Anwar-ul-Bayan - Al-Baqara : 97
قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ
قُلْ : کہہ دیں مَنْ ۔ کَانَ : جو۔ ہو عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ : جبرئیل کے دشمن فَاِنَّهُ : تو بیشک اس نے نَزَّلَهُ ۔ عَلٰى قَلْبِکَ : یہ نازل کیا۔ آپ کے دل پر بِاِذْنِ اللہِ : اللہ کے حکم سے مُصَدِّقًا : تصدیق کرنیوالا لِمَا : اس کی جو بَيْنَ يَدَيْهِ : اس سے پہلے وَهُدًى : اور ہدایت وَبُشْرٰى : اور خوشخبری لِلْمُؤْمِنِیْنَ : ایمان والوں کے لئے
اور جب تم نے اسے سنا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں شایان نہیں کہ ایسی بات زبان پر لائیں (پروردگار) تو پاک ہے یہ تو (بہت) بڑا بہتان ہے
تفسیر۔ 16۔ ولولااذ سمعتموہ ، ،، ،۔ بمعنی تعجب کے ہے۔ ھذابھتان عظیم۔ یعنی یہ بڑا جھوٹ ہے جو انسان کو حیران کردیتا ہے بعض روایا ت میں آتا ہے کہ جب حضرت ایوب انصاری کی والدہ محترمہ ابونصاری سے کہا کہ کیا حضرت عائشہ کے بارے میں جو خبر مجھ تک پہنچی ہے اس کے بارے مٰں کیا خیال ہے، حضرت ابوایوب انصاری نے جواب دیا، سبحانک ھذابھتان عظیم، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Top