Al-Qurtubi - Al-Faatiha : 1
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بِ : سے     اسْمِ : نام     اللّٰهِ : اللہ     ال : جو     رَحْمٰنِ : بہت مہربان     الرَّحِيمِ : جو رحم کرنے والا
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سُوْرَۃُ الْفَاتِحَۃِ مَکِیَّۃ ٌ آیت نمبر ١ تا ٨ تفسیر سورة فاتحہ اس کے متعلق چار ابواب ہیں۔ الباب الاول :۔ یہ بات سورة فاتحہ کے فضائل اور اس کے اسماء کے بارے میں ہے اور اس باب میں سات مسائل کا ذکر ہوگا۔ مسئلہ نمبر ١ : ترمذی نے حضرت ابی بن کعب سے روایت کیا، فرمایا : رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تورات اور انجیل میں اللہ تعالیٰ نے ام القرآن (سورۂ فاتحہ) کی مثل کلام نہیں اتارا اور یہ سورة سبع مثانی (ایسی سات آیات جو بار بار پڑھی جاتی ہیں) ہے۔ یہ میرے بندے کے درمیان منقسم ہے اور میرے بندے کے لئے وہی ہے جو اس نے سوال کیا۔ (١) مالک نے علاء بن عبد الرحمٰن بن یعقوب سے روایت کیا ہے کہ ابو سعید مولیٰ عبد اللہ بن عامر بن کریز نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابی بن کعب کو بلایا جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ پھر مذکورہ بالا حدیث ذکر کی۔ ابن عبد البر نے فرمایا : ابو سعید کے نام پر آگاہی نہیں ہوئی وہ اہل مدینہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے اور ان کی یہ حدیث مرسل ہے اور یہی حدیث ابو سعید بن معلیٰ سے بھی مروی ہے، یہ صحابہ میں سے ایک شخص ہے اس کے نام پر بھی آگاہی نہیں ہوئی۔ اس حدیث کو ابو سعید نے حفص بن عاصم اور عبید بن حسنین سے روایت کیا ہے۔ میں (قرطبی) کہتا ہوں :“ التمہید ” میں اسی طرح ہے کہ اس کے نام پر آگاہی نہیں ہوئی اور “ کتاب الصحابہ ” میں اس کے نام میں اختلاف ذکر کیا گیا ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری نے ابو سعید بن معلیٰ سے روایت کیا ہے۔ ابو سعید نے فرمایا : میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے آواز دی۔ میں نے آپ کو جواب نہ دیا (میں دیر سے حاضر خدمت ہوا) تو عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : استجیبوا للہ وللرسول اذا دعا کم (الانفال : 24 ) لبیک کہو اللہ اور ( اس کے) رسول کی پکار پر جب وہ رسول بلائے تمہیں) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد سے نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کی : حضور ! آپ نے فرمایا نہیں تھا کہ میں تجھے ایک سورت سکھاؤں گا جو قرآن میں سب سورتوں سے عظیم ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ سورت یہ ہے الحمد للہ رب العلمین۔ یہ سبع مثانی ہے اور وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے (١) ۔ ابن عبد البر وغیرہ نے فرمایا : ابو سعید بن معلیٰ جلیل القدر انصار میں سے ہے اور انصار کے سرداروں میں سے ہے۔ امام بخاری نے تنہا ان سے روایت کیا ہے۔ اس کا نام رافع ہے۔ اسے حارث بن نفیح بن معلیٰ کہا جاتا ہے اور اوس بن معلیٰ بھی کہا جاتا ہے اور ابو سعید بن اوس بن معلیٰ بھی کہا جاتا ہے ان کا وصال ٧٤ ہجری میں ہوا جبکہ ان کی عمر ٦٤ سال تھی۔ قبلہ کی تبدیلی ہوئی تو یہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ مزید ذکر آگے آئے گا۔ حضرت ابی بن کعب کی حدیث کو یزید بن زریع نے مسند (متصل) ذکر کیا ہے، فرماتے ہیں : ہمیں روح بن قاسم نے علاء بن عبد الرحمٰن سے روایت کر کے بتایا، علاء نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا، حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابی کے پاس تشریف لے گئے جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ پھر مکمل حدیث کا مفہوم ذکر کیا۔ ابن انباری نے اپنی کتاب “ الرد ” میں ذکر کیا ہے کہ مجھے میرے باپ نے بتایا، انہوں نے فرمایا : مجھے ابو عبید اللہ وراق نے بتایا۔ انہوں نے کہا : ہمیں ابو داؤد نے بیان کیا انہوں نے کہا : ہمیں شیبان نے بتایا انہوں نے منصور سے اور انہوں نے مجاہد سے روایت کیا، فرمایا : ابلیس۔ اللہ اس پر لعنت کرے۔ چار مرتبہ (افسوس کا اظہار کرتے ہوئے) رویا : (١) جب اس پر لعنت کی گئی (٢) جب اسے جنت سے نکالا گیا (٣) جب حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مبعوث کیا گیا (٤) جب سورة فاتحہ نازل ہوئی اور یہ سورت مدینہ میں نازل ہوئی۔ ( 2 ) مسئلہ نمبر  2 : علماء کا بعض سورتوں اور بعض آیتوں کا دوسری بعض سورتوں اور آیتوں پر فضیلت رکھنے کے متعلق اختلاف ہے (اسی طرح) بعض اسماء حسنی کا دوسرے بعض اسماء حسنیٰ پر فضیلت رکھنے کے متعلق بھی اختلاف ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں : کسی سورت آیت اور اسم کو دوسری سورت آیت اور اسم پر فضیلت نہیں ہے کیونکہ قرآن سارا اللہ کا کلام ہے، اسی طرح اس کے اسماء حسنیٰ کے درمیان بھی کوئی تفاضل نہیں ہے یہ قول شیخ ابو الحسن اشعری، قاضی ابوبکر بن طیب، ابو حاتم محمد بن حیان بستی اور فقہاء کی ایک جماعت کا ہے۔ امام مالک سے بھی اس کا مفہوم مروی ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : بعض قرآن کو بعض قرآن پر فضیلت دینا غلطی ہے۔ اسی طرح امام مالک نے ایک سورت کو بار بار پڑھنا یا اسے ہی دہراتے رہنا مکروہ قرار دیا ہے۔ امام مالک سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد بخیر منھا او مثلھا (البقرہ : 106 ) کے تحت یہ مروی ہے کہ ہم منسوخ آیت کی جگہ محکم آیت لے آتے ہیں۔ ابن کنانہ نے امام مالک سے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ ان علماء نے اس طرح حجت پکڑی ہے کہ افضل، منضول کے نقص کا شعور دیتا ہے، جبکہ تمام قرآن میں ذاتیت ایک ہے اور وہ کلام اللہ ہونا ہے اور اللہ کے کلام میں کوئی نقص نہیں ہے۔ سبتی نے کہا : حدیث کے الفاظ “ تورات وانجیل میں سورة فاتحہ کی مثل نہیں اتارا کیا ” کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تورات اور انجیل کو پڑھنے والے کو اتنا ثواب عطا نہیں فرماتا جو ام القرآن ( سورة فاتحہ) پڑھنے والے کو عطا فرماتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت (محمدیہ) کو دوسری امتوں پر اپنے فضل خاص سے فضیلت بخشی ہے اور اپنے کلام قرآن کی قراءت پر دوسرے اپنے کلام کی قراءت کی نسبت زیادہ فضیلت دی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب سے اس امت کے لئے خاص فضل ہے اور فرمایا : اعظم سورت کا مطلب یہ ہے کہ یہ سورت قرآن کی سورتوں میں سے اجر کے اعتبار سے عظیم ہے، نہ کہ بعض قرآن بعض سے افضل ہے۔ بعض علماء بعض قرآن کی بعض پر فضیلت کے قائل ہیں، وہ فرماتے ہیں : قرآن کی آیت والھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحم۔ (البقرہ) آیۃ الکرسی، سورة حشر کی آخری آیات، سورة اخلاص اور وہ سورتیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی صفات پر دلالت کرتی ہے ان میں جو فضیلت ہے وہ تمت یدا ابی لھب (لہب : 1 ) اور اس جیسی دوسری سورتوں میں موجود نہیں ہے۔ اور تفضیل معانی عجیبہ اور کثرت معانی کے اعتبار سے ہے نہ کہ صفت کے اعتبار سے ہے اور یہی حق ہے اور جو علماء تفصیل کے قائل ہیں ان میں سے اسحاق بن راہویہ وغیرہ متکلمین علماء میں سے ہیں اور یہ قول قاضی ابوبکر بن عربی، ابن حصار کا مختار ہے۔ ان علماء کے قول کی وجہ ابو سعید بن معلیٰ اور حضرت ابی بن کعب کی حدیث ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابی ! تیرے نزدیک کتاب اللہ میں کون سی آیت عظیم تر ہے، میں نے عرض کی اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم (البقرہ :  255 ) حضرت ابی نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا : اے ابا منذر ! تجھے یہ علم مبارک ہو۔ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے۔ ( 1 ) ابن عربی نے کہا : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد کہ اللہ تعالیٰ نے تورات، انجیل اور قرآن میں اس ( سورة فاتحہ) کی مثل نازل نہیں کیا (١) ۔ اس حدیث میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باقی کتب کا ذکر نہیں کیا جیسے منزل صحیفے اور زبور وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مذکور دوسری کتب سے افضل ہیں اور جب کوئی چیز کسی افضل سے افضل ہو تو وہ تمام چیزوں سے افضل ہوتی ہے جیسے تیرا قول زید، علماء سے افضل ہے۔ پس وہ تمام لوگوں سے افضل ہے۔ سورة فاتحہ میں ایسی صفات ہیں جو کسی دوسری سورت میں نہیں حتی کہ بعض علماء نے کہا : پورا قرآن اس سورت میں ہے اس کے پچیس کلمات ہیں جو تمام علوم قرآن کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہیں۔ اس سورت کے شرف میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے اور بندے کے درمیان تقسیم فرمایا ہے اور قربت صرف اسی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے اور کوئی عمل اس کے ثواب کو لاحق نہیں ہوتا۔ اسی مفہوم کی وجہ سے یہ قرآن عظیم کی اصل بن گئی۔ جیسا کہ سورة قل ھو اللہ احد قرآن کا ثلث (١/٣) ہے ( 2 ) کیونکہ قرآن، توحید، احکام اور مواعظ کا نام ہے اور سورة قل ھو اللہ احد میں ساری توحید ہے۔ اسی معنی کے اعتبار سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابی بن کعب سے پوچھا : قرآن میں کون سی آیت عظیم ہے ؟ تو حضرت ابی نے کہا اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم (البقرہ :  255 ) ( 3 ) یہ آیت عظیم ہے کیونکہ یہ تمام توحید ہے جیسا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے افضل ما قلتہ انا والنبیون من قبلی لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ( 4 ) افضل ذکر بن گیا کیونکہ یہ ایسے کلمات ہیں جو توحید میں تمام علوم کو گھیرے ہوئے ہیں۔ سورة فاتحہ توحید، عبادت، وعظ اور نصیحت کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بعید نہیں۔ مسئلہ نمبر  3 : حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے روایت فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سورة فاتحہ، آیۃ الکرسی، شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو (آل عمران :  18 ) قل اللھم مالک الملک (آل عمران : 26 ) یہ آیات عرش سے معلق ہیں ان کے درمیان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہے، ابو عمر و دانی نے اپنے کتاب البیان میں اس روایت کو متصل نقل کیا ہے۔ مسئلہ نمبر  4 : سورة فاتحہ کے اسماء اس کے بارہ اسماء ہیں۔ ١۔ الصلاۃ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف، نصف تقسیم کیا یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے۔ ٢۔ سورة الحمد چونکہ اس میں حمد کا ذکر ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ سورة اعراف، سورة انفال اور سورة توبہ وغیرہا۔ ٣۔ فاتحہ الکتاب اس نام میں علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ لفظاً اس کے ساتھ قرآن کی قراءت کا آغاز کیا جاتا ہے اور خطا مصحف میں اس کے ساتھ کتابت کا آغاز کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ نمازوں کو شروع کیا جاتا ہے ٤۔ ام الکتاب اس نام میں اختلاف ہے۔ جمہور نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ حضرت انس، حسن بصری اور ابن سیرین نے مکروہ قرار دیا ہے۔ حسن نے کہا : ام الکتاب حلال اور حرام احکام ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ایت محکمت ھن ام الکتب واخر متشبھت (آل عمران : 7 ) حضرت انس اور ابن سیرین نے کہا : ام الکتاب لوح محفوظ کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانہ فی ام الکتب (الزخرف :  4 ) ٥۔ ام القرآن اس نام بھی اختلاف ہے۔ جمہور نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔ حضرت انس اور ابن سیرین نے اس کو ناپسند کیا ہے۔ احادیث ثابتہ ان دونوں اقوال کی تردید کرتی ہیں۔ امام ترمذی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : الحمد للہ ام القرآن، ام الکتاب اور السبع المثانی ہے ( 1 ) ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بخاری میں ہے فرمایا : ام الکتاب نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ مصاحف میں اس کے لکھنے کے ساتھ آغاز کیا جاتا ہے اور نماز میں اس کی قراءت کے ساتھ آغاز کیا جاتا ہے ( 2 ) ۔ یحییٰ بن یعمر نے کہا : ام القریٰ مکہ ہے، ام خراسان مرد ہے اور ام القرآن سورة الحمد ہے ( 3 ) ۔ بعض علماء نے فرمایا : سورة فاتحہ کو ام القرآن اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ قرآن کے آغاز میں ہے اور قرآن کے تمام علوم کو متضمن ہے۔ اسی وجہ سے مکہ کو ام القریٰ کہا جاتا ہے کیونکہ مکہ، زمین کا پہلا ٹکڑا ہے پھر اس سے زمین پھیلائی گئی۔ اسی وجہ سے ماں کو ام کہا جاتا ہے کیونکہ وہ نسل کی اصل ہوتی ہے اور امیہ بن ابی الصلت کے قول میں زمین کو ام کہا گیا ہے۔ فالارض معقلنا وکانت امنا فیھا مقابرنا وفیھا نولد زمین ہماری پناہ گاہ ہے اور زمین ہماری اصل ہے اس میں ہماری مقابر ہیں اور اس میں ہماری پیدائش ہے۔ جنگ کے جھنڈے کو بھی ام کہا جاتا ہے کیونکہ وہ آگے ہوتا ہے اور لشکر اس کی پیروی کرتا ہے اور ام کی اصل امۃ ہے۔ اسی وجہ سے اس کی جمع امھات آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وامھتکم (النساء : 23 ) ۔ بغیر ھاء کے امات بھی کہا جاتا ہے۔ شاعر نے کہا : فرجت الظلام باماتکا۔ تو نے اپنی نسبی شرافت سے تاریکیوں کو ختم کردیا۔ بعض علماء نے فرمایا : انسانوں میں امہات اور چوپاؤں میں امات بولا جاتا ہے ابن فارس نے “ الجمل ” میں یہی بیان کیا ہے۔ ٦۔ المثانی یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ یہ ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ اس امت کے لئے خاص کی گئی ہے پہلی امتوں میں سے کسی پر یہ نازل نہیں ہوئی، اسی امت کے لئے محفوظ کی گئی تھی۔ ٧۔ القرآن العظیم یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ اس ضمن میں قرآن کے تمام علوم ہیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اوصاف کمال و جلال کے ساتھ اس کی ثنا پر مشتمل ہے اور عبادت کے امر اور اخلاص، بغیر اعانت الٰہیہ کے کسی کام کرنے سے عجز کے اعتراف پر مشتمل ہے نیز صراط مستقیم کی طرف ہدایت کے لئے اسی کی بارگاہ میں تضرع وزاری پر مشتمل ہے۔ نیز اس میں عہد توڑنے والوں کے احوال کی کفایت بھی ہے اور محنت کرنے والوں کے انجام کے بیان پر مشتمل ہے۔ ٨۔ الشفاء دارمی نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاتحہ الکتاب ہر زہر سے شفاء ہے ( 1 ) ۔ ٩۔ الرقیہ (دم کرنا) حضرت ابو سعید خدری کی حدیث سے یہ نام ثابت ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے فرمایا، جس نے قبیلہ کے سردار کو دم کیا تھا : تجھے کیا معلوم کہ یہ دم ہے۔ حضرت ابو سعید نے کہا : یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ایک چیز تھی جو میرے دل میں ڈالی گئی تھی ( 2 ) ۔ اس حدیث کو ائمہ حدیث نے روایت کیا ہے۔ یہ حدیث مکمل آگے آئے گی۔ ١٠۔ اساس ایک شخص نے امام شعبی سے اپنے پہلو میں درد کی شکایت کی تو امام شعبی نے کہا : تو اساس القرآن، فاتحہ الکتاب پڑھ۔ میں نے حضرت ابن عباس کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہر چیز کے لئے ایک اساس (بنیاد) ہوتی ہے، دنیا کی اساس مکہ ہے، کیونکہ اس سے زمین پھیلائی اور آسمانوں کی اساس عریب ہے یہ ساتواں آسمان ہے، زمین کی اساس عجیب ہے، یہ نچلی ساتویں زمین ہے، جنتوں کی اساس جنت عدن ہے، یہ جنتوں کی ناف ہے اس پر جنت کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ آگ کی اساس جہنم ہے اور نیچے والا ساتواں طبقہ ہے اس پر درکات کی بنیاد رکھی گئی ہے، خلق کی اساس آدم ہیں اور انبیاء کی اساس توح ہیں، بنی اسرائیل کی اساس یعقوب ہیں، کتب کی اساس قرآن ہے، قرآن کی اساس سورة فاتحہ ہے، سورة فاتحہ کی اساس بسملہ ہے جب تو بیمار ہو یا تجھے تکلیف ہو تو تجھے سورة فاتحہ پڑھنی چاہئے، تجھے شفا ہوگی۔ ١١۔ وافیہ : سفیان بن عیینہ نے یہ نام بیان کیا ہے۔ اس نام کی وجہ ہے کہ یہ نصف نصف نہیں ہوتی اور جدائی کو برداشت نہیں کرتی۔ اگر کوئی باقی سورتوں میں سے کسی سورت کا نصف ایک رکعت میں پڑھے اور نصف دوسری رکعت میں پڑھے تو یہ جائز ہوگا۔ اگر سورة فاتحہ کو آدھا آدھا کر کے دو رکعتوں میں پڑھے تو جائز نہ ہوگا۔ ١٢۔ کافیہ یحییٰ بن ابی کثیر نے فرمایا : اس نام کی وجہ یہ ہے کہ یہ باقی تمام سورتوں سے کفایت کرتی ہے جبکہ باقی تمام سورتیں اس سے کفایت نہیں کرتیں۔ اس کی دلیل وہ روایت ہے جو محمد بن خلاء اسکندرانی نے روایت کی، فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ام القرآن دوسری تمام سورتوں کا بدل ہے جبکہ دوسری سورتیں اس کا بدل نہیں ( 1 ) ۔ مسئلہ نمبر  5 : مہلب نے کہا : دم کا مقام یہ ہے ایاک نعبدوایاک نستعین۔ بعض علماء نے فرمایا : پوری سورت دم ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو ارشاد فرمایا : جس نے سورة فاتحہ سے دم کرنے کی خبر دی تھی : تجھے کیسے معلوم تھا کہ یہ سورت دم ہے ( 2 ) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ اس میں دم ہے۔ پس یہ دلیل ہے کہ پوری سورت دم ہے کیونکہ یہ کتاب کا آغاز ہے اور تمام علوم کو متضمن ہے جیسے ہم نے پہلے بیان کیا ہے۔ مسئلہ نمبر  6 : دوسری چیزوں کا نام المثانی اور ام الکتاب رکھنے کی وجہ سے اس کا نام المثانی اور ام الکتاب رکھنے سے کوئی چیز مانع نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کتبا متشابھا مثانی (الزمر :  23 ) اس آیت میں کتاب پر مثانی کا اطلاق فرمایا ہے کیونکہ اس میں اخبار بار بار بیان کی جاتی ہیں۔ سبع طوال سورتوں کو بھی مثانی کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں فرائض اور قصص دہرائے جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سبعا من المثانی دی گئیں۔ فرمایا : اس سے مراد السبع الطوال سورتیں ہیں ( 3 ) یہ قول نسائی نے ذکر کیا ہے اور السبع الطوال سورتیں سورة بقرہ سے اعراف تک چھ سورتیں ہیں اور ساتویں میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : سورة یونس ساتویں ہے، بعض نے فرمایا : سورة انفال اور توبہ ہے۔ یہ حضرات مجاہد، سعید بن جبیر کا قول ہے۔ اعشی ہمدان نے کہا تھا : فلجوا المسجد وادعوا ربکم وادرسوا ھذی المثانی الطول یعنی مساجد میں داخل ہوجاؤ اور اپنے رب کو پکارو اور یہ مثانی اور طوال سورتیں پڑھو۔ مزید بیان انشاء اللہ سورة الحجر میں آئے گا۔ مسئلہ نمبر  7 : المثانی، مثنیٰ کی جمع ہے اس سے مراد دوسری ہے، طول جمع ہے اطول کی، الانفال کو مثانی کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ مقدار میں طویل سورتوں کے بعد ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ وہ سورت ہے جس کی آیات مفصل سورتوں سے زائد ہیں اور مئین سورتوں سے کم ہیں۔ مئون ان سورتوں کو کہا جاتا ہے جن میں سے ہر سورت کی سو سے زائد آیات ہوتی ہیں۔ دوسرا باب یہ باب سورة فاتحہ کے نزول اور اس کے احکام کے بارے میں ہے۔ اس میں بیس مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر  1 : اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ سورة فاتحہ کی سات آیات ہیں، مگر صرف حسین الجعفی سے روایت کیا گیا ہے کہ اس کی چھ آیات ہیں ( 1 ) ۔ اور یہ قول شاذ ہے۔ (اسی طرح) عمرو بن عبید سے مروی ہے کہ اس نے ایاک نعبد کو علیحدہ آیت شمار کیا ہے ( 2 ) اور آٹھ آیات بنائی ہیں۔ یہ قول بھی شاذ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لقد اتینک سبعا من المثانی (الحجر : 87 ) اور فرمایا : میں نے نماز کو تقسیم کیا ( 3 ) ۔ (الحدیث) یہ آیت اور حدیث ان دونوں اقوال کا رد کرتی ہیں۔ اس بات پر بھی امت کا اجماع ہے کہ یہ سورة قرآن سے ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ اگر یہ قرآن میں سے ہوتی تو حضرت عبد اللہ بن مسعود اپنے مصحف میں اسے لکھتے، جب انہوں نے اسے اپنے مصحف میں نہیں لکھا تو یہ دلیل ہے کہ یہ قرآن میں سے نہیں ہے، جیسا کہ معوذتین (قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس) کا حکم ان کے ہاں تھا۔ اس کا جواب ابوبکر انباری نے یہ دیا ہے۔ فرمایا : ہمیں حسن بن حباب نے بتایا انہوں نے کہا ہمیں سلیمان بن اشعث نے بتایا انہوں نے کہا : ہمیں ابن ابی قدامہ نے بتایا انہوں نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے روایت کر کے بتایا، فرمایا : میرا خیال ہے انہوں نے ابراہیم سے روایت کیا، ابراہیم نے فرمایا : حضرت عبد اللہ بن مسعود سے کہا گیا تم اپنے مصحف میں سورة فاتحہ کیوں نہیں لکھتے ؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا : اگر میں اسے لکھتا تو میں اسے ہر سورت کے ساتھ لکھتا۔ ابوبکر نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ ہر رکعت میں تلاوت کی گئی سورت سے پہلے ام القرآن سے آغاز کیا جاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا : میں نے اس کو چھوڑ کر اختصار کیا ہے اور میں نے اس بات پر اعتماد کیا ہے کہ مسلمان اس کو محفوظ کئے ہوئے ہیں میں نے اسے کسی ایک جگہ پر نہیں لکھا۔ مجھ پر لازم تھا کہ میں اسے ہر سورت کے ساتھ لکھتا کیونکہ نماز میں یہ ہر سورت سے مقدم ہوتی ہے۔ مسئلہ نمبر  2 : علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ کیا یہ مکی سورت ہے یا مدنی سورت ہے۔ حضرات ابن عباس، قتادہ اور ابو العالیہ الریاحی اس کا نام رفیع ہے وغیرہم نے فرمایا : یہ سورت مکی ہے۔ حضرات ابوہریرہ ، مجاہد، عطا، بن یسار، زہری وغیرہم نے فرمایا : یہ مدنی سورت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا نصف مکہ میں نازل ہوا اور نصف مدینہ میں نازل ہوا۔ یہ قول ابو لیث نصر بن محمد بن ابراہیم سمرقندی نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ پہلا قول اصح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد اتینک سبعا من المثانی والقرآن العظیم۔ یہ آیت سورة الحجر کی ہے اور سورة الحجر بالا جماع مکی ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نماز مکہ میں فرض تھی اور اسلام میں کبھی بغیر الحمد کے نماز نہیں تھی۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد دلالت کرتا ہے : “ لا صلاۃ الا بفاتحۃ الکتاب ”( 1 ) (سورۃ فاتحہ کے بغیر کوئی نماز نہیں) ۔ یہ حکم کے متعلق خبر ہے نہ کہ ابتدا کے متعلق خبر ہے۔ واللہ اعلم۔ قاضی ابن طیب نے اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ذکر کیا ہے کہ قرآن کا کون سا حصہ سب سے پہلے نازل ہوا۔ بعض علماء نے فرمایا : سورة مدثر، بعض نے فرمایا : اقرا بعض نے فرمایا : سورة فاتحہ۔ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں ابو میسرہ عمرو بن شرحبیل سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خدیجہ کو فرمایا : جب میں تنہا خلوت میں ہوتا ہوں تو میں ایک آواز سنتا ہوں، اللہ کی قسم ! مجھے کچھ ہونے کا اندیشہ ہے۔ حضرت خدیجہ (رض) نے کہا : معاذ اللہ ! اللہ کی یہ شان نہیں کہ آپ کے ساتھ ایسا کرے، اللہ کی قسم ! تم امانت کو ادا کرتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، بات سچی کرتے ہو۔ جب حضرت ابوبکر (رض) داخل ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں موجود نہیں۔ حضرت خدیجہ (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات بتائی اور کہا : اے عتیق ! تم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ورقہ بن نوفل کے پاس جاؤ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو حضرت ابوبکر نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ پکڑا اور کہا : ہمارے ساتھ ورقہ کی طرف چلو۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تمہیں یہ بات کس نے بتائی ہے۔ ابوبکر نے کہا : خدیجہ نے۔ پس دونوں ورقہ کی طرف چلے اور اسے صورت حال بتائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب میں تنہا ہوتا ہوں تو پیچھے سے یا محمد، یا محمد کی آواز سنتا ہوں، پھر میں زمین میں بھاگ پڑتا ہوں۔ ورقہ نے کہا : ایسا نہ کیا کر۔ جب تیرے پاس آواز آئے تو ٹھہر جاؤ حتی کہ وہ جو کہے سن لو، پھر میرے پاس آؤ اور مجھے بتاؤ۔ جب آپ تنہائی میں تھے تو آواز آئی۔ یا محمد ! کہو : بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ رب العلمین۔ الرحمن الرحیم۔ ملک یوم الدین۔ ایاک نعبد وایاک نستعین۔ اھدنا الصراط المستقیم۔ صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین۔ کہو : لا الہ الا اللہ۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ورقہ کے پاس آئے اور یہ سب کچھ ذکر کیا۔ ورقہ نے آپ سے کہا : بشارت ہو، بشارت ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہ ہے جس کی بشارت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دی اور تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ناموس کی مثل پر ہے، تو نبی مرسل ہے، تو ایک وقت جہاد کا حکم دے گا۔ اگر مجھے وہ وقت میسر آیا تو میں آپ کے ساتھ مل کر ضرور جہاد کروں گا۔ جب ورقہ فوت ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے ورقہ کو جنت میں دیکھا اس پر ریشمی کپڑے تھے، کیونکہ وہ مجھ پر ایمان لایا تھا اور میری تصدیق کی تھی ( 2 ) ۔ بیہقی نے فرمایا : یہ حدیث منقطع ہے اگر یہ محفوظ ہو تو پھر یہ احتمال ہوگا کہ یہ اقرا باسم ربک اور یایھا المدثر کے نزول کے بعد الحمد کے نزول کی خبر ہو۔ مسئلہ نمبر  3 : ابن عطیہ نے کہا : بعض علماء نے گمان کیا کہ جبریل سورة الحمد کے ساتھ نازل نہیں ہوئے کیونکہ مسلم نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے، فرمایا : جبریل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اوپر سے ایک آواز سنی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر اٹھایا اور کہا : یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج کھولا گیا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا، اس دروازے سے ایک فرشتہ اترا ہے۔ جبریل نے کہا : یہ فرشتہ زمین پر اترا ہے آج سے پہلے کبھی نہیں اترا، اس نے سلام کیا اور کہا : تمہیں دو نوروں کی بشارت ہو جو آپ کو عطا کئے گئے ہیں آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کئے گئے۔ (وہ نور یہ ہیں) فاتحۃ الکتاب اور سورة بقرہ کی آخری آیات۔ آپ ان میں سے کوئی حرف نہیں پڑھیں گے مگر تمہیں وہ عطا کیا جائے گا ( 1 ) ۔ ابن عطیہ نے کہا : حقیقت اس طرح نہیں ہے جس طرح بعض علماء نے گمان کیا ہے کیونکہ یہ حدیث تو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جبریل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس فرشتے سے پہلے آئے۔ اس کی آمد اور جو کچھ وہ لے کر آرہا تھا اس کے متعلق آگاہ کیا۔ اس بنا پر جبریل اس کے نزول میں شریک ہوگیا۔ واللہ اعلم۔ میں (علامہ قرطبی) کہتا ہوں : حدیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جبریل امین نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے متعلق کچھ نہیں بتایا۔ ہم نے پہلے بیان کیا ہے کہ اس کا نزول مکہ میں ہوا تھا اور جبریل اس سورت کو لے کر آئے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نزل بہ الروح الامین۔ (الشعراء) یہ آیت تقاضا کرتی ہے کہ سارا قرآن جبریل امین لے کر آئے۔ پس جبریل اس کی تلاوت مکہ میں لے کر آئے ہوں گے اور یہ فرشتہ مدینہ طیبہ میں اس کا ثواب لے کر آیا ہوگا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ سورت مکی، مدنی ہے جبریل امین اس کو دو مرتبہ لے کر آئے تھے۔ یہ قول ثعلبی نے حکایت کیا ہے اور جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے وہ اولیٰ ہے کیونکہ ہمارا قول قرآن وسنت کو جمع کرنے والا ہے۔ مسئلہ نمبر  4 : یہ پہلے گزر چکا ہے کہ بسم اللہ صحیح قول کے مطابق اس سورت کا جز نہیں ہے۔ جب یہ ثابت ہوگیا تو نماز کا حکم یہ ہے کہ جب وہ تکبیر تحریمہ کہے تو سورة فاتحہ پڑھے اور خاموش نہ رہے، نہ توجیہہ ذکر کرے اور نہ تسبیح کیونکہ حضرت عائشہ اور حضرت انس (رض) کی احادیث اسی پر دلالت کرتی ہیں جو پیچھے گزر چکی ہیں۔ جبکہ توجیہہ، تسبیح اور سکوت کی احادیث بھی موجود ہیں۔ علماء کی ایک جماعت نے یہ فرمایا ہے : حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ یہ دونوں حضرات جب نماز شروع کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : سبحانک اللھم وبحمدک وتبارک اسمک وتعالیٰ جدل ولا الہ غیرک ( 2 ) حضرت سفیان، احمد، اسحاق اور اصحاب الرائے کا یہی قول ہے۔ امام شافعی کا قول وہ ہے جو حضرت علی سے مروی ہے اور انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو تکبیر کہتے پھر کہتے : وجھت وجھی ( 3 ) اس کو مسلم نے ذکر کیا ہے۔ پوری حدیث سورة انعام کے آخر میں آئے گی۔ اس مسئلہ میں مکمل گفتگو وہاں آئے گی۔ ابن منذر نے کہا : یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز میں تکبیر (تحریمہ) کہتے تو قراءت سے پہلے تھوڑی دیر خاموش رہتے اور یہ دعا پڑھتے : اللھم باعد بینی وبین خطایای کما باعدت بن المشرق والمغرب اللھم نقنی من خطایای کما ینقی الثوب الابیض من الدنس اللھم اغسلنی من خطایای بالماء والثلج والبرد۔ حضرت ابوہریرہ نے اس پر عمل کیا۔ ابو سلمۃ بن عبد الرحمن نے کہا : امام کے لئے دو سکتے ہیں۔ ان سکتوں میں قراءت کو غنیمت جانو ( 1 ) ۔ حضرات اوزاعی، سعید بن عبد العزیز، امام احمد بن حنبل کا میلان بھی اس مسئلہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث کی طرف ہے۔ مسئلہ نمبر  5 : نماز میں سورة فاتحہ کی قراءت کے وجوب میں بھی علماء کا اختلاف ہے۔ امام مالک اور ان کے متبعین علماء نے فرمایا : یہ امام اور منفرد کے لئے ہر رکعت میں متعین ہے۔ ابن خویز منداد بصری مالکی نے کہا : امام مالک کا قول مختلف نہیں ہے کہ جو دو رکعت والی نماز میں ایک رکعت میں الحمد شریف پڑھنا بھول جائے تو اس کی نماز باطل ہے اور جائز نہیں ہے اور اس شخص کے متعلق امام مالک کا قول مختلف ہے جو چار یا تین رکعت والی نماز میں کسی ایک رکعت میں الحمد بھول جائے، کبھی تو فرمایا : وہ نماز کا اعادہ کرے اور کبھی فرمایا : سجدہ سہو کرے۔ ابن عبد حکیم وغیرہ نے امام مالک سے یہ روایت کیا ہے۔ ابن خویز منداد نے فرمایا : یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس رکعت کا اعادہ کرے اور سلام کے بعد نمازی دوسری رکعت پڑھے گا جیسا کہ وہ شخص جس نے بھول کر سجدہ ساقط کردیا۔ یہ ابن قاسم کا مختار مذہب ہے۔ حضرت حسن بصری، اکثر اہل بصرہ اور مغیرہ بن عبد الرحمن مخزومی مدنی نے کہا : جب کوئی شخص نماز میں ایک مرتبہ ام القرآن پڑھ لے تو وہ کافی ہوجائے گی، اس پر اعادہ نہ ہوگا کیونکہ نماز میں اس نے ام القرآن پڑھ لی ہے۔ پس اس کی نماز مکمل ہوگی کیونکہ کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی نماز مکمل نہیں جس نے ام القرآن (الحمد) نہیں پڑھی ( 2 ) ۔ اور اس شخص نے الحمد ایک مرتبہ پڑھ لی ہے (پس اس کی نماز مکمل ہوگی) ۔ میں کہتا ہوں : اس حدیث میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ اس کی نماز نہیں جس نے ہر رکعت میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی۔ یہی قول صحیح ہے جیسا کہ آگے وضاحت آئے گی اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ مطلب ہو کہ اس کی نماز نہیں جس نے نماز کی اکثر رکعات میں الحمد شریف نہیں پڑھی۔ یہی اختلاف کا سبب ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرات امام ابو حنیفہ، ثوری، اوزاعی نے فرمایا : اگر جان بوجھ کر پوری نماز میں الحمد شریف چھوڑ دی اور کوئی دوسری سورت پڑھ دی تو اس کی نماز جائز ہوجائے گی۔ امام اوزاعی سے اس کے متعلق اختلاف مروی ہے۔ امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن نے کہا : قراءت کی کم از کم مقدار تین آیات ہیں یا ایک بڑی آیت ہے جیسے قرضہ والی آیت۔ اور امام محمد سے یہ بھی مروی ہے۔ فرمایا : میں آیت کی مقدار اور کلمہ مفہومہ کی مقدار میں اجتہاد کو جائز قرار دیتا ہوں جیسے الحمد للہ، اور میں ایسے حرف کو جائز قرار نہیں دیتا جو کلام نہ ہو۔ علامہ طبری نے فرمایا : نماز ہر رکعت میں الحمد کی تلاوت کرے گا، اگر الحمد نہیں پڑھے گا تو نماز جائز نہ ہوگی مگر یہ کہ الحمد کی مثل قرآن سے الحمد کی آیات کی تعداد اور اس کے حروف کی تعداد کے مطابق تلاوت کرے۔ ابن عبد البر نے کہا : اس کا کوئی مطلب نہیں کیونکہ الحمد کی تعیین اور تخصیص نے اس حکم کے ساتھ اس کو خاص کردیا ہے اور یہ محال ہے کہ جس پر الحمد کا پڑھنا واجب ہے وہ اس کا بدل پڑھ لے اور الحمد چھوڑ دے جبکہ وہ الحمد پڑھنے پر قادر بھی ہو بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ الحمد ہی پڑھے اور اسی کی طرف لوٹے جیسا کہ دوسری عبادات میں متعین فرائض ہیں۔ مسئلہ نمبر  6 : مقتدی اگر امام کو رکوع میں پا لے تو امام مقتدی کی طرف سے قراءت کرنے والا ہوگا کیونکہ اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ مقتدی امام کو رکوع کی حالت میں پائے تو مقتدی تکبیر کہے اور رکوع میں چلا جائے، قراءت نہ کرے اور اگر امام کو قیام میں پائے تو قراءت کرے۔ مسئلہ نمبر  7 : اور کسی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ امام کے پیچھے سری نماز میں قراءت چھوڑ دے۔ اگر وہ قراءت چھوڑ دے گا تو اچھا نہیں کرے گا، لیکن امام مالک اور ان کے اصحاب کے نزدیک اس پر کچھ واجب نہ ہوگا۔ اور جب امام، سری قراءت کر رہا ہو تو پھر یہ مسئلہ ہے۔ مسئلہ نمبر  8 : امام کے پیچھے جھری نماز میں نہ سورة فاتحہ پڑھے اور نہ کوئی دوسری سورت پڑھے۔ امام مالک کا مشہور مذہب یہی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا قرئ القران فاستمعوا لہ وانصتوا (الاعراف : 204 ) (جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : “ کیا بات ہے مجھ سے قرآن میں جھگڑا کیا جا رہا ہے ”( 1 ) ۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امام کے بارے ارشاد ہے : “ جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو ” (صحیح مسلم۔ کتاب الصلاۃ) ۔ اور ارشاد فرمایا : “ جس کا امام ہو، امام کی قراءت اس کی قراءت ہے ”( 2 ) ۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا اور امام شافعی سے یہ قول بویطی اور امام احمد بن حنبل نے حکایت فرمایا کہ کسی کی نماز نہ ہوگی حتی کہ وہ ہر رکعت میں الحمد پڑھے خواہ وہ امام ہو یا مقتدی ہو۔ امام جہری کی قراءت کر رہا ہو یا سری۔ امام شافعی عراق میں مقتدی کے بارے میں کہتے تھے جب امام سری قراءت کرے تو مقتدی قراءت کرے اور جب جہری قراءت کرے تو مقتدی قراءت نہ کرے جیسا کہ امام مالک کا مشہور مذہب ہے۔ اور امام شافعی کے مصر میں امام کے جہری قراءت کرنے کی صورت میں دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ مقتدی قراءت کرے دوسرا یہ کہ امام کی قراءت کافی ہے مقتدی خود قراءت نہ کرے۔ یہ ابن منذر نے حکایت کیا ہے۔ ابن وہب، اشہب، ابن عبدالحکم، ابن حبیب اور کوفہ کے علماء نے کہا : مقتدی بالکل قراءت نہ کرے۔ خواہ امام جہری قراءت کر رہا ہو یا سری قراءت کر رہا ہو۔ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : امام کی قراءت مقتدی کی قراءت ہے ( 3 ) یہ حکم عام ہے اور جابر کا قول ہے : جس نے نماز پڑھی اور اس میں الحمد نہیں پڑھی تو اس نے نماز نہیں پڑھی مگر یہ کہ وہ امام کے پیچھے ہو ( 4 ) ۔ مسئلہ نمبر  9 : ان اقوال میں سے صحیح قول امام شافعی، امام احمد کا ہے اور امام مالک کا دوسرا قول ہے کیونکہ ہر شخص کے لئے ہر رکعت میں سورة ۂ فاتحہ کا پڑھنا بالعموم متعین ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : اس کی نماز نہیں جس نے نماز میں الحمد نہیں پڑھی ( 1 ) ۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : جس نے نماز پڑھی اور اس میں الحمد نہیں پڑھی اس کی نماز ناقص ہے ( 2 ) ۔ یہ تین مرتبہ فرمایا۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں اعلان کروں کہ سورة الحمد اور اس سے زائد کی قراءت کے بغیر نماز نہیں ( 3 ) ۔ اس حدیث کو ابو داؤد نے نقل کیا ہے، جس طرح کہ کسی رکعت کا سجدہ اور رکوع دوسری رکعت کے قائم مقام نہیں ہوتا اسی طرح ایک رکعت کی قراءت دوسری رکعت کے قائم مقام نہیں ہوتی۔ عبد اللہ بن عون، ایوب سختیانی اور ابو ثوروغیرہ اصحاب شوافع، داؤد بن علی نے بھی یہی کہا ہے۔ اس کی مثل اوزاعی سے بھی مروی ہے اور یہی قول مکحول کا بھی ہے۔ حضرات عمر بن خطاب، عبد اللہ بن عباس، ابوہریرہ ، ابی بن کعب، ابو ایوب انصاری، عبد اللہ بن عمرو بن العاص، عبادہ بن صامت، ابو سعید خدری، عثمان بن ابی عاص اور خوات بن جبیر (رض) سے مروی ہے، فرماتے ہیں : سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں۔ یہی قول حضرت ابن عمر کا ہے اور اوزاعی کا مشہور مذہب بھی یہی ہے۔ یہ صحابہ مقتداء ہیں اور ان ذوات میں اسوہ ہے یہ تمام حضرات ہر رکعت میں سورة فاتحہ کے وجوب کے قائل ہیں۔ امام ابو عبد اللہ بن محمد یزید بن ماجہ القزوینی نے اپنی سنن میں ایسی روایت نقل کی ہے جو اختلاف کو ختم کردیتی ہے اور ہر احتمال کو زائل کردیتی ہے۔ فرمایا : ہمیں ابو کریب نے بتایا، انہوں نے فرمایا : ہمیں محمد بن فضیل نے بتایا۔ دوسری سند اس طرح ہے ہمیں سوید بن سعید نے بتایا، ہمیں علی بن مسہر نے بتایا تمام نے ابو سفیان سعدی سے روایت کیا، انہوں نے ابو نضرہ سے روایت کیا انہوں نے حضرت ابو سعید سے روایت کیا، فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کی نماز نہیں جس نے ہر رکعت میں الحمد اور کوئی دوسری سورت نہیں پڑھی ( 4 ) ۔ خواہ فرضی نماز ہو یا نفلی نماز ہو۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے فرمایا جس کو آپ نماز سکھا رہے تھے : “ تو اس طرح اپنی تمام نماز میں کر ( 5 ) ”۔ آگے یہ حدیث تفصیل سے آئے گی۔ دوسری دلیل اس کے متعلق وہ روایت ہے جو ابو داؤد نے نافع بن محمود الربیع سے روایت کی ہے، فرمایا : حضرت عبادہ بن صامت صبح کی نماز میں لیٹ ہوگئے تو ابو نعیم مؤذن نے تکبیر کہی اور خود ہی لوگوں کو نماز پڑھا دی۔ حضرت عبادہ بن صامت آئے تو میں بھی ان کے ساتھ تھا حتیٰ کہ ہم نے ابو نعیم کے پیچھے صف بنائی، ابو نعیم جہری قراءت کر رہے تھے عبادہ نے الحمد پڑھنی شروع کردی جب سلام پھیرا تو میں نے عبادہ سے کہا : میں تجھے الحمد پڑھتے ہوئے سن رہا تھا جبکہ ابو نعیم جہری قراءت کر رہے تھے ؟ عبادہ نے کہا : ہاں۔ ہمیں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک نماز پڑھائی جس میں آپ جہری قراءت کر رہے تھے، آپ پر قراءت خلط ملط ہوگئی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا تو ہماری طرف رخ انور پھیرلیا اور فرمایا : کیا تم قراءت کرتے ہو جب میں جہری قراءت کرتا ہوں ؟ ہم میں سے بعض نے کہا : ہم واقعی ایسا کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا نہ کیا کرو، میں کہہ رہا تھا مجھے کیا ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے، تم قرآن میں سے کچھ نہ پڑھا کرو جب میں جہری قراءت کر رہا ہوں، مگر صرف سورة الحمد (پڑھا کرو) ( 1 ) ۔ یہ مقتدی کے بارے میں نص صریح ہے کہ وہ بھی سورة الحمد پڑھے۔ اس حدیث کا معنی ابو عیسیٰ ترمذی نے محمد بن اسحاق کی حدیث سے نقل کیا ہے اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے۔ اور امام کے پیچھے قراءت کرنے کے بارے میں اس حدیث پر اکثر اہل علم صحابہ اور تابعین کا عمل ہے۔ حضرات مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔ یہ حضرات امام کے پیچھے قراءت کا نظریہ رکھتے تھے۔ اس حدیث کو دار قطنی نے بھی نقل کیا ہے اور فرمایا : یہ اسناد حسن ہے۔ اس کے راوی تمام ثقہ ہیں اور انہوں نے ذکر کیا کہ محمود بن ربیع ایلیاء میں رہتے تھے اور ابو نعیم پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے بیت المقدس میں اذان دی۔ ابو محمد عبد الحق نے کہا : نافع بن محمود کو بخاری نے اپنی تاریخ میں ذکر نہیں کیا اور نہ ابن ابی حاتم نے اسے ذکر کیا اور نہ بخاری اور مسلم نے اس سے کوئی چیز نقل کی۔ اس کے متعلق ابو عمر نے فرمایا : یہ مجہول ہے۔ دارقطنی نے یزید بن شریک سے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا : میں نے کہا اگر آپ بھی امام ہوں ؟ انہوں نے کہا : اگرچہ میں بھی ہوں۔ میں نے کہا : اگرچہ آپ جہری قراءت کر رہے ہوں ؟ انہوں نے کہا : اگرچہ میں جہری قراءت کر رہا ہوں ( 2 ) ۔ دار قطنی نے کہا : یہ سند صحیح ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے، فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام ضامن ہے ( 3 ) جو کچھ وہ کرے تم بھی وہ کرو۔ ابو حاتم نے کہا : یہ اس کے لئے (دلیل) صحیح ہے جو امام کے پیچھے قراءت کا قائل ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے الفارسی کو یہی فتویٰ دیا تھا کہ وہ دل میں قراءت کیا کرے جب اس نے حضرت ابوہریرہ سے کہا تھا کہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے بھی استدلال کیا گیا ہے میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، اس کا نصف میرے لئے ہے اور اس کا نصف میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ ہے جو اس نے سوال کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پڑھو بندہ کہتا ہے : الحمد للہ رب العلمین۔ ( 4 ) (الحدیث) مسئلہ نمبر  10 : پہلے علماء نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشد واذا قرا فانصتوا ( 5 ) (جب امام قراءت کرے تو خاموش رہو) سے استدلال کیا ہے۔ اسے مسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی حدیث سے نقل کیا ہے اور فرمایا : جریر عن سلیمان عن قتادہ کی سند سے جو حدیث مروی ہے اس میں زیادتی ہے : واذا قرأفانصتوا۔ دارقطنی نے کہا : قتادہ سے اس زیادتی کو ذکر کرنے میں سلیمان تیمی کی متابعت نہیں کی گئی بلکہ قتادہ کے شاگردوں میں سے حفاظ نے اس کی مخالفت کی ہے اور انہوں نے ان الفاظ کو ذکر نہیں کیا۔ حفاظ حدیث میں یہ افراد شامل ہیں : شعبہ، ہشام، سعید بن ابی عروبہ، ہمام، ابو عوانہ، معمر، عدی بن ابی عمارہ۔ دارقطنی نے کہا : ان حفاظ کا اجماع دلیل ہے کہ سلیمان تیمی کو ان الفاظ میں وہم ہوا ہے۔ عبد اللہ بن عامر عن قتادہ کی سند سے تیمی کی متابعت مروی ہے لیکن وہ قوی نہیں ہے۔ قطان نے اس کو ترک کیا ہے۔ ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ کی حدیث سے یہ زیادہ نقل کیا ہے اور فرمایا : یہ زیادتی اذا قرء فانصتوا محفوظ نہیں ہے ( 1 ) ۔ ابو محمد عبد الحق نے ذکر کیا ہے کہ مسلم نے حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث کو صحیح کہا ہے اور فرمایا : یہ میرے نزدیک بھی صحیح ہے۔ میں کہتا ہوں : امام مسلم کا حضرت ابو موسیٰ کی حدیث سے ان الفاظ کو اپنی کتاب میں داخل کرنا ان کے نزدیک اس کی صحت کی دلیل ہے اگرچہ اس کی صحت کا تمام علماء کا اجماع نہیں ہے۔ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل اور ابن منذر نے صحیح کہا ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : واذا قرئ القران فاستمعوا لہ وانصتوا (الاعراف :  204 ) تو یہ مکہ میں نازل ہوا اور نماز میں کلام کرنے کی حرمت مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی جیسا کہ حضرت زید بن ارقم نے فرمایا : پس اس میں حجت نہ رہی کیونکہ مقصود مشرکین تھے جیسا کہ حضرت سعید بن مسیب نے کہا ہے۔ دارقطنی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت نماز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے آواز بلند کرنے کے بارے نازل ہوئی۔ اور دار قطنی نے فرمایا : عبد اللہ بن عامر ضعیف ہے۔ رہاحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد کیا بات ہے کہ قرآن مجھ سے چھینا جا رہا ہے ( 2 ) ۔ اسے امام مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے ابن اکیمہ لیثی سے روایت کیا ہے۔ امام مالک نے اس کے نام کے بارے فرمایا : عمرو۔ جبکہ دوسرے محدثین نے کہا : عامر، بعض نے کہا : یزید، بعض نے کہا : عمارہ، بعض نے کہا : عباد، اس کی کنیت ابو الولید تھی، ایک سو ایک ہجری میں اس کا وصال ہوا جبکہ اس کی عمر ٩٩ سال تھی۔ ان سے زہری نے صرف یہی حدیث روایت کی ہے اور یہ ثقہ ہے۔ محمد بن عمر وغیرہ نے اس سے روایت کیا ہے۔ اس کی حدیث میں یہ معنی موجود ہے جب میں بلند آواز سے قراءت کروں تو تم بلند آواز سے قراءت نہ کرو کیونکہ یہ تنازع، چھیننا اور تخالج ہے (بلکہ) دل میں پڑھو۔ حضرت عبادہ کی حدیث اور حضرت عمر فاروق اور حضرت ابوہریرہ (رض) کے فتاویٰ بھی اس حدیث کے مفہوم کو بیان کرتے ہیں۔ اگر مالی انازع القرآن (کیا بات ہے کہ مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے) ( 3 ) سے وہ یہ منع کا مفہوم سمجھتے تو اس کے خلاف فتویٰ نہ دیتے۔ حضرت ابن اکیمہ کی حدیث میں زہری کا قول ہے کہ پھر لوگ اس نماز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قراءت کرنے سے رک گئے جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلند آواز سے قراءت کرتے تھے جب انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات سنی۔ یہاں قراءت سے مراد الحمد ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔ وباللہ توفیقنا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں توفیق ملتی ہے۔ رہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد :” جس کا امام ہو، تو امام کی قراءت اس کی قراءت ہے ” ( 1 ) یہ حدیث ضعیف ہے۔ حسن بن عمارہ نے اسے متصل ذکر کیا ہے اور وہ متروک ہے۔ ابوحنیفہ (امام اعظم) وہ بھی ضعیف ہے (یہ تبصرہ تعجب کی بات ہے خصوصاً جب حضرت عبد اللہ بن مبارک جیسے محدث آپ کی شاگردی پر فخر کریں۔ مترجم) ۔ ان دونوں حضرات نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے انہوں نے عبد اللہ بن شداد سے انہوں نے حضرت جابر سے روایت کی ہے۔ اسے دار قطنی نے نقل کیا ہے اور فرمایا : اس حدیث کو حضرات سفیان ثوری، شعبہ، اسرائیل، ابن یونس، شریک، ابو خالد الدالانی، ابو الاحوص، سفیان بن عیینہ، جریر بن عبد الحمید وغیرہم نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے انہوں نے عبد اللہ بن شداد سے انہوں نے مرسلاً نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے اور مرسل ہی درست ہے۔ رہا حضرت جابر کا قول کہ “ جس نے ایک رکعت پڑھی اور اس میں الحمد نہ پڑھی تو اس نے نماز نہیں پڑھی، مگر جب امام کے پیچھے ہو ” ( 2 ) ۔ اس قول کو مالک نے وہب بن کیسان سے انہوں نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے۔ ابن عبد البر نے کہا : اس قول کو یحییٰ بن سلام صاحب تفسیر نے مالک سے انہوں نے ابو نعیم وہب بن کیسان سے انہوں نے حضرت جابر سے انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے۔ صواب حضرت جابر پر موقوف ہے جیسا کہ مؤطا میں ہے۔ اس حدیث میں فقہی مسئلہ یہی مستنبط ہوتا ہے کہ وہ رکعت باطل ہے جس میں الحمد نہ پڑھی گئی۔ یہ دلیل ہے اس مذہب کی جس کی طرف ابن قاسم گئے ہیں اور انہوں نے مالک سے اس رکعت کے لغو ہونے اور دوسری رکعت پر بنا کرنے کو روایت کیا ہے۔ نمازی اس رکعت کو شمار نہیں کرے گا جس میں اس نے الحمد نہ پڑھی ہوگی۔ اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ امام کی قراءت اس کے مقتدیوں کی قراءت ہے ( 1 ) ۔ یہ حضرت جابر کا مذہب تھا اور دوسرے لوگوں نے ان کی اس مسئلہ میں مخالفت کی ہے۔ مسئلہ نمبر  11 : ابن عربی نے فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد : لا صلاۃ لمن لم یقرء بفاتحۃ الکتاب ( 3 ) (اس کی نماز نہیں جس نے الحمد نہیں پڑھی) اس کی اصل کے بارے علماء کا اختلاف ہے۔ کیا یہ کمال اور تمام کی نفی پر محمول ہے یا جواز کی نفی پر محمول ہے۔ ناظر کے حال کے اختلاف کی وجہ سے فتویٰ بھی مختلف ہے۔ اس اصل میں مشہور اور اقویٰ یہ ہے کہ نفی عموم پر ہے اور مالک کی روایت سے اقویٰ یہ ہے کہ جس نے اپنی نماز میں الحمد نہیں پڑھی اس کی نماز باطل ہے پھر ہم نے ہر رکعت میں الحمد کے تکرار میں غور کیا۔ پس جس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد : افعل ذالک فی صلاتک کلھا ( 4 ) (اپنی نماز میں ایسا کر) کی یہی تاویل کی اسے ہر رکعت میں الحمد کا لوٹانا لازم ہے جیسا کہ رکوع و سجود کو لوٹاتا ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر  12 : اس باب میں سورة فاتحہ کی تعیین میں جو معانی اور احادیث ذکر کی ہیں یہ سب کوفہ کے علماء کے اس قول کا رد کرتی ہیں جو کہتے ہیں کہ سورة فاتحہ متعین نہیں ہے اور سورة فاتحہ اور قرآن کی دوسری آیات برابر نہیں، حالانکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ارشاد سے اسے متعین فرمایا ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقیموا الصلوۃ کی مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان کرنے والے ہیں۔ ابو داؤد نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے، فرمایا : ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم سورة فاتحہ اور جو مزید قراءت میسر ہو وہ پڑھیں ( 1 ) ۔ پس یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعرابی کو جو فرمایا تھا کہ جو تیرے پاس قرآن ہے وہ پڑھ اور جو سورة فاتحہ سے زائد ہے وہ پڑھ ( 2 ) ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : فاقرء وا ما تیسر منہ (المزمل : 20 ) کی تفسیر ہے تو پڑھ لیا کرو قرآن سے جتنا آسان ہو۔ مسلم نے حضرت عبادہ بن صامت سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی نماز نہیں جس نے سورة فاتحہ نہیں پڑھی ( 3 ) ایک روایت میں “ اور کچھ زائد ” اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے سورة فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز ناقص ہے مکمل نہیں ہے ( 4 ) ۔ یعنی ادلہ مذکورہ کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔ ال خداج کا لفظ حدیث میں استعمال ہوا ہے اس کا معنی نقص اور فساد ہے۔ اخفش نے کہا : خدجت الناقۃ اس وقت بولا جاتا ہے جب اونٹنی ناقص بچہ جنم دے اور اخدجت اس وقت کہا جاتا ہے جب وقت سے پہلے بچہ پھینک دے اگرچہ اس کی تخلیق مکمل ہو۔ نظر اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ کمی کے ہوتے ہوئے نماز جائز نہ ہو کیونکہ یہ ایک ایسی نماز ہے جو مکمل نہیں ہوئی اور جو اپنی نماز سے خارج ہو جبکہ اس کی نماز مکمل نہ ہوئی ہو تو اس پر اعادہ واجب ہے جیسا کہ حکم دیا گیا ہے اور جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ کمی کے باوجود نماز جائز ہے حالانکہ وہ کمی کا اقرار بھی کرتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ دلیل پیش کرے اور اس کے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو لازم ہو۔ مسئلہ نمبر  13 : امام مالک سے مروی ہے کہ کسی نماز میں قراءت واجب نہیں ہے اور اسی طرح امام شافعی عراق میں اس شخص کے بارے میں فرماتے تھے جو قراءت بھول جائے پھر مصر میں اس قول سے رجوع کرلیا اور کہا : اس شخص کی نماز جائز نہیں، جو سورة فاتحہ اچھی طرح پڑھ سکتا ہے مگر سورة فاتحہ کے ساتھ۔ اور سورة فاتحہ میں سے ایک حرف بھی کم ہوا تو نماز جائز نہ ہوگی۔ پس اگر سورة فاتحہ کو نہ پڑھایا اس سے کوئی حرف کم کردیا تو وہ نماز کا اعادہ کرے اگرچہ دوسری کوئی سورت تلاوت بھی کی ہو۔ اس مسئلہ میں یہی قول صحیح ہے۔ اور رہا وہ مسئلہ جو حضرت عمر سے مروی ہے کہ انہوں نے مغرب کی نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہ پڑھی۔ ان کے سامنے قراءت نہ کرنے کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے پوچھا رکوع و سجود کے ساتھ ؟ لوگوں نے کہا : وہ تو بہت اچھا تھا۔ حضرت عمر نے کہا : پھر کوئی حرج نہیں۔ یہ حدیث منکر اللفظ ہے اور منقطع الاسناد ہے کیونکہ اسے ابراہیم بن حارث تیمی نے حضرت عمر سے روایت کیا ہے اور کبھی ابراہیم اسے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن بن عمر کے سلسلہ سے روایت کرتے تھے اور دونوں سندیں منقطع ہیں اس میں حجت نہیں ہے۔ امام مالک نے مؤطا میں اسے ذکر کیا ہے اور یہ بعض رواۃ نے بیان کی ہے جبکہ یحییٰ اور ان کے ساتھ والے طائفہ نے اسے بیان نہیں کیا کیونکہ امام مالک نے اپنی کتاب میں اسے آخر میں ذکر کیا ہے اور فرمایا : اس حدیث پر عمل نہیں ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر وہ نماز جس میں الحمد نہ پڑھی گئی ہو وہ ناقص ہے ( 1 ) حضرت عمر سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے اس نماز کا اعادہ کیا تھا اور یہ ان سے صحیح ثابت ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ نیسا پوری نے فرمایا : ابو معاویہ نے ہمیں بتایا انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے ہمام بن حارث سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر مغرب کی نماز میں قراءت بھول گئے تو آپ نے لوگوں کو دوبارہ نماز پڑھائی۔ ابن عبد البر نے کہا : یہ حدیث متصل ہے۔ ہمام نے حضرت عمر سے اس کو بیان کیا اور اس کو انہوں نے کئی طرق سے روایت کیا۔ اشہب نے امام مالک سے روایت کیا ہے، فرمایا : امام مالک سے اس شخص کے بارے پوچھا گیا جو قراءت بھول گیا تھا۔ کیا تجھے تعجب میں ڈالتا ہے جو حضرت عمر نے کہا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : انہوں نے فرمایا : میں انکار کرتا ہوں کہ حضرت عمر نے ایسا کیا تھا اور میں اس روایت کا انکار کرتا ہوں۔ امام مالک نے فرمایا : لوگ حضرت عمر کو مغرب کی نماز میں ایسا کرتے دیکھتے تھے اور وہ سبحان اللہ نہیں کہتے تھے۔ میرا خیال یہ ہے کہ جو ایسا کرے (یعنی قراءت نہ کرے) تو وہ نماز کی اعادہ کرے۔ مسئلہ نمبر  14 : علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ قراءت کے بغیر نماز نہیں ہوتی جیسا کہ علماء کے اصول سے گزر چکا ہے اور اس بات پر بھی اجماع ہے کہ سورة فاتھہ کے بعد کوئی قرأت متعین نہیں ہے مگر وہ مستحب قرار دیتے ہیں کہ سورة فاتحہ کے ساتھ ایک سورت پڑھے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ عمل اکثر ثابت ہے۔ امام مالک نے فرمایا : قراءت میں سنت یہ ہے کہ پہلی دو رکعتوں میں الحمد نہ پڑھی اور کوئی دوسری سورت پڑھ دی تو بھی اس کی نماز جائز ہوجائے گی اور فرمایا : اگر تین رکعتوں میں قراءت بھول جائے تو نماز کو دوبارہ پڑھے۔ ثوری نے فرمایا : پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھے اور آخری دو رکعتوں میں چاہے تو تسبیح کرے اور اگر چاہے تو قراءت کرے، اور اگر قراءت نہ کرے اور تسبیح بھی نہ کرے تب بھی نماز جائز ہوگی۔ یہ قول امام ابوحنیفہ اور دوسرے تمام کو فیوں کا ہے۔ ابن منذر نے فرمایا : ہم نے حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : پہلی دو رکعتوں میں قراءت کر اور دوسری دو رکعتوں میں تسبیح پڑھ۔ امام نخعی کا بھی یہی قول ہے۔ سفیان نے کہا : اگر تین رکعتوں میں قراءت نہ کی تو نماز کا اعادہ کرے کیونکہ ایک رکعت کی قراءت جائز نہیں۔ فرمایا : اسی طرح اگر فجر کی نماز میں ایک رکعت میں قراءت بھول جائے (تو بھی نماز کا اعادہ کرے) ۔ ابو ثور نے کہا : نماز جائز نہیں مگر ہر رکعت میں سورة فاتحہ پڑھنے کے ساتھ جیسا کہ امام شافعی کا مصری قول ہے اسی پر شوافع کا اجماع ہے۔ اسی طرح ابن خویز منداد مالکی کا قول ہے۔ فرمایا : ہمارے نزدیک ہر رکعت میں سورة فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اور یہی اس مسئلہ میں صحیح ہے۔ مسلم نے حضرت ابو قتادہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں نماز پڑھاتے تھے اور ظہر اور عصر کی نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور دو سورتیں تلاوت کرتے تھے۔ کبھی ہمیں کوئی آیت کریمہ سناتے تھے، ظہر کی پہلی رکعت کو طویل کرتے تھے اور دوسری کو چھوٹا کرتے تھے اور اسی طرح صبح کی نماز میں کرتے تھے ( 1 ) ۔ ایک روایت میں ہے کہ دوسری دو رکعتوں میں سورة فاتحہ پڑھتے تھے ( 2 ) یہ صریح نص ہے اور حدیث صحیح ہے۔ یہی امام مالک کا مسلک ہے۔ ہر رکعت میں سورة فاتحہ کے تعین میں یہ نص ہے بخلاف ان علماء کے جنہوں نے اس کا انکار کیا۔ حجت، سنت میں ہوتی ہے نہ کہ اس قول میں جو سنت کے خلاف ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر  15 : جمہور علماء کا نظریہ یہ ہے کہ سورة فاتحہ سے زائد قراءت واجب نہیں ہے کیونکہ مسلم نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : ہر نماز میں قراءت ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو ہم سے جہری قراءت کی ہم نے تم سے جہری قراءت کی، جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے مخفی (قراءت) کی ہم نے بھی تم سے مخفی کی۔ پس جس نے سورة فاتحہ پڑھ لی اس کی طرف سے قراءت جائز ہوگئی اور جس نے سورة فاتحہ سے زائد پڑھا وہ افضل ہے ( 3 ) ۔ بخاری میں ہے : اگر تم اس سے زائد پڑھو تو بہتر ہے ( 4 ) ۔ اکثر اہل علم نے ضرورت یا غیر ضرورت کے لئے سورت کو ترک کرنے سے انکار کیا ہے۔ ان میں سے حضرات عمران بن حصین، ابو سعید خدری، خوات بن جبیر، مجاہد، ابو وائل، ابن عمر، ابن عباس وغیرہم ہیں۔ یہ علماء فرماتے ہیں : اس کی نماز نہیں ہوتی جو سورة فاتحہ اور قرآن میں سے مزید کچھ نہ پڑھے۔ پھر ان علماء میں سے بعض نے دو آیات کی حد متعین کی، بعض نے ایک آیت کی حد متعین کی، بعض نے کوئی حد متعین نہیں کی اور فرمایا : قرآن میں سے کچھ پڑھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکم ہے : فاقرء وا ما تیسر منہ (مزمل :  20 ) پس سورة فاتحہ کے ساتھ ہر حال میں جو اسے میسر ہو وہ پڑھے کیونکہ حضرات عبادہ، ابو سعید خدری وغیرہما کی حدیث میں یہی حکم ہے۔ مدونہ میں ہے : وکیع نے اعمش سے انہوں نے خیثمہ سے روایت کیا، فرمایا : مجھے اس نے بتایا جس نے حضرت عمر بن خطاب کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا۔ اس شخص کی نماز نہیں جو سورة فاتحہ کے ساتھ کچھ اور نہ پڑھے۔ سورت کی قراءت کے بارے میں تین اقوال ہیں : سنت ہے، فضیلت ہے، واجب ہے۔ مسئلہ نمبر  16 : جو شخص بسیار کوشش کے باوجود سورة فاتحہ یا قرآن میں سے اور کچھ نہ سیکھ سکے تو اسے لازم ہے کہ وہ قراءت کی جگہ ممکن حد تک تکبیر یا تہلیل یا تحمید یا تسبیح یا تمجید یا لا حول ولاقوۃ الا باللہ کہے۔ جب وہ تنہا نماز پڑھ رہا ہو یا امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو جبکہ سری قراءت والی نماز ہو۔ ابو داؤد وغیرہ نے عبد اللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت کیا ہے، فرمایا : ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کی : میں قرآن یاد نہیں کرسکتا مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیں جو قراءت کی کفایت کرے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو کہہ : سبحان اللہ، الحمد للہ، ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تو اللہ کے لئے ہے، میرے لئے کیا ہے ؟ فرمایا : تو اس طرح کہہ : اے اللہ ! تو مجھ پر رحم کر، مجھے عافیت دے، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما ( 1 ) ۔ مسئلہ نمبر  17 : اگر کوئی شخص ان الفاظ کے یاد کرنے سے بھی عاجز ہو تو وہ امام کے ساتھ نماز کو نہ چھوڑے۔ امام اس کی طرف سے انشاء اللہ یہ ادا کرنے والا ہوگا۔ اس شخص پر لازم ہے کہ وہ سورة فاتحہ اور کچھ مزید قرآن سیکھنے کی کوشش ہمیشہ کرتا رہے حتیٰ کہ اس پر موت آجائے، تو بھی وہ کوشش میں لگا ہوا ہو۔ پس اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرما لے گا۔ مسئلہ نمبر  18 : جو عجمی لوگوں میں سے عربی نہ بول سکتا ہو اور اس کے لئے عربی دعا کا اس زبان میں ترجمہ کیا گیا ہو جس کو وہ سمجھتا ہوتا کہ وہ اپنی نماز قائم کرے تو انشاء اللہ یہ بھی اس کے لئے جائز ہوگا۔ مسئلہ نمبر  19 : جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ جو عربی اچھی طرح جانتا ہو وہ اگر فارسی میں قراءت کرے گا تو اس کی نماز جائز نہ ہوگی۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا : فارسی میں قراءت جائز ہے اگرچہ عربی اچھی طرح جانتا بھی ہو کیونکہ مقصود معنی کو پانا ہے۔ ابن منذر نے کہا : یہ جائز نہیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہے اور اس کے بھی خلاف ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکھایا اور مسلمانوں کی جماعت کے عمل کے بھی خلاف ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ امام ابوحنیفہ کے قول کی کسی عالم نے موافقت کی ہے۔ ( 1 ) مسئلہ نمبر  20 : جس نے نماز کو شروع کیا جس طرح کہ حکم دیا گیا تھا جبکہ وہ قراءت نہ جانتا تھا پھر نماز کے دوران ہی اسے قرأت کا علم حاصل ہو۔ اور یہ متصور ہے اس طرح کہ کوئی شخص تلاوت سنے اور سننے کے ساتھ ہی وہ اس کے حافظہ میں معلق ہوجائے تو ایسا شخص نماز کو نئے سرے سے شروع نہ کرے کیونکہ اس نے جو پیچھے ادا کیا وہ حکم الٰہی کے مطابق تھا۔ پس اس کے سابقہ عمل کو باطل کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ یہ ابن سحنون نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ تیسرا باب آمین کہنے کے متعلق ہے اس میں آٹھ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر  1 : قرآن پڑھنے والے کے لئے سنت ہے کہ سورة فاتحہ سے فارغ ہونے کے بعد ولا الضألین کے نون پر سکتہ کے بعد آمین کہے تاکہ قرآن، غیر قرآن سے ممتاز ہوجائے۔ مسئلہ نمبر  2 : حضرت ابوہریرہ کی حدیث سے کتب حدیث میں ثابت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : “ جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے سے موافقت کر جائے گا اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ” ( 2 ) ۔ ہمارے علماء رحمۃ اللہ علیہم نے فرمایا : گناہ کی مغفرت کی ترتیب چار مقدمات پر ہے جن کو یہ حدیث متضمن ہے : (١) امام کا آمین کہنا۔ (٢) مقتدیوں کا آمین کہنا۔ (٣) فرشتوں کا آمین کہنا۔ (٤) آمین کہنے میں موافقت۔ بعض علماء نے فرمایا : اجابت میں موافقت، بعض نے فرمایا : زمانہ میں موافقت، بعض نے فرمایا : دعا کے اخلاص کی صفت میں موافقت مراد ہے۔ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : “ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو درآں حالیکہ تمہیں اس کی قبولیت کا یقین ہو۔ اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ غافل اور اخلاص سے خالی دل کی دعا قبول نہیں فرماتا ” ( 1 ) مسئلہ نمبر  3 : ابو داؤد نے ابو مصبح مقرائی سے روایت کیا ہے، فرمایا : ہم ابو زہیر منیری کے پاس بیٹھتے تھے اور وہ صحابہ میں سے تھے، وہ بڑے اچھے انداز میں حدیث بیان کرتے تھے۔ جب ہم میں سے کوئی دعا مانگتا تو کہتے : اس پر آمین سے مہر لگاؤ کیونکہ آمین صحیفہ پر مہر کی طرح ہے۔ ابو زہیر نے کہا : میں تمہیں اس کے متعلق نہ بتاؤں۔ ہم ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلے۔ ہم ایک شخص کے پاس آئے جو دعا کرنے میں اصرار کر رہا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے سنتے ہوئے ٹھہر گئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اس نے مہر لگا دی تو یہ واجب کر دے گا۔ ایک شخص نے کہا : کس چیز کے ساتھ مہر لگائے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آمین کے ساتھ کیونکہ اگر آمین کے ساتھ مہر لگا دے گا تو واجب کر دے گا۔ وہ شخص جس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا وہ واپس آیا اور اس شخص کے پاس پہنچا اور اسے کہا : اے فلاں ! مہر لگا اور خوش ہو ( 2 ) ۔ ابن عبد البر نے کہا : ابو زہیر منیری کا نام یحییٰ بن نفیر تھا۔ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے، مکڑی کو قتل نہ کرو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لشکر ہے۔ وہب بن منبہ نے کہا : آمین کے چار حرف ہیں اللہ تعالیٰ ہر حرف سے ایک فرشتہ پیدا فرماتا ہے جو دعا کرتا رہتا ہے۔ اے اللہ ! ہر اس شخص کو بخش دے جس نے آمین کہا اور خبر میں ہے سورة فاتحہ سے میرے فارغ ہونے کے بعد مجھے جبریل نے آمین کی تلقین کی اور کہا : یہ خط پر مہر کی طرح ہے ایک اور حدیث میں ہے آمین رب العالمین کی مہر ہے۔ راوی نے کہا : ابوبکر نے کہا : اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مہر لگائی کیونکہ وہ آمین کے ساتھ بندوں سے آفات وبلیات دور فرماتا ہے۔ پس گویا یہ خط کی کی مہر کی مانند ہے جو خط کو محفوظ رکھتی ہے اور اس میں خرابی کرنے اور اس کے اندر جو کچھ ہے اسے ظاہر کرنے سے مانع ہوتی ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے آمین جنت میں ایک درجہ ہے۔ ابوبکر نے کہا : اس کا معنی یہ ہے یہ ایک ایسا کلمہ ہے جس کا کہنے والا اس کے ذریعے جنت میں ایک درجہ حاصل کرتا ہے۔ مسئلہ نمبر  4 : اکثر اہل علم کے نزدیک آمین کا معنی ہے : اللھم استجب لنا (اے اللہ ہماری دعا قبول فرما) یہ دعا کی جگہ رکھا گیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے۔ یہ جعفر بن محمد، مجاہد، ہلال بن یساف سے مروی ہے اور یہ بات حضرت ابن عباس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے جبکہ یہ صحیح نہیں ہے۔ یہ ابن عربی کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : آمین کا معنی ہے اسی طرح ہونا چاہئے۔ یہ جوہری کا قول ہے۔ کلبی نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا آمین کا معنی کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اس کا معنی ہے) اے میرے رب ! تو (ایسا) کر۔ مقاتل نے کہا : یہ کلمہ دعا کے لئے قوت ہے اور برکت طلب کرنے کے لئے ہے۔ ترمذی نے کہا : اس کا معنی ہے ہماری امیدوں کو نامراد نہ کر۔ مسئلہ نمبر  15 : آمین میں دو لغتیں ہیں : ( 1 ) مد، بروزن فاعیل جیسے یاسین ( 2 ) بغیر مد کے یمین کے وزن پر۔ شاعر نے مد میں کہا ہے۔ یا رب لا تسلینی حبھا ابدأ ویرحم اللہ عبدأ قال أمینا اے رب ! مجھ سے اس کی محبت کبھی نہ نکال اور اللہ اس بندے پر رحم فرمائے جو آمین کہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : أمین أمین لا ارضی بواحدۃ حتی ابلغھا الفین أمینا آمین آمین، میں ایک مرتبہ کہنے پر راضی نہ ہوں گا حتیٰ کہ میں اسے دو ہزار آمین تک پہنچاؤں گا۔ ایک اور شاعر نے بغیر مد کے کہا ہے : تباعد منی فطحل اذ سالتہ امین فزاد اللہ ما بیننا بعداً اس شعر میں امین بغیر مد کے استعمال ہوا ہے۔ آمین کو میم کی شد کے ساتھ پڑھنا غلطی ہے یہ جوہری کا قول ہے۔ حسن اور حضرت امام جعفر صادق سے شد کے ساتھ مروی ہے حسین بن فضل کا بھی یہی قول ہے اور یہ ام سے مشتق ہے جس کا معنی ہے قصد کرنا یعنی ہم تیری طرف قصد کرنے والے ہیں۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا امین البیت الحرام (المائدہ : 2 ) یہ قول ابونصر عبد الرحیم بن عبد الکریم قشیری نے حکایت کیا ہے۔ جوہری نے کہا : یہ ابن اور کیف کی مثل مبنی پر فتحہ ہے کیونکہ اجتماع ساکنین ہے۔ اسی سے تو کہتا ہے : امن فلان تامینا۔ مسئلہ نمبر  6 : علماء کا اختلاف ہے کیا امام آمین کہے اور کیا وہ اسے بلند آواز سے کہے۔ امام شافعی اور مالک اور ایک روایت مدنی علماء اسی مسلک کی طرف گئے ہیں۔ کوفہ کے علماء اور بعض مدنی علماء نے کہا : وہ بلند آواز سے آمین نہ کہے۔ یہی طبری کا قول ہے۔ ہمارے مالکی علماء میں سے ابن حبیب نے یہی کہا ہے۔ ابن بکیر نے کہا : اسے اختیار ہے ( 1 ) ۔ ابن قاسم نے مالک سے روایت کیا ہے کہ امام آمین نہ کہے بلکہ مقتدی آمین کہیں۔ یہ ابن قاسم اور اصحاب مالک میں سے مصری علماء کا قول ہے اور ان کی حجت حضرت ابو موسیٰ اشعری کی حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمارے لئے ہمارا طریقہ بیان فرمایا اور ہمیں اپنی نماز سکھائی اور فرمایا : جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو پھر تم میں سے جو بڑا ہو وہ امامت کرائے۔ جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ غیر المغضوب علیھم ولا الضألین کہے تو تم آمین کہو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول فرمائے گا ( 2 ) حدیث ذکر فرمائی۔ اس حدیث کو مسلم نے نقل کیا ہے اسی کی مثل سمی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے۔ اسے مالک نے نقل فرمایا۔ پہلا قول صحیح ہے اس کی دلیل حضرت وائل بن حجر کی حدیث ہے۔ فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ولا الضألین پڑھتے تو آمین کہتے اور اس کے ساتھ آواز کو بلند کرتے ( 1 ) ۔ ابو داؤد اور دار قطنی نے یہ حدیث روایت کی ہے اور یہ زائد ذکر کیا ہے۔ ابوبکر نے کہا : یہ سنت ہے جس کے ساتھ اہل کوفہ منفرد ہیں یہ صحیح ہے اور جو اس کے بعد ہے۔ امام بخاری نے ایک عنوان باندھا ہے : جھر الامام بالتامین۔ ( 2 ) عطاء نے کہا : آمین دعا ہے۔ ابن زبیر اور ان کے مقتدیون نے آمین کہا حتی کہ مسجد میں گونج پیدا ہوئی۔ امام ترمذی نے کہا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ اور تابعین علماء میں سے اکثر علماء فرماتے ہیں کہ نمازی اپنی آواز آمین کے ساتھ بلند کرے اور آہستہ نہ کہے ( 3 ) ۔ یہی قول امام شافعی، احمد اور اسحاق کا ہے۔ مؤطا اور بخاری ومسلم میں ہے، ابن شہاب نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : آمین ( 4 ) ۔ سنن ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے، فرمایا : لوگوں نے آمین کو چھوڑ دیا ہے حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غیر المغضوب علیھم والا الضألین کہتے تو آمین کہتے تھے حتیٰ کہ پہلی صف والے سن لیتے تھے اور مسجد اس کے ساتھ گونج جاتی تھی ( 5 ) ۔ رہی ابو موسیٰ اور سمی کی حدیث کی حدیث تو ان دونوں کا معنی اس مقام کی وضاحت ہے جہاں آمین کہا جاتا ہے اور وہ وہ مقام ہے جب امام ولا الضألین کہتا ہے تاکہ ان دونوں کا قول اکٹھا ہوجائے اور مقتدی آمین کے قول کے ساتھ امام سے آگے نہ بڑھ جائیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو ( 6 ) ۔ ابن نافع نے اپنی کتاب “ ابن الحارث ” میں فرمایا : مقتدی آمین نہ کہے حتیٰ کہ امام کو ولا الضألین کہتے ہوئے سن لے اور جب امام سے اتنا دور ہو کہ اس کی آواز نہ سن سکے تو آمین نہ کہے۔ ابن عبدوس نے کہا : وہ قراءت کا اندازہ کر کے آمین کہے ( 7 ) ۔ مسئلہ نمبر  7 : امام ابوحنیفہ کے ساتھیوں نے کہا : آہستہ آمین کہنا، بلند آواز سے آمین کہنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ دعا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ادعوا ربکم تضرعا و خفیۃ (اعراف :  55 ) (دعا کرو اپنے رب سے گڑ گڑاتے ہوئے اور آہستہ آہستہ ) ۔ مزید کہتے ہیں : آہستہ آمین پر دلیل وہ تاویل ہے جو اس آیت قد اجیبت دعوتکما (یونس : 89 ) کے بارے میں مروی ہے۔ فرمایا : موسیٰ (علیہ السلام) دعا کرتے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے تھے۔ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے آمین کہنے والا فرمایا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دعا کا اخفاء افضل ہے کیونکہ اس میں ریا داخل ہوجاتا ہے لیکن وہ امر جو جماعت کی نماز کے ساتھ متعلق ہے، اس میں حاضری، ایک شعار کا اظہار ہے اور حق کا اظہار بندوں کو اس کے اظہار کی دعوت دیتا ہے۔ امام سورة فاتحہ کی قراءت بلند آواز سے کرتا ہے جو دعا اور آمین کہنے پر مشتمل ہے۔ جب دعا ایسی چیز ہے جس میں جہر سنت ہے تو آمین کہنا تو دعا کے لئے مہر ہے اور اس کے قائم مقام ہے اور یہ واضح امر ہے۔ مسئلہ نمبر  8 : آمین کا کلمہ ہم سے پہلے صرف موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے لئے تھا۔ حکیم ترمذی نے “ نوادرالاصول ” میں ذکر کیا ہے کہ ہمیں عبد الوارث بن عبد الصمد نے بتایا انہوں نے کہا : مجھے میرے باپ نے بتایا، انہوں نے کہا : ہمیں رزین نے بتایا جو ہشام بن حسان کی مسجد کے مؤذن تھے۔ انہوں نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک نے بتایا، فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کو تین ایسی چیزیں عطا فرمائی ہیں جو ان سے پہلے کسی کو عطا نہیں فرمائیں۔ وہ یہ ہیں : اہل جنت کا سلام، فرشتوں کی صفیں اور آمین مگر موسیٰ اور ہارون کو آمین کا کلمہ دیا گیا تھا۔ ابو عبد اللہ نے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے خلاف دعا کی اور ہارون (علیہ السلام) نے آمین کہی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا قرآن میں اس طرح ذکر کیا قد اجیبت دعوتکما (یونس :  89 ) ہارون (علیہ السلام) کے کلام کو ذکر نہیں فرمایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ربنا (اے ہمارے رب ! ) اور ہارون (علیہ السلام) نے کہا : آمین۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان دونوں کو دعا کرنے والا کہا کیونکہ ان کی طرف سے یہ دعا ہوگئی تھی۔ بعض علماء نے فرمایا : آمین اس امت کے ساتھ خاص ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے، فرمایا : یہود تم پر اتنا حسد کسی چیز پر نہیں کرتے جتنا کہ وہ سلام اور آمین کہنے پر حسد کرتے ہیں ( 1 ) ۔ اس حدیث کو ابن ماجہ نے حماد بن سلمہ عن سھیل بن ابی صالح عن ابیہ عن عائشہ کے سلسلہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مکمل حدیث ذکر کی۔ حضرت ابن عباس کی حدیث سے بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت فرمایا، فرمایا : یہود تم پر کسی چیز میں اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ آمین پر تم سے حسد کرتے ہیں، پس آمین کا قول زیادہ کہا کرو ( 2 ) ۔ ہمارے علماء فرماتے ہیں : اہل کتاب نے ہم سے حسد کیا کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا ہے پھر اس کی بارگاہ میں عجز ونیاز ہے پھر ہمارے لئے صراط مستقیم کی طرف ہدایت کی دعا ہے پھر اس کی بارگاہ میں عجز ونیاز ہے پھر ہمارے لئے صراط مستقیم کی طرف ہدایت کی دعا ہے پھر ہمارے قول آمین کے ساتھ ان کے لئے بد دعا ہے۔ چوتھا باب اس میں سورة فاتحہ کے معانی، قراءت، اعراب اور حمد کرنے والوں کی فضیلت ہے اس باب میں چھتیس مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر  1 : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے الحمد للہ (سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں) ۔ ابو محمد عبد الغنی بن سعید الحافظ نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری کی حدیث سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بندہ الحمد للہ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرے بندے نے سچ کہا، بیشک حمد میرے لئے ہے ( 1 ) ۔ مسلم نے حضرت انس سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے خوش ہوتا ہے جو لقمہ کھائے تو اس پر اللہ کی حمد کرے، کوئی مشروب پیے تو اس پر اس کی حمد کرے ( 2 ) ۔ حضرت حسن نے فرمایا : کوئی نعمت نہیں ہے مگر اس پر اللہ کی حمد ہو تو وہ اس نعمت سے افضل ہے۔ ابن ماجہ نے حضرت انس بن مالک سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر کوئی نعمت فرمائی پھر اس نے الحمد للہ کہا تو اللہ تعالیٰ نے اس موجود نعمت سے افضل نعمت اسے عطا فرمائی ( 3 ) ۔ “ نوادر الاصول ” میں حضرت انس بن مالک سے مروی ہے، فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یہ دنیا تمام کی تمام میرے امتی کے ایک ہاتھ میں ہو پھر وہ الحمد للہ کہے تو الحمد للہ ان تمام نعمتوں سے افضل ہوگی۔ ابو عبد اللہ نے فرمایا : ہمارے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے اسے دعا عطا فرمائی پھر اس کے بعد یہ حمد کا کلمہ عطا فرمایا حتی کہ اس نے یہ کلمہ بولا تو یہ کلمہ ساری دنیا سے افضل تھا کیونکہ دنیا فانی ہے اور یہ کلمہ باقی ہے، یہ باقیات صالحات سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : والبقیت الصلحت خیر عند ربک ثوابا و خیرا ملا۔ (الکہف) بعض روایات میں ہے جو اس نے دیا وہ اس سے زیادہ ہے جو اس نے لیا۔ پس یہ کلمہ بندے کی طرف سے ہے اور دنیا وہ اللہ تعالیٰ سے لینے والا ہے، پس یہ تدبیر ہے۔ اسی طرح کلام میں جاری ہوگا کہ یہ کلمہ بندے کی طرف سے ہے اور دنیا اللہ کی طرف سے ہے اور اصل میں دونوں اللہ کی طرف سے ہیں، دنیا بھی اس کی طرف سے ہے اور الحمد کا کلمہ بھی اللہ کی طرف سے ہے، دنیا اس نے بندے کو عطا فرمائی اور اسے غنی کردیا پھر اسے کلمہ (الحمد للہ) عطا فرمایا اور آخرت میں اس کے ساتھ اسے شرف عطا فرمائے گا۔ ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں بیان کیا کہ ایک بندے نے کہا : یا رب لک الحمد کما ینبغی لجلال وجھک وعظیم سلطانک۔ فرشتوں کے لئے اس کا لکھنا مشکل ہوگا وہ نہیں جانتے تھے کہ اسے کیسے لکھیں۔ پس وہ دونوں آسمان کی طرف بلند ہوئے اور عرض کی : یا رب ! تیرے بندے نے ایسی کلام کی ہے ہم نہیں جانتے کہ اسے کیسے لکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا، حالانکہ وہ زیادہ جانتا ہے جو اس کے بندے نے کہا تھا۔ میرے بندے نے کیا کہا ؟ فرشتوں نے کہا : یا رب ! اس نے کہا : یا رب لک الحمد کما ینبغی لجلال وجھک وعظیم سلطانک۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم اسی طرح لکھ دو جس طرح میرے بندے نے کہا حتیٰ کہ وہ مجھ سے آ کر ملے گا تو میں خود اسے اس کی جزا دوں گا ( 4 ) ۔ اہل لغت نے کہا : اعضل الامر، جب معاملہ سخت ہوجائے اور بند ہوجائے۔ المعضلات سختیوں کو کہتے ہیں۔ عضلت المرأۃ والشاۃ کہا جاتا ہے جب بچہ جنم دے اور اس کا مخرج تنگ ہو یہ ضاد کی شد کے ساتھ ہے۔ اسی بنا پر فرمایا : اعضلت الملکین یا عضلت الملکین، یعنی اس امر نے فرشتوں کو مشکل میں ڈال دیا۔ واللہ اعلم مسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : طہارت ایمان کا نصف ہے۔ الحمد للہ میزان کو بھر دیتا ہے، سبحان اللہ اور الحمد للہ آسمان اور زمین کے درمیان جو کچھ ہے اسے بھر دیتے ہیں ( 1 ) ۔ آگے حدیث ذکر کی۔ مسئلہ نمبر  2 : علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ بندے کا قول الحمد للہ رب العلمین افضل ہے یا لا الہ الا اللہ افضل ہے۔ علماء کے ایک گروہ نے کہا : الحمد للہ رب العلمین افضل ہے کیونکہ اس کے ضمن میں توحید لا الہ الا اللہ بھی موجود ہے اور بندے کے اس قول میں توحید اور حمد ہے اور لا الہ الا اللہ میں صرف توحید ہے۔ اس کی بنیاد پر مخلوق سے جنگ کی جاتی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال (جنگ) کروں حتیٰ کہ وہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں ( 2 ) ۔ اس قول کو ابن عطیہ نے اختیار کیا ہے۔ فرمایا : اس پر قول فیصل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے : افضل ذکر وہ ہے جو میں نے اور مجھ سے پہلے نبیوں نے کہا : لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ۔ ( 3 ) ۔ مسئلہ نمبر  3 : مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ساری نعمتوں پر محمود ہے اور اس کے انعاموں میں سے ایک ایمان بھی ہے میں یہ دلیل ہے کہ ایمان اس کا فعل اور اس کی تخلیق ہے اس پر دلیل رب العلمین اس کا ارشاد ہے۔ العالمون تمام مخلوق کو کہتے ہیں اور اس مخلوق میں سے ایمان بھی ہے۔ اس طرح نہیں ہے جس طرح قدر یہ کہتے ہیں کہ ایمان ان کی تخلیق ہے جیسا کہ تفصیل آگے گی۔ مسئلہ نمبر  4 : عرب کلام میں الحمد کا معنی ثنا کامل ہے۔ الف اور لام محامد کی جنس کے استغراق کے لئے ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ہی ہر حمد کا مستحق ہے کیونکہ اس کے اسماء خوبصورت ہیں اور صفات بلند ہیں۔ شاعر کے قول میں الحمد کے لفظ کی جمع، جمع قلت کے وزن پر بنائی گئی ہے۔ وایلج محمود الثناء خصمتہ بأفضل اقوالی وأفضل احمدی اس کی محمود تعریف روشن ہے۔ میں نے اسے اپنے افضل اقوال اور افضل حمد کے ساتھ خاص کیا ہے۔ حمد، مذمت کی نقیض ہے۔ تو کہتا ہے : حمدت الرجل احمدہ حمد اً فھو حمید ومحمود۔ التحمید، حمد سے زیادہ بلیغ ہے اور حمد، شکر سے اعم ہے۔ ألمحمد اس ذات کو کہتے ہیں جس کے خصائل حمیدہ کثیر ہوں۔ شاعر نے کہا : الی الماجد القوم الجواد ألمحمد اس مصرعہ میں شاعر نے المحمد اسی معنی میں استعمال کیا ہے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ نام رکھا گیا ہے۔ شاعر نے کہا : فشق لہ من اسبہ لیجلہ فذو العرش محمود وھذا محمد اس نے اپنے نام سے اس کا نام مشتق کیا تاکہ اسے عظمت دے، وہ صاحب عرش محمود ہے یہ محمد ہے۔ ألمحمدۃ، یہ المذمۃ کے خلاف ہے۔ احمد الرجل، اس کا مطلب ہے اس کا امر حمد کا باعث ہوا۔ احمدتہ کا مطلب ہے : میں نے اس محمود پایا۔ تو کہتا ہے : میں فلاں جگہ آیا اور میں نے اسے محمود اور موافق پایا۔ یہ اس وقت کہے گا جب تو اس میں رہائش یا اس کی چراگاہ پر راضی ہو۔ رجل حمدۃ، ہمزہ کی مثل اس شخص کو کہتے ہیں جو اشیاء کی حمد زیادہ کرتا ہو اور ان چیزوں کی صفات بیان کرنے میں مبالغہ کرتا ہو۔ حمدۃ النار۔ آگ کے بھڑکنے کی آواز کو کہتے ہیں۔ مسئلہ نمبر  5 : ابو جعفری طبری اور ابو العباس مبرد کا خیال ہے کہ حمد اور شکر ایک معنی میں ہے اور یہ پسندیدہ نہیں ہے ( 1 ) ۔ ابو عبد الرحمٰن سلمی نے اپنی کتاب “ الحقائق ” میں امام جعفر صادق اور ابن عطا سے یہی روایت کیا ہے۔ ابن عطا نے کہا : اس کا معنی اللہ کا شکر ہے کیونکہ اس کی ہمیں تعلیم بھی اس کا احسان ہے حتیٰ کہ ہم نے اس کی تعریف کی۔ طبری نے ان کے ہم معنی ہونے پر تیرے اس قول کی صحت سے استدلال کیا ہے الحمد للہ شکرا۔ ( 2 ) ۔ ابن عطیہ نے کہا یہ حقیقت میں دلیل ہے ان کے مسلک کے خلاف پر کیونکہ تیرے قول شکرا، تو اس کو حمد کے ساتھ خاص کیا کیونکہ یہ بھی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ( 3 ) ۔ بعض علماء نے فرمایا : شکر، حمد سے زیادہ عام ہے کیونکہ شکر، زبان، جوارح اور دل سے ہوتا ہے اور حمد صرف زبان سے ہوتی ہے۔ بعض نے فرمایا : حمداعم ہے کیونکہ اس میں شکر اور مدح کا معنی ہے اور یہ شکر سے اعم ہے کیونکہ حمد شکر کی جگہ رکھی جاتی ہے اور شکر کو حمد کی جگہ نہیں رکھا جاتا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، فرمایا : الحمد للہ ہر شکر گزار کا کلمہ ہے۔ آدم (علیہ السلام) کو جب چھینک آئی تو کہا : الحمد للہ۔ اور اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو فرمایا : فقل الحمد للہ الذی نجنا من القوم الظلمین۔ (المومنون) (تو کہنا سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے جس نے ہمیں نجات دی ظالم قوم (کے جوروستم سے) سے) اور ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : الحمد للہ الذی وھب لی علی الکمر اسماعیل اسحٰق (ابراہیم : 39 ) داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) نے کہا : وقالا الحمد للہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المؤمنین۔ (النمل) (اور انہوں نے کہا : سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے جس نے برگزیدہ کیا ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمایا : وقل الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا (الاسراء :  111 ) (اور آپ فرمائیے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے نہیں بنایا (کسی کو اپنا) بیٹا) ۔ اہل جنت نے کہا : الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن (فاطر :  34 ) (کہیں گے سب ستائشیں اللہ کے لئے ہیں جس نے دور کردیا ہم سے غم (واندوہ) واخر دعوھم ان الحمد للہ (یونس : 10 ) (اور ان کی آخری پکار یہ ہوگی کہ سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں) میں کہتا ہوں : حمد، ممدوح کی اس کی صفات کی وجہ سے کسی سابقہ احسان کے بغیر تعریف کرنا ہے اور شکر، مشکور کی احسان کی وجہ سے تعریف کرنا ہے۔ اس تعریف کی بنا پر ہمارے علماء نے فرمایا : الحمد شکر ہے اعم ہے کیونکہ حمد ثنا، تحمید اور شکر پر واقع ہوتی ہے اور جزا مخصوص ہے کہ یہ اس کا بدل ہوتی ہے جو تیرے ساتھ نیکی کرتا ہے۔ پس الحمد اس آیت میں اعم ہے کیونکہ یہ شکر پر زائد ہے اور یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ حمد بمعنی رضا بھی ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے : بلوتہ فحمدتہ یعنی میں خوش ہوا۔ اس سے یہ ارشاد بھی ہے : مقاما محمودا۔ (الاسراء) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : احمد الیکم غسل الا حلیل میں تمہارے لئے شرمگاہ کا دھونا پسند کرتا ہوں۔ امام جعفر صادق (رض) سے الحمد للہ کی تفسیر میں مروی ہے۔ جس نے اس کی صفات کی وجہ سے اس کی حمد کی جس طرح اس نے خود اپنی توصیف کی ہے اس نے حمد کی، کیونکہ حمد حاء میم اور دال سے مرکب ہے، حا، وحدانیت سے ہے، میم، الملک سے ہے اور دال ویمومیت (ہمیشگی) سے ہے جس نے وحدانیت، دیمویت اور الملک کو پہچان لیا اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد کو پہچان لیا۔ یہی الحمد للہ کی حقیقت ہے۔ شفیق بن ابراہیم نے الحمد کی تفسیر میں فرمایا : یہ تین وجوہ پر منحصر ہے : (١) جب اللہ تعالیٰ تجھے کوئی چیز عطا فرمائے تو تو جان لے جس نے تجھے یہ چیز عطا کی۔ (٢) جو اس نے تجھے عطا فرمایا تو اس پر خوش ہو، (٣) جب تک تیرے جسم میں قوت ہے تو اس کی نافرمانی نہ کر۔ یہ حمد کی شرائط ہیں۔ مسئلہ نمبر  6 : اللہ سبحانہ نے اپنی حمد خود فرمائی اور اپنی کتاب کا آغاز اپنی حمد سے کیا اور دوسروں کو اپنی خود تعریف کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ اپنی تعریف کرنے سے اپنی کتاب اور اپنے نبی کی زبان کے ذریعے منع فرمایا۔ فرمایا : فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی۔ (النجم) (پس اپنی خودستائی نہ کیا کرو وہ خوب جانتا ہے کہ کون پرہیز گار ہے) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مدح کرنے والوں کے مونہوں میں مٹی ڈالو ( 1 ) ۔ اس حدیث کو حضرت مقداد نے روایت کیا اس کے متعلق سورة النساء میں انشاء اللہ وضاحت آئے گی۔
Top