Ruh-ul-Quran - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ : اور کیا اَتٰىكَ : آپ کے پاس آئی (پہنچی) نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ : خبر جھگڑنے والے اِذْ : جب تَسَوَّرُوا : وہ دیوار پھاند کر آئے الْمِحْرَابَ : محراب (مسجد)
کیا آئی ہے تمہارے پاس خبر ان فریقوں کی جبکہ وہ دیوار پھاند کرمحراب میں گھس گئے
وَھَلْ اَتٰـکَ نَبَؤُا الْخَصْمِ م اِذْتَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ۔ اِذْ دَخَلُوْا عَلٰی دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْہُمْ قَالُوْا لاَ تَخَفْ ج خَصْمٰنِ بَغٰی بَعْضُنَا عَلٰی بَعْضٍ فَاحْکُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَلاَ تُشْطِطْ وَاھْدِنَـآ اِلٰی سَوَآئِ الصِّرَاطِ ۔ (صٓ: 21، 22) (کیا آئی ہے تمہارے پاس خبر ان فریقوں کی جبکہ وہ دیوار پھاند کرمحراب میں گھس گئے۔ جبکہ وہ دائود کے پاس پہنچے تو وہ ان سے گھبرایا، وہ بولے ڈریئے نہیں ہم دو فریقِ معاملہ ہیں۔ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، پس آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیجیے، کوئی بےانصافی نہ کیجیے، اور ہمیں سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کیجیے۔ ) حضرت دائود (علیہ السلام) کی حکمت و دانش کے اثرات اوپر کی آیات میں حضرت دائود (علیہ السلام) کی حکمت و دانش، آپ کی عبادت و ریاضت، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے آپ کا والہانہ عشق، آپ کی مضبوط حکومت، آپ کا عدل و انصاف اور اس حوالے سے بات کی تہ تک پہنچنا اور پھر نہایت سلیقے سے فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت جیسی خوبیوں کو بیان کرنے کے بعد ایک ایسا واقعہ بیان کیا جارہا ہے جس سے آپ کی تمام خوبیوں اور صلاحیتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ اس واقعہ کو پڑھ کر فوری طور پر جو تأثرات ذہن میں ابھرتے ہیں ان میں پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) عدل و انصاف میں جس غیرمعمولی طریقے پر عامل تھے ان میں سب سے پہلی بات یہ تھی کہ آپ کی نگاہ میں امیر اور غریب میں کوئی فرق نہ تھا۔ کوئی غریب شخص اگر اپنا ایک جائز حق رکھتا تھا تو اس کی غربت اس کے لیے کمزوری کا باعث نہ تھی۔ اور کوئی امیر شخص بغیر حق کے اگر کسی چیز کا دعویدار تھا تو اس کی امارت اس کے لیے معاون نہیں بن سکتی تھی۔ ان کی عدالت سے ہر شخص کو بےلاگ انصاف ملتا تھا۔ دوسری بات یہ محسوس ہوتی ہے کہ ان کے مسلسل عادلانہ رویئے سے لوگوں میں ایک ایسا اعتماد پیدا ہوگیا تھا کہ ہر شخص چاہے وہ کیسا ہی ظلم کا ستایا ہوا ہو آپ کی عدالت میں پہنچ کر اور بےجھجک اپنا معاملہ آپ کے سامنے رکھ کر مطمئن ہوجاتا تھا کہ اب میرے حق کے ملنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اس اعتماد نے لوگوں میں ایک ایسی جسارت پیدا کردی تھی کہ وہ وقت اور بےوقت آپ سے انصاف کے حصول کے لیے آپ کے پاس پہنچ جاتے تھے۔ وقت چاہے آپ کے آرام کا ہوتا یا آپ کی عبادت کا، انھیں ہرگز اس بات کا خیال نہ ہوتا کہ ایسے بےوقت جانے سے آپ ناراض ہوسکتے ہیں۔ بلکہ انھیں خیال یہ تھا کہ جتنا ایک حق کا طلبگار اپنے حق کے لیے بےچین ہوتا ہے حضرت دائود (علیہ السلام) حقدار کو حق پہنچانے میں اس سے زیادہ بےچین ہوتے ہیں۔ اور تیسری بات جو نہایت حیران کن ہے وہ یہ تھی کہ آپ کو دوسروں کے معاملات سنتے ہوئے اگر کبھی اپنی کسی کوتاہی پر تنبہ ہوجاتا تو آپ استغفار کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹنے میں تاخیر نہیں کرتے تھے۔ چناچہ ان نکات کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم اس واقعہ کو دیکھتے ہیں جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے تو اس واقعہ کی اصل روح سمجھنے میں دشواری پیش نہیں آتی۔ چند مشکل الفاظ کی تشریح ھَلْ اَتٰـکَ کا اسلوبِ خطاب ہمیشہ واحد کے لیے نہیں بلکہ جمع کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ جب کسی واقعہ کی خبر اس اسلوب سے دی جاتی ہے تو بالعموم اس کی اہمیت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ الْخَصْمِ فریق، مقابل اور دشمن کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ یہ لفظ لفظی اعتبار سے واحد ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اِذْتَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ، تَسَوَّرُ کے اصل معنی تو دیوار پر چڑھنے کے ہیں، لیکن کبھی کبھی یہ داخل ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہاں ایسا معلوم ہوتا ہے یہ دونوں معنی کو متضمن ہے۔ یعنی اس میں چڑھنا اور داخل ہونا دونوں معنی شامل ہیں۔ الْمِحْرَابَاس کا معنی محل بھی ہوتا ہے اور محل کا کوئی کمرہ بھی۔ بعض دفعہ ہر عمارت کے سامنے کے حصے پر بھی محراب کا اطلاق ہوتا ہے۔ اصل واقعہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک معاملے میں دو فریقوں کا آپس میں جھگڑا ہوا، دونوں میں سے ایک امیر آدمی ہے اور دوسرا غریب۔ غریب نے امیر سے کہا کہ تم جس بات کے لیے مجھ پر دبائو ڈال رہے ہو، بہتر ہے ہم اس کا فیصلہ حضرت دائود (علیہ السلام) سے کروا لیں۔ اس نے ممکن ہے عدالت کا وقت گزر جانے کا عذر کیا ہو۔ لیکن غریب آدمی نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے مزاج کو جانتے ہوئے اصرار کیا کہ کوئی بات نہیں ہم کسی وقت بھی ان کے پاس پہنچ جائیں، ہمیں ان سے انصاف ضرور ملے گا۔ چناچہ دونوں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایسے وقت میں آپ کے پاس پہنچے جو وقت آپ کی عبادت کے لیے مخصوص تھا۔ فصلِ مقدمات کا وقت گزر چکا تھا۔ صدر دروازے پر پہرہ داروں نے انھیں اس ناوقت محل کے اندر داخل ہونے سے روکا۔ لیکن یہ کسی طرح پہرہ داروں کی نظر بچا کر کسی دوسری طرف سے محل میں جا گھسے اور اچانک حضرت دائود (علیہ السلام) کے سامنے جا پہنچے۔ ان کا اس طرح دیوار پھاند کر ناوقت حضرت دائود (علیہ السلام) کے پاس پہنچنا یقینا ایک خطرے کی گھنٹی تھی۔ اس لیے حضرت دائود (علیہ السلام) ان کو دیکھ کر گھبرائے۔ آپ نے خیال کیا کہ یہ کوئی ڈاکو ہیں اور یا میرے دشمن ہیں۔ لیکن داخل ہونے والوں نے ان کو اطمینان دلایا کہ ہم دشمن نہیں ہیں آپ ہم سے کوئی اندیشہ نہ کریں، بلکہ ایک مقدمہ ہم آپ کے پاس لے کے آئے ہیں اور ہم دونوں مقدمہ کے فریق ہیں۔ اس مقدمے میں ہم میں سے ایک نے دوسرے سے زیادتی کی ہے اس لیے آپ ہمارے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیں۔ اور حضرت دائود (علیہ السلام) کی طبعی فیاضی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ آپ فیصلہ میں کسی طرح کی طرفداری اور ناانصافی نہ کریں، بلکہ صراط مستقیم کی طرف ہمیں رہنمائی بخشیں۔ اگرچہ ان لوگوں نے ڈاکوئوں کی طرح محل میں گھس کر اور ناوقت آپ کے پاس پہنچ کر اور حد سے بڑھی ہوئی بےباکی سے گفتگو کرکے اچھے اخلاق کا ثبوت نہیں دیا تھا بلکہ ان میں سے ہر بات سزا کی طالب تھی۔ لیکن حضرت دائود (علیہ السلام) نے ان میں سے کسی بات کا نوٹس نہیں لیا، آپ فوراً ان کے معاملے کی طرف متوجہ ہوگئے۔
Top