Ruh-ul-Quran - Yaseen : 15
قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۙ وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ
قَالُوْا : وہ بولے مَآ اَنْتُمْ : تم نہیں ہو اِلَّا : مگر۔ محض بَشَرٌ : آدمی مِّثْلُنَا ۙ : ہم جیسے وَمَآ : اور نہیں اَنْزَلَ : اتارا الرَّحْمٰنُ : رحمن (اللہ) مِنْ شَيْءٍ ۙ : کچھ اِنْ : نہیں اَنْتُمْ : تم اِلَّا : مگر ۔ محض تَكْذِبُوْنَ : جھوٹ بولتے ہو
بستی والوں نے کہا کہ تم کچھ نہیں ہو، مگر ہم جیسے انسان، اور خدائے رحمن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے، تم محض جھوٹ بولتے ہو
قَالُوْا مَـآ اَنْتُمْ اِلاَّبَشَرٌ مِّثْلُنَا لا وَمَـآ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْ ئٍ لا اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ تَـکْذِبُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 15) (بستی والوں نے کہا کہ تم کچھ نہیں ہو، مگر ہم جیسے انسان، اور خدائے رحمن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے، تم محض جھوٹ بولتے ہو۔ ) اہلِ قریہ کا اعتراض ان رسولوں کے دعویِٰ رسالت کی تردید میں اہل قریہ نے وہی بات کہی جو اس سے پہلے ہر رسول کے مخالفین کہتے رہے ہیں، وہ یہ کہ رسالت ایک عظیم منصب ہے جس میں اللہ تعالیٰ سے براہ راست ہدایت حاصل کرکے بندوں تک پہنچائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نازک اور عظیم کام انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ انسان نہ تو اپنے پروردگار کو دیکھ سکتا ہے، نہ اس سے باتیں کرسکتا ہے اور نہ اس کی بات کو سن سکتا ہے۔ تو پھر ایک انسان نبوت و رسالت کے منصب پر فائز کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اس میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے متعلق ہونا پڑتا ہے۔ اسی تصور کے پیش نظر ہر دور کے انسانوں نے بشریت اور رسالت میں تضاد محسوس کیا ہے کہ جو رسول ہے وہ بشر نہیں ہوسکتا اور بشر رسول نہیں ہوسکتا۔ سورة بنی اسرائیل کی آیت 94 میں ارشاد ہے : وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّوْمِنُوْا اِذْجَآئَ ھُمُ الْھُدٰی اِلاَّاَنْ قَالُوْا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوْلاً ” لوگوں کو ایمان لانے سے صرف اس بات نے روکا جب ان کے پاس ہدایت آئی کہ کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیج دیا ہے۔ “ قرآن کریم کہتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ کیونکہ انسان ہی انسان کی ہدایت کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجا جاتا تو وہ نظر ہی نہ آتا۔ اور اگر وہ انسانی شکل میں آتا تو پھر یہی اعتراض پیدا ہوتا۔ اور دوسری یہ بات کہ فرشتہ انسانی ہدایت کے لیے کافی نہیں ہوسکتا کیونکہ نہ اس کی ضروریات انسانوں جیسی ہیں اور نہ اس کی احتیاجات، نہ اس کی کمزوریاں انسانوں کی کمزوریاں ہیں کہ وہ انسانوں کو صبر اور استقامت کی مثال بن کر دکھا سکے۔ اور نہ وہ اپنے اندر خواہشات رکھتا ہے کہ خواہشات پر قابو پا کر زہد، استقلال اور صبر کی عملی تصویر پیش کرسکے۔ اور نہ وہ انسانی کیفیت کا حامل ہے کہ انسان کو خشوع خضوع اور خشیت الٰہی کی تعلیم دے سکے۔ تو پھر اسے نبوت اور رسالت دینے کا کیا فائدہ ہوگا۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انسانوں نے ہمیشہ نبوت و رسالت کے لیے انسانوں کو نااہل قرار دیا اور ان کی نبوت اور رسالت کو ہمیشہ موردالزام ٹھہرایا۔ جبکہ قرآن کریم صراحت کے ساتھ یہ بات کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی رسول ہوسکتا ہے۔ سورة انبیاء میں ارشاد فرمایا گیا : وَمَااَرْسَلْنَا قَبْلَـکَ اِلاَّرِجَالاً نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ فَسْئَلُوْا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ وَمَا جَعَلْنَا ھُمْ جَسَدًا لاَّ یَاکُلُوْنَ الطَّعاَمَ وَمَا کَانُوْا خَالِدِیْنَ ۔ ” ہم نے تم سے پہلے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے جن پر ہم وحی کرتے تھے، اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھ لو، اور ہم نے ان کو ایسے جسم نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ جینے والے تھے۔ “ حقیقت یہ ہے کہ انسانوں نے ہمیشہ انسان کی پہچان میں ٹھوکر کھائی ہے۔ انسان جب عقیدے کی عظمت سے محروم ہوتا ہے اور کردار کی پاکیزگی سے تہی دامن ہوجاتا ہے تو وہ بگڑے ہوئے انسانوں کو جو دولت و ثروت اور حکومت و اقتدار کے ایوانوں میں داد عیش دیتے ہیں کو حقیقی انسان سمجھ بیٹھتا ہے۔ اس کی نگاہ انسان کے رنگ و روپ، اس کے لباس، اس کے مساکن، اس کی سواریوں، اس کی زمینوں، اس کی دولت اور اس کے مناصب پر رہتی ہے اور انہی چیزوں کے حوالے سے وہ چھوٹے بڑے انسانوں میں تمیز کرتا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ سیرت و کردار کے افلاس کے ساتھ ساتھ انسانی صفات بھی کسمپرسی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اس لحاظ سے ہر دو ٹانگوں پر چلنے والا انسان کہلاتا ہے چاہے وہ اپنی صفات کے اعتبار سے حیوانات سے بھی گیا گزرا ہو۔ اور عہدہ و منصب پر فائز یا دولت و ثروت کا مالک انسانیت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوجاتا ہے چاہے اس کے اندر درندگی بھری ہوئی ہو۔ اس کوتاہ نظری، کو رچشمی اور بےبصیرتی نے انسان کی حقیقی پہچان کے سامنے پردے حائل کردیے ہیں۔ اور انسان اپنی حقیقی عظمت کی پہچان میں ناکام ہوگیا ہے۔ اس کی ذات کو بھی یقینا اس سے نقصان پہنچا لیکن بڑا نقصان یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول جو انسانیت کا نمونہ بلکہ فخر ہوتے ہیں خطرناک حد تک ان کی معرفت انسانوں کے لیے مشکل ہوگئی۔ حالانکہ یہ انسان اور بشر ہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات اور کائنات کا گل سرسبد بنایا ہے۔ اور اس کے سر پر نبوت اور خلافت کا تاج رکھا۔ اور اسے وہ عظمت عطا کی جس کے بارے میں ذوق کہتا ہے : بشر جو اس تیرہ خاکداں میں پڑا یہ اس کی اپنی فروتنی ہے وگرنہ قندیلِ عرش میں بھی اسی کے جلوے کی روشنی ہے حاصل کلام یہ کہ آپ لوگ چونکہ ہماری طرح انسان ہیں اور انسان نبی یا رسول نہیں ہوسکتا۔ تو اس سے خودبخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں۔ اور انسانوں کے لیے ہدایت چونکہ رسولوں پر ہی اترتی ہے تو آپ رسول نہ ہونے کی وجہ سے اس دعوے میں قطعاً غلط ہیں کہ آپ پر اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز اتاری ہے۔ اولاً تو انسان ہونے کی وجہ سے آپ کا دعویِٰ رسالت ہی سراسر جھوٹ پر مبنی ہے اور اس پر مزید جھوٹ یہ ہے کہ آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کی وحی اترتی ہے ہمیں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے۔ یہ جھوٹ پر جھوٹ ہے۔ تو ایسے لوگوں پر ہم ایمان کیسے لے آئیں۔ بعض اہل علم نے وَمَـآ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْ ئٍ کو سیاق کلام کا حصہ بنانے کی بجائے ایک مستقل بات قرار دے کر اسے مخالفین کی جہالت اور عقل کا جھوٹا پندار قرار دیا ہے یعنی وہ لوگ اس پندار میں مبتلا تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ انسانی ہدایت کے لیے انسانی دانش کافی ہے۔ جوہرِعقل کا فانوس اسی لیے عطا فرمایا گیا ہے تاکہ لوگ اپنی زندگی کے معاملات اسی کے ذریعے حل کریں۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کو کسی وحی بھیجنے کی ضرورت نہیں، بلکہ انسان اپنی معنوی ضرورتوں کے لیے خودکفیل بنایا گیا ہے جبکہ عقل سلیم رکھنے والا یہ بات جانتا ہے کہ انسانی عقل کا دائرہ کار محسوسات اور معقولات تک ہے۔ لیکن جن چیزوں کا تعلق مابعد الطبعیات سے ہے اور جن احساسات کا تعلق عالم برزخ اور عالم آخرت سے ہے اور وہ بنیادی تصورات جو تخلیقِ آدم سے لے کر آج تک مذہب نے انسان کو عطا کیے ہیں اور جس سے انسان کی مذہبی اور روحانی تربیت ہوتی ہے یہ تمام چیزیں انسانی عقل کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان باتوں کا نہ کوئی حل بتاتی ہے اور نہ ان سے متعلق کسی سوال کا جواب دیتی ہے۔ آج کا عقلیت پسند انسان بھی اسی غلطی کا شکار ہو کر وحی اور رسالت کے انکار میں مبتلا ہوگیا ہے۔ اور یہی جہالت ان لوگوں میں بھی پائی جاتی تھی جو محولہ بالا رسولوں کی رسالت سے انکار کررہے تھے۔ یہ بات یقینا اپنی حقیقت کے اعتبار سے تو بالکل صحیح ہے لیکن سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے آیت کے اس ٹکڑے کا یہ مفہوم لینا مشکل معلوم ہوتا ہے۔
Top