Al-Qurtubi - Saad : 15
وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
وَمَا يَنْظُرُ : اور وہ انتظار نہیں کرتے هٰٓؤُلَآءِ : یہ لوگ اِلَّا : مگر صَيْحَةً : چنگھاڑ وَّاحِدَةً : ایک مَّا لَهَا : جس کے لیے نہیں مِنْ : کوئی فَوَاقٍ : ڈھیل
اور یہ لوگ تو صرف ایک زور کی آواز کا جس میں (شروع ہوئے پیچھے) کچھ وقفہ نہیں ہوگا انتظار کرتے ہیں
15 ۔ 16: یہاں ینظر ینتظر کے معنی میں ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انظرونا نقتبس من نور کم ۔ الحدید (13: ھولا سے مراد کفار مکہ ہیں الا صیحۃ واحدہ سے مراد قیامت کا نفخہ ہے بعنی عزوہ بدر میں جو مصیبت انہیں پہنچی اس کے بعد وہ قیامت کے نفخہ کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے زندہ لوگ اس وقت صرف صیحہ کا ہی انتظار کر رہے ہیں صیحہ سے مرادصور پھونکنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان کے زندہ لوگ اس وقت صرف صیحہ کا ہی انتظار کر رہے ہیں صیحہ سے مراد صور پھونکنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ما ینظرون الا صیحۃ واحدۃ تاخذہم و ھم یجصمون۔ فلا یستطیعون توصیۃ) یس ( یہ قیات اور موت کے قریب ہونے کی خبر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس امت کے آخر کے کفار جو لوگوں کے طریقہ کو اپنائے ہوئے ہونگے وہ انتظار نہیں کرتے ہونگے مگر ایک صیحہ کا انتظار کر رہے ہونگے نو نسخہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو نے کہا : آسمان میں صیحہ نہیں ہوتا مگر اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی زمین پر غضبناک ہوتا ہے۔ مالھا من فواق۔ جس کو لوٹا یا نہیں جاسکتے گا (2) ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد سے یہ مروی ہے کہ اس کے لئے لوٹنا۔ قتادہ نے کہا : اس کے لئے واپس آنا نہیں ہوگا۔ سدی نے کہا : اس سے افاقہ کی مورت نہ ہوگی۔ حمزہ اور کسائی نے اسے مالھا من فواق پڑھا ہے باقی قراء نے اسے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ جوہری نے کہا : فواق اور فواق سے مراد دو دفعہ دوہنے کے درمیان کا جو عرصہ ہوتا ہے کیونکہ جانور کو دوہا جاتا ہے پھر اسے تھوڑا ترک کیا جاتا ہے تاکہ بچہ دودھ پیئے تاکہ جانور دودھ اتارے پھر اسے دوبارہ دوہا جاتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ما اقام عندہ الا فواقا یعنی وہ گھڑی بھر اس کے پاس ٹھہرا۔ حدیث طیبہ میں ہے العبادۃ قدر فواق الناقۃ (1) عیاوت اونٹنی دوہنے کے وقت تک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : مالھا من فواق اسے فتحہ اور ضمہ دونوں طرح پڑھا جاتا ہے یعنی اس کے واقع ہونے پر رحمت اور افاقہ کی صورت نہ ہوگی۔ الفیقۃ اس دودھ کو کہتے ہیں جو دو دفعہ دوہنے کے درمیان جمع ہوجاتا ہے وائو یاء ہوگئی ہے کیونکہ اس کا ما قبل مکسور ہے۔ اعشی گائے کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے : حتی اذا فیقۃ فی ضرعھا اجتعمت جاءت لترضع شق النفس النفس لورضعا یہاں تک کہ اس کی کھیری میں دودھ جمع ہوتا وہ آئی تاکہ نفس کے حصہ کو دودھ پلائے۔ فیقۃ کی جمع فیق ہے پھر اس کی جمع افواق ہے جس طرح شبر کی جمع اشبار ہے پھر اس کی جمع افاویق ہوتی ہے ‘ ابن ہماری سلوی نے کہا : و ذموالنا الدنیا و ھم یرضعونھا افاویق حتی ما یدرلھا ثعل وہ ہمارے سامنے دنیا کی مذمت کرتے ہیں جب کہ وہ خود اس کے جمع شدہ دودھ چوستے ہیں یہاں تک کہ ثعل اس کے لئے دودھ نہیں دیتا۔ افاویق اس پانی کو بھی کہتے ہیں جو بادل میں جمع ہوجاتا ہے وہ یکے بعد دیگرے بارش برساتا ہے افاقت الفاقۃ افاقۃ اونٹی کی کھیری میں دودھ جمع ہوگیا اس سے اسم فاعل مفیق اور مفیۃ ہے۔ ابو عمرو سے مروی ہے کہ اس کی جمع مفاویق ہے فراء ابوعبیدہ اور دوسرے علماء نے کہا : من فواق ہے یعنی فاء کے فتحہ کے ساتھ ہے جس کا معنی راحمت ہے۔ میں کہتا ہوں : اس کا معنی یہ طویل ہوگا جو ختم نہیں ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت نقل کی ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا جب کہ ہم آپ کے صحابہ کے ایک طائفہ میں تھے اس مين ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل (علیہ السلام) کو نفخہ اولی کا حکم دے گا ارشاد فرمائے گا : نفخہ فزع پھونکو تو تمام آسمان و زمین والے خوف زدہ ہوجائیں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہیے گا اللہ تعالیٰ اسے حکم دے گا وہ اسے پھیلائے گا ‘ اسے دو ام دے گا اور اسے طویل کرے گا اللہ تعالیٰ ارشاد فرمتا ہے : وما ینظر ھئولاء الا صیحۃ واحدۃ مالھا من فواق۔ اور حدیث کو ذکر کیا اسے علی بن معبد اور دوسرے علماء نے ذکر کیا ہے جس طرح ہم نے کتاب التذکرہ میں ذکر کیا ہے۔ مجاہد نے کہا قطنا کا معنی ہے ہمارا عذاب ‘ قتادہ نے بھی یہی کہا ہے یعنی عذاب میں سے ہمارا حصہ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : جنت میں ہمارا حصہ تاکہ دنیا میں اس سے لطف اندوز ہوں یہی سعید بن جبیر نے کہا : لغت میں یہ معروف ہے کہ نصیب) حصہ ( کو قط کہتے ہیں اور وہ کتاب جو انعما کے لئے لکھی گئی ہوا سے بھی قط کہتے ہیں۔ فراء نے کہا : کلام عرب میں قط سے مراد حصہ ہے اسی معنی میں رجسٹری کو قط کہتے ہیں۔ ابو عبید اور کسائی نے کہا : قط سے مراد وہ تحریر ہے جو انعامات کے لئے لکھی گئی ہو اس کی جمع قطوط ہے۔ اعشی نے کہا : ولا الملک النعمان یوم لقیمتہ بغبتہ یعطی القطوط و یافق (1) قطوط سے مراد انعامات کی تحریر ہیں۔ بغبطتہ کی جگہ بنعطتہ کی جگہ بنعمتہ کے الفاظ ہیں یعنی اپنے احسان کے ساتھ جلیل القدر حالت کے ساتھ یا فق یعنی اصلاح احوال کرتا ہے قط کی جمع میں قططہ کہتے ہیں اور جمع قلت اقط اور اقطاط ہے ‘ یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ سدی نے کہا : انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ جنت میں ان کی جو منازل ہیں ان کی مثالی شکل دکھائی جائے تاکہ انہیں علم ہوجائے کہ جو ان سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے۔ اسماعیل بن ابی خالد نے کہا : معنی ہے ہمارے رزق ہمیں جلدی دیئے جائیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہمیں وہ چیز جلدی دی جائے جو ہماری ضروریات کے لئے کافی ہو یہ عربوں کے قول قطی سے ماخوذ ہے یعنی یہ میرے لئے کافی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے یہ بات ان کتابوں کے بارے میں کی تھی جوان کے دائیں اور بائیں ہاتھوں میں دی جانی تھیں ان پر یہ قرآن پڑھا گیا وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے فاما من اوتی کتابہ بیمینہ۔ و اما من اوتی کتابہ وراء ظہرہ۔ قط کا اصل معنی کاٹنا ہے اسی سے یہ جملہ بولا جاتا ہے قط القلم قط کسی شے کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں جس طرح قسم اور قسم ہے اس کا اطلاق ‘ نصیب ‘ کتاب اور رزق پر ہوتا ہے کیونکہ وہ غیر سے الگ ہوتا ہے مگر اس کا اطلاق کتاب) تحریر ( میں زیادہ استعمال ہوتا ہے حقیقت کے اعتبار سے قوی ہے ‘ امیہ بن ابی صلت نے اسی معنی میں یہ سعر کہا ہے : قوم لھم ساحۃ العراق وما یجبی الیہ والقط والقلم (2) وہ ایسی قوم ہیں جن کے لئے عراق کا علاقہ اور جو اس کے لئے اکٹھا کیا جاتا ہے اور ان کے لئے تحریر اور قلم ہے۔ قبل یوم الحساب۔ یعنی دنیا میں ہی قیامت سے قبل اگر معاملہ اس طرح ہے جس طرح محمد ﷺ کہتے ہیں۔ یہ سب کچھ ان کی جانب سے استہزاء کے طور پر تھا۔
Top