Ruh-ul-Quran - Saad : 42
اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ
اُرْكُضْ : (زمین پر) مار بِرِجْلِكَ ۚ : اپنا پاؤں ھٰذَا : یہ مُغْتَسَلٌۢ : غسل کے لیے بَارِدٌ : ٹھنڈا وَّشَرَابٌ : اور پینے کے لیے
(ہم نے اسے حکم دیا) کہ زمین پر اپنا پائوں مارو، یہ نہانے کا بھی ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا بھی
اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ج ھٰذَا مُغْتَسَلٌ م بَارِدٌ وَّشَرَابٌ۔ (صٓ: 42) (ہم نے اسے حکم دیا) کہ زمین پر اپنا پائوں مارو، یہ نہانے کا بھی ٹھنڈا پانی ہے اور پینے کا بھی۔ ) صبر پر اللہ تعالیٰ کا فضل جب آپ نے آزمائشوں میں ثابت قدمی دکھائی اور مایوس ہونے کی بجائے برابر اپنے رب کو پکارتے رہے اور ادھر شیطان کے ایجنٹوں کا پر اپیگنڈا بھی ناکام ہوگیا اور لوگوں میں یہ بات نہ چل سکی کہ ایوب (علیہ السلام) اس لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں کہ وہ نہایت تنومند اور خوشحال آدمی ہیں۔ آپ نے جب نادار اور بیمار ہو کر بھی اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا تو لوگوں کو اس حقیقت کا یقین آگیا۔ تب اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوئی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ضرور ہے لیکن لاوارث نہیں چھوڑتا۔ اور آزمائش کبھی اتنی دراز بھی نہیں ہوتی کہ جو رسوائی بن جائے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ زمین پر پائوں مارو۔ ممکن ہے اس کے لیے قریب ہی کوئی جگہ مقرر کردی گئی ہو۔ اور ساتھ ہی فرمایا کہ جیسے ہی تم پائوں سے ٹھوکر لگائو گے تو وہیں سے ایک چشمہ جاری ہوجائے گا جس سے ٹھنڈا پانی ابلے گا۔ وہ پینے کے کام بھی آئے گا اور غسل کرنے کے بھی۔ پانی پینے سے اندر کی تمام خرابیاں ختم ہوجائیں گی۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کسی سخت جلدی مرض میں مبتلا تھے۔ اس لیے اس پانی سے غسل کرنے کا حکم دیا تاکہ غسل کرنے سے جلد کی تمام بیماریاں ختم ہوجائیں اور آپ کا پورا جسم جس طرح سر سے پائوں تک پھوڑا بن چکا تھا غسل کرنے اور پانی کے بہنے سے درست ہوتا چلا جائے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو صحت عطا فرمائی۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ پائوں کی ٹھوکر سے کسی چشمے کا جاری ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ کیونکہ ندیوں اور نالوں کے کنارے زمین کی بالائی سطح کے ذرا نیچے پانی کے سوتے دبے ہوتے ہیں جو بعض دفعہ پائوں کی ٹھوکر سے یا تھوڑا بہت کریدنے سے جاری ہوجاتے ہیں۔ ایسا ہی یہاں بھی ہوا ہوگا۔ لیکن یہ بات دل کو لگتی نہیں۔ اس لیے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا مکان کسی ندی کے کنارے پر نہیں تھا۔ آپ اپنے وقت کے امیرترین آدمی تھے یقینا کسی اچھے شہر میں امراء کی بستی میں آپ کی رہائش ہوگی۔ آپ کا سب کچھ چھن گیا لیکن آپ سے چھت تو نہیں چھینی گئی۔ اسی چھت کے نیچے آپ کو زمین پر پائوں مارنے کا حکم دیا گیا اور اس سے چشمہ پھوٹ نکلا۔ یہ یقینا ایک معجزہ تھا اور معجزے ہی کے طور پر قرآن کریم نے اس کو ذکر کیا ہے۔ اگر یہ معمول کی بات ہوتی تو غیرمعمولی طور پر ذکر کرنے کی ضرورت کیا تھی۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ کے احسان اور رحمت کے ظہور کی کیا صورت تھی ؟
Top