Mutaliya-e-Quran - Saad : 29
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ
كِتٰبٌ : ایک کتاب اَنْزَلْنٰهُ : ہم نے اسے نازل کیا اِلَيْكَ : آپ کی طرف مُبٰرَكٌ : مبارک لِّيَدَّبَّرُوْٓا : تاکہ وہ غور کریں اٰيٰتِهٖ : اس کی آیات وَلِيَتَذَكَّرَ : اور تاکہ نصیحت پکڑیں اُولُوا الْاَلْبَابِ : عقل والے
یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے محمدؐ) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں
كِتٰبٌ [(یہ) ایک کتاب ہے ] اَنْزَلْنٰهُ [ہم نے اتارا جس کو ] اِلَيْكَ [آپ ﷺ کی طرف ] مُبٰرَكٌ [جو برکت دی ہوئی ہے ] لِّيَدَّبَّرُوْٓا [تاکہ یہ لوگ غور وفکر کریں ] اٰيٰتِهٖ [اس کی آیتوں میں ] وَلِيَتَذَكَّرَ [اور تاکہ نصیحت حاصل کریں ] اُولُوا الْاَلْبَابِ [خالص عقل والے ] ۔ نوٹ۔ 1: ان آیات میں اسلام کے بنیادی عقائد، خاص طور سے آخرت کا اثبات کیا گیا ہے۔ یہ آیات حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے واقعات کے درمیان انتہائی لطیف ترتیب کے ساتھ آئی ہیں۔ اگر کوئی شخص ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ سمجھ رہا ہو تو حکیمانہ طریقہ یہ ہے کہ زیر بحث موضوع چھوڑ کر کوئی دوسری بات شروع کردی جائے اور جب اس کا ذہن پہلی بات سے ہٹ جائے تو باتوں ہی باتوں میں اسے پھر پہلی بات کی طرف لایا جائے۔ یہاں آخرت کے اثبات کے لئے یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ حضرت داؤد کے واقعہ سے پہل کفار کی ہٹ دھرمی کا ذکر چل رہا تھا جو اس آیت پر ختم ہو کہ اے ہمارے رب تو حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا حساب چکا دے۔ (آیت 16) ۔ اس کا حاصل یہ تھا کہ یہ لوگ آخرت کا انکار کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کے فورا بعد یہ ارشادہوا کہ ان کی باتوں پر صبر کیجیے اور ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو یاد کیجیے۔ لہٰذا تم لوگوں میں انصاف سے فیصلہ کرتے رہنا۔ یہاں ایک غیر محسوس طریقے پر آخرت کا اثبات کردیا گیا، کہ جو ذات زمین میں اپنے خلیفہ کو عدل و انصاف قائم کرنے میں حکم دے رہی ہے ، جس کا حاصل یہ ہے کہ بدکاروں کو سزا ملے اور نیکوں کو راحت، کیا وہ خود اس کائنات میں عدل و انصاف قائم نہیں کرے گی ؟ یقینا اس کی حکمت کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ اچھے اور برے لوگوں کو ایک لاٹھی سے ہانکن کے بجائے بدکاروں کو سزا دے اور نیکو کاروں کو انعام دے۔ یہی اس کائنات کی تخلیق کا مقصد اور اس مقصد کی تکمیل کے لئے قیامت اور آخرت کا وجود ناگزیر ہے۔ جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں وہ گویا زبان حال سے یہ کہتے ہیں کہ کاتنات بےمقصد پیدا کردی گئی ہے اور اس میں اچھے برے تمام لوگ زندگی گزار کر مراجائیں گے اور پھر ان سے کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا۔ حالانکہ انسانی عقل اس کو تسلیم نہیں کرتی۔ (معارف القرآن)
Top