Al-Qurtubi - Saad : 41
وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ
وَاذْكُرْ : اور آپ یاد کریں عَبْدَنَآ : ہمارا بندہ اَيُّوْبَ ۘ : ایوب اِذْ نَادٰى : جب اس نے پکارا رَبَّهٗٓ : اپنا رب اَنِّىْ : بیشک میں مَسَّنِيَ : مجھے پہنچایا الشَّيْطٰنُ : شیطان بِنُصْبٍ : ایذا وَّعَذَابٍ : اور دکھ
اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ (بار الہا) شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے
واذکر عبدنا ایوب یہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ مشکلات میں صبر پر ان کی اقتدا کریں ایوب یہ عبدنا سے بدل ہے۔ اذا نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصیب و عذاب۔ عیسیٰ بن عمر نے ان ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء نے کہا : قراء نے بنصب پر اتفاق کیا ہے یعنی نون مضموم اور صاد ساکن ہے شد نہیں۔ نحاس نے کہا : یہ علط ہے ا کے بعد مناقض ہے اور وہ بھی غلط ہے کیونکہ اس نے کہا : قراء نے اس پر اجماع کیا اس کے بعد یہ حکایت کی کہ قراء نے یزید بن قعقاع سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اسے بنصب پڑھا ہے اور ابو جعفر کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے ‘ ابو جعفر نے بنصب پڑھا ہے ‘ اب عبید اور ددوسرے قراء نے اسی طرح بیان کیا ہے ‘ حضرت حسن بصری سے اسی طرح مروی ہے جہاں تک بنصب کا تعلق ہے یہ عاصم جحدری اور یعقوب حضرمی کی قراءت ہے ‘ حضرت حسن بصری سے بھی یہی قراءت مروی ہے بنصب ابو جعفر سے بھی مروی ہے۔ اکثر نحفویوں کے نزدیک سے یہ سب نصب کے معنی میں ہیں نصب اور نصب ‘ حزن اور حزن کی طرح ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ نصب ‘ نصب کی جامع ہو جس طرح وثن کی جمع و ثن آتی ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ نصب ‘ نصب کے معنی میں ہو اس سے ضمہ حذف ہے جہاں تک وما ذبح علی النصب) المائدہ (3: کا تعلق ہے تو ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نصاب کی جمع ہے۔ ابو عبید اور دوسرے علماء نے کہا : نصب کے معنی شر اور آزمائش ہے اور نصب کا معنی تھکاوٹ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دونوں کا معنی ایک ہی ہے ‘ اس آیت سے مراد ہے شیطان جو وسوسہ لاحق کرتا ہے اس نے مجھے وہی پہنچایا ہے۔ کوئی اور چیز اس نے مجھے لاحق نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ‘ یہ نحاس نے زکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ نصب سے مراد وہ چیز ہے جو اس کے بدن کو لاحق ہو اور عذاب سے مراد وہ چیز ہے جو اس کے مال کو لاحق ہو اس میں حقیقت سے بعید ہے۔ مفسرین نے کہا : ایوب رومی تھے یہ بثنیہ سے تعلق رکھتے تھے ان کی کنیت ابو عبداللہ تعھی ‘ یہ واقدی کی قول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت کے لئے چن لیا ان کے پاس ال اور اولاد کی کثرت تھی وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر بجا لانے والے تھے اللہ تعالیٰ کے بندوں سے ہمدردی کرتے ‘ نیک ‘ رحم دل تھے۔ تین افراد کے علاوہ کوئی ان پر ایمان نہ لایا۔ دونوں میں ایک دن ابلیس کے لئے ساتویں آسمان میں ٹھہرنے کا موقع بنا ابلیس اپنی عادت کے مطابق وہاں بیٹھا اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا یا اسے کہا گیا : کیا تو میرے بندے ایوب پر کوئی قدرت رکھتا ہے ؟ ابلیس نے عرض کی اے میرے رب ’ میں اس پر کس طرح قادر ہو سکتا ہوں جب کہ تو نے اسے مال اور عافیت کے ساتھ آزمائش میں ڈال رکھا ہے اگر تو نے آزمائش اور فقر کے ذریعے آزمائے اور جو کچھ تو نے اسے عطا کر رکھا ہے وہ اس سے واپس لے لے تو وہ اپنی حالت سے بدل جائے گا اور تیری اطاعت سے نکل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تجھے اس کے اہل اور مال پر تسلط دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دشمن آسمان سے نیچے اترا اس نے جنوں میں سے سرکش جنوں کو اکٹھا کیا اور انہیں سب کچھ بتایا ‘ ان میں سے ایک نے کہا : میں ایک بگولہ بنوں گا جس میں آگ ہوگی تو میں اس کا مال ہلاک کر دوں گا وہ حضرت ایوب کی خدمت میں مال کے منتظم کی صورت میں آیا اس کے مال پر جو کچھ واقع ہوا تھا وہ سب بتایا تو حضرت ایوب نے کہا : الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے ہی مال عطا کیا ہے اور اسی نے مال روک لیا ہے۔ پھر وہ آپ کے اس محل میں آیا جہاں آپ کے گھر والے اور آپ کی اولاد تھی اس نے محل کو اطراف سے اٹھایا اور اسے آپ کے ابل و اولاد پر دے مارا پھر وہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے پاس آیا اور انہیں بتایا تو حضرت ایوب نے مٹی اپنے سر پر ڈالی ابلیس آسمان کی طرف چڑھا تو حضرت ایوب (علیہ السلام) کی توبہ اس سے سبقت لے جا چکی تھی۔ ابلیس نے کہا : اے میرے رب ! مجھے اس کے بدن پر غلبہ عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : میں نے تجھے اس کے بدن پر مسلط کیا مگر اس کی زبان ‘ اس کے بدل میں اس کی آنکھ پر تسلط عطا نہیں کیا۔ اس نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کے جسم پر ایک پھونک ماری جس کی وجہ سے آپ کا جسم جل گیا تو آپ کے جسم میں م سے نکل آئے آپ نے انہیں اپنے ناخنوں سے رگڑایہاں تک کہ ان سے خون نکلنے لگا پھر ٹھیکری کے ساتھ ملا تو آپ کا گوشت گرگیا اس موقع پر کہا تھا : مسی الشیطن پیٹ کے اندر تک کوئی بیماری نہ پہنچی کیونکہ نفس کی بقاء پیٹ کے اندرونی حصہ سے ہوا کرتی ہے آپ کھاتے اور پیتے آپ تین سال تک اسی طرح جب حضرب ایوب (علیہ السلام) اس پر غالب آگئے تو وہ اپ کی بیوی کے پاس انسانوں میں سے خوبصورت ترین اور معزز ترین فرد کی صورت میں آیا اس نے آپ کی بیوی سے کہا : میں زمین کا معبود ہوں ‘ میں نے ہی تیرے خاوند کے ساتھ کیا جو کچھ کیا اگر تو مجھے ایک سجدہ کر دے تو میں اس اہل ابل اور اس کا مال اس کی طرف لوٹا دونگا جب کہ وہ سب میرے پاس ہیں اسی شیطان نے وہ تمام چیزیں ایک وادی میں آپ کی بیوی کے سامنے کردیں اس عورت نے وہ تمام باتیں حضرت ایوب کو بتائیں تو حضرت ایوب نے قسم اٹھائی اگر وہ صحت مند ہوئے تو ضرور اس بیوی کو ماریں گے۔ مفسرین نے ان کی آزمائش کے سبب ‘ اپنے رب کی طرف مراجعت ‘ اس مصیب سے چھٹکارا جو مصیب ان پر واقع ہوئی تھی اور وہ تین افراد جو آپ پر ایمان لائے جنہوں نے اپ کو اس سے منع کیا تھا اور آپ پر اعتراض کیا تھا پر طویل گفتگو کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک مظلوم نے آپ سے مدد طلب کی تھی تو حضرت ایوب (علیہ السلام) نے اسکی مدد نہ کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ایک دن آپ نے لوگوں کو کھانے پر بلایا تو آپ نے ایک فقر کو داخل ہونے سے روک دیا اس وجہ سے وہ آزمائش میں مبتلا ہوئے۔ ایک قول یہ کیا گیا : آپ ایک بادشاہ سے برسرپیکار تھے جب کہ آپ کے ریوڑ اس کی مملکت میں تھے تو اس ریوڑ کی وجہ سے اس کے ساتھ غزوہ کو ترک کر کے اس کے ساتھ نری کی تو اس وجہ سے آپ کو آزمائش میں مبتلا کیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوگ آپ کی بیوی سے مرض کے پھیل جانے سے دور رہتے وہ کہتے : ہم عدوی سے ڈرتے ہیں جب کہ وہ آپ کی بیوی سے نفرت کرتے اسی وجہ سے فرمایا : مسنی الشیطن آپ کی بیوی لیا بنت یعقوب تھی۔ حضرت ایوب ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دور میں تھے ان کی ماں حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیٹی تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت ایوب کی بیوی رحمہ بن افرائیم بن یوسف بن یعقوب (علیہم السلام) تھی ‘ ان دونوں قولوں کو طبری نے ذکر کیا ہے۔ ابن عربی نے کہا : مفسرین نے جو یہ کہا کہ ابلیس کا سال میں ایک دن ساتویں آسمان میں بیٹھنے کی جگہ تھی تو یہ قول باطل ہے کیونکہ شیطان کو زمین کی طرف لعنت اور ناراضگی کے ساتھ اتارا گیا تو محل رضا کی طرف کیسے بلند ہو سکتا ہے ؟ انبیئا کے مقامات میں کیسے گھوم پھر سکتا تھا ؟ وہ آسمانوں کو پھاڑتا تو انبیاء کی منازل کی طرف ساتویں آسمان کی طرف بلند ہوتا اور حضرت خلیل کی جگہ جا کر ٹھہر تا بیشک یہ بہت بڑی غلطی ہے اور جہالت کی پیداوار ہے۔ جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تجھے اس کے مال اور اس کی اولاد پر تلسط عطا کردیا ہے یہ قدرت میں ممکن ہے لیکن اس قصہ میں بعید ہے اسی طرح ان کا یہ کہنا کہ شیطان نے اپ کے جسم میں پھونک ماری جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کو ان کے جسم پر غلبہ دیا یہ بھی حقیقت سے بہت ہی بعید بات ہے اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کو پیدا فرمائے جب کہ شیطان کا اس میں کوئی عمل دخل نہ ہو یہاں تک کہ شیطان کی اس بات سے آنکھ ٹھنڈی ہو کہ اسے انبیاء کے اموال ‘ ان کے اہل اور ان کی ذاتوں میں قدرت حاصل ہوئی ہے۔ جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے کہ شیطان نے آپ کی زوجہ سے یہ بات کی کہ وہ زمین کا الہ ہے اگر تو اللہ کا ذکر چھوڑ دے اور تو مجھے سجدہ کرے تو میں اسے درست کروں گا۔ یہ بات ذہن نشین کرلو اور تم خوب اچھی طرح جانتے ہو کہ اگر وہ تم میں سے کسی کے سامنے آئے جب کہ اس انسان کو درد ہو اور شیطان ن سے یہ بات کرے تو اس کے نزدیک یہ جائز نہیں ہوگا کہ اس کا زمین میں ایک خدا ہو اس کے لئے یہ جائز نہیں ہوگا کہ وہ سیطان کو سجدہ کرے اور شیطان اسے مصیبت سے عافیت دلائے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک نبی کی زوجہ اس سے شک میں مبلتا ہو ؟ اگرچہ وہ دیہاتی بیوی ہو یا کم عقل بربری عورت ہو اس کے لئے یہ جائز نہیں۔ جہاں تک شیطان کے اس معاملہ کا تعلق ہے کہ اس نے حضرت ایوب کی بیوی کے لئے اموال اور ان کے اہل کو ایک وادی میں مثالی صورت میں پیش کئے ابلیس کسی حال میں بھی اس پر قادر نہیں نہ ہی وہ جاجادو کے طریقہ پر ایسا کرسکتا ہے ایک قول یہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس جنس سے تھا۔ اگر یہ تصور کیا جائے تو آپ کی بیوی پہچان جاتی کہ یہ جادو ہے جس طرح ہم جان لیتے ہیں جب کہ وہ ہماری بنسبت اس بارے میں زیادہ پہچان رکھتی تھی کیونکہ جادو ‘ اس کے بارے میں گفتگو ‘ لوگوں کے درمیان اس کے جاری ہونے اور اس کی تصویر کشی سے کوئی زمانہ آج تک خالی نہیں رہا۔ قاضی نے کہا : جس چیز نے ان اقوال پر جری کردیا ہے اور انہوں نے اس کے بارے میں زیادہ گفتگو کی وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : اذ نادی ربہ انی مسنی الشیطن بنصیب و عذاب۔ جب انہوں نے ایہ دیکھا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے شیطان کے مس کرنے کی شکایت کی تو انہوں نے اپنی رائے سے ان چیزوں کو ملا دیا جن اقوال کا ذکر پہلے گزر چکا ہے جب کہ معاملہ اس طرح کا ننیں جس طرح انہوں نے گمان کیا ہے جب کہ تمام افعال اچھے ہوں یا برے ہوں ایمان ہو یا کفر ‘ اطاعت ہو یا نافرمانی سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ان کے خالق میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ان کے علاوہ چیزوں کی تخلیق میں بھی کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں لیکن شرک ذکر میں اس کی طرف منسوب نہیں کیا جاتا اگرچہ خلق میں اسی سے موجد ہے یہ بطور ادب ہے جس کی بطور ادب ہیں تعلیم دی گئی اور بطور حمد جو ہمیں سکھایا گیا نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد اسی معنی میں ہے : والخیر فی یدیک والشر یس الیک۔ اسی معنی میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قول ہے : و اذا مرضت فھو یشفین۔ ) الشعرائ ( نوجوان نے حضرت کلیم سے یہ کیا تھا : وما انسنیہ الا شیطان) الکہف (63: جہاں تک اس قول کا تعلق ہے کہ ایک مظلوم نے مدد طلب کی تو آپ نے اس کی مدد نہ کی کون ہمارے لئے اس قول کی صحبت کو ثابت کرے یہ امر اس سے خالی نہ ہوگا کہ آپ اس کی مدد پر قادر تھے تو کسی کے لئے بھی اس کو ترک کرنا حلال کرنا پس اس پر ملامت کی جائے گی کہ انہوں نے نافرمانی کی جب کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) اس سے منزہ تھے یا وہ مدد کرنے سے عاجز تھے تو پھر اس وجہ سے ان پر کوئی قدغن نہ ہوئی اسی طرح ان کا یہ قول بھی ہے کہ آپ نے فقیر کو داخل ہونے سے روکا تھا اگر آپ کے علم ہوتا تو یہ ان کے بارے میں کہنا ہے اگر جانتے ہی نہ تھے تو ان پر کوئی قدغن نہیں۔ جہاں تک یہ کہنا ہے کہ بھیڑ بکریوں کی وجہ سے کافر بادشاہ سے نرمی کی تھی تو تو داھن کا لفظ نہ کہہ بلکہ داری کا لفظ کہہ۔ کافر اور ظالم کو نفس اور مال سے مال کے ذریعے دور کرنا جائز ہے ہاں اچھی گفتگو سے کرنا بھی جائز ہے۔ ابن عربی قاضی ابوبکر نے کہا : حضرت ایوب کے بارے میں کچھ ثابت نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان دو آیات میں جو خبری دی ہے : و ایوب اذ نادی ربہ انی مسنی الضر) الانبیائ (83 دوسری سورت میں ہے : انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب۔ جہاں تک نبی کریم ﷺ کا تعلق ہے تو آپ سے کوئی چیز صحیح سند کے ثابت نہیں مگر یہ قول ملتا ہے بینا ایوب یغتسل اذخر علیہ رجل من جراد من ذہب (1) ۔ جب حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بارے میں آپ سے نہ قرآن اور نہ حدیث سے کوئی چیز ثابت ہے مگر جس کا ہم نے زکر کیا ہے تو وہ کون ہے جو سامع تک اپنی خبر پہنچا دیتا ہے یا کس زبان سے اس نے یہ بات سنی ہے۔ علماء کے نزدیک اسرائیل روایات قطعی طور پر ترک کردی گئی ہیں ان کی تحریروں سے اپنی نظر کو دور رکھو اور ان کے سننے سے اپنے کانوں کو بند رکھو کیونکہ اسرائیلیات تجھے صرف خیال عطا کریں گی اور تیرے دل میں سوائے فساد کسی کسی چیز کا اضافہ نہ کریں گی۔ صحیح میں ہے جب کہ الفاظ امام بخاری کے ہیں کہ حضرت ابن عباس ﷺ نے کہا : اے مسلمانوں کی جماعت ! اہل کتاب سے سوال کرتے ہو جب کہ تمہاری وہ کتاب جو تمہارے نبی پر نازل کی گئی یہ اللہ تعالیٰ کی خبریں دیے میں سے سب سے نئی ہے تم اسے خالص پڑھتے ہو اس میں کسی چیز کی آمیزش نہیں اس نے تمہارے سامنے یہ بیان کیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ تعالیٰ کی کتابوں میں تبدیلی کی ہے اپنے ہاتھوں سے کتابیں لکھیں اور کہا : ھذا من عند اللہ لیشترو بہ ثمنا قلیلا) البقرہ (79: تمہارے پاس جو علم آیا ہے وہ تمہیں ان سے سوال کرنے سے نہیں روکتا نہیں ہر گز نہیں ‘ اللہ تعالیٰ کی قسم ! ہم نے ان میں سے کسی ایک آدی کو بھی نہیں دیکھا جو تم سے اس چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے جو تم پر نازل ہوا جب کہ مٔوطا کی حدیث میں نبی کریم ﷺ نے اس امر کو عجیب جانا کہ حضرت عمر تو رات کی قراءت کر رہے تھے۔ ارکض برجلک ‘ رکض سے مراد ہے پائوں سے دھکیلنا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : رکض الدابۃ و رکض ثوابہ برجلہ اس نے جانور کو پائوں مارا۔ اس نے کپڑے کو اپنے پائوں سے پرے کیا۔ مبرد نے کہا : رکض کا معنی حرکت دینا ہے اسی وجہ سے اصمعی نے کہا : یہ کہا جاتا ہے رکضت الدابۃ یہ نہیں کہا جاتا : رکضت ھی کیونکہ رکض کا معنی ہے سوار کا اپنی ٹانگوں کو حرکت دینا۔ اس سواری کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ سیبویہ نے کہا : رکضت الدابۃ فراکضت جس طرح یہ جملہ ہے جبرت العظیم فجبر و حزتنہ فخرن میں نے سواری کو حرکت دی تو اس نے حرکت کی میں نے ہڈی کو جوڑا تو وہ جڑ گئی ‘ میں نے اسے غمگین کیا تو وہ غمگین ہوگیا ‘ کلام میں اضما رہے یعنی ہم نے نے کہا : ارکض یہ کسائی کا قول ہے۔ ھذا مغتسل بارد و شراب۔ یہ اس وقت کہا جب اللہ تعالیٰ نے اسے عافیت عطا کردی۔ حضرت ایوب نے پائوں مارا تو اس کی وجہ سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا تو آپ نے اس سے غسل کیا تو ظاہر سے بیماری چلی گئی پھر آپ نے اس سے غسل کیا تو ظاہر سے بیماری چلی گئی پھر آپ نے اس سے پانی پیا تو باطن سے بھی بیماری رفع ہوگئی۔ قتادہ نے کہا : یہ دنوں شام کی سرزمین میں دو چشمے ہیں جس سر زمین کو جابیہ کہتے ہیں آپ نے ان میں سے ایک سے غسل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے ظاہر سے بیماری کو دور کردیا اور دوسرے چشمے سے پانی پیا تو اللہ نے ان کے باطن سے بیماری کو دور کردیا (1) ‘ اسی کی مثل حضرت حسن بصری اور مقاتل سے مروی ہے کہ مقاتل نے کہا : گرم چشمہ پھوٹ پڑا آپ نے اس کے پانی سے غسل کیا تو صحیح وسالم وہاں سے نکلے پھر دوسرا چشمہ پھوٹا تو آپ نے اس سے میٹھا پانی پیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پائوں مارنے کا حکم اس لیے دیا تاکہ آپ کے جسم میں جو بھی بیماری ہے وہ جھڑ جائے۔ مغتسل سے مراد وہ پانی ہے جس سے غسل کیا جاتا ہے ‘ یہ قتبی نے کہا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد وہ جگہ ہے جہاں غسل کیا جاتا ہے۔ مقاتل کا قول ہے جوہری نے کہا : اغتسلت بالماء ‘ غسول اس پانی کو کہتے ہیں جس پانی سے غسل کیا جاتا ہے اس طرح مغتسل بھی وہ پانی ہے جس کے ساتھ غسل کیا جاتا ہے مغسل اور مغسل مردوں کے غسل کی وجہ کو کہتے اس کی جمع مغاسل ہے۔ اس امر میں اختلاف ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کتنا عرصہ آزمائش میں مبتلا رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سات سال ‘ سات ماہ ‘ سات دن اور سات گھنٹے (1) ۔ وہب بن منبہ نے کہا : حضرت ایوب (علیہ السلام) نے سات سال تک بیماری پائی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) سات سال تک قید میں رہے بختصر کو عذاب دیا گیا اور سات تک اسے درندوں میں محبوس کیا گیا ‘ یہ ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دس سال تک آپ کی بیماری رہی۔ ایک قول یہ کیا گیا : آٹھ سال تک آپ کی بیماری رہے ‘ اسے حضرت انس نے مرفوع نقل کیا ہے جسے ماوردی نے نقل کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : اسے ابن مبارک نے ذکر کیا ہے۔ یونس بن یزید ‘ عقیل سے وہ ابن شہاب سے روایت ہے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز حضرت ایوب (علیہ السلام) اور انہیں جو آزمائش آئی اس کا ذکر کیا اور یہ ذکر کیا کہ آزمائش جو آپ کو پہنچی تھی وہ اٹھارہ سال تک رہی ‘ قشیری نے اس حدیث کا زکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ عرصہ چالیس سال تھا۔ وو ھبنا لہ اھلہ و مثلھم معھم اس کے بارے گفتگو سورة الانبیاء میں گذر چکی ہے۔ رحمۃ سے مراد نعمت ہے ‘ یہ دانشمندوں کے لئے عبرت ہے۔
Top