Tafseer-e-Saadi - Saad : 18
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِشْرَاقِۙ
اِنَّا سَخَّرْنَا : بیشک ہم نے مسخر کردیے الْجِبَالَ : پہاڑ مَعَهٗ : اس کے ساتھ يُسَبِّحْنَ : وہ تسبیح کرتے تھے بِالْعَشِيِّ : شام کے وقت وَالْاِشْرَاقِ : اور صبح کے وقت
ہم نے پہاڑوں کو ان کے زیر فرمان کردیا تھا کہ صبح و شام ان کے ساتھ (خدائے) پاک (کا ذکر) کرتے تھے
آیت 18 چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے، سا لئے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ اللہ وحدہ کی عبادت اور اس کے عبادت گزرار بندوں کے احوال کو یاد کر کے صبر پر مدد لیں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا : (آیت) ” جو یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور طلوع آفتاب اور غرورب آفتاب سے پہلے ، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے۔ “ سب سے بڑے عبادت گزار انبیاء میں سے اللہ کے نبی حضرت داؤد ہیں وہ ذالاید) ” صاحب قوت تھے “ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے اپنے قلب و بدن میں عظیم طاقت رکھتے تھے۔ انہ اواب) یعنی وہ تمام امور میں انابت، محبت، تعید، خوف، امید، کثرت گریہ زاری اور کثرت دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔ اگر عبادت میں کوئی خلل واقع ہوجاتا تو اس خللل کو دور کر کے سچی توبہ کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ یہ ان کی اپنے رب کی طرف انابت اور اس کی عبادت ہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا جو آپ کی معیت میں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیہ بیان کرتے تھے (باعشی والاشراق) صحیح اور شام کو (اور) ” تابع کردیا (الطیر محشورۃ) پرندوں کو بھی وہ آپ کے پاس جمع کردیئے گئے (کل ‘ سب کے سب “ پہاڑ اور پر ندیں اللہ تعالیٰ کے لئے لہ اقاب) ” مطیع تھے “ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اطاعت کرتے ہوئے : (آیت) ” اے پہاڑو تو اس (داؤد) کے ساتھ تسبیح بیان کرو اور ہم نے پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔ “ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے آپ کو عبادت کی توفیق سے نوازا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی اس نوازش کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو عظیم مملکت اور اقتدار عطا کیا، چناچہ فرمایا : (وشددنا ملکہ) ” اور ہم نے ان کی بادشاہی کو استحکام بخشا۔ ‘ آپ کو جو اسباب، افرادی قوت اور دنیاوی ساز و سامان عطا کیا اس کے ذریعے سے ہم نے ان کی مملکت کو طاقت ور بنایا، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد پر اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے آپ کو علم عطا کیا، چناچہ فرمایا :: (آیت) ” یعنی ہم نے آپ کو نبوت، حکمت اور علم عظیم سے سرفراز کیا۔ : (آیت) ” اور بات کا فیصلہ (سکھایا) “ یعنی لوگوں کے باہمی جھگڑوں میں فیصلہ کن بات کہنے کا ملکہ بخشا تھا۔
Top