Mutaliya-e-Quran - Al-Faatiha : 1
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بِ : سے     اسْمِ : نام     اللّٰهِ : اللہ     ال : جو     رَحْمٰنِ : بہت مہربان     الرَّحِيمِ : جو رحم کرنے والا
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے
[ بِسْمِ اللّٰہِ : اللہ کے نام سے ][الرَّحمٰنِ : جو انتہائی رحمت والا ہے ] [ الرَّحِیْمِ : جو ہمیشہ رحمت کرنے والا ہے ] س م و سَمَوَ یَسموا (ن) سُمُوًّا : بلند ہونا ‘ نمایاں ہونا۔ (تفعیل) تَسْمِیَۃً : کسی کو نمایاں کرنا ‘ کسی کا نام رکھنا۔ { وَاِنِّیْ سَمَّیْتُھَا مَرْیَمَ } (آل عمران :3) ” اور میں نے اس کا نام رکھا مریم۔ “ مُسَمّٰی (باب تفعلیل سے اسم المفعول) : نام رکھا ہوا ‘ نمایاں کیا ہوا ‘ کوئی معین چیز۔ { وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلُّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمّٰی } (الرعد :2) ” اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ہر ایک تیر رہا ہے ایک معین وقت تک کے لیے ۔ “ اِسْمٌ : کسی چیز کی علامت جو اسے نمایاں کرے ‘ نام۔ سَمِیٌّ : ہم نام۔ { ھَلْ تَعْلَمُ لَہٗ سَمِیًّا } (مریم :65) ” کیا تم جانتے ہو اس کا کوئی ہم نام ؟ “ سَمَائٌ جمع سَمَوٰتٌ : بلندی ‘ آسمان۔ ء ل ھـ (ف) اُلُوْھَۃٌ : غلامی کرنا ‘ عبادت کرنا۔ اِلٰـہٌ جمع اٰلِھَۃٌ : عبادت کیا ہوا جس کی عبادت کی گئی ۔ ر ح م رَحِمَ یَرْحَمُ (س) رَحْمَۃً : مہربانی کرنا ‘ رحم دل ہونا۔ رَحِمٌ جمع اَرْحَامٌ : بچہ دانی ‘ رشتہ داری۔ { وَیَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِ } (لقمٰن :34) ” اور وہ جانتا ہے جو بچہ دانیوں میں ہے۔ “{ وَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْا اَرْحَامَکُمْ } (محمد :22) ” اور اگر تم لوگوں کو اقتدار ملے تو تم لوگ حقوق و فرائض کا توازن بگاڑو زمین میں اور تم لوگ کاٹ دو اپنی رشتہ داریوں کو۔ “ بِسْمِ اللّٰہِ : اسم کا مادہ س م و ہے اور اس کے شروع میں ہمزۃ الوصل ہے۔ اس لیے قاعدہ کے لحاظ سے اس کا املا باسم اللہ ہونا چاہیے تھا لیکن صرف بسم اللہ کا یہ مخصوص املا ہے کہ اس میں ہمزۃ الوصل لکھا بھی نہیں جاتا۔ باقی ہر جگہ قاعدہ کے مطابق لکھا جاتا ہے البتہ پڑھا نہیں جاتا مثلاً : { وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ ص } (المائدۃ :4) ”۔ “ اَللّٰہُ : لفظ اِلٰــہٌ پر لام تعریف داخل کرنے سے قاعدے کے مطابق لفظ اَلْاِلٰہُ بنتا ہے ‘ لیکن خلاف قاعدہ مادہ کا ہمزہ گرا کر اَلْ لٰــہُ بولتے ہیں اور اس طرح لکھتے ہیں اَللّٰہُ ۔ اِلٰـــہٌ : فِعَالٌ کا وزن اسم المفعول کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے کِتَابٌ یعنی لکھا ہوا یا جس پر لکھا گیا۔ اس طرح اِلٰــہٌ میں مفعول کا مفہوم ہے۔ جس کی عبادت کی گئی۔ رَحْمٰنُ : فَعْلَانُ مبالغہ کا وزن ہے اور اس میں انتہائی شدت کا مفہوم پایاجاتا ہے جیسے عَطْشَانُ یعنی انتہائی پیاسا۔ اسی طرح رَحْمٰن کا مطلب ہے انتہائی رحمت والا ۔ نوٹ (1): اَلرَّحْمٰنُ اور اَلرَّحِیْمُ کو اگر اللہ کا بدل مانا جائے تو ترجمہ اس طرح ہوگا جو اوپر دیا ہوا ہے لیکن اگر انہیں صفت مانا جائے تو ترجمہ ہوگا ” رحمن اور رحیم اللہ کے نام سے “۔ دونوں ترجمے درست مانیں جائیں گے۔ نوٹ (2): یہ پورا فقرہ مرکب جاری ہے جملہ نہیں ہے۔ اس لیے اس سے قبل کچھ محذوف ماننا ضروری ہے۔ اگر اسے جملہ اسمیہ مانا جائے تو اس سے قبل کوئی مبتدأ محذوف مانا جائے گا جیسے اِبْتِدَائِی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (میری ابتداء اللہ کے نام سے جو رحمن ہے رحیم ہے) اگر جملہ فعلیہ مانیں تو اس سے قبل کوئی فعل محذوف مانا جائے گا جیسے اَبْتَدِئُ (میں ابتدا کرتا ہوں) ۔ ایک رائے یہ ہے کہ جو کام کر رہے ہیں اس کا فعل محذوف مانیں جیسے اَکْتُبْ (میں لکھتا ہوں) ۔ اَرْکَبُ (میں سوار ہوتا ہوں) ۔ نوٹ (3): اِلٰــہٌ کا لفظ عام ہے۔ یہ معبودبرحق اور معبود باطل دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن لفظ اللہ ہمیشہ سے صرف ذات باری تعالیٰ کے لیے مخصوص رہا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے بھی اہل عرب نے کبھی اس لفظ کو کسی معبود باری کے لیے استعمال نہیں کیا۔ اسی لیے قرآن میں اللہ تعالیٰ نے سوال کیا کہ کیا تم اس کے کسی ہم نام کو جانتے ہو۔
Top