Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Al-Qurtubi - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ
: اور کیا
اَتٰىكَ
: آپ کے پاس آئی (پہنچی)
نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ
: خبر جھگڑنے والے
اِذْ
: جب
تَسَوَّرُوا
: وہ دیوار پھاند کر آئے
الْمِحْرَابَ
: محراب (مسجد)
بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں داخل ہوئے
21
۔
25
:۔ اس میں چوبیس مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر -
1
خصم کا لفظ ایک ‘ دو اور جماعت پر واقع ہوتا ہے (
1
) کیونکہ اصل میں یہ مصدر ہے۔ شاعر نے کہا : و خصیم غضاب ینفضون لحاھم کنفض البراذین العراب المخالیا وہ غصیلے دشمن ہیں وہ اپنی داڑھیوں کو یوں جھاڑتے ہیں جس طرح ترکی و عربی گھوڑے تو بروں کو جھاڑتے ہیں۔ نحاس نے کہا : اہل تفسیر میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہاں خصم سے مراد دو فرشتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : تسوروا یہ لفظ خصم پر محمول کرتے ہوئے جمع کا صیغہ ذکر کیا ہے اگرچہ جھگڑا کرنے والے دو تھے کیونکہ یہ جمع کے لفظ کے ساتھ ہے اور اس کے مشابہ ہے جس طرح الرکب اور الصحب ہے۔ اس کی تقدیر پر دو کے لئے ذواخصم ہوگی اور جماعت کے لئے ذودخصم ہوگی۔ تسوراوالمحراب اور وہ دیوار کے اوپر سے ان کے پاس آئے یہ جملہ بولا جاتا ہے : تسور الحائط وہ اس پر چرھا السور شہر کی فصیل کو کہتے ہی یہ ہمزہ کے بغیر ہوتی ہے اسی طرح السور ہے یہ سورة کی جمع ہے جس طرح بسرۃ کی جمع بسر آتی ہے یہ تعمیر کی ہر منزل کو کہتے ہیں اسی سے سورة القرآن ہے کیونکہ یہ بھی ایک منزل کے بعد دوسری منزل ہوتی ہے جو دوسری سے الگ ہوتی ہے اس کی وضاحت کتاب کے مقدمہ میں گذر چکی ہے۔ نابغہ کا قول ہے : الم ترا ان اللہ اعطاک سورة تری کل ملک دونھا یتذبذب کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے مرتبہ عطا کیا ہے تو ہر بادشاہ کو اس مرتبہ سے نیچے متذبذب دیکھے گا۔ اس شعر میں سورة سے مراد شرف اور منزلت ہے۔ جہاں تک اس سٔورہ کا تعلق ہے جو ہمزہ کے ساتھ ہے اس سے مراد برتن میں بچا کچا کھانا ہے۔ اب عربی نے کہا : فارسی زبان میں سٔور سے مراد ولیمہ ہے حدیث طیبہ میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ احزاب کے موقع پر کہا تھا : ان جابر اقدصنع لکم سٔور افحی ہلابکم (
1
) ۔ یہاں محراب سے مراد کمرہ ہے کیونکہ وہ کمرہ میں ہی ان کے پاس ائے تھے ‘ یہی یحییٰ بن سلام کا قول ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : اس سے مراد صدر مجلس ہے ‘ اس معنی میں مسجد کا محراب ہوتا ہے۔ یہ بحث کئی مواقع پر گذر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر -
2
اذدخلوا علی دائود یہاں اذ دو دفعہ آیا ہے کیونکہ یہ دونوں فعل ہیں۔ فراء نے گمان کیا ہے کہ ان دونوں میں سے ایک لما کے معنی میں ہے دوسرا قول یہ ہے کہ دوسرا اذا اپنے مابعد سے مل کر اپنے ماقبل کا بیان ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ دونوں انسان تھے ‘ یہ نقاشی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ دو فرشتے تھے ‘ یہ ایک جماعت کا قول ہے۔ ایک جماعت نے ان دونوں کو معین کیا ہے انہوں نے کہا : وہ حضرت جبریل اور حضرت میکائیل (علیہما السلام) ہیں۔ ایک قول کیا گیا ہے : وہ دو فرشتے تھے جو دو انسانوں کی صورت میں تھے اللہ تعالیٰ نے دونوں ‘ حضرت دائود (علیہ السلام) کی عبادت کے روز ‘ ان کے پاس بھیجے تھے نگہبانوں نے اندر جانے سے انہیں روکا تھا تو وہ دیوار کے اوپر سے ان کے پاس حاضر ہوگئے جب کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کو محسوس تک نہ ہوا کیونکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے وہ دونوں ان کے سامنے بیٹھ گئے اللہ تعالیٰ کا فرمان : و ھل اتک بنوا الخصم اذ تسورو المجراب۔ کا بھی یہی مطلب ہے یعنی وہ اوپر چڑھے اور عبادت والے کمرے کے اوپر سے نیچے اترے ‘ یہ سفیان ثوری اور دوسرے علماء نے کہا۔ اس کا سبب وہ ہی جو حضرت ابنعباس ؓ نے بیان کیا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپنے دل میں سوچا کہ وہ اپنا بچائو کرلیں گے اگر انہیں آزمائش میں ڈالا گیا تو انہیں کہا گیا : تجھے آزمایا جائے گا تو اس دن کو بھی جان لے گا جس نے تجھے آزمایا جانا ہے تو اپنی احتیاط کرلینا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے زبور لی ‘ عبادت گاہ میں داخل ہوئے اور کسی کو بھی اندر داخل ہونے سے منع کردیا اسی اثنا میں وہ زبور پڑھ رہے تھے کہ ان کے پاس ایک پرندہ آیا جو پرندوں میں سے حسین ترین تھا وہ پرندہ آہستہ آہستہ قریب ہونے لگا حضرت دائود (علیہ السلام) نے ارادہ کیا کہ وہ اس پرندے کو پکڑ لیں وہ مزید آگے ہوا یہاں تک کہ وہ عبادت گاہ کے روشن دان میں جا گرا حضرت دائود (علیہ السلام) اس کے قریب ہوئے تاکہ اسے پکڑ لیں تو وہ اڑ گیا آپ جھانکے تاکہ اس پرندے کو دیکھیں تو آپ کی نظر ایک عورت پر جا پڑی جو غسل کر رہی تھی جب عورت نے حضرت (علیہ السلام) کو دیکھا تو اپنے جسم کو اپنے بالوں سے ڈھانپ لیا۔ سدی نے کہا : وہ عورت آپ کے دل میں گھر کرگئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کا خاوند اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا غازی تھا جس کا نام اور یا بن حنان تھا حضرت دائود (علیہ السلام) نے مجاہدین کے امیر کو خط لکھا کہ وہ اس کے خاوند کو تابوت اٹھانے ولاوں میں معین کرے تابو اٹھانے والوں کو یا تو اللہ تعالیٰ فتح عطا کرتا ہے یا وہ قتل ہوجاتے ہیں امیر نے اسے آگے رکھا تو وہ قتل ہوگیا جب اس عورت کی عدت ختم ہوگئی تو حضرت دائود (علیہ السلام) نے اسے دعوت نکاح دی ‘ اس عورت نے یہ شرط لگائی : اگر اس کا لڑکا ہوا تو وہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے بعد ان کا خلیفہ ہوگا اس نے اس بارے میں باقاعدہ تحریر لکھی اور بنی اسرائیل کے پچاس آدمیوں کو گواہ بنایا تھوڑا وقت بھی نہ گزرا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی اور وہ جوان ہوگئے اور دو فرشتے دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے ان دنوں کا وہی واقعہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے ‘ ماوردی اور دوسرے علماء نے اسے ذکر کیا وہ صحیح (
1
) نہیں۔ ابن عربی نے کہا : جو کچھ اس بارے میں زکر کیا گیا ہے اس میں سے یہ مناسب ترین ہے۔ میں کہتا ہوں ترمذی حکیم نے نو ادر الاصول میں اس کی ہم معنی مرفوع روایت نقل کی ہے وہ یزید رقاشی سے مروی ہے کہ اس نے حضرت انس بن مالک کو کہتے ہوئے سنا کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے جب اس عورت کو دیکھا اور اس سے محبت کرنے لگے تو آپ نے بنی اسرائیل کو ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا اور امیر لشکر کو حکم دیا جب دشمن حاضر ہوا تو فلاں کو دشمن کے قریب معین کرنا اس آدمی کا نام بھیجا امیر نے اسے تابوت کے قریب معین کیا (
2
) ۔ اس زمانہ میں تابوت کے ذریعے نصرت طلب کی جاتی تھی جسے تابوت کے سامنے رکھا جاتا تو وہ واپس نہیں لوٹتا تھا یہاں تک کہ وہ قتل ہوجائے یا وہ لشکر شکست کھا جائے جس سے وہ برسرپیکار ہے اس آدمی کو آگے رکھا گیا تو اس عورت کا خاوند قتل ہوگیا تو وہ دو فرشتے حضرت دائود (علیہ السلام) کے پاس آئے اور تمام واقعہ بیان کیا۔ سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے کہ اس عورت کے خاوند کی طرف خط لکھا جب کہ وہ بلقاء شہر کے قلعہ میں تھا کہ وہ دروازے کا حلقہ پکڑے اس میں موت احمر تھی وہ آ گے بڑھا اور قتل ہوگیا۔ ثعلبی نے کہا علماء کی ایک جماعت نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کا امتحان ایک خطا کے ساتھ لیا کیونکہ ایک روز حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپنے رب کی بارگاہ میں حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) کے مقام و مرتبہ کی تمنا کی عرض کی : اے میرے رب ! سب بھلائی میرے آبائو اجداد لے گئے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی انہیں ایسے امتحان میں ڈالا گیا جیسے امتحان میں کسی اور کو نہ ڈالا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نمبرود ‘ آگ اور اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی صورت میں لیاگ یا حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا امتحان ذبح ہونے کی صورت میں لیا گیا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا امتحان حضرت یوسف (علیہ السلام) پر غم اور بینائی چلی جانے کی صورت میں لیا گیا تمہارا تو ان میں سے کسی چیز کے ساتھ امتحان نہیں لیا گیا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے عرض کی : میرا بھی امتحان لے جس طرح ان کے امتحان لیا اور مجے بھی وہ مقام عطا کر جو تو نے انہیں مقام عطا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کی وحی کی : تیرا فلاں مہنہ میں جمعہ کے روز امتحان ہوگا جب وہ دن آیا تو آپ عبادت گاہ میں چلے گئے دروازہ بند کرلیا تماز پڑھنے لگے اور زبور کی تلاوت کرنے لگے اسی اثنا میں کہ آپ یہ کام کر رہے تھے کہ شیطان نے ان کے لئے سونے کی کبوتری کی صورت اختیار کی اس میں ہر قسم کا خوبصورت رنگ موجود تھا وہ آپ کے قدموں کے ساتھ ٹھہر گئی آپ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ اسے پکڑ لیں اور اور اپنے چھوٹے بیٹے کو دے دیں وہ تھوڑی دور چلی گئی حضراتے (علیہ السلام) اس کے پیچھے ہوئے وہ اڑی یہاں تک کہ وہ روشن دان میں جا گری حضرت دائود (علیہ السلام) آگے بڑھے تاکہ اسے پکڑیں تو وہ اڑ گئی حضرت دائود (علیہ السلام) کی نظر اس کے پیچھے بلند ہو رہی تھی تاکہ اس کے پیچھے کسی کو بھیجیں جو اسے پکڑ لے تو اس نے ایک تالاب کے کنارے ایک عورت کو غسل کرتے ہوئے دیکھا ‘ یہ کلبی کا قول ہے۔ سدی نے کہا : وہ عورت چھت پر بےلباس غسل کر رہی تھی تو حضرت دائود (علیہ السلام) نے اسے بہت خوبصورت پایا اس عورت نے آپ کا سایہ دیکھا تو اس نے اپنے بالوں کو جھاڑا تو اپنے بدن کو ڈھانپ لیا تو حضرت دائود (علیہ السلام) کو اور بھی بھلا لگا اس عورت کا خاوند اور یا بن حنان تھا جو ایوب بن صوریا کے ساتھ جنگ میں شامل تھا حضرت ایوب حضرت دائود (علیہ السلام) کے بھانجے تھے ‘ حضرت (علیہ السلام) نے حضرت ایوب کی طرف خط لکھا کہ اوریا کو فلاں فلاں جگہ متعین کرے ایوب نے اسے تابوت کے سامنے متعین کردیا۔ جس آدمی کو تابوت کے سامنے متعین کیا جاتا اس کے لئے حلال نہیں ہوتا تھا کہ وہ پیچھے ہٹے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فتح دے دے یا شہید ہوجائے۔ ایوب نے اسے آگے رکھا تو اسے فتح نصیب ہوئی تو ایوب نے حضرت دائود (علیہ السلام) کو تمام حالات لکھ بھیجے۔ کلبی نے کہا : اور یا حضرت درئود علیہ لسلام کے زمانہ میں زمین میں اللہ تعالیٰ کی تلور تھے جب وہ کوئی وار کرتے اور اللہ اکبر کہتے تو حضرت جبریل ان کی دائیں جانب اور حضرت میکائیں ان کی بائیں جانب اللہ اکبر کہتے اور اس کی تکبیر کی وجہ سے آسمان کے فرشتے بھی اللہ اکبر کہتے یہاں تک کہ یہ سلسلہ عرش تک جا پہنچتا عرش کے فرشتے اس کی تکبر سے اللہ اکبر کہتے اللہ تعالیٰ کی تلواریں تین تھیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں کالب بن یوفنا ‘ حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانہ میں اور یا اور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں حضرت حمزہ ؓ ۔ جب ایوب نے حضرت دائود (علیہ السلام) کو خط لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اور یا کے ہاتھ پر فتح نصیب فرمائی ہے تو حضرت دائود (علیہ السلام) نے ایوب کو خط لکھا کہ اس فلاں لشکر میں بھیج دو اور تابوت کے آگے متعین کرو اللہ تعالیٰ نے اس مہم میں بھی آپ کو فتح عطا فرمائی اور ترسلی دفعہ وہ شہید ہوگیا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اس کی بیوی سے عدت ختم ہونے کے بعد شادی کرلی یہی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی والدہ تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے امتحان کا سبب یہ تھا کہ انیوں نے دل میں سوچا کہ وہ ایک دن بغیر کوئی چیز کھائے گزار سکتے ہیں۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپنے وقت کو چار حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا ‘ ایک حصہ عورتوں کے لئے ‘ ایک حصہ عبادت کے لئے ‘ ایک حصہ بنی اسرائیل کے لئے وہ آپ کے ساتھ مذاکرہ کرتے اور آپ ان کے ساتھ مذاکرہ کرتے وہ آپ کو رلاتے اور آپ ان کو رلاتے تھے اور ایک فیصلہ کے لئے۔ نبی اسرائیل نے آپ سے گفتگو کی : کیا انسان پر کوئی ایسا دن بھی گزر سکتا ہے جس میں کوئی گناہ نہ کرے حضرت دائود (علیہ السلام) نے دل میں خیال کیا کہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں آپ نے عبادت والے دن دروازہ بند کرلیا اور حکم دیا کہ آج ان کی خدمت میں کوئی حاضر نہ ہو آپ نے زبور کی تلاوت میں اپنی توجہات مذکور کرلیں تو سونے کی ایک چڑیا آپ کے سامنے گری اور اسی طرح واقعہ زکر کیا جو پہلے مذکور ہوچکا ہے ہمارے علماء نے کہا ہے : اس میں یہ دلیل ہے (
2
) کہ حاکم پر کوئی لازم نہیں کہ ہر روز وہ لوگوں کے لئے متعین کرے اور انسان کے لئے یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ اپنی بیویوں سے وطی کرنا ترک کرے اگرچہ وہ عبادت میں مشغول ہو۔ سورة النساء یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ کعب الاحبار نے حضرت عمر ؓ کے زمانے میں آپ کی موجدگی میں اسی امر کا فیصلہ کیا نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے فرمایا : لزوجک علیک حقا بیشک بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔ حضرت حسن بصری اور مجاہد نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے کہا جب انہیں خلیفہ بنایا گیا اللہ کی قسم ! میں تمہارے درمیان عدل کروں گا اور انشاء اللہ نہ کہا تو اس وجہ سے آپ کو آزمائۃ ش میں ڈالا گیا۔ ابوبکر وراق نے کہا حضرت دائود (علیہ السلام) بہت زیادہ عبادت کیا کرتے تھے اس وجہ سے انہوں نے اپنے آپ پر عجب کا اظہار کیا اور کہا : کیا زمین میں کوئی ایسا بھی ہے جو مجھ جیسا عمل کرتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جبریل امین کو ان کی طرف بھیجا فرمایا اللہ تعالیٰ تجھے فرماتا ہے : تو نے اپنی عبادت پر عجب کا اظہار کیا ہے عجب عبادت کو یوں کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکری کو کھا جاتی ہے اگر تو نے دوبارہ عجب کا اظہار کیا تو میں تجھے تیرے نفس کے حوالے کر دوں گا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے عرض کی اع میرے رب ! ایک سال تک مجھے مجھے میرے نفس کے حوالے کر دے فرمایا : یہ تو بہت زیادہ عرصہ ہے۔ عرض کی ایک مہینہ تک مجھے میرے نفس کے حوالے کر دیجئے فرمایا یہ بھی زیادہ عرصہ ہے عرض کی : ایک دن۔ فرمایا یہ بھی زیادہ ہے عرض کی : یا رب مجھے ایک ساعت کے لئے میرے نفس کے حوالے کر دیجئے فرمایا ایک سعات کے لئے تیرا نفس تیرے حوالے ہے۔ آپ نے معاملہ نگہبانوں کے حوالے کردیا خود اون کا لباس پہنا اور عباد گاہ میں داخل ہوگئے زبور اپنے ساتھ رکھ لی اسی اثناء میں کہ وہ عبادت میں مصروف تھے کہ ایک پندرہ آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا تو عورت کا واقعہ ہوا جو ہوا۔ سفیان ثوری نے کہا : ایک روز حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور التجا کی اے میرے رب ! کوئی دن ایسا نہیں ہوتا مگر دائود کے خاندان میں سے کوئی فرد روزے سے ہوتا ہے اور کوئی رات نہیں ہوتی مگر آل دائود میں سے کوئی تیرے حضور قیام کی حالت میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی : اے دائود ! یہ تیری وجہ سے ہے یا میری وجہ سے ہے میری عزت کی قسم ! میں ضرور تیرے نفس کے حوالے کردوں گا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے عرض کی : اے میرے رب ! مجھے معاف فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں ایک سال تک کیلئے تجھے تیرے نفس کے حوالے کردیتا ہوں عرض کی : نہیں تیری عزت کی قسم ! فرمایا ایک ماہ۔ عرض کی نہیں تیری عزت کی قسم ! فرمایا ایک ہفتہ عرض کی نہیں تیری عزت کی قسم ! فرمایا ایک دن عرض کی نہیں تیری عزت کی قسم ! ایک گھنٹہ ‘ عرض کی نہیں تیری عزت کی قسم ! فرمایا ایک لحظہ ‘ شیطان نے کہا : ایک لحظہ کی کیا حیثیت ہے ؟ عرض کی : ایک لحفظہ کے لئے مجھے میرے نفس کے حوالے کر دیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک لحفظہ کے اسے اس کے نفس کے سپرد کردیا اسے کہا گیا : فلاں دن فلاں وقت میں جب وہ دن آیا تو آپ نے وہ دن عبادت کیلئے خاص کردیا ‘ آپ نے نگہبانوں کو اس مکان کے اردگرد معین کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ان کی تعداد چار ہزار تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ تیس ہزار تھے۔ اپنے رب کی عبادت کے لئے خلوت گذیں ہوگئے اور اپنے سامنے زبور کو پھیلا دیا ایک کبوتری آئی اور آپ پر آ گری تو اس لمحہ اس عورت کا معاملہ ہوا جو ہوا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ولادت کے بعد اللہ تعالیٰ نے دو فرشتے ان کی طرف بھیجے ان دونوں نے انبیاء کی مثال پیش کی جب مثال کو سنا تو اپنی خطا یاد آئی حتی کہ چالیس راتوں تک سجدہ ریز رہے جس کا ذکر بعد میں آنے والا ہے۔ مسئلہ نمبر -
3
ففزع منھم آپ ان سے گھبرا گئے کیو کہ دونوں رات کے وقت اس وقت داخل ہوئے جس وقت جھگڑے والے لوگ داخل نہیں ہوتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے آپ اس لئے گھبرائے تھے کیونکہ وہ بغیر اجازت کے داخل ہوئے تھے ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیونکہ وہ عبادت گاہ میں ہے حضرت دائود (علیہ السلام) کی خدمت میں دیوار پھلانگ کر آئے تھے وہ دروازے سے داخل نہ ہوئے تھے۔ ابن عربی نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) کا عبادت خانہ اوپر چڑھ کر داخلہونے سے محفوظ تھا کیونکہ آدمی کسی حیلہ سے اوپر نہیں چڑھ سکتا تھا مگر اس صورت میں کہ وہ کئی دنوں یا کئی مہینوں تک اس کے لئے تگ و دو کرتا جب کہ اس کے ساتھ کئی مددگار بھی ہوں اور مختلف انواع کے آلات ہوں۔ اگر ہم کہیں کہ وہ محراب کے درازے سے اس تک پہنچے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں دینے کے لئے یہ ارشاد نہ فرماتا تسور وو المحراب کیونکہ جو آدی سیڑھی کی جانب سے اور نیچے کیجانب سے اوپر آئے تو اس کے لئے تسور المحراب والفرفۃ کا لفظ استعمال نہیں کرتے مگر بطور مجاز ایسا کہا جاسکتا ہے جب تو روشن دان کو دیکھنے جس سے دو جھگڑا کرنے والے داخل ہوں تو تجھے قطعی طور پر علم ہوجائیے گا کہ وہ دونوں فرشتے ہیں کیونکہ وہ بلند ہوتا ہے اور وہاں تک کوئی عالم بالا کا مکین ہی پہنچ سکتا ہے۔ ثعلبی نے کہا ایک یہ کا گیا ہے : داخل ہونے والے بنی اسرائیل میں سے دو حقیقی بھائی تھے۔ جب حضرت دائود (علیہ السلام) نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کردیا تو ایک فرشتہ نے کہا : اے دائود ! تو نے اپنے بارے میں یہ فیصلہ کیوں نہ کیا۔ پہلی تعبیر زیادہ اچھی ہے کہ وہ دونوں فرشتے تھے دونوں نے حضرت دائود علیہ اسلام کو اس کے بارے میں آگاہ کردیا جو حضرت دائود (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ میں کہتا ہوں : اکثر اہل تاویل نے بھی یہی کہا ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے۔ یہ کہنا کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ وہ فرشتے کہیں : خصمن بیر بعضناک علی بعض یہ تو سراسر جھوٹ ہے اور فرشتے اس قسم کے جھوٹ سے منزہ ہیں۔ اس کا جواب یہ ہوگا : کلام میں تقدیر ضروری ہے گویا دونوں نے کہا : قدرنا کا ننا خصمان بغی بعضنا علی بعض ہمارے بارے میں مقدر کیجئے گویا ہم دو جھگڑا کرنے والے ہیں ہم میں سے ایک نے دوسرے پر بغاوت کی ہے۔ اسی معنی پر ان دونوں کے قول کو محمول کیا جائے گا ان ھذا اخی لہ تسع و تسعون نعجۃ کیونکہ یہ اگرچہ خبر کی صورت میں تھا مگر مقصود تقدیر میں لانا تھا تاکہ حضرت دائودعلیہ السلام نے جو کچھ کیا اس پر انہیں آگاہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر -
4
اگر یہ سوال کیا جائے : حضرت دائود (علیہ السلام) گھبرائے جب کہ وہ نبی تھے جب کہ اس کا نفس نبوت کے ساتھ قویہو گیا تھا اور وحی کی وجہ سے ممئن تھا اور اللہ تعالیٰ نے جو مقام و مرتبہ آپ کو عطا کیا تھا اس پر پورا بھروسہ تھا آپ کے ہاتھوں کئی معجزات ظاہر فرمائے تھے اور شجاعت میں بڑے مقام و مرتبہ پر فائز تھے ؟ اسے جواب دیا جائے گا : ان سے قبل کے انبیاء کا طریقہ بھی یہی تھا وہ قتل اور اذیت سے محفوظ نہ تھے جب کہ حضرت دائود (علیہ السلام) تو ان سے خوفزدہ ہوئے تھے کیا تم حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو نہیں دیکھتے دونوں نے کیسے کہا اننا نخاف ان یفرط علینا او ان یطغی۔ ) ط ( تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : لا تخفف) ہود (
70
: فرشتوں نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو فرمایا : ان رسول ربک لن یصلوا الیک) ہود (
81
: اسی طرح دو فرشتوں نے یہاں کہا لا تخفف محمد بن اسحاق نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف دو فرشتوں کو بھیجا جو آپس میں جھگر رہے تھے جب کہ آپ اپنے عبادت خانہ میں مصروف عبادت تھے ایک ایسی مثال جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اور اور یا کے لئے بیان فرمائی آپ نے دونوں کو اپنے پاس کھڑے ہوئے دیکھا پوچھا کونسی چیز تمہیں میرے پاس لے آئی ؟ دونوں نے کہا لا تخفف خصمن بغی بعضنا علی بعض ہم تیرے پاس اس لئے آئے ہیں تاکہ آپ ہمارے درمیان فیصلہ کریں۔ مسئلہ نمبر -
5
ابن عربی نے کہا : اگر یہ سوال کیا جائے آپ نے دونوں کو نکل جانے کا حکم کیوں نہ دیا جب کہ آپ نے آنے کا مدعا جان لیا تھا ان دونوں کو ادب کیوں نہ سکھا جب کہ دنوں اجازت کے بغیر داخل ہوئے تھے ؟۔ اس کا جواب چار طریقوں سے دیا جاسکتا ہے (
1
): ہم جانتے کہ حجاب اور اذان کے کیا احکام تھے جواب اسی کے مطابق ہوگا جیسے احکام ہونگے ہماری شریعت کے آغاز میں اس کے بارے میں واضح احکام موجود نہ تھے جواب اسی کے مطابق ہوگا جیسے احکام ہونگے ہماری شریعت کے آغاز میں اس کے بارے میں واضح احکام موجود نہ تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں واضح کیا۔ (
2
) اگر ہم حجاب کے احکام پر جواب دینا چاہیں تو یہ احتمال موجود ہے کہ وقتی گھبراہٹ نے آپ کو اس چیز سے غافل کردیا ہو جو امر اس بارے میں آپ پر واجب تھا۔ (
3
) آپ نے ارادہ کیا کہ آپ ان کی پوری گفتگو سن لیں جس وجہ سے وہ دونوں داخل ہوئے تھے یہاں تک کہ اس کی حقیقت سے آپ آگاہ ہوجائیں اور یہ دیکھ لیں کہ کیا بغیر اجازت کے داخل ہونا لازم آتا ہے یا کہ نہیں ‘ کیا اس کے ساتھ ساتھ کوئی عذر بھی ہوا ہے یا ان کے لئے کوئی عذر نہیں آخری صورت حال یہ ظاہر ہوئی کہ یہ تو محض آزمائش اور امتحان تھا اور مثال تھی جو اللہ تعالیٰ نے قصہ میں بیان کرنا چاہی اور یہ ایک ادب تھا جو دعوی عصمت واقع ہوا تھا۔ (
4
) یہ احتمال موجود ہے کہ یہ مسجد میں ہوا ہو اور مسجد میں داخل ہوتے وقت اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اس میں کسی کو روکنا جائز نہیں۔ میں کہتا ہوں : یہ پانچواں قول ہے جسے قشیری نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ دونوں نے کہا : جب پہرے داروں نے ہمیں اجازت نہ دی تو ہم دیواریں پلانگ کر پہنچ گئے اور ہمیں ڈر تھا کہ معاملہ ہمارے سر پٹول کا باعث بن جائے گا حضرت دائود (علیہ السلام) نے اس عذر کو قبول کیا اور ان کے قول کی طرف توجہ کی۔ مسئلہ نمبر -
6
خصمن اگر یہ سوال کیا جائے کہ خصمن کیسے فرمایا جب کہ اس سے قبل فرمایا تھا اذتوردا المحراب۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے تو وہ بھی جمع ہے۔ خلیل نے کہا : جس طرح تو کہتا ہے : نحنفعلنا جب تم دو ہوتے ہو۔ سائی نے کہا : جب خبر تھی تو جمع کا ذکر کیا جب خبر ختم ہوگئی اور مخاطبہ شروع ہوا تو دونوں نے اپنے بارے میں خبر دی تو کہا : خصمن زجاج نے کہا : اس کا معنی ہے نحن خصمان دوسرے علماء نے کہا : قول مخدوف ہے تقدیر کلام یہ ہوگی یقول خصمان بغی بعضنا علی بعض۔ کسائی نے کہا : اگر کلام یوں ہو بغی بعضھما علی بعض تو یہ بھی جائز ہوتا۔ ماوردی نے کہا : دونوں فرشتے تھے وہ نہ جھگڑا کرنے والے تھے اور نہ ہی باعی تھے اور نہ ہی ان سے کوئی جھوٹی بات واقع ہوئی تھی (
1
) ۔ تقدیر کلام یوں ہوگی : ان اتاک خصمان قالا بغی بعضنا علی بعض۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ تقدیر کلام یوں ہے نحن فریقان من الاخصوم بغی بعضنا علی بعض اس بنا پر یہ احتمال موجود ہے کہ خصوصیت دو افراد کے درمیان ہو اور ہر ایک کے ساتھ ایک جمعیت ہو۔ یہ احتمال بھی موجود ہے ایک فریق کے ہر ایک فرد کی دوسرے فریق کے ہر ایک آدمی کے ساتھ خصومت ہو وہ اپنی اپنی خصومتوں کے لئے حاضر ہوئے ہوں لیکن ان میں سے دو افراد نے آغاز کیا ہوا اور حضرت دائود (علیہ السلام) نکاح کے ذکر سے تمام قصہ سے آگاہ ہوگئے ہیں اور اس چیز نہیں انہیں دوسری خصومات سے مستعفی کردیا ہے۔ بغی کا معن تعدی کرنا اور فیضہ سے نکلنا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے بغی الجرح۔ جب ورد بڑھ جائے اور بہت بڑا ہوجائے اسی سے ایک جملہ بولا جاتا ہے : بغت المراۃ۔ جب وہ بدکاری کا ارتکاب کرے۔ مسئلہ نمبر
7
۔ فا حکم بیننا بالحق ولا تسطط یعنی نا انلصافی نہ کیجئے ‘ یہ سدی نے کہا ہے۔ ابو عبید نے کہا : شططت علیہ و الشططت۔ میں نے اس پر ظلم کیا۔ تمیم داری کی حدیث میں ہے انک لشاطی یعنی تو حکم میں مجھ پر طلم کرنے والا ہے۔ قتادہ نے کہا : معنی ہے تو مائل ہو نہ۔ اخفش نے کہا : آپ اسراف سے کام نہ لیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : آپ افراط سے کام نہ لیں۔ معنی قریب قریب ہے۔ اس کا معنی دور ہونا ہے یہ شطت الدار سے ماخوذ ہے یعنی گھر دور ہے شطت الدار تشط ‘ تشط شطا و شطوطا گھر دور ہے اشط فی القضیتہ۔ اس نے فیصلہ میں ر طلم کیا اشط فی السوم و اشتط۔ بھائو لگانے میں بہت دور چلا گیا۔ اشطوا فی طلبی انہوں نے میری طلب میں بہت کوشش کی۔ ابو عمرو نے کہا شطط کا معنی ہے ہر شے میں حد سے بڑھنا حدیث طبیہ میں ہے لھا مہر مثلھا لائو کس ولا شطط اسی کے لئے مہر مثل ہے نہ کم نہ زیادہ۔ قرآن حکیم ہے : لقد قلنا اذا شططا۔ ) الکہف ( یعنی ہم نے ظلم کیا اور حق سے بہت بعید بات کی اور ہماری سیدھے راستہ کی طرف راہنمائی فرما۔ سواء الصراط سے مراد قصد السبیل ہے۔ مسئلہ نمبر -
8
اس فرشتہ نے کہا جس نے اور یا کی جانب سے گفتگو کی : یہ میرا دینی بھائی ہے اور مدعی علیہ کی طرف اشارہ کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اخی سے مراد میرا ساتھی ہے۔ حضرت حسن بصری نے تسمع و تسعون پڑھا ہے۔ یہ شاذ لغت ہے۔ حضرت حسن بصری کی قراءت میں یہی صحیح ہے ‘ یہی نحاس نے کہا۔ عرب عورت کو کفایۃ ‘ نعجۃ اور شاۃ سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ اس میں سکون ‘ عجز اور کمزوری پائی جاتی ہے بعض اوقات اسے بقرہ ‘ حجرہ اور ناقہ سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ یہ سب سواریاں ہیں۔ ابن عون نے اسی حوالے سے کہا : انا ابوھن ثلاث ھنہ رابعۃ فی البیت صغرا ھنہ و نعجتی خمسا توفیھنہ الا فتی سمع یغذیھن ہ علی النقا فی الجوع یطویہنہ ویل الرغیف ویلہ منہنہ عشرہ نے کہا : یا شاۃ ما قنص لمن حالت لہ حرمت علی ولی تھا لم تحرم فبعثت جاریتی فقلت لھا اذھبی فتجسسی اخبارھا لی واعلم قالت رائیت من الاعادی غرۃ والشاۃ ممکنہ لمن ھو مرتم فکانما التفتت بجید جدایۃ رشاء من العزلان حر ارثم ایک اور شاعر نے کہا : فرمیت غفلۃ عینہ عن شاتہ فاصیت حبۃ قلبھا و طحالھا (
1
) میں نے اس کی آنکھ کو اپنے بیوی سے غافل پایا تو میں اس کے دل کے نقطہ اور اس کی تلی تک جا پہنچا۔ یہ بہت ہی اچھی تعریض ہے کہ عورتوں کو دنیبوں سے تعبیر کیا۔ حسین بن فضل نے کہا : یہ دونوں فرشتوں کی جانب سے تعریض اور تنبیہ ہے جس طرح ان کا قول ہے ضرب زید عمروا جب کہ وہاں مارنے کا کوئی تصور نہ تھا جب کہ وہاں دنبیاں حقیقت میں نہ تھیں گویا یوں کہا : نحن خصمان ھذہ حالنا ہم دو جھگڑا کرنے والے ہیں یہ ہماری حالت ہے ابو جعفر نحاس نے کہا : اسے کے بارے میں جو بہترین گفتگو کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ دو جھگڑا کرنے والے کہتے ہیں : ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے یہ سوال کے انداز میں تھا جس طرح تو کہتا ہے : ایک آدمی ہے جو عورت کو یہ کہتا ہے تو اس مرد پر کیا چیز واجب ہوئی ؟ میں کہتا ہوں : امام شافعی کے ایک مقلد المزنی نے اس آیت اور ابن شہاب سے مروی حدیث جو موطا امام مالک میں ہے ھولک یا عبد بن زمعۃ کی تاویل ایک جیسی کی ہے۔ مزنی نے کہا : میرے نزدیک اس حدیث کا یہ احتمال ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سوال کا جواب دیا اور انہیں حکم سے آگاہ کیا کہ یہ حکم اس وقت ہوگا جب آیک آدمی صاحب فراش ہونے اور دوسرا بدکار ہونے کا دعوی کرے نہ کہ اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ نے عتبہ کے خلاف سعد کا قول قبول کیا اور نہ ہی ذمعہ کے خالف اس کا قول قبول کیا کہ وہ ولد زنا ہے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے ایک اور شخص کے بارے میں خبر دی تھی۔ تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ کسی ایک آدفی کا اقرار کسی دوسرے فرد کے خلاف قبول نہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حصور دائود اور فرشتوں کے قصہ میں اس اس کی مثل ذکر ہے جب وہ آپ کے پاس آئے تو حضرت دائود (علیہ السلام) ان کو دیکھ کر گھبرا گئے انہوں نے کہا : خوف زدہ نہ ہوں وہ جھگڑا کرنے والے ہیں ‘ جب کہ وہ جھگڑا کرنے والے نہ تھے نہ ان میں ایک کی ننانوے دنبیاں تھیں لیکن انہوں نے ایک مسئلہ کے بارے میں گفتگو کی تاکہ وہ پہچان لیں جس کی پہچان کرانے کا انہوں نے ارادہ کیا تھا۔ یہ احتمال بھی موجد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس قصہ کے سوال کے بارے میں حکم لگایا ہوا اگرچہ کوئی ایک آدمی بھی ایسا نہیں جو حدیث میں اس تاویل پر مری موافقت کرتا ہو کیونکہ میرے نزدیک یہ صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر -
9
نحاس نے کہا : حضرت ابن مسعود ؓ کی قراءت میں ہے ان ھذا اخی لہ تسع و تسعون نعجۃ انثی اس آیت میں کان اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے : و کان اللہ غفور رارحمیا۔ ) النسائ ( جہاں تک اس آیت میں انثی کا تعلق ہے تو یہ تاکدع کے لئے ہے جس طرح یوں کہا جاتا ہے : ھو رجل ذکر یہ بھی تاکید ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب یہ کہا جائے ھذہ ماۃ نعجۃ اگرچہ ان میں کچھ تھوڑے سے مذکر بھی ہوں تو یہ کہنا جائز ہوگا ‘ انثی تاکہ یہ معلوم ہو کہ ان میں کوئی بھی مذکر نہیں تفسیر میں ہے اس کی ننانوے بیویاں ہیں۔ ابن عربی نے کہا : اگر وہ ساری آزاد ہوں تو یہ ان کا شرعی حکم ہوگا اگر وہ لونڈیاں ہوں تو یہ ہماری شریعت میں بھی جائز ہے ظاہر بات یہ ہے کہ ہم سے قبل شریعتوں میں یہ حکم کسی عدد میں محصور نہ تھا یہ صرف حضرت محمد مصطفیٰ علیہ التیۃ والثناء کی شریعت میں ہے کیونکہ بدن کمزور ہیں اور عمریں کم ہیں۔ قشیری نے کہا : یہ بھی جائز ہے یہ معین عدد نہ ہو بلکہ مقصود ضرب المثل ہو جس طرح تو کہتا ہے : لو جئتنی ماہ مرۃ لم اقض حاجتک مراد ہے اگر آپ کئی دفعہ آئیں تو تب بھی میں تمہارا کام نہ کروں گا۔ ابن عربی نے کہا : ایک مفسر نے کہا حضرت دائود (علیہ السلام) کی سو بیویاں نہ تھیں یہ ننانوے کا ذکر بطور مثال ہے معنی ہے یہ بیوی سے غنی ہے اور میں بیوی کا محتاج ہوں یہ دو وجوہ سے فاسد ہے : (
1
) بغیر دلیل کے ظاہر معنی سے عدل کسی بھی حوالے سے درست نہیں اور ایسی کوئی دلیل نہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہو کہ ہم سے قبل کی شریعتیں عورتوں کی تعداد کے بارے میں مخصوص حکم دیتی ہوں جس طرح ہماری شریعت میں ہے (
2
) امام بخاری اور دوسرے محدثین نے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا میں آج رات سو عورتوں پر چکر لگائوں گا ہر عورت سے ایک بچہ پیدا ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرے گا اور انشاء اللہ کہنا بھول گئے۔ مسئلہ نمبر -
10
ولی نعجۃ واحدۃ یعنی میری ایک بیوی ہے اب اس نے کہا میرے لئے اس سے الگ ہوجا یہاں تک کہ میں اس کی کفالت کروں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تو یہ مجھے دے دے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے تو میرے لئے اس کی کفالت کروں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : تو یہ مجھے دے دے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : تو میرے لئے اس سے الگ تھلک ہوجا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے یہی کہا ہے۔ ابو العالیہ نے کہا : اسے میرے حوالے کر دے تاکہ میں اس کا کفیل بن جائوں۔ ابن کیسان نے کہا : اسے میرا حصہ بنا دے۔ و غزنی وہ مجھ پر غالب آگیا ہے۔ صحاک نے کہا : معنی ہے اگر یہ گفتگو کرے تو یہ مجھے سے زیادہ فصیح وبلیغ ہے اگر یہجنگ کرے تو مجھ سے زیادہ طاقتور ہے یوں کہاں جاتا ہے عزہ لعزہ عزا۔ اس پر غالب آگیا۔ ضرب المثل ہے من عزیز۔ جو غالب آیا اس نے مال سلب کرلیا اسی سے اسم عزۃ ہے جس کا معنی قوت اور غلبہ ہے۔ شاعرنے کہا : قطاۃ عزھا شرک قباتت تجاذبہ و قد علق الجناح کونج پر پھندا غالب آگیا اس نے جال کو کھنچتے ہوئے رات گزاری جب کہ پر جکڑے ہوئے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور عبید بن عمیر نے و عازنی فی الخطاب قراءت کی جس کا معنی ہے اس نے مجھ پر غلبہ پایا یہ معاذہ سے مشتق ہے جس کا معنی مغالبہ ہے عاذہ ‘ اس پر غلبہ پایا۔ ابن عربی نے کہا : غلبہ کے سبب کے بارے میں اختلاف ہے (
1
) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے بیان کے ذریعے مجھ پر غالب پا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی حکومت کی وجہ سے مجھ پر غالب ہے کیونکہ جب یہ اس سے سوال کرے تو وہ اس کی مخالفت کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہمارے شہر میں ایک امیر تھا جسے سیربن ابی بکر کہتے میں نے اس سے گفتگو کی کہ وہ میرے لئے ایک آدمی سے ضرورت کا سوال کرے اس نے مجھے کہا کیا تجھے علم نہیں کہ حاکم کا کسی کام کا مطالبہ اس کا غضب ہوا کرتا ہے میں نے کہا : جب وہ عدل ہو تو وہ غضب نہیں ہوگا میں اس کے عجمی ہونے ‘ ضرب المثل کے یاد کرنے اور اس کی زہانت پر متعجب ہوا جس طرح وہ میرے جواب سے متعجب ہوا اور اسے غریب جانا۔ مسئلہ نمبر -
11
قال لقد ظلمک بسوال نعجتک الی نعاجہ نحاس نے کہا : یہ کہا جاتا ہے یہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی خطا تھی کیونکہ آپ نے کہا لقد ظلمک کیونکہ دعوی گواہوں سے ثابت نہ ہوا تھا اور نہ خصم کا اقرار ہوا تھا کہ کیا اسی طرح ہوئی تھی یا نہ ہوئی تھی۔ یہ ایک بحث ہے۔ اس کے بعد مسئلہ میں اس کی وضاحت آئے گی۔ انشاء اللہ وہ بہت اچھی گفتگو ہوگی۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : جہاں تک ان علماء کے قول کا تعلق ہے جس کے قول کو رد نہیں کیا جاسکتا ان میں سے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ ہیں کیونکہ انہوں نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا کہ میرے لیے اپنی بیوی سے الگ ہوجا۔ ابو جعفر نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کو عتاب کیا اور اس پر انہیں متنبہ کیا یہ گناہ کبیرہ نہیں۔ جس نے اس کے علاوہ میں گفتگو کی تو بیشک وہ ایسی بات لاتا ہے جو عالم سے صحیح تصور نہیں کی جاسکتی اور اس کی وجہ سے عظیم گناہ بھی لاحق ہوتا ہے اسی کتاب اعراب قرآن میں کہا : اور اپنی کتاب معانی القرآن میں بھی اسی کی مثل کہا۔ کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) اور یا کے بارے میں جو قصے اور روایات آتی ہیں ان میں اکثر صحیح نہیں اور ان کی سند متصل نہیں جب تک ان کی صحت کی پہچان نہ ہو اس جیسی گفتگو پر جرأت نہیں کرنی چاہئے ٭۔ ان روایات میں سے صحیح ترین وہ ہے جسے مسروق نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت دائود علیہ السلان نے اس سے زائد کلام نہیں کی اکفلنیھا یعنی میرے لئے اس سے الگ ہو جائ۔ منہال نے حضرت سعید بن جبیر ؓ سے روایت نقل کی ہے حضرت دائود علیہ اسللام نے اس سے زائد کچھ نہیں کہا اکفلنیھا یعنی اسے میرے حوالے کر دے اور اسے میرے ساتھ ملا دے (
1
) ا بو جعفر نے کہا : اس بارے میں روایات مروی ہیں ان میں سے سب سے یہ عظیم روایت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اور یا سے سوال کیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے جس طرح ایک آدمی دوسرے آدمی کو کہتا ہے کہ وہ اپنی لونڈی بیچ۔ اسے اللہ تعلای نے اس پر آگاہ کیا اور اس لئے عتاب فرمایا کیونکہ ان کی ننانوے بیویاں تھیں حضرت دائود (علیہ السلام) کے لئے یہ مطالبہ اس لئے ناپسند کیا کہ وہ عورتوں میں اضافہ کے ساتھ دنیا میں مشغول ہوجائیں جہاں تک اس کے علاوہ واقعات کا تعلق ہے اس میں جرأت نہیں کرنی چاہیے۔ ابن عربی نے کہا : جہاں تک اس قول کا تعلق ہے جب وہ عورت آپ کو اچھی لگی تو آپ نے اس کے خاوند کے بارے میں حکم دیا کہ جہاد میں اسے آگ رکھا جائے سب باطل ہے (
2
) کیونکہ حضرت دائود (علیہ السلام) محض اپنی ذاتی غرض سے کسی کا خون بہانے والے نہ تھے صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپنے کسی ساتھی سے کہا میرے لئے اپنے والے سے لا تعلق ہو جائو۔ اور اس بارے میں پختہ عزم کیا جس طرح ایک آدمی دوسرے سے سچی رغبت کے ساتھ کسی ضرورت کا مطالبہ کرتا ہے خواہ وہ ضرورت اہل میں ہو یا مال میں ہو۔ حضرت سعید بن ربیع نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے کہا تھا جب رسول اللہ ﷺ نے دونوں میں س بھائی چارہ قائم کیا تھا میری دو بیویاں ہیں میں تیرے لئے ان میں سے سب سے زیادہ خوبصورت سے الگ ہوتا ہوں تو حضرت عبدالرحمن بن عوف نے فرمایا تھا : اللہ تعالیٰ تیرے اہل میں تیرے لئے برکت ڈالے جو فعل ابتداء جائز ہو اس کی طلب بھی جائز ہوتی ہے قرآن حکم میں ہے کہ ایسی کوئی تصریح نہیں نہ اس کی وضاحت ہے کہ اس مرد کی عصمت کے بعد آپ نے شادی کی ہو نہ یہ تصریح ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی اس عورت سے ولادت ہوئی تھی یہ کس سے روایت کی جاتی ہے اور کسی کی سند چلتی ہے کس کی نقل پر اعتماد کیا جاتا ہے کوئی آدمی بھی ثقہ لوگوں سے اسے بیان نہیں کرتا۔ سورت احزاب میں ایک نکتہ ہے جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ایک عورت حضرت دائود (علیہ السلام) کی بیوی بی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ما کان علی النبی من حرج فیھما فرض اللہ لہ سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل) الاحزاب (
38
: یعنی ایک قول یہ ہے ہے حضرت دائود (علیہ السلام) نے ایک ایسی عورت سے شادی کی تھی جس کو آپ نے دیکھا تھا جس طرح نبی کریم ﷺ نے حضرت زینت بنت جحش سے شادی کی مگر حضرت زینت سے شادی اس کے بغیر ہوئی تھی کہ نبی کریم ﷺ نے زینت کے خاوند سے جدائی کا مطالبہ کیا ہو نبی کریم ﷺ کو حضرت دائود (علیہ السلام) پر یہ فضیلت ان فضائل عالیہ کی طرف منسوب ہے جو نبی کریم ﷺ کو حاصل ہیں۔ لیکن یہ بات کی جاسکتی ہے سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل) احزاب (
388
: کا معنییہ ہو کہ انبیاء نے ان عورتوں سے مہر کے بغیر شادیاں کی ہوں جنہوں نے اپنے آپ کو انبیاء کے حضور پیش کیا ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان : سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل سے مراد یہ ہے کہ انبیاء کرام کا وہ طبقہ ہے جو نکاح اور دوسرے معاملات اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض کی بجا آوری میں کرتے ہیں ‘ یہ قول صحیح ترین ہے۔ مفسرین نے یہ روایت بیان کی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے سو عورتوں سے شادی کی یہ قرآن کی نص ہے یہ بھی مروی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں اور سات سو لونڈیاں تھیں۔ تیرا رب خوب جانتا ہے۔ طبری نے احکام میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : و ھل اتک نبوا الخصم اذ تسور والمحراب۔ میں بیان کیا ہے ‘ محققین جو انبیاء کے بارے میں گناہ کبیرہ سے پاک ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت دائواد (علیہ السلام) نے ایک ایسی عورت کو دعوت نکاح دی جس کو ایک اور آدمی نے دعوت نکاح دی تھی جو ” اور یا “ تھا اس عورت کے رشتہ داروں نے حضرت دائود (علیہ السلام) میں رغبت اور پہلے مرد اسے اعراض کی وجہ سے اس عورت کی شادی آپ سے کردی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کو اس کا علم نہ تھا آپ کے لئے ممکن تھا کہ اپ اس سے آگاہی حاصل کرتے تو اس رغبت سے اعراض کرتے اور اس رغبت سے اعراض کرتے ‘ اس دعوت نکاح سے اعراض کرتے مگر آپ نے ایسا نہ کیا اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ عورت آپ کو اچھی لگی تھی یا تو کسی نے اس کے اوصاف بیان کیے تھے یا بغیر ارادہ کے مشاہدہ کیا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کی کثیر بیویاں تھیں دوسرے دعوت نکاح دینے والے کی کوئی بیوی نہیں تھی تو اللہ تعالیٰ نے دو فرشتوں کے دیوار پھلانگ کر اندر آنے سے اس امر پر آپ کو آگاہ کیا اور انہوں نے جو مثال بیان کی بطور تعریض حضرت دائود (علیہ السلام) کو اس امر پر آگاہ کیا تاکہ اس کے واسطہ سے وہ عتاب کے موقع کو پہچان لیں اور اس طریقہ سے ہٹ جائیں اور اس چھوٹے گناہ سے اپنے رب سے بخشش طلب کریں۔ مسئلہ نمبر -
12
قال لقد ظلمک بسوال نعجتکک انی نعاجہ اس جھگڑے میں ایکف ریق کی گفتگو سننے اور دوسرے کی گفتگو سننے سے قبل فتوی دے دیا اس قول کا ظاہر مفہوم یہی ہے (
1
) ابن عربی نے کہا : یہ طریقہ کسی کے نزدیک جائز نہیں ‘ کسی ملت میں جائز نہیں اور کسی بشر کے لئے یہ ممکن نہیں تقدیر کلام یہ ہے جھگڑا کرنے والوں میں سے ایک نے دعوی کیا اور دوسرے نے دعوی کو تسلیم کرلیا تو اس کے بعد فتوی واقع ہوا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اذا جنس الیک الخصمان فلا تقض الا حدھما حتی تسمع من الاخر۔ (
2
) جب تیرے پاس دو جھگڑے والے آئیں تو آپ کسی ایک کے حق میں فیصلہ نہ کریں یہاں تک کہ آپ دوسرے کی بات سنیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت دائود (علیہ السلام) نے دوسرے کے حق میں فیصلہ نہیں کیا یہاں تک کہ دوسرے فریق نے اعتراف نہیں کرلیا (
1
) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یہ ہے لقد ظلمک ان کان کذالک اگر معاملہ اس طرح ہے تو اس نے تجھ پر ظلم کیا۔ میں نے کہا : ان دونوں توجیہات کا ذکر قشیری ‘ ماوردی اور دوسرے علماء نے کیا ہے۔ قشیری نے کہا : لقد ظلمک بسئوال نعجتک خصم کا کلام سنے بغرن فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ یہ کہنا ممکن ہے : آپ نے یہ بات دوسرے فریق کی گفتگو سننے اور اس کے اعتراف کے بعد فیصلہ کیا ہو یہ بیان کیا گیا ہے اگرچہ اس کی روایت ثابت نہیں کی قرآئن حال سے مفہوم ہے۔ یا یہ ارادہ کیا ہو اگر بات اس طرح ہو جس طرح تو کہتا ہے تو اس نے تجھ پر ظلم کیا آپ نے یہ قول کر کے اس کو خاموش کرایا ہو اور اسے صبر کی تلقین کی تاکہ دوسرے فریق سے بات پوچھ لیں۔ کہا : یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ کہا جائے ان کا قانون یہ ہو جب مدعی علیہ خاموش ہوجائے تو مدعی کے قول پر اعتماد کیا جائے جب قول کا انکار ظاہر نہ ہو۔ حلیمی ابو عبداللہ نے کتاب منھاج الدین میں کہا : وہ نعمت جس کا انتظار ہو جب وہ حاضر ہو یا پوشیدہ ہو تو ظاہر ہوجائے تو اس کے شکر میں حکم آیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کرنا ہے۔ کہا : اس میں اصل و ھل اتک نبوا الخصیم۔۔۔۔ و حسن ماب۔ ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے بارے میں خبر دی آپ نے دو جھگڑا کرنے والوں میں سے مظلوم بننے والے فرد کی گفتگو سنی اور یہ نہیں بتایا کہ آپ نے کسی دوسرے سے سوال کیا یہ بیان کیا اس کہ اس نے ظلم کیا ہے کلام کا ظاہر یہ ہے کہ آپ نے گفتگو کرنے والے میں کمزوری کی علامات دییں و تو آپ نے اس کے معاملہ کو اس بات پر محمول کیا کہ وہ مظلوم ہے جس طرح وہ کہتا ہے اس چیز نے حضرت دائود (علیہ السلام) کو اس طرف دعوت دی کہ آپ خصم سے نہ پوچھیں تو آپ نے جلدی کرتے ہوئے اسے کہا : لقد ظلمک جب کہ یہ امکان تھا کہ اگر آپ اس سے پوچھتے تو وہ کہتا : میری سو دنبیاں تھیں اور اس کی کوئی چیز نہ تھی اس نے مری ایک دنبی چوری کی تھی۔ جب میں نے وہ دنبی اس کے پاس پائی تو میں نے اسے کہا : اسے میرے طرف لوٹا دو میں نے اسے اکفلنیھا نہیں کہا اسے علم تھا کہ میں یہ مسئلہ آپ کی بارگاہ میں پیش کروں گا تو قبل اس کے کہ میں اسے آپ کے پاس لاتا یہ مجھے آپ کے پاس کھینچ کرلے آیا اور میرے حاضر کرنے سے پہلے یہ مظلوم بن کر آگیا ہے تاکہ آپ یہ گمان کریں کہ یہ حق پر ہے میں ظالم ہوں جب حضرت دائود (علیہ السلام) نے گفتگو کی جس گفتگو پر جلد بازی نے آپ کو مجبور کیا تھا تو انہیں معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی لمحہ اسے اور اس کے نفس کو آزاد چھوڑ دیا تھا وہ وہی آزمائش تھی جس کا ہم نے ذکر کیا اور یہ امر ان کی ایک لغزش سے ہوا تھا تو انہوں نے اپنے رب سے مغفرت طلب کی اور اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانے کے لئے سجدہ ریز ہوگئے کہ اس نے انہیں محفوظ رکھا کہ انہوں نے اس آدمی کے بارے میں ظالم ہونے کے قول پر اکتفا کیا اس سے بڑھ کر انہیں جھڑکنا ‘ مارنا وغیرہ کا عمل نہیں کیا جو اس کے مناسب تھا جو دل میں سوچتا ہے کہ واقعی وہ ظالم ہے اگر اللہ تعالیٰ نے اس کی غلطی معاف کردی پھر عتاب کے انداز میں اسکی طرف توجہ کی فرمایا : یدا ود انا جعلنک خلیفہ فی الارض ما حکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھوی فیضلک عن سبیل اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے جو نصیحت آموز قصہ بیان کیا جسے مغفرت کے بعد انہوں نے پہچانا تھا کہ خطا حکم میں تقصیر اور اس آدمی کو ظالم قرار دینے میں جلدی کرنے میں تھی جس کا ظلم ان کے نزدیک ثابت نہ تھا پھر حضرت ابن عباس ؓ سے یہ مروی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ کیا اور نبی کریم ﷺ نے ان کی اتباع میں سجدہ کیا اس سے یہ بات ثاب ہوتی ہے کہ سجدہ شکر انبیاء (علیہم السلام) کی سنت متواترہ ہے۔ بسوال نعجتک میں مصدر اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے سوال سے ھاء ضمیر کو گرا دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے : لا یسم لا نسان میں دعا الخیر) حم السجدہ (
49
: اس میں یہ دعائہ الخیر تھا۔ مسئلہ نمبر -
13
و ان کثیرا من الخلطا ‘ خلیط کی جمع خلطاء ہے مگر طویل کی جمع طولاء نہیں کہتے کیونکہ وئو پر حرکت ثقیل ہے اس میں دو توج ہیں ہو سکتی ہیں (
1
): وہ دونوں ساتھی تھے (
2
) وہ دونوں شریک تھے (
1
) ۔ میں کہتا ہوں : غلطاء کا اطلاق شرکاء پر بہت ہی بعید ہے ‘ علماء نے خلطاء کی صفت میں اختلاف کیا ہے۔ اکثر علماء نے ذکر کیا ہے یہ ایک آدمی اپنا ریوڑ لائے ‘ ان سب کو ایک چرواہا ‘ ایک ڈول اور چراگاہ جمع کرے۔ طائوس اور عطا نے کہا : خلطاء شرکاء ہی ہوتے ہیں یہ حدیث کے خلاف ہے وہ حدیث یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : لا یجمع بین مفترق ولا یفرق بین مجتمع خشیۃ الصدقہ وما کان من خلیطین فانھما یترا جعان بینھما بالسویۃ (
2
) صدقہ کے ڈر سے جو الگ الگ کی ملکیت ہیں ان کو جمع نہیں کیا جائے گا اور جو ایک کی ملکیت ہیں ان کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا جو دو خلسیطوں کی ہیں ان پر برابر حکم ہوگا۔ روایت بیان کی گئی : فانھما یترادان الفضل۔ جب کہ شریکوں میں زائد چیز کو لوٹانے کا کوئی محل نہیں اسے خوب ذہن نشین کرلیجئے۔ خلطہ کے احکام کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ امام مالک ‘ آپ کے اصحاب اور علماء کی ایک جمعیت کا نقطہ نظر ہے اس آدمی پر زکوۃ نہیں جس کے حصہ میں اتنا مال نہ ہو جس پر زکوۃ واجب ہوتی ہے۔ ربیع ہلیث اور علماء کی ایک جماعت نے جن میں امام شافعی بھی ہیں : جب تمام مال اتنا ہو جس میں زکوۃ واجب ہوتی ہو تو ان سے زکوۃ لی جائے گی۔ اما مالک کا کہنا ہے : اگر زکوۃ وصول کرنے والا ان سے زکوۃ وصول کرتا ہے تو وہ آپس میں اسے باہم حصہ کے مطابق تقسیم کریں گے کیونکہ اس میں اختلاف ہے یہ بھی حاکم کے اس حکم کی طرح ہے جس میں اختلاف کیا گیا ہو۔ مسئلہ نمبر -
14
لیبغی بعضھم علی بعض وہ تعدی کرتا ہے اور ظلم کرتا ہے الا الذین امنو و عملوا الصلحت کیونکہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتے و قلیل ما ھم یعنی وہ صالحین تھوڑ ہیں یہاں ما زائدہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : ماء الذین کے معنی میں ہے تقدیر کلام یہ ہوگی قلیل الذین ھم۔ حضرت عمر ؓ نے ایک آدمی کو دعا میں کہتے ہوئے سنا : اللھم اکعصمء وئم عبادک القلیل اے اللہ ! مجھے اپنے قلیل بندوں میں سے بنا دے۔ حضرت عمر ؓ نے اسے فرمایا : یہ دعا کیسی ہے تو اس آدمی نے عرض کی : میں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا ارادہ کیا ہے : الا الذین امنوا و عملوالصلحت و قلیل ما ھم حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اے عمر ! تمام لوگ تجھ سے زیادہ فقیہ ہیں۔ ثعلبی نے کہا : حرث اعور نے حضرت علی شیر خدا ؓ سے روایت نقل کی ہے جس نے حضرت دائود (علیہ السلام) کا واقعہ اس انداز میں بیان کیا جس طرح قصہ گو آدمی بیان کرتے ہیں جب کہ وہ اس کا اعتقاد بھی رکھتا ہو تو میں اس پر دو حدیں جاری کروں گا ‘ کیونکہ اس نے اس ہستی جس کے مقام کو اللہ تعالیٰ نے بلند کیا ہے ‘ اپنی مخلوق میں سے جس پر راضی ہوا ہے تو اسے دونوں جہانوں کے لئے رحمت اور مجتہدین کے لئے حجت بنایا ہے ‘ اس ہستی پر اس نے تہمت لائی ہے تو اس کا گناہ بہت بڑا ہے۔ ابن عربی نے کہا : یہ روایت ان میں سے نہیں جو حضرت علی شیر خدا سے صحیح منسوب ہے) (
1
اگر یہ سوال کیا جائے۔ تمہارے نزدیک اس کا کیا حکم ہے ؟۔ ہم کہتے ہیں : جہاں تک اس آدمی کا تعلق ہے جو یہ کہے : نبی نے بد کاری کی ہے ‘ تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ جہاں تک اس آدمی کا تعلق ہے جس نے اس سے کم درجہ کا جرم حضرت دائود (علیہ السلام) کی طرف منسوب کی جیسے دیکھنا اور اس ہاتھ سے چھونا ہے تو لوگوں سے اس بارے میں مختلف اقوال مروی ہیں : اگر ایک آدمی آپ کے بارے میں قطعی رائے کا اظہار کرے اور اس امر کو ان کی طرف منسوب کرے تو میں اسے قتل کردونگا ‘ کیونکہ یہ اس تعزیر کے خلاف ہے جس کا حکم کیا گیا ہے۔ جہاں تک اس قول کا تعلق ہے کہ آپ کی نظر ایسی عورت پر پڑی جو غسل کر رہی تھی اور ننگی تھی۔ جب اس نے حضرت دائود (علیہ السلام) کو دیکھا تو اپنے بال بکھیر لیے اور اپنے جسم کو ڈھانپ لیا۔ اجماع امت کے ساتھ اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ پہلی نظر نے ان کے لئے دیکھی جانے والی چیز کو ظاہر کیا اسے دیکھنے والا گناہ گار نہ ہوگا۔ جہاں تک دوسری نظر کا تعلق ہے اس کی کوئی اصل نہیں۔ جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ آپ نے یہ نیت کی تھی کہ اگر اس کا خاوند فوت ہوگیا تو وہ اس عورت کی شادی کرلیں گے تو اس پر کوئی چیز لازم نہ ہوگی۔ کیونکہ نے اسے مورت کے لئے پیش نہیں کیا۔ جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ آپ نے اوریا کی دعوت نکاح کے بعد دعوت نکاح دی تو یہ باطل ہے۔ قرآن اور تمام تفسیری آثار اس کو رد کرتے ہیں۔ اشہب نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ وہ جو کبوتری آئی اور حضرت دائود (علیہ السلام) کے قریب گری وہ سونے کی تھی جب حضرت دائود (علیہ السلام) نے اسے دیکھا تو وہ آپ کو بھلی لگی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) اٹھے تاکہ اسے پکڑ لیں وہ ہاتھ بھر ہی دور تھی پھر آپ نے یہ عمل دو دفعہ کیا پھر وہ اڑ گئی آپ کی نظر اس کے پیچھے گئی تو آپ کی نظر اس عورت پر جا پڑی جب کہ وہ عورت غسل کر رہی تیا اور اس کے لمبے بال تھے۔ مجھے یہ خبرپہنچی ہے کہ آپ چالیس دن تک سجدہ ریز رہے یہاں تک کہ آپ کی آنکھوں کی آنسوئوں سے گھاس اگ آئی۔ ابن عربی نے کہا : جہاں تک مفسرین کا یہ قول ہے کہ ایک پرندہ آپ کے پاس داخل ہوا آپ نے اسے پکڑنے کا ارادہ کیا آپ نے اس کا پیچھا کیا تو یہ عبادت کے منافی نہیں کیونکہ اس کا کرنا مباح ہے خصوصا وہ چیز حلال کا طلب کرنا فرض ہے۔ آپ نے اس کا پیچھا اس پرندے کی ذات کی وجہ سے کیا تھا اس کی خوبصورتی کی وجہ سے نہیں کیا تھا۔ کیونکہ خوبصورتی میں آپ کے لئے کوئی نفع نہ تھا۔ مفسرین کا پرندے کا حسن کا ذکر کرنا یہ جہالت میں اختراع ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ پرندہ سونے کا تھا آپ نے اس کا پیچھا کیا تاکہ اسے پکڑ لیں ‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جس طرح صحیح میں مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) ننگے غسل کر رہے تھے تو ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں (
1
) آپ ان سے چلو بھرنے لگے اور اپنے کپڑے میں ڈالنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ” اے ایوب ! کیا میں نے تجھے غنی نہیں کیا ؟ عرض کی : کیوں نہیں میرے رب ! لیکن تیری برکت سے بےنیاز نہیں “۔ قشیری نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) نے ارادہ کیا کہ اسے پکڑیں تاکہ اپنے چھوٹے بیٹے کو دے دیں تو وہ پرندہ اڑ گیا اور کمرے کے روشن دان میں جا گرا ‘ یہ ثعلبی کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر -
19
وخررا کعا و اناب وہ سجدہ میں گر گئے سجود کو رکوع سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ شاعر نے کہا : فخر علی وجھہ راکعا و تاب الی اللہ من کل ذنب (
2
) وہ منہ کے بل سجدہ میں گرگیا اور اس نے ہر گناہ سے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کی۔ ابن عربی نے کہا : علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہاں رکوع سے مراد سجدہ ہے (
3
) کیونکہ سجود سے مراد مائل ہونا اور رکوع سے مراد دہرا ہونا ہے ‘ ان میں سے ایک دوسرے میں داخل ہے لیکن بعض اوقات ان میں سے ہر ایک اپنی نیت کے ساتھ خاص ہوتا ہے ‘ پھر یہ ایک دوسرے کے نام کے ساتھ واقع ہوا ہے اور سجود کو رکوع کا نام دیا ہے۔ مہدوی نے کہا : ان کا رکوع میں سجدہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے سجود رکوع تھا۔ مقاتل نے کہا : وہ اپنے رکوع سے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر گئے ‘ یعنی جب آپ نے معاملہ کو محسوس کیا تو نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے پھر رکوع سے سجدہ میں گرے کیونکہ دنوں دوہرا ہونے پر مشتمل ہیں۔ و اناب یعنی اپنی خطا سے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے۔ حسین بن فضل نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن طاہر) جو والی تھا ( نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : وخررا کعا کے بارے میں پوچھا : کیا رکوع کرنے والے کو خر سے تعبیر کرتے ہیں ؟ میں نے کہا : اس کا معنی ہے پہلے رکوع میں تھے پھر سجدہ کیا۔ مسئلہ نمبر -
20
حضرت دائود (علیہ السلام) کے سجدہ میں اختلاف کیا گیا ہے ‘ کیا یہ ان فرائض سے ہے جس کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے یا نہیں ؟ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے منبر پر ص و القران ذی الذکر۔ کی تلاوت کی جب سجدہ تک پہنچے تو نیچے اتر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا جب دوسرا دن ہوا تو آپ نے اس کی قراءت کی تو پھر سجدہ کے لئے تیار ہوئے (
1
) تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” یہ ایک نبی کی توبہ تھی لیکن میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم نے سجدہ کا ارادہ کیا ہے “ آپ اترے اور اور سجدہ کیا ‘ یہ ابو دائود کے الفاظ ہیں (
2
) ۔ بخاری اور دوسری کتب میں حضرت عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے کہا : سورة ص کا سجدہ قرآن کے فرائض میں سے نہیں میں نے نبی کریم ﷺ کے اس میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے انہوں نے کہا : ” ص “ کا سجدہ ایک نبی کی توبہ تھی اور آپ اس میں سجدہ نہیں کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : یہ ایک نبی اور تمہارے نبی کی توبہ ہے ‘ جن کی اقتدار کا حکم دیا گیا ہے۔ ابن عربی نے کہا : میرے نزدیک یہ سجدہ کی جگہ نہیں لیکن نبی کریم ﷺ نے سجدہ کیا تو ہم نے آپ کی اقتدار کرتے ہوئے سجدہ کیا۔ سجود کا معنی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور عاجزی کرتے ہوئے اپنی خطا کا اعتراف کرتے ہوئے اور اپنی خطا سے توبہ کرتے ہوئے سجدہ کیا۔ جب کوئی اس میں سجدہ کرے تو اسی نیت سے اس میں سجدہ کرے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت دائود (علیہ السلام) کی اتباع کے واسطہ سے اس کے گناہ بخش دے۔ یہ مسئلہ برابر ہے کہ ہم کہیں کہ ہم سے قبل کی شریعت ہمارے لئے شریعت ہے یا نہیں۔ کیونکہ یہ ایسا امر ہے جو ہر امت میں ہر ایک کے لئے مشروع ہے۔ مسئلہ نمبر -
21
ابن خویز منداد نے کہا : و خر را کعاو اناب میں یہ دلیل موجود ہے کہ اکیلا سجدہ شکر جائز نہیں کیونکہ اس کے ساتھ رکوع کا ذکر موجود ہے جو جائز ہے وہ یہ ہے کہ وہ شکرانہ کے طور پر دو رکعت نماز پڑھے۔ جہاں تک اکیلے سجدہ کا تعلق ہے تو یہ جائز نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بشارتیں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد ائمہ کو بھی آتی رہی تھیں۔ ان میں سے کسی سے بھی یہ منقول نہیں کہ نبیوں نے سجدہ شکر کیا ہو۔ اگر اس پر عمل ہوتا تو ظاہر طور پر عمل ہوتا کیونکہ عام لوگوں کو اس کی حاجت تھی اور دورسری بات یہ تھی کہ یہ قربت تھی۔ میں کہتا ہوں : سنن ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی جس روز آپ کو ابو جہل کے مرنے کی بشارت دی گئی (
3
) ابوبکرہ کی حدیث سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ تک اگر کوئی ایسا امر پہنچتا جو آپ کو خوش کرتا تو شکر بجا لاتے ہوئے سجدہ میں گر جاتے (
4
) ‘ یہ امام شافعی اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ مسلہ نمبر -
22
امام ترمذی اور دوسرے علماء نے روایت کیا کہ ایک انصاری رسول اللہ ﷺ کی زمانہ میں حاجت کی نماز پڑھتا اور ایک درخت کی اوٹ لاتف وہ پڑھا کرتا ص والقرآن ذی الذکر۔ جب سدہ تک پہنچتا تو سجدہ کرتا اور اس کے ساتھ درخت بھی سجدہ کرتا۔ اس صحابی نے اس درخت کو کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! اس سجدہ کے ساتھ میرے اجر کو بڑا کر دے اور اس کے بدلے مجھے شکر کی توفیق نصیب فرما (
5
) ۔ میں نے کہا : ابن ماجہ نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے میں نبی کریم ﷺ کے پاس تھا کہ آپ ایک آدمی کے پاس آیا عرض کی : میں نے آج رات وہ دیکھا ہے جو سونے والا دیکھتا ہے گویا میں ایک درخت کے تنے کے پاس نماز پڑھتا ہوں میں نے آیت سجدہ پڑھی تو میں نے سجدہ کیا تو میرے سجدہ کی وجہ سے درخت بھی سجدہ ریز ہوگیا۔ میں نے اسے یہ کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! اس کے وسیلہ سے مجھ سے گناہ کو دور کر دے ‘ اس کے بدلہ میں میرے لئے اجر لکھ دے ‘ اپنے ہاں میرے لئے ذخیرہ بنا دے -(
1
) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے آیت سجدہ کو پڑھا اور سجدہ کیا میں نے رسول اللہ ﷺ کو سجدہ میں اس قسم کے کلمات کہتے ہوئے سنا جو اس آدمی نے درخت کے کلمات بتائے تھے ٭ ثعلبی نے اسے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے خواب میں دیکھا گویا میں درخت کے نیچے ہوں اور درخت سورة ص کی تلاوت کر رہا ہے جب وہ آیت سجدہ تک پہنچا تو اس میں درخت نے سجدہ کیا تو میں نے اسے سجدہ میں کہتے ہوئے سنا : میرے لئے اس کے بدلے میں اجر لکھ دے ‘ اس کی وجہ سے مجھ سے گناہ کو اتار دے ‘ اس کے بدلہ میں مجھے شکر کی توفیق نصیب فرما ‘ اسے مجھ سے قبول فرما جس طرح تو نے اپنے بندے حضرت دائود کے سجدہ کو قبول کیا۔ نبی کریم ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا : ” اے ابو سعید ! تو نے سجدہ کیا “ ؟ میں نے عرض کی : نہیں یا رسول اللہ ! فرمایا :” تو درخت کی بنسبت سجدہ کرنے کا زیادہ مستحق تھا “ پھر نبی کریم ﷺ نے سورة ص کی تلاوت کی یہاں تک پہنچے اور سجدہ کیا پھر اس کی مثل کہا جس طرح درخت نے کہا تھا۔ مسئلہ نمبر
23
۔ فعفرنا لہ ‘ ذلک یعنی ہم نے اس کا گناہ بخش دیا (
2
) ۔ ابن انباری نے کہا : فغفرنا لہ ذالک پر وقف تام ہے پھر تو و ان لہ سے کلام شروع کرے گا۔ قشیری نے کہا : فعفرنا لہ ‘ پر عطف کرنا جائز ہے پھر ذلک و ان لہ سے تو مل کر شروع کرے گا جس طرح یہ ارشاد بادی تعالیٰ ہے : ھذا و ان للطغین یعنی امر یہ ہے۔ عطا خراسانی اور دوسرے علماء نے کہا : حضر دائود (علیہ السلام) چالیس روز سجدہ ریز رہے (
3
) یہاں تک کہ آپ کے چہرہ کے اردگرد کھیتی اگ گئی اور آپ کے سر کو ڈھانپ لیا اور یہ ندا کی گئی کہ کیا تو بھوکا ہے کہ تجھے کھلایا جائے۔ کیا تو ننگا ہے کہ تجھے پہنایا جائے تو آپ نے ایک آہ بھری تو گھاس آپ کے پیٹ کی گرمی سے خشک ہوگئی تو آپ کو بخش دیا گیا اور اس پر پردہ ڈال دیا گیا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے عرض کی : اے میرے رب ! یہ میرے اور تیرے درمیان گناہ تھا جسے تو نے بخش دیا ہے تو فلاں فلاں کا کیا بنے گا ؟ آپ نے بنی اسرائیل کے لوگوں کا ذکر کیا جس کی اولادوں کو میں نے یتیم چھوڑا اور ان کی بیویوں کو بیوہ چھوڑا ؟ فرمایا : اے دائود ! قیامت کے روز کوئی ظلم مجھ سے تجاوز نہیں کرے گا جس پر میں نے تجھے اختیار دیا پھر میں تجھے اس کے بدلے میں جنت کا ثواب دونگا عرض کی : اے میرے رب ! اس طرح تو مغفرت آسان ہوجائے گی پھر کہا جائے گا : اے دائود اپنے سر کو اٹھائو وہ اپنا سر اٹھانے کی کوشش کریں گے تو وہ زمین سے چمٹ چکا ہوگا جبریل امین تشریف لائیں گے اور زمین سے الگ کریں گے جس طرح درخت سے اس کی گوند کو الگ کیا جاتا ہے ‘ اسے ولید بن مسلم نے ابن جابر سے وہ عطا سے روایت نقل کرتے ہیں۔ ولید نے کہا مجھے منیر بن زبیر نے خبردی ہے کہ آپ کی سجدہ گاہیں زمین کے ساتھ چمٹ چکی تھیں جتنے عرصہ تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ولید نے کہا ابن لہیعہ نے کہا آپ اپنے سجدہ میں کہا کرتے تھے : تو پاک ہے یہ میرے آنسو میرے مشروب ہیں۔ یہ میرا کھانا ہے جو میرے ہاتھوں میں راکھ کی صورت میں ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ چالیس روز تک سجدہ ریز رہے وہ فرض نماز کے سوا اپنا سر نہیں اٹھاتے تھے آپ روتے رہے یہاں تک کہ آپ کے آنسوئوں سے گھاس اگ آئی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک مرفوع روایت مروی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) چالیس راتوں تک سجدہ ریز رہے (
1
) یہاں تک کہ آنسوئوں کی وجہ سے سر پر گھاس اگ آئی اور زمین نے آپ کی پیشانی کا حصہ کھالیا تھا جب کہ آپ سجدہ میں کہہ رہے تھے : اے میرے رب ! دائود نے لغزش کی وجہ سے باعث وہ اللہ کی رحمت سے اتناد ور ہوگیا ہے جتنی دوری مشرق و مغرب کے درمیان ہے اے میرے رب اگر تو حضرت دائود (علیہ السلام) کی کمزوری پر رحم نہ فرمائے اور اس پر گناہ نہ بخشے تو اس کے گناہ کو اس کے بعد مخلوقات میں زبان زد خاص و عام کر دے۔ حضرت جبریل امین نے چالیس سال کے بعد انہیں کہا : اے دائود اللہ تعالیٰ نے تیرے ارادہ کو معاف کردیا جو تو نے کیا تھا۔ وہب نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) کو ندا کی گئی کہ میں نے تجھے بخش دیا ہے حضرت دائود (علیہ السلام) نے پھر بھی اپنا سر نہ اٹھایا یہاں تک کہ جبریل امین آئے کہا : تو نے اپنا سر کیوں نہ اٹھایا جب کہ تیرے رب نے تجھے بخش دیا تھا ؟ عرض کی : اے میرے رب ! کیسے جبکہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ نے جبریل امین سے فرمایا دائود کی طرف جائو اور اسے کہو اوریا کی قبر کے پاس جائود اور اس سے فراغت پائو میں اس کی ندا کو سنوں گا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے ٹاٹ کا لباس پہنچا اور اوریا کی قبر کے پاس بیٹھ گئے اور آواز لگائی اور یا ! اس نے جواب دیا : لبیک۔ کس نے میری لذت کو مجھ پر قطع کیا ہے اور مجھے بیدار کیا ہے ؟ میں تیرا بھائی دائود ہوں میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے معاف کر دے کیونکہ میں نے تجھے قتل پر پیش کیا تھا اوریا نے کہا : تو نے تو مجھے جنت پر پیش کیا تھا تو مجھے بری ہے۔ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء نے کہا : حضرت دائود علیہ السلما خط کے بعد خطا کاروں کے پاس بیٹھتے تھے اور کہتے تھے : دائود خطا کار کے پاس آئو ‘ کوئی مشروب نہ پیتے (
2
) مگر اپنے آنسوئوں کو اس میں ملاتے آپ جو کی خشک روٹی ایک پیالہ میں رکھتے لگاتار روتے رہتے یہاں تک کہ وہ روٹی آپ کے آنسوئوں سے تر ہوجاتی آپ اس پر راکھ اور نمک بکھیر دیتے اور اسے کھاتے تھے اور یہ کہتے : یہ خطا کاروں کا کھانا ہے۔ آپ خطا سے پہلے نصف رات قیام کیا کرتے تھے اور نصف زمانہ روزہ رکھا کرتے پھر آپ نے ہمیشہ روزہ رکھنا شروع کردیا اور ساری رات قیام کیا کرتے عرض کی : اے میرے رب ! میری غلطی کو میرے ہاتھ میں رکھ دے تو ان کی خطا ان کی ہتھیلی پر نقش ہوگئی آپ ہتھیلی کو کھانے پینے اور کسی اور چیز کے لئے نہ پھیلاتے مگر اسے دیکھتے تو وہ خطا آپ کو رلا دیتی اگر ان کے پاس پیالہ لایا جاتا جس کا دو ثلث پانی جب آپ اسے لیتے تو اپنی خطا دیکھتے تو ابھی اپنے ہونٹوں سے الگ نہ کرتے مگر وہ آپ کے آنسوئوں سے بھر جاتا۔ ولید بن مسلم نے روایت بیان کی ہے کہ مجھے ابو عمرو اوزاعی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کی دو آنکھوں کی مثال دو مشکیزوں جیسی ہے جن سے پانی ٹپکتا رہتا ہے۔ آنسوئوں نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے چہرے میں یوں گڑھے بنا دیئے تھے جس طرح پانی زمین میں گڑھے بنا دیتا ہے۔ ولید نے کہا ہمیں عثمان بن ابی عاتکہ نے بیان کیا : حضرت دائود (علیہ السلام) جب کہ آپ خطا سے خالی تھے ان کے قول میں خطا کاروں کے بارے میں شدے تھی وہ کہا کرتے : اللھم لا تغفر للخائیں اے اللہ ! خطاکاروں کی نہ بخش ‘ پھر آپ یہ کہنے لگے : اے اللہ ! خطا کاروں کو بخش دے تاکہ تو ان کے ساتھ دائود کو بخش دے (
1
) اے نور کو پیدا کرنے والے ! تو پاک ہے اے میرے اللہ ! میں تیرے بندوں میں سے اطباء میں سے سوال کرنے کے لئے نکلا کہ وہ میری کی دوا کریں سب سے میری تیری طرف راہنمائی کی اے میرے اللہ ! میں نے ایسی خطا کی ہے مجھے ڈر ہے کہ تو اسی کا پھل قیامت کے روز اپنے عذاب کو بنائے گا اور تو اسے نہ بخشے اے نور کو پیدا کرنے والے ! تو پاک ہے اے میرے اللہ ! جب میں اپنی خطا کو یاد کرتا ہوں تو زمین اپنی کشادگی کے باوجود مجھ پر تنگ ہوجاتی ہے اور جب میں تیری رحمت کو یاد کرتا ہوں تو میری روح لوٹ آتی ہے۔ حدیث طیبہ میں یہ بھی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) جب منبر پر چڑھتے تو دایاں ہاتھ اٹھاتے اور لوگوں کے سامنے اسے کرتے تاکہ اپنی خطا کا نقش انہیں دکھائیں آپ یوں ندا کیا کرتے : اے میرے اللہ ! جب میں اپنی خطا کو یاد کرتا ہوں تو زمین اپنی کشادگی کے باجود مجھ پر تنگ ہوجاتی ہے اور جب میں تیری رحمت کو یاد کرتا ہوں تو میری روح لوٹ آتی ہے۔ حدیث طیبہ میں یہ بھی ہے کہ حضرت دائود علیہ اسلام جب منبر پر چڑھتے تو دایاں ہاتھ اٹھاتے اور لوگوں کے سامنے اسے کرتے تاکہ اپنی خطا کا نقش انہیں دکھائیں آپ یوں ندا کیا کرتے : اے میرے اللہ ! جب میں اپنی خطا کو یاد کرتا ہوں تو زمین اپنی کشادگی کے باوجود مجھ پر تنگ پڑجاتی ہے اور جب میں تیری رحمت کو یاد کرتا ہوں تو میری روح میری طرف لوٹ آتی ہے اے میرے رب ! خطا کاروں کو بخش دے (
2
) تاکہ تو حضرت دائود (علیہ السلام) کو ان کے ساتھ بخش دے۔ آپ چھال کے ساتھ بستروں پر بیٹھا کرتے تھے جن میں راکھ بھری ہوتی آپ اپنے آنسو اپنے پائوں کے نیچے گراتے یہاں تک کہ وہ سات بستروں سے نیچے چلے جاتے جب حضرت دائود علیہ اسلام کے رونے کا دن ہوتا تو ان کا منادی کرنے والا راستوں ‘ بازاروں ‘ بادیوں ‘ گھاٹیوں ‘ پہاڑوں کی چوٹیوں اور غاروں کے مونہوں پر اعلان کرتا خبردار ! یہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے توحہ کا دن ہے جو اپنے گناہ پر رونا چاہتا ہے تو وہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان کی مدد کرے غاروں اور وادیوں سے سیاح نیچے اترتے آپ کے منبر کے اردگرد آوازیں بلند ہوتیں ‘ وحشی جانور ‘ درندے اور پرندے سر جھکائے ہوتے اور بنی اسرائیل آپ کے منبر کے اردگرد ہوتے جو آپ رونا شروع کرتے اور اندرونی آگ آنسوئوں کے منابع کو جوش دیتی تو ساری جماعت رونے اور چیخنے میں ایک آواز ہوتی یہاں تک کہ اس روز انسانوں کی ایک بڑی جماعت مر جاتی اچانک ہفتہ کے دن حضرت دائود (علیہ السلام) فوت ہوگئے ملک الموت آیا جب کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں اوپر چڑھ رہے تھے یا نیچے اتر رہے تھے فرمایا : میں تو تیری روح قبض کرنے کے لئے آیا ہوں۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے کہا : مجھے مہلت دو یہاں تک کہ میں نیچے اتر آئو یا اوپر چڑھ جائوں عرض کی : میرا اس میں کوئی اختیار نہیں ایام ‘ مہینے ‘ سال ‘ آثار اور رزق ختم ہوچکے ہیں آپ اس کے بعد کوئی اثر چھوڑنے والے نہیں کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) سیڑھی کے زینے پر سجدہ ریز ہوگئے تو ملک الموت نے اسی حال میں ان کی روح قبض کرلی۔ ان کے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان پانچ سو ننانوے سال کا عرصہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پانچ سو اناسی سال کا عرصہ ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) سو سال تک زندہ رہے اور اپنے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے حق میں خلافت کی وصیت کی۔ مسئلہ نمبر -
24
و ان لہ عند نا لزلفی و حسن ماب۔ محمد بن کعب اور محمد بن قیس نے کہا : لزلفی سے مراد ہے مغفرت کے بعد قربت ہوگی دونوں نے یہ بھی کہا : اللہ کی قسم ! قیامت کے روز سب سے پہلے جو جام پیے گا وہ حضرت دائود (علیہ السلام) ہوں گے۔ مجاد نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت نقل کی ہے زلفی سے مراد قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کا قرب ہے۔ مجاہد سے مروی ہے کہ قیامت کے روز حضرت دائود علیہ اسلام کو اٹھایا جائے گا جب کہ ان کی خطا ان کے ہاتھ میں نقش ہوگی جب آپ قیامت کی ہولناکیوں کو دیکھیں گے تو ان سے بچنے کی کوئی پناہ نہ پائیں گے مگر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی پناہ چاہیں گے کہا : پھر وہ اپنی خطا دیکھیں گے تو پریشان ہونگے تو انہیں کہا جائے گا۔ یہاں یہاں ‘ پھر وہ اپنی خطا کو دیکھیں گے تو پریشان ہونگے تو انہیں کہا جائے گا : یہاں یہاں ‘ پھر وہ خطا کو دیکھیں گے تو پریشان ہونگے تو انہیں کہا جائے گا : یہاں یہاں۔ یہاں تک کہ انہیں قریب کردیا جائے گا تو وہ سکون پا جائیں گے اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و ان لہ عندنا لزلفی و حسن ماب۔ یہ ترمذی حکیم نے ذکر کیا ہے۔ کہا : فضل بن محمد ‘ عبدالملک بن اصبغ سے وہ ولید بن مسلم سے وہ ابرہیم بن محمد فزاری سے وہ عبدالملک بن ابی سلیمان سے وہ مجاہد سے روایت نقل کرتے ہیں اور اسے ذکر کیا ہے ترمذی نے کہا : میں طویل عرصہ تک ان آیات کو پڑھتا رہا میرے لئے مراد اور معنی ظاہر نہ ہوا ربنا عجل لنا قطنا لغت میں قحط سے مراد صحیفہ ہے کیونکہ رسول ﷺ نے انس پر تلاوت کی فاما من اوتی کتبہ ‘ بیمینہ۔ ) الانشقاق ( حضور ﷺ نے انہیں فرمایا : انکم ستجدون ھذا کلہ فی صحائفکم تعطونھا بشمالکم۔ انہوں نے عرض کی ربنا عجل لنا قطنا ‘ قطنا سے مراد ہمارے صحیفہ۔ قبل یوم الحساب۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اصبر علی ما یقولون و اذکر عبدنا دائود ذالاید۔ ان کی خطا والے قصہ کو آخر تک بیان کیا میں کہا کرتا تھا جو ان کفار نے کہا اس پر صبر کا حکم دیا اور حضرت دائود (علیہ السلام) کے ذکر کا حکم دیا تو اس ذکر سے مراد کیا ہے اس صبر اور حضرت دائود علیہ السلما کے ذکر کو کیسے جوڑوں میں کسی ایسی چیز پر مطلع نہیں ہوتا تھا جو میرے دل کو سکون عطا کرے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک دن ہدایت عطا فرمائی اور مجھے الہام کیا گیا کہ ان لوگوں نے ان کے قول کا انکار کیا ہے ان کی کتابیں ان کے باتیں ہاتھ میں دی جائیں گی ان میں ان کے گناہ اور خطائیں ہوگی انہوں نے یہ باتیں استہزاء کے طور پر کی تھیں انہوں نے کہا : ربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب۔ ان کے استہزاء نے آپ ﷺ کو دکھ دیا اللہ تعالیٰ نے ان کی گفتگو پر آپ ﷺ کو صبر کا حکم دیا اور یہ حکم دیا کہ دائود (علیہ السلام) کا ذکر کریں جنہوں نے خطا کے بارے میں جلدی کی تھی کہ وہ اپنی خطا کو اپنی ہتھیلی میں نقش دیکھیں تو اس وجہ سے ان پر وہ مصیبت آئی جو مصیبت آئی جب حضرت دائود (علیہ السلام) اسے دیکھتے تو پریشان ہوجاتے اور پیالہ ان کے آنسوئوں سے پھرجاتا جب آپ اس خطا کو دیکھتے تو روتے یہاں تک کہ وہ آنسو چھال سے بنے ان سات بستروں سے پار ہوجاتے جن میں راکھ بھری ہوئی تھی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے اس کا مطالبہ مغفرت اور خصمہ سے جو چٹی لازم آتی تھی اس کی ضمانت کے بعد یہ سوال کیا تھا جب کہ وہ اللہ کے حبیب ‘ اس کے ولی اور صفی بھی تھے اس مرتبہ کے باوجود خطا کے نقش کو دیکھنا ان کے ساتھ یہ معاملہ کرتا تھا تو ان لوگوں کا کیا حال ہوتا جب یہی چیز اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور مخلوقات اور ذلیل و رسوا لوگوں میں سے کسی کو لاحق ہوتی اگر ان کے صحائف جلدی دے دیئے جاتے تو ان خطائوں کی سورتوں کو دیکھتے جو انہوں نے کفر و انکار کی صورت میں کیے اور ان پر کیا گزرتی جب وہ ان صحیفوں میں ان خطائوں کو دیکھتے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبردی : فتری المجرمین مشفقین مما فیہ و یقولون یویلتنا مال ھذا الکٹب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا) الکہف (
49
: حضرت دائود (علیہ السلام) مغفرت ‘ بشارت اور اللہ تعالیٰ مہربانی کے باوجود اپنی حالت پر نہ رہتے جب کہ ہم نے حدیث میں بیان کیا ہے جب قیامت کے روز وہ اپنی غلطی کو اپنی ہتھیلی میں نقش دیکھیں گے تو پریشان ہوں گے یہاں تک کہ اسے کہا جائے گا : یہاں یہاں پھر وہ اپنی خطا دیکھیں تو پریشان ہونگے پھر انہیں کہا جائے گا : یہاں یہاں پھر وہ اپنی خطا دیکھیں گے تو وہ مضطرب ہونگے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے قرب عطا کرے گا تو وہ سکون پا جائیں گے۔
Top