Al-Qurtubi - Saad : 84
قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ
قَالَ : اس نے فرمایا فَالْحَقُّ ۡ : یہ حق (سچ) وَالْحَقَّ : اور سچ اَقُوْلُ : میں کہتا ہوں
کہا (سچ) ہے اور میں بھی سچ کہتا ہوں
84 ۔ 88:۔ قال فالحق والحق اقول۔ یہ اہل حرمین ‘ اہل بصر اور کسائی کی قراءت ہے حضرب ابن عباس ؓ ‘ مجاہد ‘ عاصم ‘ اعمش اور حمزہ نے پہلے لفظ الحق کو رفع دی ا۔ فراء نے اس میں جو کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ دوسرے میں اختلاف نہیں کہ وہ اقول کی وجہ سے منصوب ہے اور پہلے کو نصب اغراء کی وجہ سے ہے تقدیر کلام یہ ہوگی فاتعوا الحق واستمعوا الحق دوسرا لفظ الحق اس وجہ سے منصوب ہے کیونکہ قول کا فعل اس پر واقع ہو رہا ہے۔ واقع ہو رہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ احق الحق کے معنی ہے۔ ابو علی نے کہا : پہلا الحق فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہوگی اللہ الحق یا یہ قسم کی وجہ سے منصوب ہے اور حرف جار کو حذف کردیا گیا ہے جس طرح تو کہتا ہے اللہ لا فعلن معنی ہوگا فرمایا : حق کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم اٹھائی والحق اقول یہ جملہ ہے جو قسم اور جواب قسم کے درمیان ہ ہے یہ قصہ تاکید کے لئے آیا ہے جب لفظ الحق کو فعل مضمر کے ساتھ منصوب بنایا جائے گا تو لاملن قسم کے ارادہ پر کلام ہوگی۔ فراء اور ابو عبید نے الحق کو حقا کے معنی میں کرتے ہوئے منصوب ذکر کیا ہے یہ تعبیر نحویوں کی ایک جماعت کے نزدیک غلط ہوگی یہ کہنا جائز نہیں زید الاضربین کیونکہ لام کا ما بعد ما قابل سے الگ ہوتا ہے اس لئے ما بعد ما قبل میں عمل نہیں کرتا دونوں کے قول کے مطابق لا ملان جہنم حقا۔ جس نے لفظ الحق کو مرفوع پڑھا تو اس نے مبتدا ہونے کی حیثیت سے مرفوع پڑھا ہے تقدیر کلام یہ ہوگی فانا الحق یا الحق منی۔ دونوں نے مجاہد سے روایت نقل کی ہے یہ بھی جائز ہے کہ تقدیر کلام یہ ہو ہذا الحق۔ سیبویہ اور فراء کے مذہب کے مطابق ترسا قول ہے : حق یہ ہے کہ جہنم کو بھر دونگا ‘ مجرور پڑھنے کی صورت میں دو قول ہیں ‘ یہ ابن سمیقع اور طلبہ بن مصرف کی قراءت ہے (1) حرف قسم محذوف ہے ‘ یہ فراء کا قول ہے جس طرح وہ کہا کرتے : امۃ عزوجل لا ففعلن سیبویہ نے اس جیسی صورت میں جواز کا قول کیا ہے۔ ابو العباس نے اس میں غلطی کی ہے وہ جر کو جائز قرار نہیں دیتے کیونکہ حروف جار کو مضمر نہیں کیا جاتا (2) دوسرا قول یہ ہے کہ فراء ‘ وائو قسم کا بدل ہے جس طرح انہوں نے یہ شعر ذکر کیا : فمثلک حبلی قد طرقت و مرضع یہاں محل استدلال مثلک ہے۔ لا ملن جہنم منک منک سے مراد تیری ذات ہے اور تیری اولاد ہے وممن تبعک سے مراد بنی آدم ہے قل ما اسئلکم علیہ من اجر وحی کی تبلیغ پر کسی انعام کا مطالبہ نہیں کرتا۔ وحی کے زکر کی تبلیغ کے بعد علیہ کی ضمیر اس کے لئے ذکر کی ایک قول یہ کیا گیا ہے علیہ کی ضمیرء انزل علیہ الذکر من بیننا کی طرف لوٹ رہی ہے وما انا من المتکلفین۔ نہ میں تکلیف کرتا ہوں اور جس کا مجھے حکم نہیں دیا جاتا میں اسے اندازہ نہیں کہتا مسروق نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت نقل کی ہے جس سے کسی ایسی چیز ہے بارے میں سوال کیا جائے جس کا وہ علم نہ رکھتا ہو وہ کہہ دے میں نہیں جانتا اور وہ تکلف سے کام نہ لے کیونکہ اس کا کہنا لا اعلم یہ بھی علم ہے اللہ تعالیٰ نے نبی کر یم ﷺ سے ارشاد فرمایا : قل ما اسلکم علیہ من اجروماانا من المتکفین۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : للمتکف ثلاث علا مات ینازع من فوقہ ویتعاطی مالا ینال ویقول مالا یعلم متکف کی تین علا متیں ہیں وہ اپنے بر تر سے جھگڑا کرتا ہے وہ ایسی چیز کا لین دین کرتا ہے جو پاتا نہیں اور وہ کہتا ہے جو نہیں جانتا ہے۔ دار قطنی کی سند سے وہ حضرت عمر ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں کلے آپ رات کو چلتے رہے صحابہ ایک ایسے آدمی کے پاس سے گزرے جو آپنے حوض کے پاس بیٹھا ہوا تھا حضرت عمر ؓ نے اس سے پوچھا اے حوض والے ! آج رات تیرے حوض پر درندے آئے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا : ” اے حوض والے ! اسے نہ بتانا یہ تکلف کرنے والے ہے۔ ان درندوں کے لئے وہ ہے جو انہوں نے پی لیا اور ہمارے لئے وہ ہے جو باقی ہے وہ مشروب ہے اور پاک کرنے والا ہے “۔ موطا نے یحی بن عبدالرحمن بن حاطب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ایک قافلہ میں نکلے ان میں حضرت بن عاص ؓ یہاں تک کہ وہ ایک حوض پر وارد ہوئے حضرت عمرو بن عاص ؓ نے کہا : اسے حوض والے ! کیا تیرے حوض پر درندے وارد ہوتے ہیں ؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اے حوض والے ! ہمیں نہ بتا ہم درندوں پر وارد ہوتے ہیں اور درنے ہم پر وارد ہوتے ہیں۔ سورة فرقان میں پانیوں کے بارے میں بحث گزر چکی ہے۔ ان ھولا ذکر للعلمین۔ ھو ضمیر سے مراد قرآن ہے ‘ عالمین سے مراد جن اور انسان ہیں لتعلمن نباہ بعد حین۔ ط ضمیر سے مراد ذکر ہے اور ذکر سے مراد قرآن ہے یعنی وہ حق ہے۔ (1) ۔ بعد حین قتادہ نے کہا : موت کے بعد۔ زجاج نے بی یہی قول کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ‘ عکرمہ اور ابن زید نے کہا : یوم قیامت۔ فراء نے کہا : موت کے بعد موت سے پہلے۔ جب مسلمانوں کی تلواریں تمہیں اپنی گرفت میں لے لیں گی تو تمہارے لئے اس قول کی حققت ظاہر ہوگی جو میں تمہیں کہتا ہوں۔ سدی نے کہا : حین سے مراد یوم بدر ہے۔ حضرت حسن بصری کہا کرتے تھے : اے انسان ! موت کے وقت یقینی خبر تیرے پاس پہنچے گی (2) ۔ عکرمہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے یہ قسم اٹھائی لیصنعن کذا الی حین فرمایا : بعض حین ایسے ہیں جس کا تو ادراک نہیں کرسکتا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان : و لتعلمن نباہ بعد حین۔ اور بعض حین ایسے ہیں جس کا تو ادراک کرلیتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : توتی اکلھا کل حین با ذن ربھا) ابراہیم (25: گا بےنکلنے سے کھجور کاٹنے تک چھ ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔ اس بارے میں گفتگو سورة بقرہ اور سورة ٔ ابراہیم میں گزر چکی ہے۔
Top