Tafseer-e-Saadi - Saad : 21
وَ هَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ١ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَۙ
وَهَلْ : اور کیا اَتٰىكَ : آپ کے پاس آئی (پہنچی) نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ : خبر جھگڑنے والے اِذْ : جب تَسَوَّرُوا : وہ دیوار پھاند کر آئے الْمِحْرَابَ : محراب (مسجد)
بھلا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے جب وہ دیوار پھاند کر عبادت خانے میں داخل ہوئے
آیت 21 اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے نبی حضرت داؤد کو فیصلہ کن خطاب کی صلاحیت سے نوازا اور وہ فیصلہ کرنے میں مصروف تھے، نیز اس معاملے میں ان کی طرف لوگ قصد کرتے تھے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو اشخصا کے بارے میں خبر دی جو ایک جھگڑا لے کر ان کے پاس حاضر ہوئے۔ اس جھگڑے کو اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کے لئے آزمائش اور ایک ایسی لغزش سے نصیحت بنایا جو حضرت داؤد سے واقع ہوئی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کی توبہ قبول کر کے بخش دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے یہ قضیہ پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ سے فرمایا : (وھل اتلک نبوا الخصم) ” اور کیا تمہارے پاس ان جھگڑنے والوں کی خبر آئی ہے۔ “ یہ بڑی ہی تعجب انگیز خبر ہے (اذتسوروا) ” جب وہ دیوار پھاند کر آئے تھے “ حضرت داؤد کے پاس (المحراب) ’ محراب میں۔ “ یعنی اجازت طلب کئے بغیر آپ کی عبادت کرنے کی جگہ میں دوازے کے علاوہ دوسرے راستے سے داخل ہوئے۔ جب وہ اس طریقے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ گھبرا گئے اور ان سے ڈر گئے انہوں نے آپ سے کہا کہ ہم (خصمن) ” دو جھگڑا کرنے والے ہیں “ اس لئے ڈریے مت (بخی بعضنا عل بعض) ” ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کا ارتکاب کیا ہے “ ظلم کرتے ہوئے (فاحکم بیننا بالحق) لہٰذا ہمارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور کسی ایک طرف مائل نہ ہوں (ولا تشطط واھدنا الی سوآء الصراط) ” اور بےانصافی نہ کیجیے اور سیدھے راستے کی طرف ہماری راہنمائی کیجیے۔ “ اس پورے واقعے سے مقصود یہ ہے کہ حضرت داؤد کو معلوم ہوگیا تھا کہ ان دو اشخاص کا مقصد واضح اور صریح حق ہے۔ جب یہ معاملہ ہوا اور وہ حضرت داؤد کے سامنے حق کے ساتھ قصہ بیان کرتے ہیں تو اللہ کے نبی داؤد نے ان کے وعظ و نصیحت سے تنگی محسوس کی نہ آپ نے ان کو ملامت کی۔ ان میں سے ایک نے کہ کا : (آیت) ” بیشک یہ میرا بھئای “ یعنی اس نے دین، نسب یا دوستی کی اخوت کا ذکر کیا جو تقاضا کرتی ہے کہ زیادتی نہ کی جائے۔ اس بھائی سے زیادتی کا صادر ہونا غیر کی زیادتی سے بڑھ کر تکلیف دہ ہے (لہ تسع وستعون نعجۃ) ” اس کی ننانوے دنبیاں ہیں “ اور یہ خیر کثیر ہے اور اس چیز پر قناعت کی موجب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی ہے (ولی نعجۃ واحدۃ) ” اور میرے پاس ایک نبی ہے “ یہ اس میں بھی طمع رکھتا ہے۔ (فقال اکفلنیھا) اس کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ میری خاطر اسے چھوڑ دے اور اسے میری کفالت میں دے دے (وعزنی فی الخطاب) اور اس نے بات چیت میں مجھے دبا لیا ہے حتی کہ وہ میری نبی کو حاصل کرنے ہی والا ہے۔ جب داؤد نے اس کی بات سنی۔۔۔ فریقین کی باتوں کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا تھا کہ فی الواقع ایسا ہوا ہے، اس لئے حضرت داؤد نے ضرورت نہ سمجھی کہ دوسرافریق بات کرے، لہٰذا اعتراض کرنے والے کے لئے اس قسم کے اعتراض کی کوئی گنجئاش نہیں ہے کہ حضرت داؤد نے فریق ثانی کا موقف سننے سے پہلے فیصلہ کیوں کیا ؟۔۔۔ تو فرمایا :: (آیت) ” یہ جو تیری نبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملا لے، بیشک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔ “ اکثر ساتھ اور مل جل کر رہنے والوں کی یہی عادت ہے، بنا بریں فرمایا : (آیت) ” اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔ “ کیونکہ ظلم کرنا نفوس کا وصف ہے : (آیت) ” سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے عمل صالح کیے۔ “ کیونکہ انہیں ایمان اور عمل صالح کی معیت حاصل ہوتی ہے جو انہیں ظلم سے باز رکھتے ہیں (و قلیل ماھم) ” اور ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور میرے بندوں میں کم لوگ ہی شکر گزار ہوتے ہیں۔ “ وظن داؤد) جب حضرت داؤد نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ کیا تو آپ سمجھ گئے کہ (انما فتنہ) ہم نے حضرت داؤد کی آزمائش کے لئے یہ مقدمہ بنا کر انکے سامنے پیش کیا ہے۔ (فاستغفر ربہ) جب آپ سے لغزش سر زد ہوئی تو آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی (وخرراکھا) ” اور جھک کر گرپڑے۔ “ یعنی سجدے میں گرپڑے (واناب) اور سچی توبہ اور عبادت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔ (فغرنا لہل ذلک “ پس ہم نے معاف کردی یہ لغزش “ جو آپ سے صادر ہوئی تھی اور مختلف انواع کی کرامات کے ذریعے سے آپ کو اکرام سے سرفراز کیا، فرمایا : (وان لہ عندنا لزلفی) ” اور بلا شبہ ہمارے ہاں اس کے لئے خاص مرتبہ ہے “ یعنی بہت بلند مرتبہ، جو کہ ہمارا قرب (وحسن ماب) ” اور اچھا انجام ہے۔ “ حضرت داؤد سے جو لغزش سرزد ہوئی، اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہیں فرمایا کیونکہ اس کی کوئی حاجت نہیں، اس لئے اس بارے میں تعرض کرنا محض تکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو واقعہ بیان فرمایا ہے صرف اسی میں فائدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے لطف و کرم سے نوازا، آپ کی توبہ اور انابت کو قبول کیا، آپ کا مرتبہ بلند ہوا لہٰذا توبہ کے بعد آپ کو پہلے سے بہتر مرتبہ حاصل ہوا۔ : (آیت) ” اے داؤد ! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا “ تاکہ آپ دنیا میں دینی اور دنیاوی احکام نافذ کرسکیں : (آیت) ” لہٰذا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کیجیے “ یعنی عدل و انصاف کے ساتھ اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک واجب کا علم اور واقعے کا علم نہ ہو اور حق کو نافذ کرنے کی قدرت نہ ہو۔ (ولا تتبع الھدی) ” اور خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے۔ “ ایسا نہ ہو کہ آپ کا دل کسی کی طرف اس کی قرابت، دوستی یا محبت یا فریق مخالف سے ناراضی کے باعث مائل ہوجائے) (فیضلک) ” پس وہ (خواہش نفس) آپ کو گمراہ کر دے “ (عن سبیل اللہ) ” اللہ کی راہ سے “ اور آپ کو صراط مستقیم سے دور کر دے۔ (ان الذین یضلون عن سبیل اللہ) ” بلا شبہ وہ لوگ جو اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتے ہیں۔ “ خاص طور پر وہ لوگ جو دانستہ طور پر اس کا ارتکاب کرتے ہیں۔ : (آیت) ” ان کے لئے یوم جزا سے غافل رہنے کی وجہ سے، سخت عذاب ہے۔ “ اگر وہ اسے یاد رکھتے اور ان کے دل میں اس کا خوف ہوتا تو فتنے میں مبتلا کرنے والی خواہشات نفس کبھی بھی انہیں ظلم اور ناانصافی کی طرف مائل نہ کرسکتیں۔
Top