Ruh-ul-Quran - Saad : 79
قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ : اے میرے رب فَاَنْظِرْنِيْٓ : پس تو مجھے مہلت دے اِلٰى : تک يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ : جس دن اٹھائے جائیں گے
ابلیس نے کہا : اے میرے رب ! مجھے اس وقت تک کے لیے مہلت دے دے، جب یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے
قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ ۔ قَالَ فَاِنَّـکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ ۔ اِلٰی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ ۔ (صٓ: 79 تا 81) (ابلیس نے کہا : اے میرے رب ! مجھے اس وقت تک کے لیے مہلت دے دے، جب یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ پروردگار نے فرمایا : تجھ کو مہلت دی گئی۔ وقت معین تک کے لیے۔ ) قیامت تک لعنت کی سزا سننے کے بعد ابلیس نے گمان کیا کہ شاید اس کی مہلت عمل ختم کی جارہی ہے جبکہ وہ دل میں یہ فیصلہ کرچکا تھا کہ میرے جنت سے نکلنے اور میرے تمام مناصب سے محروم ہونے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس کردیئے جانے کا سبب چونکہ آدم ہوئے ہیں، اس لیے جب تک میں زندہ ہوں میں اولادِ آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ اور اس طرح سے میں آدم اور اس کی اولاد سے انتقام لینے کی کوشش کروں گا۔ اس لیے اس نے فوراً پروردگار سے درخواست کی کہ اسے اس دن تک کے لیے مہلت دی جائے جس دن لوگ اپنے اعمال کے حساب کے لیے اٹھائے جائیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مہلت دے دی۔
Top