Ruh-ul-Quran - Al-Faatiha : 1
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بِ : سے     اسْمِ : نام     اللّٰهِ : اللہ     ال : جو     رَحْمٰنِ : بہت مہربان     الرَّحِيمِ : جو رحم کرنے والا
اسلامی تہذیب اور بِسْمِ اللّٰہِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ہر ذی روح اپنی ضروریات کے حصول کے لیے اپنے معمولات کو انجام دینے کا پابند ہے کیونکہ کسی عمل کے بغیر اسے اپنی ضروریات میسر نہیں آسکتیں جب کہ ضروریات کے میسر آنے پر ہی اس کی زندگی کا دارومدار ہے جسے بھی اللہ نے جسم و جان سے نوازا ہے وہ اپنی جسمانی بقا کے لیے معمولات کا ایک طریقہ بنانے، اسے سر انجام دینے اور اس کے لیے محنت کرنے کا محتاج ہے اس میں کسی مخلوق کی خصوصیت نہیں بلکہ حشرات الارض سے لے کر انسان تک یہی ایک قدر مشترک ہے جو ساری مخلوقات میں نظر آتی ہے لیکن جہاں سے انسانی زندگی کا سفر شروع ہوتا ہے وہیں ہم ایک اور چیز بھی جنم لیتی ہوئی دیکھتے ہیں وہ یہ کہ ہر ذی روح مخلوق اپنی ضروریاتِ زندگی کے حصول کے لیے محنت کرتی اور دکھ اٹھاتی ہے اور اس کے پیش نظر سوائے جسمانی زندگی کی ضرورتیں پورا کرنے کے اور کچھ نہیں ہوتا لیکن انسان میں انھیں معمولات کو انجام دیتے ہوئے ایک تقسیم شروع ہوجاتی ہے جسے ہم تہذیب کے نام سے جانتے ہیں جو مہذب انسان ہیں وہ ضروریات زندگی کے حصول کے ساتھ ساتھ ہر کام کرنے سے پہلے کچھ اور تصورات بھی رکھتے ہیں جو انھیں ان کی تہذیب سکھاتی ہے اور جو غیر مہذب لوگ ہیں وہ انسان ہوتے ہوئے بھی حیوانیت کے ان تصورات سے آگے نہیں بڑھتے جن کا ذکر ہم نے ہر ذی روح کے حوالے سے کیا ہے البتہ انسانوں میں مزید ایک یہ فرق بھی رہتا ہے کہ جن کی تہذیب اعلیٰ درجے کی ہے ان کے تصورات بھی اعلیٰ اور برتر قسم کے ہوں گے اور جن کی تہذیب پست اور حقیقی انسانی مقاصد تک نہیں پہنچی ان کے تصورات تہذیب کے نمائندہ ہوتے ہوئے بھی اعلیٰ اقدار کے نمائندہ نہیں ہوتے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو جو تہذیب دی ہے مسلمانوں کی پوری زندگی اسی تہذیب میں ڈھل کر نکلتی ہے ان کا ہر کام اسی تہذیب کا غماز ہوتا ہے چناچہ اسی تہذیب کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ جب مسلمان کسی کام کو آغاز کرنا چاہیں تو کیا وہ صرف یہ سوچ کر آغاز کریں کہ ہمیں اس کام کے نتیجے میں جسمانی ضرورتوں کے حصول میں مدد ملے گی یا ہماری خواہشات اور ہماری بہیمانہ ضروریات کو پورا کرنے میں آسانی ہوجائے گی یا اس کے علاوہ بھی ان کے کچھ تصورات ہونے چاہئیں چناچہ ان کی تہذیب نے ان کو یہ سکھایا ہے کہ تمہارے مذہب، تمہارے دین اور اس سے پیدا ہونے والی تمہاری تہذیب کی بنیاد اللہ سے متعلق تمہارے صحیح تصور پر ہے اس لیے تمہارے ہر کام میں اسی تصور کو نمایاں مقام ملنا چاہیے چناچہ نسل انسانی کے آغاز سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تصور دیا گیا ہوگا پوری نسل انسانی کی تاریخ جو حضرت آدم ( علیہ السلام) سے شروع ہوتی ہے چونکہ پوری طرح محفوظ نہیں رہی اس لیے نوح (علیہ السلام) سے پہلے اس بات کا تو یقین ہے کہ انھیں بھی اسی طرح کی ہدایت ملی ہوگی لیکن اس کی کوئی حتمی گواہی انسانی تاریخ میں موجود نہیں البتہ نوح (علیہ السلام) کے زمانے سے ہم جانتے ہیں کہ اس وقت کے مسلمانوں کو بھی یہ تہذیب سکھائی گئی تھی کہ تمہیں ہر کام کرنے سے پہلے اپنے ذہن میں اللہ کے تصور کو تازہ کرنا ہے اور اس کے کے بعد اللہ کا نام لے کر کام کا آغاز کرنا ہے چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے حالات کو بیان کرتے ہوئے قرآن کریم نے بتایا ہے کہ کفار کے مسلسل کفر کے باعث جب اللہ تعالیٰ کا عذاب طوفان کی شکل میں آیا تو حضرت نوح (علیہ السلام) جو اللہ کے حکم سے کشتی تیار کرچکے تھے انھوں نے کشتی پانی میں اتاری اور اپنے تمام ماننے والوں کو حکم دیا کہ اس کشتی پر سوار ہوجاؤ یہی کشتی تمہارے ایمان کی وجہ سے تمہارے لیے نجات کا باعث بنائی گئی ہے چناچہ انھیں کشتی میں سوار کرتے ہوئے آپ نے جو الفاظ کہے قرآن کریم نے اس کو نقل کیا ہے۔ ارشاد فرمایا : وَقَالَ ارْکَبُوْ فِیْھَا بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖٖھَا وَمُرْسٰھَا ط اِنَّ رِبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (ہود۔ ١١: ٤١) (اور اس نے کہا کہ اس میں سوار ہوجاؤ، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا، بیشک میرا رب بخشنے والا اور رحم کرنے و الا ہے۔ ) اسی طرح سورة النمل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جب خبر ہوئی کہ یمن میں ایک ایسی حکومت ہے جس کی ملکہ اور اس کی رعایا ابھی تک کفر پر قائم ہیں تو آپ نے یمن کی ملکہ بلقیس کو جو خط لکھا اس کا آغاز انھیں الفاظ سے کیا گیا۔ قرآن کریم نے اس کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : اِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِنَّـہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ (نمل۔ ٢٧: ٣٠) یہ سلیمان کی جانب سے ہے اور اس کا آغاز بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سے ہوا ہے۔ ان دونوں مثالوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پروردگار نے آغاز ہی سے انسانوں کو یہ تہذیب سکھائی کہ تمہیں ہر کام کی ابتداء کرتے ہوئے اللہ کا نام لینا چاہیے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اللہ کا نام لینے کا حکم تو تمام سابقہ امتوں کو دیا گیا تھا لیکن بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ صرف قرآن کریم کی خصوصیت ہے لیکن یہ رائے صحیح معلوم نہیں ہوتی کیونکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خط سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ نہ صرف اس سے واقف تھے بلکہ ہر کام کی ابتداء اسی سے کرتے تھے جیسا کہ آپ نے اپنے خط کی ابتداء اسی سے کی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے مشرکین عرب اپنے کاموں کی ابتداء بتوں کے نام سے کیا کرتے تھے کیونکہ ان کی تہذیب کی بنیاد ان کی بت پرستی کے تصورات تھے لیکن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو پہلی وحی اتری اس میں سب سے پہلا حکم یہی دیا گیا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ (٩٦ : ١) پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے آپ کو پیدا کیا “۔ اس میں یہ ہدایت دی گئی کہ آئندہ آپ کو ہر کام اللہ کے نام سے کرنا چاہیے چناچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس کے بعد معمول ہوگیا کہ آپ ہر کام سے پہلے باسمک اللہ پڑھتے اور لکھتے تھے اور جب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نازل ہوگئی تو پھر آپ اور مسلمان ہر کام کے آغاز کے لیے نہ صرف کہ اسی کو پڑھنے لگے بلکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے اسی کے پڑھنے کا حکم دیا اور اس کی بار بار تاکید فرمائی۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ” کہ گھر کا دروازہ بند کرو تو بِسْمِ اللّٰہِ کہو، چراغ گل کرو تو بِسْمِ اللّٰہِ کہو، برتن ڈھکو تو بِسْمِ اللّٰہِ کہو، کھانا کھانے، پانی پینے، وضو کرنے، سواری پر سوار ہونے اور اترنے کے وقت بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنے کی ہدایات قرآن و حدیث میں بار بار آئی ہیں۔ “ بِسْمِ اللّٰہِ کی اس قدر تاکید کیوں ؟ سوال یہ ہے کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھنے کی اس قدر تاکید کیوں کی گئی ہے حقیقت یہ ہے کہ جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس چھوٹی سی ہدایت نے انسانی زندگی میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا آغاز کردیا ہے کوئی بھی شخص جب کسی کام کا آغاز کرتا ہے اگر اس کے ذہن میں یہ تصورات نہیں ہیں جو اس ہدایت سے پیدا کرنا مقصود ہیں تو یقینا وہ ہر کام کرتے ہوئے یہ سمجھتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں یہ سراسر میری ہمتوں، صلاحیتوں اور توانائیوں کا مرہون منت ہے میرے پاس جو ذہنی صلاحیتیں ہیں اور جسمانی توانائیاں ہیں اور میرے پاس جو وسائل میسر ہیں میں ان سے کام لے کر ایسا کوئی سا بھی کام کرنا چاہوں تو میرے لیے کوئی مشکل نہیں ایسے آدمی کا تمام تر بھروسہ اپنے وسائل اور اپنی قوتوں پر ہوتا ہے پھر اسی سے اس کے ذہن میں یہ تصور بھی پختہ ہوجاتا ہے کہ میں چونکہ اپنی صلاحیتوں اور اپنے وسائل سے تمام کام انجام دیتا ہوں تو مجھے اپنے کاموں کے سلسلے میں کسی کے سامنے جواب نہیں دینا میں کام اچھا کروں گا تو اس کی جزا مجھے ملے گی اور اگر کام برا کروں گا تو یہیں اس کے نتائج خود دیکھ لوں گا اور ممکن ہے کہ میں ان کاموں کو نتیجہ خیز ہونے سے پہلے بدل دوں یا اس کے اثرات زائل کر دوں اسی طرح وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ میرا رشتہ کسی ایسی ذات سے نہیں جو ہر وقت میری نگرانی کرتی ہو، میری تنہائیاں جس کے سامنے واضح ہوں، جو میری نیتوں تک سے واقف ہو، جس نے میرے لیے زندگی کے کچھ اصول یا کوئی تہذیب عطا کی ہو اور کبھی ایسا دن آئے گا جب وہ ذات میرے ان کاموں سے متعلق مجھ سے سوال کرے گی وہ ایسی ہر سوچ اور ہر تصور سے بالا ہو کر اپنی ذات کے گنبد میں بند رہ کر اپنے مفادات کے حوالے سے ہر کام کو سر انجام دیتا ہے اگر وہ امیر ہے تو اس کی امارت اس کی خواہشات کی تکمیل میں صرف ہوتی ہے اگر وہ حاکم ہے تو اس کی حکومت دوسروں کے لیے ظلم بن جاتی ہے اگر وہ پڑھا لکھا آدمی ہے تو اس کا علم برائی کا خادم بن جاتا ہے اور اگر وہ غریب آدمی ہے تو اس کی غربت صاحب امارت لوگوں کی دشمن بن جاتی ہے اس کے اندر کا جوار بھاٹا بعض دفعہ نئے نئے جرائم کو جنم دیتا ہے اور اس کی محرومیاں اس کے اندر انتقام کی آگ بھڑکاتی ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی سوچ کے لوگ کسی بھی حیثیت کے مالک ہوں وہ اپنے ان بگڑے ہوئے تصورات کے باعث انسانیت کے لیے مہلک ثابت ہوتے ہیں ایسے تمام خطرات سے بچانے کے لیے نہایت حکیمانہ طریقے سے یہ مختصر سا حکم دے کر ایک ایسی تہذیب کی پہلی اینٹ رکھ دی گئی ہے جس کے نتیجے میں ایک ایسی عمارت وجود میں آتی ہے جس کے سائے میں انسانیت میٹھی نیند سوتی اور اقدار انسانیت پھلتے پھولتے ہیں جب ایک شخص بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھ کر ہر کام کا آغاز کرتا ہے تو فوراً اس کے ذہن میں یہ تصورات تازہ ہوتے ہیں کہ تم جن قوتوں اور صلاحیتوں سے کام لے کر یہ کام کرنے لگے ہو وہ تمہاری ذاتی نہیں اس ذات نے تمہیں عطا کی ہیں جس نے تمہیں پیدا کیا وہ تمہیں ہر کام کرتے ہوئے دیکھتا ہے تم ہر وقت اس کی نگرانی میں ہو تمہارے ہر کام اور ہر عمل کا ایک نوشتہ تیار ہو رہا ہے ایک دن ایسا آئے گا جب تمہیں اپنے ہر عمل کا جواب دینا پڑے گا تم سے پوچھا جائے گا کہ ہم نے تمہیں بےمقصد تو پیدا نہیں کیا تھا تمہیں ہر کام اپنے مقصد زندگی کے مطابق کرنا چاہیے تھا آج اسی مقصد کے حوالے سے تمہارے ہر کام کا حساب لیا جائے گا یہ تصورات جیسے جیسے اس کے دل و دماغ میں پختہ ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے اس کی نیت، اس کے اعمال اور اس کے اعمال کے نتائج صالح ہوتے جاتے ہیں وہ اپنی ذات میں ایک خیر کا سر چشمہ بن جاتا ہے جس سے ہر وقت لوگوں کے لیے بھلائی ابلتی ہے اور نیکی کی قوتوں کو فروغ ملتا ہے یہ ان تہذیبی تصورات کا اجمالی خاکہ ہے جو اس مختصر سی ہدایت سے وجود میں آتے اور آہستہ آہستہ پروان چڑھتے چلے جاتے ہیں۔ ان تصورات کے ساتھ ساتھ کچھ حقائق بھی ہیں بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پڑھنے سے جن کا اظہار ہوتا ہے۔ آپ کو یاد ہے کہ پہلی وحی میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا تھا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَق ج (٩٦ : ١) ہم جب قرآن پاک کی تلاوت بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم سے شروع کرتے ہیں تو ہم اللہ کے اس حکم پر عمل کرتے ہیں اسی طرح یہ آیہ مبارکہ ہمیں اللہ کے ایک عظیم احسان کی یاد دلاتی ہے۔ اللہ کا وہ عظیم احسان یہ ہے کہ اس نے انسان کو نطق اور گویائی کی نعمت عطا فرمائی اگر ہمیں یہ نعمت میسر نہ آتی تو قرآن جیسی دولت بھی ہمیں نہ ملتی کیونکہ قرآن کریم کا تعلق زیادہ تر اسی صلاحیت سے ہے اور یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود سورة الرحمن کے آغاز میں اس کا ذکر فرمایا۔ ارشاد ہوتا ہے اَلرَّحْمٰنُ لا عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ خَلَقَ الْاِنْسَانَ لا عَلَّمَہُ الْبِیَانَ (٥٥ : ١۔ ٤) ” خدائے رحمان نے قرآن سکھایا اور اس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو گویائی کی تعلیم دی “۔ مزید برآں یہ کہ اس مبارک کلمہ کی تلاوت سے موسیٰ (علیہ السلام) کی ایک خاص پیش گوئی کی تصدیق بھی ہوتی ہے جس کی سند گزشتہ آسمانی صحیفوں میں موجود ہے وہ یہ ہے کہ آپ خلق خدا کو جو تعلیم دیں گے وہ اللہ کا نام لے کردیں گے۔ حضرت موسیٰ کی پانچویں کتاب باب اٹھارہ (١٨۔ ١٩) میں یہ الفاظ وارد ہیں۔ ” میں ان کے لیے انھیں کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب ان سے لوں گا۔ “ صرف شریعت کے مطابق کام سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنی چاہیے ایک اور پہلو سے بھی ہر کام کو اس مبارک کلمہ کے ساتھ کرنے کی اس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تاکید فرمائی ہے جس سے اس کی افادیت میں بہت اضافہ ہوجاتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کل امر ذی بال لم یبدا بباسم اللہ فھو اقطع او ابتر ” ہر جائز کام جسے بسم اللہ سے شروع نہ کیا جائے وہ بےبرکت اور بےنتیجہ ہوتا ہے۔ “ اس حدیث سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہر جائز کام کرنے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی کام ناجائز ہو یعنی جسے اسلامی شریعت نے کرنے کی اجازت نہ دی ہو اس کا ارتکاب کسی مسلمان کے لیے ویسے ہی شرم کی بات ہے لیکن اس سے بڑھ کر بدنصیبی کی انتہاء یہ ہے کہ آدمی کسی ناجائز کام کو اللہ کے نام سے شروع کرے یعنی اللہ کا حکم اللہ ہی کے نام سے توڑا جائے یہ نہ صرف کہ گناہ ہے بلکہ ایک طرح سے اللہ کے حکم کے خلاف بغاوت ہے گناہ تو اللہ کی رحمت سے معاف ہوجاتا ہے بغاوت کا معاملہ تو بہت شدید ہے لیکن ہماری جسارتوں کی کیا انتہاء ہے کہ ہمارے امراء اللہ کی شریعت کا مذاق اڑاتے ہوئے سینما ہائوس تک بنائیں گے اور پھر اپنے ضمیر کو یا لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے کیا جائے گا۔ اسی طرح کی اور بہت سی مثالیں آپ کو دیکھنے کو ملیں گی اس لیے اس حدیث میں یہ قید لگائی گئی ہے کہ ہر جائز کام کو کرو اور اللہ کے نام سے کرو۔ برکت کا اصل مفہوم دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ کوئی بھی جائز کام اللہ کے نام سے کیا جائے تو اللہ اس میں برکت دیتا ہے اور اگر اللہ کا نام نہ لیا جائے تو بےبرکتی ہوتی ہے ضروری ہے کہ برکت کا مفہوم سمجھ لیا جائے ورنہ اس سے غلط فہمی کا اندیشہ ہے۔ برکت کا لفظی معنی تو بڑھنا اور ترقی کرنا ہوتا ہے لیکن ہر بڑھنے کو برکت نہیں کہتے ایک آدمی کا جسم موٹا ہوجائے یا پھول جائے لیکن ہمت نہ ہو تو ڈاکٹر بتاتے ہیں کہ اس کا جسم متورم ہوگیا ہے یا اس کے جسم میں پانی پڑگیا ہے دونوں باتیں خطرناک بیماریوں کی خبر دیتی ہیں کوئی بھی شخص اسے صحت قرار دینے کی حماقت نہیں کرے گا حالانکہ بظاہر اس کے جسم میں برکت معلوم ہوتی ہے اس لیے میں نے عرض کیا کہ ہر اضافہ اور ہر ترقی برکت نہیں ہوتی بلکہ وہ اضافہ اور ترقی برکت ہے جو صحت کے اصولوں کے مطابق ہے اسی طرح یہاں جس بات کو برکت کہا گیا ہے وہ بھی وہ برکت ہے جو شریعت کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق ہو اس کو میں ایک مثال سے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں آدمی جب غذا لیتا ہے تو اس کے کچھ تو طبی اصول ہیں اور کچھ اس کے مقاصد ہیں طبی اصول میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ غذا مضر صحت نہ ہو بلکہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہو اور مقاصد میں سے پہلی بات یہ ہے کہ غذا جزو بدن بنے اور دوسری بات یہ کہ اس سے خون تیار ہو اور تیسری یہ بات کہ خون جسم میں قوت کا باعث بنے یہ تین چیزیں وجود میں آجاتی ہیں تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ صحیح غذا نے اپنے مقاصد پورے کر دئیے ہیں لیکن اسلامی نقطہ نگاہ سے ایک مقصد ابھی باقی ہے وہ اگر پورا نہیں ہوتا تو اسے بےبرکتی کہا جاتا ہے اور اگر پورا ہوجاتا ہے تو اسے برکت سے تعبیر کیا جاتا ہے وہ مقصد یہ ہے کہ غذا نے جسم کو جو قوت، طاقت اور ہمت عطا کی ہے اگر وہ اللہ کے دین کی سر بلندی اور اللہ کے بندوں کی خدمت میں صرف ہوتی ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ نے اس میں برکت دی ہے لیکن اگر وہ لا دینیت کی خدمت اور شیطانی مقصد کے فروغ میں استعمال ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ غذا اپنے سارے مقاصد پورا کرنے کے باوجود بےبرکتی کا باعث بنی ہے۔ مختصر یہ کہ جسم کی قوت کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے اللہ کا کلمہ بلند ہو، شرافتیں توانا ہوں، نیکیوں کو فروغ ملے، مظلوموں کی حمایت اور دستگیری کے کام آئے، غریبوں کے دکھوں کا بوجھ اٹھائے اور انسانیت کی تقویت کا باعث بنے لیکن اگر یہی قوت ظلم کا باعث بنتی، نیکی کا راستہ روکتی، شرافتوں کو رسوا کرتی اور اذیتوں کا باعث بنتی ہے تو یہ قوت نہ صرف یہ کہ حقیقی مقصد سے محروم ہوگئی ہے بلکہ یہ وہ بےبرکتی ہے جس سے اس حدیث میں متنبہ کیا گیا ہے۔ بِسْمِ اللّٰہِ کا مفہوم بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کی عظمت، اہمیت اور افادیت سمجھنے کے بعد یہ بھی جاننا چاہیے کہ اس کے الفاظ کا مفہوم کیا ہے جس سے ہمیں اندازہ ہوجائے گا کہ جب ہم کسی کام کے آغاز میں یہ مبارک کلمہ بولتے ہیں تو اس وقت ہمارے ذہن میں اس کا مفہوم کیا ہونا چاہیے۔ بِسْمِ اللّٰہ تین لفظوں سے مرکب ہے ایک حرف با، دوسرے اسم، تیسرے اللہ، حرف با عربی زبان میں بہت سے معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے جن میں سے وہ معنی جو اس مقام کے مناسب ہیں وہ تین ہیں۔ ان میں سے ہر ایک معنی بسم اللہ پڑھتے ہوئے لیا جاسکتا ہے۔ 1 مصاحبت : یعنی کسی چیز کا کسی چیز سے متصل ہونا۔ 2 استعانت : یعنی کسی چیز سے مدد چاہنا۔ 3 تبرک : یعنی کسی چیز سے برکت حاصل کرنا۔ ان تینوں معنوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے بسم اللہ پڑھتے ہوئے جب ہم کسی کام کا آغاز کرتے ہیں تو گویا ہم یہ کہتے ہیں کہ میں یہ کام کرنے لگا ہوں اللہ کے نام کے ساتھ، اللہ کے نام کی مدد سے، اللہ کے نام کی برکت سے۔ لیکن اس میں آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ صرف اتنا کہہ دینے سے بات مکمل تو نہیں ہوتی جب تک اس کام کا ذکر نہ کیا جائے جو اللہ کے نام کے ساتھ یا اس کی مدد یا اس کی برکت سے کرنا مقصود ہے اس لیے نحوی قاعدے کے مطابق یہاں کوئی فعل مقام کے مناسب محذوف ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی آدمی کھانا کھانے لگتا ہے اور وہ بسم اللہ پڑھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں اللہ کے نام سے کھانا کھانے لگا ہوں اور اگر وہ پڑھنا چاہتا ہے تو وہ یہ کہنا چاہے گا کہ میں اللہ کے نام سے پڑھنا چاہتا ہوں لیکن یہ یاد رہے کہ جو فعل بھی یہاں محذوف سمجھا جائے اسے بسم اللہ کے بعد محذوف سمجھنا چاہیے تاکہ حقیقتاً اس کام کا آغاز اللہ ہی کے نام سے ہو۔ اسم اللہ کو پہلے لانے میں صحابہ نے اس حد تک احتیاط کی ہے اور یقینا انھوں نے یہ بات آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سیکھی ہوگی کہ جب قرآن کریم لکھا گیا تو حرف با کا اسم اللہ سے پہلے آنا تو عربی زبان کے لحاظ سے لازمی ہے لیکن اس میں بھی مصحف عثمانی میں صحابہ کے اجماع سے یہ رعایت رکھی گئی کہ حرف با رسم الخط کے قاعدہ سے ہمزہ کے ساتھ ملا کر لکھنا چاہیے تھا اور لفظ اسم الگ، جس کی صورت ہوتی باسم اللہ لیکن مصحف عثمانی کے رسم الخط میں حرف ہمزہ کو حذف کر کے حرف با کو سین کے ساتھ ملا کر صورۃً اسم کا جز بنادیا تاکہ شروع اسم اللہ سے ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے مواقع میں یہ حرف ہمزہ حذف نہیں کیا جاتا، جیسے اقرا باسم ربک میں ” ب “ کو ” الف “ کے ساتھ لکھا جاتا ہے، یہ صرف بِسْمِ اللّٰہِ کی خصوصیت ہے کہ حرف ” با “ کو ” سین “ کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ میں اللہ اسم ذات ہے اور الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے دو صفاتی نام ہیں اس کی وضاحت ہم سورة الفاتحہ کی تفسیر میں کریں گے کیونکہ سورة الفاتحہ میں بھی ان تینوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ قرآن میں بِسْمِ اللّٰہِکی اصل جگہ اور اہل علم کی رائے اہل علم میں یہ بھی ایک اہم سوال رہا ہے کہ قرآن کریم میں بسم اللہ کی اصل جگہ کہاں ہے ؟ یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ سورة توبہ کے علاوہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ہر سورة کے آغاز میں لکھی گئی ہے لیکن ہر جگہ اس کو کسی سورت کا جز بنانے کی بجائے مستقل آیت کی حیثیت سے لکھا گیا ہے۔ سوائے سورة النمل کے کسی سورة میں بھی سورت کے جز کے طور پر اس کا ذکر نہیں فرمایا گیا۔ مدینہ، بصرہ اور شام کے قراء اور فقہاء کی رائے یہ ہے کہ یہ قرآن کی سورتوں میں سے کسی سورة کی بھی حتی کہ سورة الفاتحہ کی بھی آیت نہیں بلکہ ہر سورة کے شروع میں اس کو محض تبرک اور دو سورتوں کے درمیان علامتِ فصل کے طور پر لکھا گیا ہے اس سے ایک سورت دوسری سورة سے ممتاز بھی ہوتی ہے اور قاری جب اس سے تلاوت کا آغاز کرتا ہے تو اس سے برکت بھی حاصل کرتا ہے یہی مذہب امام ابوحنیفہ ( رح) کا ہے اس کے برعکس مکہ اور کوفہ کے فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ یہ سورة الفاتحہ کی بھی ایک آیت ہے اور دوسری سورتوں کی بھی ایک آیت ہے اور یہ مذہب امام شافعی اور ان کے اصحاب کا ہے۔ حقیقت تو اللہ جانتا ہے لیکن بظاہر قراء مدینہ کا مذہب قوی معلوم ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مصحف کی موجودہ ترتیب تمام تر وحی الٰہی کی راہنمائی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایات کے تحت عمل میں آئی اور بسم اللہ کی کتابت بھی اسی ترتیب کا ایک حصہ ہے اس ترتیب میں جہاں تک بسم اللہ کے لکھے جانے کی نوعیت کا تعلق ہے سورة الفاتحہ اور غیر سورة الفاتحہ میں کسی قسم کا فرق نہیں کیا گیا بلکہ ہر سورة کے آغاز میں اس کو ایک ہی طرح درج کیا گیا ہے۔ جس سے اس کی حیثیت سورة سے الگ ایک مستقل آیت کی نظر آتی ہے۔ بِسْمِ اللّٰہِ سے متعلق چند احکام و مسائل آخر میں ہم معارف القرآن سے بِسْمِ اللّٰہِ سے متعلق چند احکام و مسائل نقل کرتے ہیں۔ تعوذ کے معنی ہیں اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھنا، قرآن کریم میں ارشاد ہے فَاِذَا قَراْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ (النحل۔ ١٦ : ٩٨) ” یعنی جب تم قرآن کی تلاوت کرو تو اللہ سے پناہ مانگو شیطان مردود کے شر سے “ قرأتِ قرآن سے پہلے تعوذ پڑھنا با جماعِ امت سنت ہے، خواہ تلاوت نماز کے اندر ہو یا خارج نماز ( شرح منیہ) تعوذ پڑھنا تلاوت قرآن کے ساتھ مخصوص ہے، علاوہ تلاوت کے دوسرے کاموں کے شروع میں صرف بِسْمِ اللّٰہِ پڑھی جائے، تعوذ مسنون نہیں، (عالمگیری، باب رابع، من الکراہیتہ) جب قرآن شریف کی تلاوت کی جائے اس وقت اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اور بِسْمِ اللّٰہِ دونوں پڑھی جائیں، درمیانِ تلاوت میں جب ایک سورة ختم ہو کر دوسری شروع ہو تو سورة برا ءت کے علاوہ ہر سورة کے شروع میں مکرر بِسْمِ اللّٰہِ پڑھی جائے، اَعُوْذُ بِاللّٰہِ نہیں، اور سورة برا ءت اگر درمیانِ تلاوت میں آجائے تو اس پر بِسْمِ اللّٰہِ نہ پڑھے اور اگر قرآن کی تلاوت سورة برا ءت ہی سے شروع کر رہا ہے تو اس کے شروع میں اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اور بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنا چاہیے۔ (عالمگیریہ عن المحیط) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ قرآن مجید میں سورة النمل میں آیت کا جزء ہے اور ہر دو سورت کے درمیان مستقل آیت ہے اس لیے اس کا احترام قرآن مجید ہی کی طرح واجب ہے اس کا بےوضو ہاتھ لگانا جائز نہیں (علی مختار الکرخی و صاحب الکافی والہدایہ، شرح منیہ) اور جنابت یا حیض و نفاس کی حالت میں اس کو بطور تلاوت پڑھنا بھی پاک ہونے سے پہلے جائز نہیں، ہاں کسی کام کے شروع میں جیسے کھانے پینے سے پہلے بطور دعاء پڑھنا ہرحال میں جائز ہے۔ (شرح منیہ کبیر) پہلی رکعت کے شروع میں اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم کے بعد بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنا باتفاق ائمہ واجب ہے اختلاف صرف اس میں ہے کہ آواز سے پڑھا جائے یا آہستہ، امام اعظم ابوحنیفہ ( رح) اور بہت سے دوسرے ائمہ آہستہ پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پہلی رکعت کے بعد دوسری رکعتوں کے شروع میں بھی بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنا چاہیے اس کے مسنون ہونے پر سب کا اتفاق ہے اور بعض روایات میں ہر رکعت کے شروع میں بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنے کو واجب کہا گیا ہے۔ ( شرح منیہ) نماز میں سورة الفاتحہ کے بعد سورة شروع کرنے سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ نہیں پڑھنا چاہیے خواہ جہری نماز ہو یا سری، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور خلفائے راشدین (رض) سے ثابت نہیں ہے۔ ( شرح منیہ) اسلوب سُوْرَۃُ الْفَاتِحَۃِ سورة فاتحہ قرآن پاک کی سب سے پہلی سورة ہے۔ لیکن یہ اپنے اختصار، فصاحت و بلاغت، اثر آفرینی اور مضامین کی جامعیت کے اعتبار سے ایک خاص مقام و مرتبہ کی حامل ہے۔ آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے مختلف ناموں سے یاد فرمایا، جن سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ نیز مختلف اوقات میں اس کے فضائل بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ اس جیسی کوئی دوسری سورة نازل نہیں ہوئی۔ بعض احادیث میں اسے سب سے بڑی سورة اور بعض میں سب سے بہتر سورة قرار دیا۔ جب ہم اس کے پیرایہ بیان اور اس کی معنویت پر غور کرتے ہیں اور اس کے ناموں کو دیکھتے ہیں تو قرآن کریم سے اس کے تعلق کی مختلف نوعیتیں واشگاف ہوتی ہیں۔ اس کا پیرایہ بیان اور طریق اظہار معلمانہ، نہیں بلکہ دعائیہ ہے۔ جس سے اس کی تاثیر اثر آفرینی اور دل و دماغ میں اس کے نفوذ کی قوت میں بےپناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ انسانی دل و دماغ کی کیفیت یکسر بدل جاتی ہے۔ آدمی اس کا تصور بھی نہیں کرتا کہ مجھے کوئی بات سکھائی جا رہی ہے، بلکہ وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ میں ایک ایسی ذات کی بارگاہ میں حاضر ہوں، جس کی رحمتیں اور برکتیں اور جس کا فیضانِ ربوبیت اور جس کی نصرت و اعانت کی چارہ جو ئیاں مجھ پر مسلسل سایہ ڈال رہی ہیں، جس کے سامنے میرے دل و دماغ کا ایک ایک پردہ پوری طرح نمایاں ہے۔ میرے سینے کی تنگیاں، جس کی نظر کرم سے وسعتوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ میں ایک ایسی آغوش میں ہوں، جس کی ٹھنڈک ماں کی آغوش سے بھی زیادہ ہے۔ ان تصورات کے ساتھ انسان جب اس ذات عظیم کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہوکر، اس دعا کے الفاظ کو اپنی زبان سے ادا کرنا شروع کرتا ہے تو بےاختیار اس ذات عظیم کی حمد و ثنا اس کی زبان پر جاری ہوجاتی ہے۔ وہ ان صفات سے اس کو پکارتا ہے، جس سے بڑھ کر اس ذات بےمثال کو دل و دماغ میں قریب کرنے والے الفاظ کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ان مختصر الفاظ میں اللہ کی حمد و ثنا کو سمیٹنے کی کوشش میں اللہ کا عاجز بندہ، اس طرح اپنی عبدیت میں ڈوبتا چلا جاتا ہے کہ بےساختہ اس کی زبان پر عبدیت کا اعتراف اور احتیاج و درماندگی کا اقرار جاری ہوجاتا ہے۔ پھر وہ محسوس کرتا ہے کہ زندگی کے ان گنت مسائل، خواہشوں کا بےپناہ ہجوم، انسانی تعلقات کی وسیع دنیا، احساسات کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا وسیع سمندر، اس میں انفعالات کے ابھرتے ہوئے حباب نفسانی اور شیطانی قوتوں سے تصادم، اللہ کی طرف بڑھنے والے ہر بندے کے راستے کی وہ رکاوٹیں ہیں، جنھیں سر کرنا آسان نہیں اور یہ وہ تاریکیاں ہیں، جن میں راستہ دیکھنا از بس مشکل ہے۔ یہ سوچتے ہی زبان پر دعائیہ کلمات جاری ہوجاتے ہیں اور اس راستے کا مسافر، اپنی محبوب ذات سے، جس کی محبت میں ڈوب کر وہ یہ نغمہ الاپ رہا ہے صراط مستقیم کی دعا مانگتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ التجا اس کے لبوں تک آجاتی ہے کہ یہ صراط ِ مستقیم اس قدر واضح ہونا چاہیے کہ اس کی پہچان میں مجھے ٹھوکر نہ لگے۔ اس کی ایک ہی صورت ہے کہ یہ صراط مستقیم کتابی علم یا دانش برہانی میں لپٹا ہوا نہ ہو، جس کی پرتیں کھلتے کھلتے آدمی تھک ہار کر گر جاتا ہے۔ بلکہ یہ ایسی شاہراہ ہونی چاہیے، جس پر اس راستے کے مسافر کامیابی سے گزرنے میں کامیاب ہوچکے ہوں۔ اور اس پر ایسی علامتیں بھی ہونی چاہئیں، جس سے معلوم ہو کہ یہاں ٹھوکر کھانے والوں نے کِن کِن حوالوں سے ٹھوکر کھائی ہے تاکہ آج اس راستے پر چلنے والا ان ٹھوکروں سے بچ کر منزل مقصود پر پہنچنے میں دشواری محسوس نہ کرے۔ اس دعا میں مزید تاثیر اور لذّتِ شوق اس چیز نے بھی پیدا کردی ہے کہ اس کا انداز اور اس کا اظہار اس قدر سادہ سہل اور دل نشیں ہے کہ معمولی سے معمولی انسان بھی اسے پڑھتا ہوا دشواری محسوس نہیں کرتا۔ گنتی کے سات بول ہیں، جو نہایت مختصر، دل آفرین اور دل آویز ہیں۔ نہ ان میں کوئی پیچیدگی ہے اور نہ کوئی الجھائو۔ نہایت جچے تلے، ایسا لگتا ہے کہ بےساختہ از خود زبان پر جاری ہوگئے ہیں۔ جس طرح فطرت نہایت سادہ اور نہایت پاکیزہ ہے اور کسی گوشہ میں بھی الجھی ہوئی نہیں اور ہر فطری بات ہر طبیعت کو بھلی لگتی اور اس کی قبولیت دل کی آواز بن جاتی ہے۔ یہی حال اس سورة کا بھی ہے۔ اس کے ایک ایک بول کو دہراتے ہوئے آدمی یوں محسوس کرتا ہے کہ یہ تو میرے دل سے اٹھنے والی باتیں ہیں۔ جس طرح رات کی تاریکی کا ستایا ہوا ایک شخص صبح خنداں کو دیکھتے ہی کھل اٹھتا ہے، طوفانِ برق و باراں سے سہما ہوا آدمی قوس قزح کو دیکھتے ہی اس کے حسن میں ڈوب جاتا ہے، سفر کی تھکاوٹوں سے چور چور شخص اپنی منزل کی ایک جھلک دیکھ کر تازہ دم ہوجاتا ہے، چلچلاتی دھوپ میں جھلسنے والا مسافر ٹھنڈے سائے میں جس طرح آرام محسوس کرتا ہے، اس سے بڑھ کر وہ شخص، جو علم و دانش کے پیدا کردہ الجھائو اور شیطانی قوتوں کے اٹھائے ہوئے فتنوں، شخصی گروہی اور مختلف وابستگیوں کے لگائے ہوئے زخموں اور جعلی شخصیتوں کے پُرفریب طریقوں سے زار و نزار ہے۔ جب کبھی اس دعا تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اسے اس کی حقیقت، اس کی سادگی، اس کی تاثیر، اس کی حقیقت بیانی اور اس کی عقدہ کشائی، اس سے بڑھ کر سکون اور اطمینان مہیا کرتی ہے۔ پھر جب وہ بار بار اسے ہر نماز میں دہراتا ہے اور بار بار ان مضامین کی تکرار کرتا ہے تو دھیرے دھیرے اس کے اندر سے ایک ایسا انسان جنم لینے لگتا ہے، جو پہلے انسان سے یکسر مختلف اور انسانیت کا حقیقی نمونہ ہوتا ہے۔ سورة کی خصوصیات اور اس کے اسمائِ مبارکہ پیرایہ بیان کے حوالے سے چند حقائق کے ذکر کے بعد جب ہم اس کے ناموں کو دیکھتے ہیں تو اس سورة کی بعض خصوصیات خود بخود ہمارے سامنے واضح ہوجاتی ہیں۔ فاتحۃ الکتاب اس کا ایک نام فاتحۃ الکتاب ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عظیم سورة قرآن کریم کے لیے دیباچہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس طرح دیباچہ میں اصل کتاب کے مضامین کا خلاصہ بیان کیا جاتا اور ان کا ایک اجمالی تعارف کرایا جاتا ہے۔ تقریباً یہی حیثیت اس سورة کی بھی ہے۔ قرآن کریم میں جو کچھ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، اس سورة میں نہایت اجمال کے ساتھ اس کو ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کا اصل موضوع انسان اور اس کی اصلاح ہے۔ انسان کے بگاڑ کا صرف ایک ہی سبب ہے، اور وہ اس کی اپنے خالق ومالک اور اپنے رب سے برگشتگی ہے۔ اس لیے انسان کے اصلاح کی یہی ایک صورت ہے کہ اسے دوبارہ اللہ کے آستانے پر جھکا دیا جائے اور اس ٹوٹے ہوئے رشتے کو از سرنو جوڑ دیا جائے۔ چناچہ اس سورة میں سب سے پہلے اسی آستانے کی خبر دی گئی ہے۔ لیکن ایسے دل نشیں انداز میں کہ آدمی بےاختیار اس آستانے کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا پرستی کی راہ میں انسانوں کو جس قدر بھی ٹھوکریں لگی ہیں، وہ صفات کے تصور میں گمراہی کے باعث لگی ہیں۔ اس لیے اس سورة میں اللہ کی صفات کا وہ ٹھیک ٹھیک تصور دیا گیا ہے، جس سے ایک بندہ ذات ِ خداوندی کی معرفت کے راستے پر چل سکتا ہے۔ وہ چیز جِس نے انسانوں کے اعمال کو خراب کیا، بلکہ نیتوں تک کو بگاڑ ڈالا، وہ اعمال کے بارے میں انسان کا غلط تصور ہے۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں اس دنیا میں تو یقینا میرے اعمال کی ایک جزا اور سزا ہے، بشرطیکہ میرے اعمال کسی کے علم اور کسی کی گرفت میں آجائیں۔ لیکن جنھیں میں چھپانے میں کامیاب ہوجاؤں یا جن تک کسی کی نگاہ نہ پہنچ سکے، ایسے تمام اعمال کی کوئی جزا و سزانھیں۔ چناچہ اس سورة میں اس قانونِ مجازات کو نہ صرف بیان کیا گیا ہے، بلکہ اس کا یقین بھی پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی ایک اور کمزوری اس کا اپنی ذات کے عرفان سے محروم ہونا اور اپنی شخصیت کی وسعتوں اور ناتوانیوں سے بیخبر ہونا ہے۔ چناچہ اس سورة میں اسے اس کی ذات کی حقیقی معرفت اور اس کی احتیاجات کے لیے حقیقی سرچشمے کو واضح کردیا گیا ہے۔ باوجود اس کے کہ انسان کو حواس، قوت ادراک اور جوہر عقل سے نوازا گیا ہے، اس لحاظ سے یہ تمام مخلوقات پر ایک فوقیت اور فضیلت بھی رکھتا ہے۔ با ایں ہمہ زندگی کے معاملات کو سلجھانے اپنے اہداف کے تعین اور مقصد زندگی کی پہچان میں اس نے ہمیشہ ٹھوکر کھائی ہے۔ اس سورة میں اسے صاف صاف بتادیا گیا ہے کہ تیرے لیے فلاح وسعادت کی راہ کیا ہے اور پھر اس کی تاریخ کے آئینے میں نمایاں مثالوں کے ذریعے شناخت بھی واضح کردی گئی ہے۔ تاکہ اسے اپنے راستے کو اختیار کرنے میں کوئی الجھن اور دشواری پیش نہ آئے۔ یہی مندرجہ بالا مضامین ہیں، جنھیں خدا پرستی اور اسلامی زندگی میں بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔ پورا اسلامی نظام زندگی اسی سے پھوٹنے والا درخت ہے، جس کے سائے میں امّت اسلامیہ زندگی گزارتی ہے۔ قرآن کریم نے انہی مضامین کو تفصیل سے بیان کیا ہے، جس کا خلاصہ اس سورة میں ہمیں ایسے دل آویز انداز میں عطا فرمایا گیا ہے کہ جس سے زیادہ دل آویزی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ خود قرآن کریم نے اس کا ذکر ایسے لفظوں میں کیا ہے جس سے اس حقیقت کی نہ صرف تائید ہوتی ہے بلکہ تقویت ملتی ہے۔ ارشاد فرمایا : وَلَقَدْ اٰتَیْنٰـکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَا نِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمِ ط (الحجر ١٥ : ٨٧) (اے پیغمبر ! یہ واقعہ ہے کہ ہم نے تمہیں سات دہرائی جانی والی چیزیں عطا فرمائیں اور قرآن عظیم) احادیث و آثار سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اس آیت میں سات دہرائی جانے والی چیزوں سے مقصود یہی سورة ہے۔ کیونکہ یہ سات آیتوں کا مجموعہ ہے اور ہمیشہ نماز میں دہرائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورة کو السبع المثانی بھی کہتے ہیں۔ مناسب ہوگا کہ یہاں ایک غلط فہمی کا ازالہ بھی کردیا جائے۔ غلط فہمی یہ ہے کہ جب سورة فاتحہ کی آیات کو شمار کیا جاتا ہے تو وہ سات نہیں چھ بنتی ہیں۔ کیونکہ آیت کی نشانی گول دائرہ سمجھی جاتی ہے اور اس سورة میں آیتوں کے آخر میں جو دائرے دیئے گئے ہیں وہ چونکہ چھ ہیں اس لحاظ سے آیات کی تعداد چھ ہی ہونی چاہیے۔ اس صورت میں سورة فاتحہ کو السبع المثانی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس کا معنی ہے سات دہرائی جانے والی آیتیں۔ کیونکہ جب سورة فاتحہ کی آیات کی تعداد چھ ٹھہری تو پھر کسی طرح بھی اس نام کا اطلاق اس پر نہیں ہوسکتا۔ درحقیقت غلط فہمی کی بنیاد یہ ہے کہ صِرَاطَ الَّذِیِنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ لا ٥ یہ چھٹی آیت ہے۔ لیکن اس کے آخر میں گول دائرہ نہیں ہے، بلکہ ٥ کا نشان دیا گیا ہے۔ یہ ظاہر ہے آیت کے خاتمے کی نشانی نہیں ہے اس لیے اس کو آیت شمار نہیں کیا جاتا۔ اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ قرآنی رسم الخط میں ٥ کا نشان اس بات کی علامت ہے کہ یہاں آیت تو ختم ہوگئی ہے لیکن اس کے آیت ہونے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بسم اللہ کی بحث میں ہم علماء کے اختلاف کے متعلق عرض کرچکے ہیں کہ مدینہ، بصرہ اور شام کے قرّاء اور مکہ اور کوفہ کے قرّاء میں اس سلسلے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ یہ ٥ کا نشان آیت کی علامت تو ہے لیکن ساتھ ہی اس اختلاف کی طرف اشارہ بھی ہے۔ اُمُّ القرآن احادیث و آثار میں سورة فاتحہ کے دوسرے نام بھی آئے ہیں جن سے اس کی خصوصیات کا بھی پتہ چلتا ہے۔ ان میں سے ایک نام اُمُّ القرآن ہے۔ عربی زبان میں اُمُّ کا اطلاق ایسی چیزوں پر ہوتا ہے جو ایک طرح کی جامعیت رکھتی ہوں یا بہت سی چیزوں میں مقدّم اور نمایاں ہوں یا پھر کوئی ایسی اوپر کی چیز ہوں جس کے نیچے اس کے بہت سے توابع ہوں۔ چناچہ سر کے درمیانی حصّے کو اُمُّ الراس کہا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ دماغ کا مرکز ہے۔ فوج کے جھنڈے کو امّ کہتے ہیں کیونکہ تمام فوج اس کے نیچے جمع ہوتی ہے۔ مکہ کو اُمُّ القریٰ کہتے تھے۔ کیونکہ خانہ کعبہ اور حج کی وجہ سے عرب کی تمام آبادیوں کے جمع ہونے کی جگہ تھی۔ پس اس سورة کو اُمُّ القرآن کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک ایسی سورة ہے جس میں مطالب قرآنی کی جامعیت اور مرکزیت ہے۔ یا جو قرآن کی تمام سورتوں میں اپنی نمایاں اور مقدم جگہ رکھتی ہے۔ اساس القرآن اس سورة کا ایک نام اساس القرآن ہے یعنی قرآن کی بنیاد۔ ایک نام الکافیہ ہے جس کے معنی ہیں ایسی چیز جو کفایت کرنے والی ہے۔ ایک نام ہے الکنز جس کا معنیٰ ہے خزانہ۔ یعنی یہ سورة قرآن کریم کے مضامین کا خزانہ ہے۔ اور یہ ایسی سورة ہے جو قرآن کے پیش کردہ مضامین کی اجمالی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ اسی طرح اس کا نام الشفاء بھی ہے۔ یعنی یہ ایک ایسی سورة ہے جس کو پڑھ کر پھونکنے سے بیماریوں میں شفا ملتی ہے اور جس کی پیش کردہ ہدایات کو دستور العمل بنانے سے زندگی کے روگ اور سینوں کے بغض اور کینے ختم ہوتے ہیں۔ اور انسانی معاملات کی الجھنیں حل ہوجاتی ہیں۔ ان اسمائے مبارکہ سے جہاں اس عظیم سورة کی اہمیت افادیت اور عظمت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے الفاظ میں وہ تاثیر رکھی ہے کہ جسے فوراً قبولیت کا ثمر مل جاتا ہے۔ بشرطیکہ آدمی حسن نیت سے اسے پڑھے اور اس کی دی ہوئی روشنی میں زندگی کا سفر کرنے کا تہیہ کرلے۔ اور اس کے پیش کردہ دستور العمل کو زندگی کا دستور بنا لے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث مبارک سے اس تاثیر کی ہمیں خبر ملتی ہے۔ آپ بھی اس حدیث کو ملاحظہ فرمائیے۔ عن ابی ہریرہ عن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یقول اللہ تعالیٰ قَسَّمْتُ الصلوٰۃ بینی و بین عبدی نصفین فنصفھا لی و نصفھا لعبدی و لعبدی ما سأل اذا قال العبد الحمد للہ رب العلمین قال اللّٰہ حمدنی عبدی واذا قال الرحمن الرحیم قال اللہ اثنی علی عبدی واذا قال مٰلک یوم الدین قال مجدنی عبدی واذا قال ایاک نعبد وایاک نستعین قال ھذا بینی و بین عبدی ولعبدی ما سأل فاذا قال اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیرالمغضوب علیھم ولا الضالین قال ھذا لعبدی ولعبدی ما سأل۔ (حضرت ابوہریرہ ( رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندہ کے درمیان دو حصّوں میں تقسیم کردیا ہے۔ اس کا نصف حصہ میرے لیے ہے اور نصف میرے بندہ کے لیے ہے اور میرے بندہ کو وہ بخشا گیا جو اس نے مانگا۔ جب بندہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ لا کہتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میرا شکریہ ادا کیا اور جب وہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ لا کہتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری تعریف بیان کی ہے اور جب وہ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ ۔ ط کہتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری بڑائی بیان کی اور جب بندہ اِیَّاکَ نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ۔ ط کہتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ حصّہ میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے اور میں نے اپنے بندے کو وہ بخشا جو اس نے مانگا۔ پھر جب بندہ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ٥ ط صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّآلِّیْنَ ۔ ع کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میں نے اپنے بندے کو وہ بخشا جو اس نے مانگا) ۔
Top