہ تم اس بات پر غور کرو کہ تمہیں میری بات سننے میں کیا تامل ہوسکتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے سارے نبیوں نے اپنی اپنی قوم سے یہی کہا (آیت) ” یقوم لقد ابلغتکم رسلت ربی ونصحت لکم “۔ (الاعراف 93) اے میری قوم کے لوگو ! میں تو اپنے پروردگار کے پیغامات تم تک پہنچاتا ہوں اور تم سے خیر خواہی کا برتاؤ کرتا ہوں ، انہوں نے یہ بھی کہا (آیت) ” یقوم لا اسئلکم علیہ اجرا ان اجری الا علی الذی فطرنی “۔ (ہود ، 51) اے میری قوم کے لوگو ! میں ا س پیغام رسانی پر تم سے کوئی مزدوری طلب نہیں کرتا میرا بدلہ تو اسی کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے میں تو صرف یہی کہتا ہوں کہ میری بات سنو کہ اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر اپنے ایمان کو درست کر لوگے ، اعمال واخلاق کو صحیح بنالو گے تو تمہیں ہمیشہ کی کامیابی حاصل ہوجائے گی اور اگر کفر وشرک میں پھنسے رہو گے ، اپنی فکر کو درست نہیں کروگے تو اس انجام نہایت ہی برا ہوگا ، اب یہ تمہارا فرض ہے کہ تم دوست اور دشمن میں تمیز پیدا کرو ، اچھائی اور برائی کو پرکھو اور شیطان کے بہکاوے میں نہ آؤ بلکہ صحیح راستہ اختیار کرو ۔ (تکلف سے پرہیز) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے یہ بات کہلوائی ہے (آیت) ” وما انا من المتکلفین “۔ میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں تکلف کا معنی تصنع اور بناوٹ ہوتا ہے اور عدم تکلف بہت بڑا اصول ہے جس کا اظہار نبی کی زبان مبارک نے کردیا ہے مطلب یہ کہ تکلف کا دین کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے میں جھوٹ موٹ یا بناوٹ سے کوئی بات نہیں کرتا بلکہ میری ہر بات سراسر حقیقت ہوتی ہے تکلف نہ تو اللہ تعالیٰ کے نبی کی بات میں ہوتا ہے اور نہ اس کے عمل میں ۔ یہ اصول تمام بنی نوع انسان کے لیے قابل عمل ہے کہ انسانی زندگی میں کہیں بھی تکلف نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ اچھی چیز نہیں ہے ، بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ انہوں نے کہ لوگو ! ” من علم شیئا فلیقل ومن لم یعلم فلیقل اللہ اعلم “۔ جو شخص کسی چیز کے متعلق جانتا ہے ، وہ کہہ دے اور جو کوئی نہیں جانتا اسے چاہئے کہ یوں کہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ، ایسے موقعہ پر اپنی طرف سے کوئی فتوی جاری نہیں کرنا چاہئے ایک دوسری روات میں آتا ہے کہ جس چیز کو جانتے ہو اس کو بتا دو ، اور جس کو نہیں جانتے اس کو جاننے والے کی طرف سونپ دو یہ تو قرآن پاک کا فیصلہ بھی ہے (آیت) ” فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “۔ (النحل ، 43) اگر تم خود نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو ، خود تکلف نہ کرو کہ یہ علم کی بات ہے ، اور بغیر علم کے محض تکلف سے جواب دے دینا جہالت کی بات ہے ۔ ایک شخص سات ماہ کی مسافت طے کر کے امام مالک (رح) کے پاس بعض مسائل دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوا ، آپ نے بعض مسائل کا جواب دے دیا اور بعض کے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا ، وہ شخص کہنے لگے حضرت ! مجھے لوگوں نے اتنی دور سے مسائل دریافت کرنے کے لیے بھیجا ہے میں ان لوگوں کو کیا جواب دوں گا ؟ آپ نے فرمایا کہ ان سے کہہ دینا کہ مالک (رح) نے اپنی جہالت کا اقرار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ میں ان باتوں کو نہیں جانتا گویا آپ نے بلاتکلف ٹھیک ٹھیک بات کہہ دی اور یہی بات اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے کہلوائی کہ میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنیوالوں میں سے ہوں ۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ تکلف ، تصنع اور بناوٹ بری چیز ہے البتہ ” البذاذۃ من الایمان “ یعنی سادگی ایمان کا جزو ہے گویا سادگی تکلف کے مقابلہ میں آتی ہے ، حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن العاص ؓ جلیل القدر صحابی ہوئے ہیں باپ اور بیٹا دونوں صحابی رسول ہیں ، عبداللہ ؓ پہلے مسلمان ہوا اور عمرو ابن العاص ؓ بعد میں ، یہ وہی عمروابن العاص ؓ ہیں جنہوں نے مصر فتح کیا تو کسی نے حضور ﷺ کی خدمت میں حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ کا ذکر کیا کہ وہ ساری رات قیام کرتا ہے اور صبح کو روزہ بھی رکھتا ہے ، آپ یہ بات سمجھانے کے لیے حضرت عبداللہ ؓ کے ہاں تشریف لے گئے کہ عبادت اس قدر کرو جتنی برداشت کرسکو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ زیادہ عبادت کرتے کرتے بالکل ہی چھوڑ بیٹھو ، بہرحال جب آپ عبداللہ ؓ کے ہاں پہنچے تو انہوں نے آپ کے بیٹھنے کے لیے گدا بچھانے کی کوشش کی مگر آپ گدا بچانے سے قبل ہی زمین پر بیٹھ گئے اب ایک طرف حضور ﷺ تشریف فرما تھے اور دوسری طرف عبداللہ ؓ تھے اور ان دونوں کے درمیان گدا بچھا ہوا تھا یہ بھی حضور ﷺ کی بےتکلفی کی علامت ہے کہ آپ نے گدے پر بیٹھنا بھی پسند نہ کیا اور لوگوں کو تعلیم دے دی کہ کسی بھی کام میں تکلف اچھا نہیں ہوتا ۔ حضرت انس ؓ نے ایک موقعہ پر اپنے شاگردوں تو ایک پیالہ دکھایا اور فرمایا کہ اس پیالے میں میں نے حضور ﷺ کو ہر قسم کے مشروبات دودھ ، پانی ، شربت ، شہد وغیرہ پلائے ہیں اور آپ نے کبھی تکلف نہیں فرمایا کہ پانی مٹی کے برتن میں پینا چاہئے اور دودھ شیشے کے گلاس میں ڈالنا چاہئے یا شربت کسی اور برتن میں پیش کرنا چاہئے بلکہ بلاتکلف ہر قسم کا مشروب ایک ہی برتن میں نوش فرماتے رہے ہیں ۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضور کہیں تشریف لے گئے واپسی پر ایک صحابی سہل بن سعد ؓ کے پاس ٹھہرے ، اتفاق سے اسی دن اس کی شادی ہوئی تھی آپ نے پیاس محسوس کی اور پانی طلب کیا تو آپ کو شہد سے میٹھا کیا ہوا پانی پیش کیا گیا ، حدیث کے الفاظ ہیں کہ یہ شربت پیش کرنے والی صحابی کی نئی دلہن تھی یہ بھی بےتکلفی کی ایک مثال ہے ، بہرحال تکلف کسی مقام پر بھی اچھا نہیں ۔ ولیس التکلف الا دونھا کلف “۔ یعنی تکلف کے پیچھے تکالیف ہی آتی ہیں جب کہ سادگی میں ہمیشہ آسانی ہوتی ہے ۔ امام بیہقی (رح) نے حدیث بیان کی ہے جس میں تکلف کرنے والوں کی نشانیاں بیان کی ہیں ۔ (1) تکلف کرنے والا آدمی ہمیشہ اوپر والے کو نیچے کرانے کی کوشش کرتا ہے یعنی خود اس سے اوپر آنا چاہتا ہے ۔ (2) تکلف کرنے والے ایسی چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کو نہیں پاسکتا ۔ اور (3) ایسی بات کہتا ہے جس کو جانتا نہیں۔ ابن عدی کی کتاب سے روایت ہے کہ ایک موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو نہ بتلاؤں کہ جنت والے کون لوگ ہیں لوگوں نے عرض کیا ، حضور ضرور ارشاد فرمائیں ، فرمایا ” ھم الرحمآء وبینھم ۔ جو آپس میں مہربانی سے پیش آتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ نے یہی صفت حضور ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین کی قرآن میں بیان کی ہے (آیت) ” اشدآء علی الکفار رحمآء بینھم “۔ (الفتح ، 29) کہ وہ کافروں پر بڑے سخت ہیں ، مگر آپس میں بڑے رحمدل اور شفیق ہیں پھر حضور ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو اہل دوزخ کی علامت نہ بتاؤں عرض کیا حضور (ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بتلائیں ، فرمایا دوزخ والے خدا کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں اور تکلف سے کام لیتے ہیں ۔ تکلف ہر چیز میں پایا جاتا ہے جیسے مکان ، لباس ، سواری ، خوراک وغیرہ رسومات فاسدہ کو اختیار کرنے میں بڑا تکلف کیا جاتا ہے اور ایس وجہ سے تعیش کے کام انجام دیے جاتے ہیں اور سادگی جیسی جزو ایمان کو ترک کردیا جاتا ہے اس تکلیف کی وجہ سے ہی اکثر لوگ پریشان ہوتے ہیں اور پورا معاشرہ خرابی میں مبتلا ہوتا ہے ، تکلف میں فضول خرچی ہوتی ہے جب کہ سادگی کفایت شعاری کی علامت ہے ، حضرت علی ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنے اعمال سے عہد لیا تھا کہ تم خود ایسی واضع اختیار کرو کہ بڑے آدمی کو اسے اختیار کرنے میں عار نہ ہو اور چھوٹے آدمی کو تکلیف نہ ہو ، مگر افسوس کا مقام ہے کہ اب ہمارے ہاں کسی چیز کا کوئی معیار باقی نہیں رہا ، لوگ خواہ مخواہ تکلف میں پڑ کر تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں ہمارے سامنے بےتکلیفی کا کوئی نمونہ ہی نہیں جسے اختیار کرکے تکلیف سے بچا جاسکے ، رسومات میں اس لیے تکلف کیا جاتا ہے کیونکہ لوگوں کے سر پر یہ بھوت سوار ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہماری خفت ہوگی اور ہم ذلیل ہوجائیں گے ، اب بٹھا کر کھانا نہیں کھلایا جاتا کہ لوگ کہیں گے یہ دقیانوسی آدمی ہے اسے نئے معاشرہ کے آداب کا بھی لحاظ نہیں ، لباس میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کشش کی جاتی ہے ، مکانات کی تعمیر میں پڑوسی سے بلند ہونے کا خبط سوار ہوتا ہے اور پھر مکان کی تزئین و آرائش میں اسراف کی تمام حدیں پھلانگ لی جاتی ہیں ، سواری کے لیے ہر نئے ماڈل کی کار کا انتظار ہوتا ہے ، غرضیکہ یہ سب تکلفات ہیں جنہیں امراء تو اپنی دولت کے بل بوتے پر انجام دیتے ہیں جب کہ کم ترحیثیت کے لوگ بڑوں کی دیکھا دیکھی اسی روش پر چلنے کی کوشش میں مقروض ہوجاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوایا کہ میں تو تکلف کرنے والا نہیں ہوں ، تمہیں سیدھی سادھی بات بتاتا ہوں جان لوگے تو فائدہ میں رہوگے ورنہ مصیبت کا شکار ہو گے ۔ (قرآن بطور نصیحت) تیسری بات اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کے بارے میں فرمائی ہے کہ یہ کوئی تکلف اور بناوٹ کی بات نہیں ہے بلکہ (آیت) ” ان ھو الا ذکر للعلمین “۔ یہ تو تمام جہانوں کے لیے سراسر نصیحت ہے ، اس سورة مبارکہ میں قرآن پاک کو تین دفعہ نصیحت سے تعبیر کیا گیا ہے سورة کی پہلی آیت میں (آیت) ” والقرآن ذی الذکر “۔ کے الفاظ آئے تھے ، پھر آٹھویں آیت میں آیا ہے (آیت) ” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “۔ اور تیسری مرتبہ یہاں آیت 87) میں ذکر کا لفظ قرآن پاک کے لیے استعمال ہوا ہے کہ قرآن پاک تمام جہان والوں کے لیے بطور نصیحت ہے ، اس میں انسانوں کے علاوہ جن بھی آجاتے ہیں تاہم عام طور پر جہان والوں سے اقوام عالم مراد لیا جاتا ہے ، مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ عالمین سے اقوام عالم مراد ہیں کیونکہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے ساری بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے ویسے تو اللہ تعالیٰ ہی ساری مخلوق جن ، انسان ، چرند پرند کیڑے مکوڑوں کا خالق ہے مگر جہاں قانون کی پابندی کی بات ہوتی ہے وہاں اقوام عالم مراد ہویت ہیں جو کہ اس ازلی ابدی قانون کی مکلف ہیں ، قرآن حکیم نے صرف اہل ایمان کے لیے باعث نصیحت ہے بلکہ روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے لیے ہے اب یہ اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ اسے باقی لوگوں تک بھی پہنچائیں ۔ (قرآنی پروگرام کی حقانیت) یہاں پر چوتھی بات اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی ہے (آیت) ” ولتعلمن نباہ بعد حین “۔ تم اس قرآنی پروگرام کی خبر یا نتیجے کو ضرور جان لو گے ایک وقت کے بعد جب تمام ادیان عالم کو آزمالو گے ، ہر قسم کے نظام کا تجربہ کر لوگے تو پھر آخر میں قرآنی پروگرام کی حقانیت کو ہی تسلیم کرنا پڑے گا کہ سب سے اعلی ، ارفع اور قابل عمل پروگرام یہی ہے ، دنیا کا کوئی مذہب ، کوئی کتاب کوئی فلسفہ ، اور کوئی سائنس قرآن جیسا پروگرام پیش نہیں کرسکتی ، مشرکین ختم ہوگئے ، یہود ونصاری دب گئے اور بالآخر اللہ تعالیٰ نے قرآن کے پروگرام کو ہی غالب بنایا اور اہل ایمان نے اس پر عمل کر کے دکھا دیا یہ پروگرام عرصہ تک کامیابی کے ساتھ چلتا رہا ، پھر مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے مغلوب ہونا شروع ہوگیا ، آج اس کے ماننے والے نالائق ہیں تکلف میں پڑ کر ان میں طرح طرح کی کمزوریاں پیدا ہوچکی ہیں ، آج اگرچہ بحیثیت مجموعی قرآنی پروگرام مغلوب ہے مگر ہر معاملے میں صحیح پروگرام یہی ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، تو فرمایا تم ایک وقت کے بعد قرآن کی حقانیت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہ جاؤ گے ۔ امام ابن عربی (رح) فرماتے ہیں کہ جاننے سے مراد اگر جزائے عمل ہے تو پھر قیامت صغری اور قیامت کبری کے وقت اس پروگرام کی صداقت کا پتہ چلے گا ، جب کوئی آدمی فوت ہوجاتا ہے تو اس وقت سمجھے گا کہ قرآنی پروگرام ہی درست تھا اور پھر جب قیامت کبری برپا ہوگی اور جزائے عمل کاموقعہ آئے گا ، تو اس وقت انسانوں کو اس پروگرام کی اہمیت اور حقانیت کا اندازہ ہوگا ، مگر اس وقت اس پر عمل پیرا ہونے کا وقت گزر چکا ہوگا ، اسلام کے پہلے ساڑھے چھ سوسالہ دور میں اس قرآن پر کسی نہ کسی طرح عمل ہوتا رہا ، اس کے بعد مسلمانوں کی اجتماعیت ختم ہوگئی ، خلافتوں کا سلسلہ ہی ختم ہوگیا ، اور پھر انگریزوں نے مسلمانوں کو ویسے ہی تتربتر کردیا ، یہ قرآن کو ماننے والوں کی کوتاہی کا نتیجہ ہے ، وگرنہ قرآن کا پروگرام آج بھی اسی طرح سچا اور قابل عمل ہے جس طرح قرون اولی میں تھا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگ اس کی حقانیت کو ضرور جان لیں گے مگر ایک وقت کے بعد ۔ سورۃ الزمر مکی ہے یہ پچھتر آیتیں ہیں اور اس کے آٹھ رکوع ہیں ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم : جو نہایت بخشش کرنے والا اور بڑا مہربان ہے ۔
Top