Al-Qurtubi - Saad : 18
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ
اِنَّا سَخَّرْنَا : بیشک ہم نے مسخر کردیے الْجِبَالَ : پہاڑ مَعَهٗ : اس کے ساتھ يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت وَالْاِشْرَاقِ : اور صبح کے وقت
ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کردیا تھا کہ صبح و شام ان کے ساتھ (خدائے) پاک (کا ذکر) کرتے تھے
اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر -1 یسبحن حال ہونے کی حیثیت سے محل نصب میں ہے جو وہ برہان اور معجزہ لائے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا وہ پہاڑوں کا ان کے ساتھ تسبیح کرنا ہے۔ مقاتل نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) پہاڑوں کی تسبیح کو سمجھتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یسبحن کا معنی ہے وہ نماز پڑھتے تھے ہر چیز معجزہ ہوگئی جب لوگوں نے اسے دیکھا اور اسے پہچانا۔ محمد بن اسحاق نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) کو خوبصورت آواز دی گئی تھی پہاڑوں میں اس کی وجہ سے جو ہلکی آواز پیدا ہوتی ہے اور پرندے اس کی طرف جو کان لگاتے اور اس کے ساتھ آوازیں نکالتے جو پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو مسخر کیا تھا کہ آپکے ساتھ چلیں تو یہ ان پہاڑوں کی تسبیح ہوگی کیونکہ یہ چیز اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوقات کی مشابہت سے پاک ہے اس کے بارے میں گفتگو سورة سبا اور اللہ تعالیٰ کے فرمان : و ان من شی الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیھم) الاسراء (44: میں گزر چکی ہے۔ اقوال میں سے صحیح ترین قول وہ ہے ‘ جو قوی تسبیح ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ اشراق سے مراد سورج کے طلوع ہونے کے بعد اس کا سفید ہونا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : شرقت الشمس جب وہ طلوع ہو اشرقت جب وہ خوب روشن ہوجائے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز کے بعد اللہ تعالیٰ تسبیح بیان کرتے تھے۔ مسئلہ نمبر -2 حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہا : میں اس آیت بالعثی والا شراق کے پاس سے گذرتا تھا میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا ہے یہاں تک کہ حضرت ام ہانی ؓ نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے آپ نے پانی منگوایا وضو کیا پھر چاشت کی نماز پڑھی فرمایا : ” ام ہانی یہ اشراق کی نماز ہے “ عکرمہ نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : صلاۃ الضحی کے بارے میں میرے ذہن میں الجھن سی تھی یہاں تک کہ میں نے اسے قرآن میں پایا یسبحن بالعشی ولاشراق۔ عکرمہ نے کہا : حضرت ابن عباس ؓ چاشت کی نماز نہیں پڑھتے تھے پھر اسے بعد میں پڑھنے لگے۔ روایت کی گئی ہے کہ کعب الاحبار نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا : میں تجھے قرآن دکھاتا ہوں وہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے قصہ میں ہے یسبحن بالعشی ولاشراق۔ مسئلہ نمبر -3 چاشت (1) کی نماز نفل اور مستحب ہے (2) یہ دن کے پہلے پہر میں اسی طرح ہے جس طرح دن کے دن کے پچھلے پہر میں عصر ہے۔ نماز پڑھنا مناسب نہیں یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے بعد سفید ہوجائے جس طرح عصر کی نماز اس وقت پڑھنا مناسب نہیں جب سورج زرد ہوجائے۔ صحیح مسلم میں زید بن ارقم ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : صلاۃ الاوابین حین ترمض الفصال اوا بین کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب اونٹوں کے بچے گرمی محسوس کرنے لیں۔ فصال اور فصاں ‘ فصیل کی جمع ہے اس سے مراد اونٹ کا وہ بچہ ہوتا ہے جسے دودھ چھھڑا دیا گیا ہو۔ رمضاء سے مراد زمین میں گرمی کی شدت ہے۔ یہاں فصال کا خصوصا ذکر کیا ہے کیونکہ یہ اس وقت گرمی محسوس کرنے لگتے ہیں کہ ابھی گرمی کی شدت انتہاء کو نہیں پہنچتی جس وقت ان کی مائیں گرمی محسوس کرتی ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان میں قوت برداشت کم ہوتی ہے یہ چاشت کے وقت اور اس کے تھوڑا وقت بعد ہوتا ہے ‘ یہ سورج کے طلوع ہونے اور زوال کے درمیان کا وقت ہوتا ہے ‘ یہ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : لوگوں میں سے اس سے کچھ تھوڑا پہلے نماز پڑھتے ہیں کیونکہ انہیں جلدی ہوتی ہے کیونکہ انہیں کوئی مصروفیت ہوتی ہے پس اس وجہ سے عمل میں کچھ واقع ہوجائے گی کیونکہ وہ ممنوع وقت میں نماز پڑھتا ہے اور وہ ایسا بھی کرتا ہے جو اس کے خلاف چلا جاتا ہے وہ اس کے حق نہیں ہوتا۔ مسئلہ نمبر -4 امام ترمذی نے حضرت انس بن مالک ؓ سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : من صلی الضحی ثنتی عشرۃ رکعۃ بنی اللہ لہ قصرا من ذھب فی الجنۃ (1) جو چاشت کے بارہ نوافل پڑھے اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لئے سونے کا ایک محل بنا دے گا۔ کہا یہ حدیث غریب ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوذر ؓ سے مروی ہے کہ ” تمہاری ہڈیوں میں سے چھوٹی ہڈی پر صدقہ ہے پس ہر تسبیح) سبحان اللہ ( صدق ہے ہر تہلیل) لا الہ الا اللہ ( صدق ہے ہر تکبیر) اللہ اکبر ( صدقہ ہے نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے نہی عن المنکر صدقہ ہے دو رکعتیں ان کے قائم مقام ہوجاتی ہیں جو آدمی چاشت کے وقت پڑھتا ہے “ (2) ۔ ترمذی نے کہا : حضرت ابوہریرہ ؓ ‘ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس نے چاشت کے دو نفلوں میں مواظہت اختیار کی تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ جتنے ہوں “ (3) ۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے : ” میرے خلیل نے مجھے تین چیزوں کی وصیت کی ‘ میں اپنی موت تک انہیں نہیں چھوڑوں گا ہر ماہ تین روزے ‘ چاشت کی نماز اور وتر پڑھ کر سونا “ (4) الفاظ بخاری کے ہیں۔ امام مسلم نے یہ روایت کیا ہے : چاشت کے دو نفل ہیں۔ انہوں نے حضرت ابو وراداء سے روایت نقل کی ہے جس طر امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے۔ یہ سب بحث اس پر دلالت کرتی ہے کہ چاشت کی نماز کم سے کم رکعتیں دو ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ سلامی کا اصل معنی انگلیوں ‘ ہتھیلیوں اور پائوں کی ہڈیاں ہیں پھر اس کا استعمال جسم کی تمام ہڈیوں اور جوڑوں میں ہونے لگا۔ حضرت عائشہ صدیقیہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بنی آدم میں ہر انسان تین سو ساٹھ جوروں پر پیدا کیا گیا ہے جس نے اللہ اکبر ‘ الحمد للہ ‘ لا الہ الا اللہ ‘ سبحان اللہ ‘ استغفر اللہ کہا ‘ راستہ سے کوئی پتھر ‘ کوئی کانٹا یا رستہ سے کوئی ہڈی ہٹائی ‘ نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا اس نے یہ عمل تین سو ساٹھ کی تعداد کے برابر کیا تو وہ اس روز چلے گا جب کہ اس نے اپنے آپ کو آگ سے محفوظ کرلیا ہوگا (1) “ ابو توبہ نے کہا : بعض اوقات یمشی کا لفظ زکر کیا۔ امام مسلم نے اسی طرح نقل کیا ہے ان کے قول ہے ویجزی من ذلک رکعتان یعنی ان اعضاء کی جانب سے ان صدقات کے لئے دو رکعتیں کافی ہوجائیں گی اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز ایک ایسا عمل ہے جس کو جسم کے تمام اعضاء کے ساتھ کیا جاتا ہے جب وہ نماز پڑھتتا ہے تو جس کا ہر عضو وہ فریضہ سرانجام دیتا ہے جو اس پر لازم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
Top