تفسیر القرطبی

Al-Qurtubi · 4. An-Nisaa · Ayah 39

  1. وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا﴿39﴾

    1. وَمَاذَااور کیا
    2. عَلَيْهِمْان پر
    3. لَوْ اٰمَنُوْااگر وہ ایمان لاتے
    4. بِاللّٰهِاللہ پر
    5. وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِیوم آخرت پر
    6. وَاَنْفَقُوْااور وہ خرچ کرتے
    7. مِمَّااس سے جو
    8. رَزَقَھُمُانہیں دیا
    9. اللّٰهُاللہ
    10. وَكَانَاور ہے
    11. اللّٰهُاللہ
    12. بِهِمْان کو
    13. عَلِيْمًاخوب جاننے والا
Translation · Al-Qurtubi
اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے
Tafseer · Al-Qurtubi
آیت نمبر : 39۔ اس آیت میں مامبتدا کی حیثیت سے محل رفع میں ہے اور ذا اس کی خبر ہے، اور ذا بمعنی الذی ہے اور یہ جائز ہے کہ ما اور ذا ایک اسم ہو، پہلی صورت میں تقدیر یوں ہوگی ” وما الذی علیہم اور دوسری صورت میں تقدیر یوں ہوگی ای شیء علیہم (آیت) ” لو امنوا باللہ والیوم الاخر) یعنی ہو واجب الوجود کی اور جو رسول کریم ﷺ آخرت کی تفاصیل میں سے لے کر آئے تھے اس کی تصدیق کرتے اور خرچ کرتے اس سے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا تھا (آیت) ” وکان اللہ بھم علیما “۔ اس کا معنی ومفہوم کئی مقامات پر گزر چکا ہے۔
Al-Qurtubi - 4 : 39