Tafseer-e-Saadi - Saad : 17
اِصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ اذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ١ۚ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
اِصْبِرْ : آپ صبر کریں عَلٰي : اس پر مَا يَقُوْلُوْنَ : جو وہ کہتے ہیں وَاذْكُرْ : اور یاد کریں عَبْدَنَا : ہمارے بندے دَاوٗدَ : داؤد ذَا الْاَيْدِ ۚ : قوت والا اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : خوب رجوع کرنے والا
اے پیغمبر ﷺ یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو صاحب قوت تھے (اور) بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے
آیت 17 یہ جھٹلانے والے اپنی جہالت اور حق کے ساتھ عناد کی بنا پر عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں : (آیت) ” یعنی ہمارے حصے کا عذاب ہمیں جلدی دے دے (قبل یوم الحساب) ” حساب کے دن پہلے “ وہ اپنے اس قوم سے باز نہیں آتے۔ اے محمد ! یہ کفار سمجھتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کی علامت یہ ہے کہ آپ ان پر عذاب لے آئیں، اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا : (اصبر علی مایقولن) ” یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے “ جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین نے صبر کیا۔ ان کی باتیں حق کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں نہ آپ کو وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
Top