Ruh-ul-Quran - Saad : 7
مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ١ۖۚ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌۖۚ
مَا سَمِعْنَا : ہم نے نہیں سنا بِھٰذَا : ایسی فِي : میں الْمِلَّةِ : مذہب الْاٰخِرَةِ ښ : پچھلا اِنْ : نہیں ھٰذَآ : یہ اِلَّا : مگر۔ محض اخْتِلَاقٌ : من گھڑت
ہم نے یہ بات آخری ملت میں کسی سے نہیں سنی، یہ محض ایک من گھڑت بات ہے
مَاسَمِعْنَا بِھٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ صلے ج اِنْ ھٰذَآ اِلاَّ اخْتِلاَقٌ۔ (صٓ: 7) (ہم نے یہ بات آخری ملت میں کسی سے نہیں سنی، یہ محض ایک من گھڑت بات ہے۔ ) قریش کا اپنی تاریخ سے استدلال قریش اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا وارث سمجھتے تھے۔ اور ساتھ ہی انھیں ان کی اولاد ہونے پر بھی فخر تھا۔ قرآن کریم نے ان کے ان ہی مزعومات کی بنا پر بطورخاص ملت ابراہیمی کی تاریخ بیان فرمائی۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہم السلام) نے اللہ تعالیٰ کا جو گھر تعمیر کیا اور قریش کو جس کے متولی ہونے پر ناز تھا اور اسی کی وجہ سے انھیں بیشمار فوائد حاصل تھے۔ اس گھر کی تعمیر کے مقاصد کو خصوصی طور پر بیان کرتے ہوئے یہ بات واضح فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو توحید کا مرکز بنایا تھا۔ اور اسی گھر میں کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہم السلام) نے نبی آخرالزماں ﷺ کی تشریف آوری اور اپنی اولاد میں سے ایک امت مسلمہ کے برپا کرنے کی دعائیں مانگی تھیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والے اسی دعا کا ثمر ہیں اور یہ گھر اسی توحید کا مرکز ہے جس کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے صاحبزادے نے محنت فرمائی تھی۔ اور پھر قرآن کریم نے جابجا اس بات کو واضح کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد چاہے وہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے ہو یا حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے انھیں توحید ہی کا وارث بنایا گیا تھا۔ اس حوالے سے قریش کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ ملت ابراہیمی کا تو وارث ہونے کا دعویٰ کریں لیکن ملت ابراہیمی کی اساس اور اس کی علامت یعنی توحید کو ماننے سے انکار کردیں۔ لیکن قریش کسی طرح بھی اس کو ماننے کو تیار نہیں تھے۔ وہ بار بار یہ بات کہتے تھے کہ اگر ملت ابراہیمی کی اصل شناخت توحید ہوتی تو ہمارے قریب کے زمانے میں یعنی ملت ابراہیمی کے آخری دور میں جو ہمارے آبائواجداد گزرے ہیں یا ہمارے قریب ملکوں میں جن دوسرے مذاہب کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا ہے، کسی نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ انسان صرف ایک اللہ رب العالمین کو مانے اور دوسرے کسی کو نہ مانے۔ آخر ایک اکیلے خدا پر کون اکتفا کرسکتا ہے۔ بیشمار آستانے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں سے مرادیں مانگی جارہی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے اپنے تصرفات کے ذریعے لوگوں کی مرادیں پوری کررہے ہیں۔ اب یہ ہمیں ایک نئی بات سنائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں اور اس کی خدائی میں کسی کا حصہ نہیں۔ اور پوری کی پوری خدائی بس ایک اللہ ہی کے لیے ہے، ہم اس بات کو کیسے تسلیم کرلیں۔ یہ تو محض ایک من گھڑت بات معلوم ہوتی ہے۔
Top