Al-Qurtubi - Saad : 27
وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ
وَ : اور مَا خَلَقْنَا : نہیں پیدا کیا ہم نے السَّمَآءَ : اور زمین وَالْاَرْضَ : اور زمین وَمَا : اور جو بَيْنَهُمَا : ان کے درمیان بَاطِلًا ۭ : باطل ذٰلِكَ : یہ ظَنُّ : گمان الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚ : جن لوگوں نے کفر کیا فَوَيْلٌ : پس خرابی ہے لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : ان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر) مِنَ : سے النَّارِ : آگ
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کائنات اس میں ہے اسکو خالی از مصلحت نہیں پیدا کیا یہ انکا گمان ہے جو کافر ہیں سو کافروں کے لئے دوزخ کا عذاب ہے
27 ۔ 29:۔ باطلا سے مراد ہے مقصد اور کھیل تماشا ہے یعنی ہم نے آسمان اور زمین کو محض امر صحیح کے لئے پیدا یا ہے وہ ہماری قدرت پر دلالت ہے یہ کفار کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو باطل پیدا کیا ہے۔ کفار کو شرمندہ کرنے کے لئے فرمایا : ام نجعل الذین آمو۔ ام میں میم زائدہ ہے تقدیر کلام یہ ہے انجعل الذین اس آیت میں مرجہ کا رد ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں : یہ جائز ہے کہ مفسد ‘ صالح کی طرف ہو یا اس کے درجہ میں بلند ہو بعد والی کلام نجعل المتقین کالفجار بھی اس طرح ہے یعنی کیا ہم سرور دو عالم ﷺ کے صحابہ کو کفار کی طرح بنا دیں گے ‘ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ متقین ‘ فجار اور کفار کو عام ہے۔ یہ تعبیر سب سے اچھی ہے جو دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرتے ہیں ان کا بھی اس میں رد ہے جنہوں نے مطیع اور عاصی کا ٹھکانا ایک چیز بنایا ہے۔ کتب یہ خبر ہے اس کا مبتدا مخدوف ہے لیدبرو اصل میں لیتدبروا تھا تاء کو دال میں مدغم کیا گیا ہے اس میں یہ دلیل ہے کہ قرآن کے معانی کی معرفت واجب ہے اور اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا تیز پڑھنے سے افضل ہے جس طرح ہم نے کتاب التذکار میں بیان کیا ہے تیز پڑھنے کی صورت میں تدبر نہیں ہو سکتا۔ حضرت حسن بصری ؓ نے کہا : آیابت میں تدبر سے مراد ان کی اتباع ہے (2) عام قراءت لیدبروا ہے۔ ابو جعفر اور شیبہ نے لید بروا یعنی دال کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ‘ حضرت علی شیر خدا کی قراءت بھی یہی ہے اصل میں لتندبروا تھا تخفیف کی وجہ سے ایک تاء حذف ہے۔ اولوا الالبات سے مراد اصحاب عقول ہیں اس کا واحد لب ہے اس کی جمع الب بھی آتی ہے جس طرح بوس کی جمع ابوس آتی ہے اور نعم کی جمع انعم آتی ہے۔ ابو طالب نے کہا : قلبی الیہ مشرف الالب محل استدلال الب ہے بعض اوقات ضرورت شعری کی بنا پر تضعیف کو ظاہر کرتے ہیں کمیت نے کہا : الیکم ذوی آل النبی تطلعت نوازع من قلبی ظماء والبب محل استدلال البب ہے۔
Top