Ruh-ul-Quran - Al-Ankaboot : 44
وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ
وَلَا تُجَادِلُوْٓا : اور تم نہ جھگڑو اَهْلَ الْكِتٰبِ : اہل کتاب اِلَّا : مگر بِالَّتِيْ : اس طریقہ سے جو ھِىَ اَحْسَنُ ڰ : وہ بہتر اِلَّا : بجز الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا : جن لوگوں نے ظلم کیا مِنْهُمْ : ان (میں) سے وَقُوْلُوْٓا : اور تم کہو اٰمَنَّا بالَّذِيْٓ : ہم ایمان لائے اس پر جو اُنْزِلَ : نازل کیا گیا اِلَيْنَا : ہماری طرف وَاُنْزِلَ : اور نازل کیا گیا اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف وَاِلٰهُنَا : اور ہمارا معبود وَاِلٰهُكُمْ : اور تمہارا معبود وَاحِدٌ : ایک وَّنَحْنُ : اور ہم لَهٗ : اس کے مُسْلِمُوْنَ : فرمانبردار (جمع)
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو مقصد حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، بیشک اس میں اہل ایمان کے لیے ایک نشانی ہے
خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (العنکبوت : 44) (اللہ نے آسمانوں اور زمین کو مقصد حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، بیشک اس میں اہل ایمان کے لیے ایک نشانی ہے۔ ) آسمان و زمین کی گواہی حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بھی آسمان و زمین کی تخلیق اور اس کے نظام پر غور کرے گا اس کے لیے اس بات کو مانے بغیر چارہ نہیں کہ یہ دنیا نہ تو کسی خالق کے بغیر وجود میں آگئی ہے اور نہ یہ مختلف دیوتائوں کی کوئی بازی گاہ یا رزم گاہ ہے۔ اس کے تخلیق کے عمل میں ایسا تناسب، ایسی حُسنِ ترتیب، ایسی گرفت، ایسی علم کی ہمہ گیری اور ایسی پر ازحکمت کارفرمائی ہے جس میں کسی دوسرے کی دخل اندازی کا تصور بھی محال ہے۔ اسی طرح اس کے نظام میں ایسی یکسانی، ایسی ہم آہنگی، متخالف عناصر میں ایسی مناسبت و موافقت اور تعمیل و اطاعت میں ایسی پابندی ہے کہ جسے دیکھ کر اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ایک علیم و حکیم اور عزیزومقتدر ذات نے اس کی تخلیق ایک مقصد حق کے ساتھ کی ہے اور اس کا نظام ایک مقصد حق کو بروئے کار لانے کے لیے کام کررہا ہے۔ یہاں کی ہر تخلیق مقصد حق کی ترجمان معلوم ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کامل عدل کا یہ تقاضا ہے کہ ایک دن اس مقصد حق کو سامنے لایا جائے اور اس کے مطابق قانونِ مجازات کو کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس طرح سے حق و باطل کھل کر سامنے آجائیں گے اور ذمہ داری سے زندگی کو گزارنے والے اور بےفکری سے دادعیش دینے والے منطقی انجام سے دوچار ہوں گے۔ آخر میں فرمایا کہ اس میں اہل ایمان کے لیے ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ یعنی زمین و آسمان کی تخلیق میں توحید کی صداقت اور شرک و دہریت کے بطلان پر ایک صاف شہادت موجود ہے مگر اس شہادت کو صرف وہی لوگ پاتے ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) کی پیش کی ہوئی تعلیمات کو مانتے ہیں۔ اور جو لوگ ان کی دعوت کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں انھیں سب کچھ دیکھنے پر بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
Top