Bayan-ul-Quran - Al-Maaida : 64
وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
وَقُلْنَا : اور ہم نے کہا يَا آدَمُ : اے آدم اسْكُنْ : تم رہو اَنْتَ : تم وَزَوْجُکَ : اور تمہاری بیوی الْجَنَّةَ : جنت وَكُلَا : اور تم دونوں کھاؤ مِنْهَا : اس میں سے رَغَدًا : اطمینان سے حَيْثُ : جہاں شِئْتُمَا : تم چاہو وَلَا تَقْرَبَا : اور نہ قریب جانا هٰذِهِ : اس الشَّجَرَةَ : درخت فَتَكُوْنَا : پھر تم ہوجاؤگے مِنَ الظَّالِمِیْنَ : ظالموں سے
اور یہود نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بند ہوگیا ہے۔ (ف 3) ان ہی کے ہاتھ بند ہیں اور اپنے اس کہنے سے یہ رحمت سے دور کردئیے گئے بلکہ ان کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ (ف 4) جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں (ف 5) اور جو (مضمون) آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے بھیجا جاتا ہے وہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور کفر کی ترقی کا سبب ہوجاتا ہے۔ اور ہم نے ان میں باہم قیامت تک عداوت اور بغض ڈال دیا۔ جب کبھی لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں حق تعالیٰ اس کو فرو کردیتے ہیں (ف 6) اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں۔ (ف 7) اور اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتے۔ (64)
3۔ وجہ گستاخی کی یہ ہوئی تھی کہ پہلے یہود پر رزق کی فراغت تھی جب حضور ﷺ تشریف لائے اور وہ آپ کے ساتھ عداوت و مخالفت سے پیش آئے تو رزق کی تنگی ہوگئی اس پر بےہودہ باتیں بکنے لگے اور ہرچند کہ کہنے والے دوہی شخص تھے لیکن چونکہ اور یہود بھی اس سے مانع نہیں ہوئے بلکہ رضی رہے اس لیے اوروں کو بھی اس میں شامل فرمایا گیا۔ 4۔ یعنی بڑے جواد و کریم ہیں۔ 5۔ چونکہ حکیم بھی ہیں اس لیے جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں پس یہود پر جو تنگی ہوئی اس کی علت حکمت ہے کہ ان کے کفر کا وبال ان کو چکھانا اور دکھانا ہے نہ یہ کہ بخل اس کی علت ہو۔ 6۔ یعنی وہ مرعوب ہوجاتے ہیں۔ 7۔ جیسے نومسلموں کو بہکانا۔ لگائی بجھائی کرنا عوام کو تورات کے محرف مضامین سنا کر اسلام سے روکنا۔
Top