Al-Qurtubi - Saad : 75
قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ
قَالَ : اس نے فرمایا يٰٓاِبْلِيْسُ : اے ابلیس مَا مَنَعَكَ : کس نے منع کیا تجھے اَنْ تَسْجُدَ : کہ تو سجدہ کرے لِمَا : اس کو جسے خَلَقْتُ : میں نے پیدا کیا بِيَدَيَّ ۭ : اپنے ہاتھوں سے اَسْتَكْبَرْتَ : کیا تو نے تکبر کیا اَمْ كُنْتَ : یا تو ہے مِنَ : سے الْعَالِيْنَ : بلند درجہ والے
(خدا نے) فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسکے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا ؟ کیا تو غرور میں آگیا ؟ یا اونچے درجے والوں میں تھا
75 ۔ 83:۔ مامنعک کس نے تجھے حکم بجا لانے سے پھیر دیا اور اس سے روک دیا کہ تو سجدہ کرے لما خلقت بیدی اللہ تعالیٰ نے اس کی خلقت کو اپنی ذات کی طرف منسوب کیا مقصود حضرت آدم (علیہ السلام) کی کرامت کا اظہار کا تھا اگرچہ وہ ہر شے کا خالص ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف روح ‘ بیت ‘ ناقہ اور مساجد کو مضاف کیا لوگوں سے اسی طریقہ سے خطاب کیا جس طرح لوگ اپنے معمولات میں آگاہ تھے کیونکہ مخلوقات میں سے ریئس اپنے ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرتا مگر اس شے کی عظمت بیان کرنا مقصود ہوتا ہے یہاں بھی ید کا ذکر اسی معنی میں ہے۔ مجاہد نے کہا یہاں ید کا ذکر تاکید کے لئے اور زائد ہے اس کے معنی ہے لما خلقت انا جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : و یبقی وجہ بک) الرحمن (27: اس سے مراد یبقی ربک ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں ید کے ذکر میں یہ دلیل ہے کہ یہاں یہ لفظ نعمت ‘ قوت اور قدرت کے معنی میں نہیں یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی ذات کی صفات میں سے دو صفتیں ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ : یہاں ید سے مراد قدرت ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : مالی بھذا الا مرید اس کام کو بجا لانے کی مجھ میں طاقت نہیں و مالی بالحمل الثقیل ید ان اس بوجھ کو اٹھانے میں میری طاقت نہیں ‘ اس معنی پر یہ چیز بھی دلالت کرتی ہے کہ بالا جماعت پیدا کرنا قدرت کے ساتھ ہی واقع ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا : تحملت من عفراء مالیس لی بہ والاللحیال الرسیات یدان میں نے عفراء سے یہ تکلیفیں اٹھائیں جن کو اٹڑھانے کی مجھ میں طاقت نہ تھی اور نہ ہی مضبوط پہاڑوں کو طاقت تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لما خلقت بیدی کا معنی ہے جسے میں نے واسط کے بغیر پیدا کیا کہا : تو نے سجدہ کرنے سے تکبر کیا یا تو اپنے رب پر تکبر کرنے والوں میں سے ہے۔ محمد بن صالح ‘ شبل سے وہ ابن کثیرہ اور اہل مکہ سے بیدی استکبرت الف موصولہ کے ساتھ جملہ خبر یہ کے طور پر پڑھا ام کنت من ام منقطع ہے جو بل کے معنی میں ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح ام یقولون افتریہ) ہود (13: ہے جس نے ہمزہ استفہام پڑھا ہے تو اس کے نزدیک ام متصلہ ہوگا اور اس کے مابعد ہمزہ کے مابعد کا معاون ہوگا ہمزہ استفہام تقدیر و توبیخ کے لئے ہوگا یعنی جب تو نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کیا کیا تو نے اپنے آپ کو بڑا جانا یا تو اس قوم سے ہے جو تکبر کرتے ہیں تو تو نے بھی اس وجہ سے تکبر کیا۔ قال انا خیر منہ فراء نے کہا : عربوں سے کچھ کہتے ہیں انا اخیر منہ و اشرمنہ اصل یہی ہے مگر کثرت استعمال کی وجہ سے ہمزہ حذف ہوگیا۔ خلقتنی من نار و خلقنہ من طین۔ اس نے آگ کو مٹی پر فضیلت دی جب کہ یہ اسکی جانب سے جہالت تھی کیونکہ جواہر ایک دوسرے کی ہم جنس ہیں۔ اس نے قیاس کیا تو اس نے قیا میں خطا کی۔ سورة الاعراف میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ تو جنت سے نکل جا اور تو شہا بچوں سے رجم کیا جانے والا ہے تیرے لئے میری رحمت سے دوری قیامت کے دن تک کے لئے ہے۔ اس نے کیونکہ کفر پر اصرار کیا اس لئے اس امر کی وضاحت کیی کیونکہ لعنت تو اس روز منقطع ہوجاتی ہے پھر جب جنم میں اسے داخل کردیا جائے گا تو اسکے حق میں لعنت کا ثابت ہونا ظاہر ہوجائے گا قال رب فانظرانی الی یوم یبعثون۔ ملعون نے تو یہ ارادہ کیا تھا کہ اسے موت نہ آئے تو اس کی گزارش قبول نہ کی گئی یہ وہ دن ہے جس میں مخلوق کو موت لاحق ہوئی اس کے ساتھ نرمی کرتے ہوئے اسے مہلت دی گئی۔ قال فبعزتک لا غوینھم اجمعین۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت آدم (علیہ السلام) کے سبب دستکارا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی عزت کی قسم اٹھائی کہ شہوات کو مزین کرنے اور ان پر شبہات وارد کرنے کے لئے انسانوں کو گمراہ کرے گا لاغوینھم کا معنی ہے میں انہیں معاصی کی طرف بلائوں گا جب کہ یہ معلوم ہے کہ وہ وسوسہ کے سوا کسی چیز پر رسائی نہیں رکھتا اگر وہ وسوسہ نہ کرتا تو وہ کسی کی زندگی میں فساد نہیں ڈال سکتا تھا مگر اسی کے لئے ایسا کرسکتا ہے جو اپنی اصلاح نہیں کرتا اسی وجہ سے فرمایا : زندگی عبادت منھم المخلصین۔ یعنی وہ لوگ مستثنی ہیں جن کو تو نے اپنی عبادت کے لئے خالص کردیا ہے اور جس کو تو نے مجھ سے محفوظ کردیا ہے۔ سورة الحجر میں یہ بحث مفصل گذر چکی ہے
Top