Al-Qurtubi - Saad : 19
وَ الطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً١ؕ كُلٌّ لَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَالطَّيْرَ : اور پرندے مَحْشُوْرَةً ۭ : اکٹھے کیے ہوئے كُلٌّ : سب لَّهٗٓ : اس کی طرف اَوَّابٌ : رجوع کرنے والے
اور پرندوں کو بھی کہ جمع رہتے تھے سب ان کے فرمانبردار تھے
19 ۔ 20:۔ والطیر محشورۃ اس کا عطف الجبال پر ہے۔ فراء نے کہا : اگر اسے والطیر محشورۃ پڑھا جائے تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ یہاں فعل ظاہر نہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) جب تسبیح کرتے تو پہاڑ انہیں جواب دیتے اور پرندے ان کے پاس جمع ہوجاتے اور ان کے ساتھ تسبیح کہتے ‘ ان کا آپ کا پاس جمع ہونا ہی ان کا حشر ہے معنی کہ ہم نے پرندوں کو مسخر کیا کہ وہ آپ کے پاس جمع ہوتے تاکہ وہ آپ کے ساتھ ملک کر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ہم نے ہوا کو مسخر کیا تاکہ پرندے ان کے پاس جمع ہوں تاکہ آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کریں یا ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ پرندوں کو جمع کریں ہر ایک حضرت دائود (علیہ السلام) کا تابعدار تھا یعنی ان کے پاس آتا اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا : لہ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے ہے و شددنا ملکہ یعنی ہم نے اسے قوی کیا یہاں تک کہ وہ پختہ ہوگیا ایک قول یہ کیا گیا ہے ہم نے ہیبت اور دلوں میں رعب ڈال کر ان کی حکومت کو پختہ کیا (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : لشکروں کی زیادتی کے ساتھ ہم نے اس کے ملک کو پختہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : تائید اور نصرف کے ساتھ ہم نے اس کے ملک کو مضبوط کیا ‘ یہ ابن عربی کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ’ حضرت دائود (علیہ السلام) شان و شوکت کے اعتبار سے سب سے قوی بادشاہ تھے ہر رات ان کی عبادت گاہ کی تیس ہزار سے اوپر لوگ نگہبانی کیا کرتے تھے جب آپ صبح کرتے تو کہا جاتا واپس چلو تم سے اللہ کا نبی راضیی ہے۔ ملک کا معنی ملکت کی زیادتی ہے آدمی کی ملکیت ہوتی ہے مگر اس وقت ملک نہیں ہوتا یہاں تک کہ ان کی مملوکہ چیزیں کثیر نہ ہوجائیں اگر ایک آدمی گھر اور بیوی کا مالک ہوجائے تو وہ اس وقت تک ملک نہیں کہلاتا یہاں تک کہ اس کے پاس خادم ہو جو منافع میں تصرف کی ذمہ داری کو کافی ہو جس کا ایک انسان محتاج ہوا کرتا ہے یہ معنی سورة براء میں گزر چکا ہے اور ملک کی حقیقت سورة نمل میں گذر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر -1 اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اتینہ الحکمۃ حکومت سے مراد نبوت ہے (1) ‘ یہ سدی کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد عدل ہے۔ ابو عالیہ نے کہا : اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی کتاب کا علم ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد سنت ہے۔ شریح نے کہا : اس سے مراد علم اور فقہ ہے۔ و فصل الخطاب ابو عبدالرحمن سلمی اور قتادہ نے کہا : قضاء میں فیصلہ ہے ‘ یہ حضرت ابن مسعود ‘ حضرت حسن بصری ‘ کلبی اور مقاتل کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مراد بیان کلام ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب نے کہا : اس سے مراد یہ ارشاد ہے البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر شریح ‘ قتادہ اور شعبی کا قول ہے : ابوموسی اشعری اور شعبی نے کہا یہ ان کا قول اما بعد ہے۔ سب سے پہلے حضرت دائود (علیہ السلام) نے اما بعد کا کلمہ استعمال کیا تھا ایک قول یہ کیا گیا ہے : و فصل الخطاب سے مراد حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا بیان ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد کثیر معانی کا قلیل الفاظ میں سمو دینا ہے۔ ان اقوال کے معنی قریب قریب ہیں۔ حضرت علی شیر خدا کا قول اس کو جامع ہے کیونکہ فیصلہ کا وار و مداراسی پر ہوتا ہے ‘ حضرت ابو موسیٰ اشعری کا قول اس سے مختلف ہے۔ مسئلہ نمبر -2 قاصی ابوبکر بن عربی نے کہا : جہاں تک علم قضا کا تعلق ہے (2) تیرے معبود کی قسم ! یہ علم کی ایک انوکھی قسم ہے اور اس کی مٔوکد فصل ہے ‘ یہ احکام کی معرف اور حلال و حرام کی بصیرت سے الگ ہے حدیث طبیہ میں ہے اقضا کم علی و اعلمکم بالحلال والحرام معاذ بن جبل (3) تم میں سب سے بہتر فیصلہ کرنے والے حضرت علی ہیں اور تم میں سے سب سے زیادہ حلال و حرام کے مسائل جاننے والے حضرت معاذ بن جبل ؓ ہیں۔ بعض اوقات ایک آدمی افعال کے احکام کو جانتا ہے حلال و حرام کو پہچانتا ہے وہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن بھیجا کچھ لوگوں نے شیر کو شکار کرنے کے لئے ایک گرھا کھودا اس سے میں شیر گر پڑا لوگ اس گڑھے پر اکٹھے ہوگئے اس گرھے میں ایک آدمی گرا وہ ایک اور آدمی کے ساتھ چمٹ گیا یہاں تک کہ وہ کل چار آدمی ہوگئے شیر نے انہیں زخمی کردیا تو وہ ہلاک ہوگئے لوگوں نے اسلحہ تھام لیا قریب تھا کہ ان کے درمیان جنگ ہوجاتی فرمایا : میں ان کے پاس آیا اور میں نے کہا : کیا تم چار آدمیوں کی وجہ سے دو سو آدمیوں کو قتل کرتے ہو آئو میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اگر تم اس پر راضی ہو تو وہ تمہارے درمیان فیصلہ ہوگا اگر تم وہ فیصلہ ماننے سے انکار کردو تو تم وہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کی بار گارہ میں پیش کردینا آپ ﷺ فیصلہ کرنے کے زیادہ حقدار ہیں ‘ حضرت علی شیر خدا نے پہلے لئے چوتھائی ویت ‘ دوسرے کے لئے ایک تہائی ویت ‘ تیسرے کے لئے نصف ویت اور چوتھے کے لئے پوری ویت کا فیصلہ کیا اور تمام دیتیں ان افراد پر لازم کردیں جنہوں نے وہ گڑھا کھودا تھا اور اسے ان چار قبائل پر تقسیم کردیا کچھ لوگ راضی ہوگئے اور کچھ لوگ ناراض ہوگئے پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام واقعات بیان کئے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہارے درمیان فیصلہ کروں گا ایک آدمی نے عرض کی : حضرت علی شیر خدا نے ہمارے درمیان ایک فیصلہ کیا ہے ‘ حضرت علی شیر خدا نے جو فیصلہ کیا تھا اسے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : فیصلہ تو وہی ہے جو حضرت شیر خدا ؓ نے کیا ہے “ ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی شیر خدا کا فیصلہ نافذ کردیا۔ اسی طرح المعرفۃ بالقضاء میں ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ کے پاس ایک آدمی آیا عرض کی ابن ابی لیلی جو کوفہ کے قاضي تھے نے ایک مجنونہ عورت کو دو حدین جاری کرتے ہوئے کوڑے مارے جس نے ایک آدمی کو کہا : اے دو بدکاری کرنے والوں کے بیٹے جب کہ وہ عورت کھڑی تھی حضرت امام ابوحنیفہ نے فرمایا : اس نے چھ وجوہ سے غلطی کی ہے۔ ابن عربی نے کہا : امام ابوحنیفہ نے یہ قول بد یہی طور پر کردیا علماء کے علاوہ کوئی آدمی روایت کو نہیں جانتا۔ جہاں تک حضرت علی شیر خدا کے فیصلہ کا تعلق ہے اس کو تھوڑا علم رکھنے والا نہیں جان سکتا اور احکام میں تجربہ رکھنے والا اس کا ادراک نہیں کرسکتا مگر وہ جو طویل عرصہ تک اس پر اپنی توجہات کو مرکوز کیے ہوئے ہو۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ جو چار مقتول ہیں خطا قتل ہوئے کیونکہ جو لوگ وہاں حاضر تھے ان میں دھکم پیل ہوئی اور جن لوگوں نے اس گڑھ کو کھودا ان پر ان مرنے والوں کی ویت خطا لازم ہوگئی مگر جو پہلا ہے دھکم پیل کی وجہ سے مقتول ہے جس نے تین دوسرے افراد کو کھینچتے ہوئے قتل کیا اس کے لئے قتل ہونے کی وجہ سے دیت ہوگی اور اس پر تین چوتھائی دیت لازم ہوگئی ان افراد کی جن کو اس نے کھینچ کر قتل کیا ہے جہاں تک دوسرے کا تعلق ہے اس کے لئے ایک تہائی دیت ہوگئی اور اس پر ان دو افراد کی دو تہائی دیت لازم ہوگی جن دو کو اس نے کھنچ کر قتل کیا۔۔ جہاں تک تیسرے کا تعلق ہے اس کے لئے نصف دیت ہوگی اور اس پر بھی نصف دیت ہوگی کیونکہ اس نے ایک آدمی کو کھینچ کر قتل کیا تھا اس طرح ان میں تقسیم ہوگی اور عاقلہ جاری قصاص کے بعد اس طرح چٹی بھریں گے یہ بہت عمدہ استنباط ہے۔ جہاں تک امام ابوحنیفہ کا تعلقہ ہے تو آپ نے متعلقہ اسباب کو دیکھا تو آپ نے غلطی کی چھ وجود کو دیکھا۔ (1) مجنونن پر کوئی حد نہیں ہوتی کیونکہ جنون احکام کے مکلف ہونے کے حکم کو ساقط کردیتا ہے یہ اس وقت ہوتا جب تہمت جنون کی حالت میں ہو لگائی ہو جہاں تک اس آدمی کا تعلق ہے جسے وقت جنون لاحق ہوتا ہو اور کسی وقت افاقہ ہوتا ہو تو اسے افاقہ کی حالت میں حد قذف لگائی جائے گی۔ (2) اس کا قول : اے دو بدکاروں کے بیٹے ! تو اس کے کوڑے دو حدوں کی صورت میں لگنے چاہئیں تھے ہر ایک کی وجہ سے ایک حد جاری ہوتی تھی ‘ امام ابوحنیفہ نے اپنے مذہب کے مطابق اسے غلط قرار دیا ہے کیونکہ حد قذف میں تداخل وقع ہوتا ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے جس طرح شراب اور بدکاری کی حد ہے جہاں تک امام شافعی اور امام مالک کا تعلق ہے دونوں کی رائے یہ ہے کہ حدقذف یہ بندے کا حق ہے اس وجہ سے جب وہ افراد متعداد ہیں جن پر تحمت لگائی گئی ہے تو حدین بھی متعدد ہونگی۔ (3) قاضی نے مقذف کے مطالبہ کے بغیر حد لگائی ہے اور امت کا اجماع ہے کہ حد قذف مطالبہ کے بعد ہی جائز ہے خواہ وہ یہ کہتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور جو یہ کہتا ہے کہ یہ بندے کا حق ہے اس تعبیر کی بنا پر یہ دلیل قائم ہوجاتی ہے کہ جو یہ خیال کرتا ہے کہ یہ بندے کا حق ہے اگر یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہوتا تو مطالبہ پر موقوف نہ ہوگی جس طرح کہ حد زنا ہے۔ (4) اس نے پے در پے دو حدیں جاری کیں جب کہ جس پر حدیں واجب ہوں انہیں پے در پے جاری نہیں کیا جاتا بلکہ ایک حد جاری کی جاتی ہے پھر اسے چھوڑ دیا جاتا ہے یہاں تک کہ زخم مندمل ہوجائیں پھر اس پر دوسری حد جاری کی جائے گی۔ (5) اس نے عورت پر حد جاری کی ہے جب کہ وہ کھڑی تھی جب کہ عورت پر حد اس وقت جاری کی جاتی ہے جب کہ وہ بیٹھی ہوئی ہو اور پردے میں ہو۔ (6) اس نے مسجد میں حد جاری کی ہے جب کہ مسجد میں حد جاری نہ کی جاتیجب کہ اس پر اجماع ہے کہ حدود مسجد میں و جاری نہیں کی جاتیں۔ مسجد میں فیصلہ کرنے اور تعزیر کرنے میں اختلاف ہے۔ قاضی نے کہا : یہی مفصل خطاب اور علم قضاء ہے حدیث اقضاکم علی کی جو تاویلیں کی گئی ہیں ان میں سے ایک تاویل کی بنا پر اسی علم کی طرف اشارہ ہے جس نے کہا : اس سے مراد یجاز ہے۔ تو وہ عربوں کے لئے ہے عجمیوں کے لئے نہیں ہوگا اسی طرح ایجاز سرور عالم ﷺ کے لئے ہوگا دوسرے عربوں کے لئے نہ ہوگا نبی کریم ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں وضاحت کی ہے : و ارتیت جو امع الکلم (1) مجھے جوامع کلم سے نوازا گیا۔ جس نے کہا : اس سے مراد ما بعد ہے تو نبی کریم ﷺ اپنے خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں : اما بعد یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ دور جاہلیت میں سب سے پہلے جس آدمی نے یہ لفظ استعمال کیا وہ سحبان بن وائل تھا یہی وہ پہلا شخص ہے جو بعث بعد الموت پر ایمان لایا تھا اور وہی پہلا شخص ہے جس نے عصا پر ٹیک لگائی تھی اور اس کی عمر ایک سو اسی سال ہوئی اگر یہ درست ہو کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے یہ کہا تھا تو وہ عربی زبان میں نہیں ہوگا بلکہ وہ ان کی اپنی زبان میں ہوگا۔
Top