Ruh-ul-Quran - Saad : 15
وَ مَا یَنْظُرُ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً مَّا لَهَا مِنْ فَوَاقٍ
وَمَا يَنْظُرُ : اور وہ انتظار نہیں کرتے هٰٓؤُلَآءِ : یہ لوگ اِلَّا : مگر صَيْحَةً : چنگھاڑ وَّاحِدَةً : ایک مَّا لَهَا : جس کے لیے نہیں مِنْ : کوئی فَوَاقٍ : ڈھیل
اور یہ لوگ بس ایک ڈانٹ کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی ڈھیل نہیں
وَمَا یَنْظُرُ ھٰٓـؤُلَآئِ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً مَّا لَھَا مِنْ فَوَاقٍ ۔ وَقَالُوْا رَبّنَا عَجِّلْ لَّـنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ ۔ (صٓ: 15، 16) (اور یہ لوگ بس ایک ڈانٹ کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی ڈھیل نہیں۔ اور انھوں نے کہا کہ اے ہمارے رب ! روزِحساب سے پہلے ہی ہمارا حصہ ہمیں جلدی سے دے دے۔ ) قریش کا متکبرانہ رویہ اور اس کا جواب پہلی آیت میں قریش کے اس رویئے کا ذکر ہے جو ان کے انکارِ حق اور اصرارِ باطل سے پیدا ہوا ہے۔ اور دوسری آیت میں ان کے اس طنطنہ اور غرور کی طرف اشارہ ہے جس کی وجہ سے ان کی زبانوں پر ایسے الفاظ آگئے ہیں جو کوئی شخص بھی اس وقت تک نہیں کہہ سکتا جب تک کہ غرور اس کی عقل پر غالب نہ آجائے۔ پہلی آیت میں ان کے طرزعمل کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کے رسول انھیں حق کی طرف بلاتے ہیں اور بار بار انھیں ایمان لانے کی ترغیب دیتے ہیں تو وہ بجائے ایمان لانے کے آپ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اور جب آپ انھیں تنبیہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈراتے ہیں تو وہ بجائے عذاب سے ڈرنے کے عذاب کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں۔ ان کے اس رویئے کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ انھیں خوب معلوم ہے کہ پہلی قوموں پر عذاب آچکا ہے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ڈانٹ یا ایک دھماکے نے ان کا کام تمام کردیا۔ اور پھر انھیں سنبھلنے کی مہلت نہیں ملی، یہ بھی شاید یہی چاہتے ہیں۔ ” فواق “ دراصل اس وقفے کو کہتے ہیں جو اونٹنی کا دودھ ایک دفعہ سونت لینے کے بعد دوبارہ تھنوں میں دودھ اترنے تک ہوتا ہے۔ یہ ایک محدود وقت ہے جسے ڈھیل کے لیے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان کا خیال شاید یہ ہے کہ عذاب آنے کے بعد ہمیں سنبھلنے کا موقع دیا جائے گا، حالانکہ عذاب خاتمے کا نام ہے، سنبھلنے کا موقع دینے کا نہیں۔ دوسری آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قریش کی اندھی رعونت کا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تکذیب کے سلسلے میں جب انھیں بتایا گیا کہ پہلی قومیں اسی جرم کی پاداش میں تباہ کی گئی ہیں تو وہ بجائے اس کے کہ انھیں اپنے انجام کی فکر ہوتی اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر کر تلافی کی کوشش کرتے، وہ اس کے بالکل برعکس منہ پھاڑ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اگر یہ پیغمبر اپنی دعوت میں سچا ہے تو جس عذاب سے ہمیں ڈرایا جارہا ہے یا جس عذاب قیامت کا ذکر کیا جارہا ہے اسے قیامت تک اٹھا رکھنے کی بجائے دنیا ہی میں ہم پر نازل کردیا جائے۔ قریش کے اسی طرح کے مطالبے کا ذکر سورة الانفال میں بھی کیا گیا ہے۔ ممکن ہے یہ عذاب ہی کا مطالبہ ہو جس سے آنحضرت ﷺ انھیں ڈراتے تھے۔ اور یا اس سے جنگ بدر کی فتح و شکست کا تعلق ہو جس کے لیے جنگ بدر کے ارادے سے نکلنے سے پہلے بیت اللہ کے پردے پکڑ کر ابوجہل نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی۔ دونوں صورتوں میں ان کی رعونت اور ہٹ دھرمی کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی جاہلیت پر کس قدر اڑے ہوئے تھے اور حق کے لیے کس طرح ان کے دلوں کے دروازے بند ہوچکے تھے۔ سورة الانفال میں فرمایا گیا ہے کہ وَاِذْقَالُوا اللَّھُمَّ اِنْ کَانَ ہٰذَا ہُوَالْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَائِ اَوِئْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ ” اور جبکہ انھوں نے کہا کہ اے اللہ ! اگر یہی حق ہو، تیرے پاس سے تو ہم پر پتھر برسا دے آسمان سے یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر نازل کر۔ “
Top