Ruh-ul-Quran - Saad : 5
اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ
اَجَعَلَ : کیا اس نے بنادیا الْاٰلِهَةَ : (جمع) معبود اِلٰهًا : معبود وَّاحِدًا ښ : ایک اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : ایک شے (بات) عُجَابٌ : بڑی عجیب
کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک معبود کردیا، یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے
اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰـھًا وَّاحِدًا صلے ج اِنَّ ھٰذَا لَشَیْ ئٌ عُجَابٌ۔ (صٓ: 5) (کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک معبود کردیا، یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔ ) قریش کا عجیب پروپیگنڈا قریش اور دیگر مخالفین کو آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بعد سب سے زیادہ جس چیز پر اعتراض تھا وہ آپ کی توحید کی دعوت تھی۔ آپ پوری قوت سے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حقوق میں واحد اور یکتا قرار دیتے تھے۔ نہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق ہے اور نہ اس کے سوا کوئی غیرمشروط مطاع ہے۔ جس طرح وہ اپنی ذات میں یکتا ہے اسی طرح وہ اپنی صفات میں بھی یکتا ہے۔ اور اس کی ذات وصفات کے تقاضوں کے طور پر جو حقوق اس کے لیے لازم ہیں ان میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ مخالفین کے لیے یہ دعویٰ نہ صرف ناقابلِ قبول بلکہ بہت تکلیف دینے والا تھا۔ کیونکہ ہر قبیلے نے اپنا ایک الگ خدا بنا رکھا تھا۔ اور ہر قبیلہ اپنے بت کے ساتھ اندھی بہری عقیدت رکھتا تھا۔ کعبۃ اللہ میں سینکڑوں بتوں کے ہونے کا سبب یہی تھا کہ ہر قبیلے نے اپنا بت وہاں رکھا ہوا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ کا یہ گھر تمام خدائوں کا تیرتھ ثابت ہو۔ اور سارے قبائل والہانہ کھنچے چلے آئیں۔ قریش ان کی اس عقیدت اور محبت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قبائل کی عصبیت کو بھڑکانے کے لیے یہ زہریلا پروپیگنڈا کرتے تھے کہ اس شخص نے تمام معبودوں کو ختم کرکے ایک معبود بنا ڈالا ہے۔ اس سے زیادہ عجیب بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ اور معبود بھی اس نے وہ رکھا ہے جس کو وہ خود معبود مانتا اور اس کی بوجا کرتا ہے، دوسرے تمام معبودوں کی خدائی اس نے ختم کردی ہے۔ اور یہ ایک ایسی حرکت ہے جس کا سراغ ہم اپنے آبائواجداد میں بھی نہیں پاتے۔ اس لیے قرآن کریم نے اس آیت کے آخر میں ” عجاب “ کا لفظ استعمال کیا۔ کیونکہ ” عجاب “ کے اندر عجیب کے مقابلے میں مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی توحید اور واحدنیت ایک ایسی بات تھی کہ جس سے زیادہ عجیب بات اور کوئی نہیں ہوسکتی تھی۔ اس طرح سے قریش نے تمام قبائل میں ایک طرح سے آگ لگانے کی کوشش کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
Top