Ruh-ul-Quran - Saad : 6
وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ١ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ یُّرَادُۖۚ
وَانْطَلَقَ : اور چل پڑے الْمَلَاُ : سردار مِنْهُمْ : ان کے اَنِ : کہ امْشُوْا : چلو وَاصْبِرُوْا : اور جمے رہو عَلٰٓي اٰلِهَتِكُمْ ښ : اپنے معبودوں پر اِنَّ ھٰذَا : بیشک یہ لَشَيْءٌ : کوئی شے (بات) يُّرَادُ : ارادہ کی ہوئی (مطلب کی)
اور سردارانِ قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں پر، بیشک یہ بات کسی اور مقصد کے لیے کہی جارہی ہے
وَانْطَلَقَ الْمَـلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِھَتِکُمْ صلے ج اِنَّ ھٰذَا لَشَیْ ئٌ یُّرَادُ ۔ (صٓ: 6) (اور سردارانِ قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں پر، بیشک یہ بات کسی اور مقصد کے لیے کہی جارہی ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کی دعوت سے متعلق بدگمانی ہم سورة کے تعارف میں یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ ایک موقع پر سردارانِ قوم حضرت ابوطالب کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے کہ آپ اپنے بھتیجے سے ہمارے معاملات کا تصفیہ کرا دیں۔ آخر انھوں نے تجویز یہ پیش کی کہ آپ اپنے بھتیجے کو پابند کریں کہ وہ ہمارے خدائوں کی مذمت نہ کریں تو ہم اس کی عبادت پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔ وہ اپنے پروردگار کی جیسے چاہے عبادت کرے، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوگا۔ اسی طرح اسے بھی اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور کس کس بت کے بارے میں ہمارے کیا تصورات ہیں۔ چناچہ یہی بات حضرت ابوطالب نے آنحضرت ﷺ کے سامنے رکھی۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں تم سب لوگوں کے سامنے ایک کلمہ پیش کرتا ہوں اگر تم اسے قبول کرلو تو تم عرب کے مالک ہوجاؤ گے اور عجم تمہارے سامنے جھک جائے گا۔ قریش کے سرداروں نے پوچھا، وہ کلمہ کیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا لاَاِلٰـہَ اِلاَّاللّٰہ۔ یہ سن کر وہ بہت برہم ہوئے اور یہ کہتے ہوئے اس مجلس سے نکل گئے کہ یہاں سے چلو اور اپنے خدائوں کی عبادت پر جمے رہو۔ یہ بظاہر تو بڑی سادہ سی بات کہہ رہا ہے، حقیقت میں اس کا مطلب کچھ اور ہے۔ اس کے پیش نظر یہ ہے کہ کسی طرح آنحضرت ﷺ کو بطور مطاع کے قبول کرلیا جائے۔ اس کی حکمرانی کا قلادہ اپنے گلے میں ڈال لیا جائے۔ اور اس طرح سے وہ رفتہ رفتہ ہمارا حکمران بن جائے۔ محض ایک کلمے کے قبول کرلینے سے عرب و عجم کا مطیع ہوجانا محض ایک سخن سازی ہے، حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ اپنی حکومت کے لیے راستہ صاف کیا جارہا ہے۔
Top