Al-Qurtubi - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو بیشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف و فضیلت) مقصود ہے
6 ۔ 11:۔ الملاء کا معنی اشراف ہیں انطلق کا معنی تیز سے جان ہے یعنی یہ کفار رسول ﷺ کے پاس سے نکلے وہ ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے جس طریقہ پر تم پہلے ہو اسی پر گامزن رہو اور اس کے دین میں داخل نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ابو طالب بن ہشام ‘ شیبہ اور عتبہ جور بیعہ بن عبد شمس کے بیٹھے تھے امیہ بن خلف ‘ عاص بن وائل اور ابو معیط تھے وہ ابو طالب کے پاس آئے تھے انہوں نے کہا : تو ہمارا سردار ہے اور ہمارے بارے میں بہتر انصاف کرنے والا ہے اپنے بھتیجے اور اس کے ساتھ جو بیوقوف لوگ ہیں ان کے ساتھ ہمارے بارے میں معاملات اپنے ہاتھ میں لیں انہوں نے ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیا اور ہمارے دین میں طعن کیا۔ ابو طالب نے نبی کریم ﷺ کو بلا بھیجا اور کہا : تیری قوم تجھے انصاف کی طرف دعوت دیتی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں انہیں ایک بات کی دعوت دیتا ہوں “۔ ابو جہل نے کہا : ایک کیا دس۔ فرمایا : تم کہو لا الہ الا اللہ وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا : کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے۔ ان امشوا میں ان محل نصب میں ہے معنی بان امشوا یعنی باء حرف جار مخدوف ہے اور اس کے حذف کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان ای کی معنی میں ہے یعنی امشوا ‘ انطلق کی تفسیر ہے اس کا مطلب ہے یہ نہیں کہ انہوں نے یہ لفظ بولا۔ ایک قول یہ کیا گیا : ان میں سے معززین چلے اور انہوں نے عوام سے کہا : امشوا و اصبرو علی الھتکم یعنی اپنے بتوں کی عبادت پر صبر کرو ان ھذا یعنی جو حضرت محمد ﷺ لائے ہیں جس کے ساتھ اہل زمین کے بارے میں اس چیز کا ارادہ کیا گیا ہے کہ قوم سے نعمتوں کا زوال ہو اور جو ان پر نازل ہوا ہے ان کی تبدیل کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ان ھذا الشیء یراد۔ کلمہ تخدیر ہے یعنی محمد ﷺ جو کہتے ہیں اس کے ساتھ وہ ہم سے اطاعت کے طالب ہیں تاکہ وہ ہم پر غالب آجائیں اور ہم اس کے پیرو کار بن جائیں تو اس طریقہ سے جو وہ چاہے اس پر حکم چلائے تو اس کی اطاعت کرنے سے بچو مقاتل نے کہا : حضرت عمر ؓ جب مسلمان ہوئے اور ان کے ذریعے سے اسلام کو قوت و شوکت نصیب ہوئی تو یہ امر قریش پر شاق گذرا تو انہوں نے کہا کہ حضرت عمر کے اسلام لانے سے اسلام کو ایسی قوت حاصل ہوئی ہے۔ جس کا ارادہ کیا جا رہا تھا (1) ۔ حضرت ابن عباس ‘ قرظی ‘ مقاتل ‘ کلبی اور سدی نے کہا : وہ ملۃ اخرہ سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ملت مراد لیتے ہیں یہ ملتوں میں سے آخری ملت ہے ‘ نصاری بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ الہ بناتے ہیں۔ مجاہد اور قتادہ نے یہ بھی کہا : وہ قریش کی ملت مراد لیتے تھے (2) ۔ حضرت حسن بصری نے کہا : ہم نے یہ نہیں سنا تھا کہ یہ آخری زمانہ ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اہل کتاب سے یہ نہیں سنا تھا کہ حضرت محمد ﷺ رسول حق ہیں۔ یہ تو سراسر جھوٹ ہے۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء سے مروی ہے کہ یہ جملہ کہا جاتا ہے : خلق و اختلق یعنی اس نے نیا کام شروع کیا خلق اللہ الخلق اسی معنی میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں بغیر مثال کے پیدا کیا۔ ء انزل علیہ الذکر من بیننا یہ کلام استفہام انکاری ہے ‘ ذکر سے یہاں مراد قرآن ہے یعنی انہوں نے آپ کی وحی کے ساتھ خاص کرنے کا انکار کیا من ذکری سے مراد میری وحی ہے وہ قرآن ہے یعنی وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ہمیشہ سے ان کے درمیان سچے رہے ہیں میں نے جو آپ پر نازل کیا ہے اس کے بارے میں انہوں نے شک کیا کہا : وہ میری جانب سے ہے یا میری جانب سے نہیں۔ اصل میں لمبی مہلت کی وجہ سے دھوکہ میں مبتلا ہوئے اگر شرک کی بناء پر میرا عذاب چکھ لیتے تو ان سے شک شائل ہوجاتا ہے اور وہ یہ بات نہ کرتے لیکن اس وقت انہیں ایمان کوئی نفع نہ دے گا لما یہ لم کے معنی میں ہے اور ما زائدہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان : عما قلیل) المومنون (40: اور فبما نقضھم) المائدہ (13: کیا ان کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں تو وہ محمد ﷺ سے ان نعمتوں خصوصا نبوت کو روک لیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کی ہے۔ ام کا لفظ کبھی تقریع کے معنی میں آتا ہے جب کلام ماقبل کے ساتھ متصل ہو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : الم۔ تنزیل الکتب لا ریب فیہ من رب العلمین۔ امر یقولون افترہ) السجدہ ( ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ام عندھم خزآئن رحمۃ ربک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ متصل ہے و عجبوا ان جاء ھم منزرمنھم معنی اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے رسول بنا کر معبوث کرتا ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اسی کے ہیں یا زمین و آسمان کے خزانے ان کی ملکیت ہیں اگر وہ اس کا دعوی کرتے ہیں پس انہیں چاہیے آمسانوں کی طرف چڑھیں اور فرشتوں کو اس بات سے روک دیں کہ وہ حضرت محمد ﷺ پر وحی لے کر آئیں۔ یہ کہا جاتا ہے : رقی برقی اور ارقی یعنی وہ بلند ہوگئے رقی ‘ یرقی اور رقاک یہ رمی یرمی اور رمیا کی طرح ہے یہ رقیۃ سے مشتق ہے ربیع بن انس نے کہا : اسباب بال سے باریک اور لوہے سے مضبوط ہیں لیکن وہ دکھائی نہیں دیتے۔ لغت میں سبب ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو مطلوب تک پہنچانے والی ہو وہ رسی یا کوئی اور چیز۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسباب سے مراد آسمان کے ابواب یا اسباب ہیں جن سے فرشتے اترتے ہیں ‘ یہ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ زہیر نے کہا : لورام اسباب السماء بسلم کاش وہ سیڑھی کے ذریعے آسمان اسباب کا قصد کرتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسباب سے مراد آسمان ہیں یعنی نہیں چاہیے کہ وہ ایک ایک آسمان پر چڑھیں۔ سدی نے کہا : فی اسباب سے مراد فضل اور دین ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسباب سے مراد رسیاں ہیں (1) یعنی اگر وہ رسیاں اور سبب پائیں جن میں وہ آسمان کی طرف بلند ہوں تو وہ چڑھیں۔ یہ امر تو بیخ اور تعجیز کے لئے ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے خلاف اپنی نبی کی مدد کا وعدہ کیا جندما ھنالک یہاں ما زائدہ ہے تقدیر کلام یہ ہوگی ہم جند پس جند مبتدا محذف کی خبر ہے مھزوم یعنی ذلیل اور رسول ہونگے ان کی دلیل ختم ہوجائے گی کو ن کہ اوہ اس مرحلہ تک نہیں پہنچیں گے کہ وہ یہ کہیں یہ ہمارے لئے ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : تھزمت القربۃ جب وہ مشکیزہ ٹوٹ جائے ‘ ھزمت الجیش نے لشکر کو شکست دے دی کلما ما قبل کے ساتھ مربوط ہے یعنی وہ شکست خوردہ لشکر ہیں تو ان کا تکبر اور قبول حق سے رکنا تجھے غم میں نہ ڈالے بیشک میں ان کی جمعتیوں کو شکست دے دونگا وران کی عزلت کو سلب کر دونگا یہ نبی کریم ﷺ کو انس عطا کرنا ہے بدر کے روز آپ کے ساتھ ساتھ ایسا کیا بھی گیا۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں شکست دے گا جب کہ وہ مکہ مکرمہ میں تھے تو ان کی تابیل بدر کے روز سامنے آئی ھنالک میں بدر کی طرف اشارہ ہے یہ وہ جگہ تھی جہاں وہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا : احزاب سے مراد وہ گروہ ہیں جو مدینہ طبیہ آئے اور نبی کریم ﷺ سے برسرپیکار ہوئے۔ یہ بحث سورة احزاب میں گزر چکی ہے۔ احزاب کا معنی لشکر ہے جس طرح کہا جاتا ہے : جند من قبائل شتی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ احزاب سے مراد کفار کی گذشتہ قومیں ہیں یعنی یہ لشکر ان کے طریقہ پر ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فمن شرب منہ فلیس منی و من لم یطعہ فانہ منی) البقرۃ (249 من سے مراد ہے وہ سیرے دین اور مذہب پر ہے۔ فراء نے کہا : وہ مغلوب لشکر ہیں یعنی انہیں اس چیز سے روک دیا گیا ہے کہ وہ آسمان کی طرف بلند ہوں۔ قتنبی نے کہا : یعنی وہ ان معبودوں کے شکست خوردہ لشکر ہیں وہ اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنے معبود ان باطلہ سے کسی چیز کا مطالبہ کرییں اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانوں سے اپنے لئے کسی چیز کا دعوی کرسکتے ہیں اور نہ آسمانوں اور زمین سے کسی چیز کا دعوی کرسکتے ہیں۔
Top