Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tafseer-e-Saadi - Saad : 74
اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ
اِلَّآ
: سوائے
اِبْلِيْسَ ۭ
: ابلیس
اِسْتَكْبَرَ
: اس نے تکبر کیا
وَكَانَ
: اور وہ ہوگیا
مِنَ
: سے
الْكٰفِرِيْنَ
: کافروں
مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں ہوگیا
آیت 74، 88 (قل) اے رسول ! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجئے ! (انما انا مئذر) ” میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں “۔ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمہارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، مگر میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمہیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں، لہٰذا جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لئے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ (وما من الہ الا اللہ) یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ (الواحد القھار) ” وہ واحد وقہار ہے “۔ اس قطعی دلیل وبرہان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے، کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے، لہٰذا کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو محقق کرتے ہوئے فرمایا : (رب السموت والارض و ما بینھما) ” وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے “ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ (العزیز) وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ (الغفار) جو کوئی توبہ کرکے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کئے جانے کی مستحق ہے۔۔۔ جو پیدا کرسکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار ہے نہ اس کے قبضہء قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔ (قل) آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجئے (ھونبوا عظیم) یعنی میں نے تمہیں حیات بعدالموت، حشر و نشر اور اعمال کی جزا اور سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملے کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ (انتم عنہ معرضون) ” تم اس سے اعراض کرتے ہو “۔ گویا تمہیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔ اگر تمہیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمہیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔ میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لئے فرمایا : (ماکان لی من علم بالملا الاعلیٰ ) ” مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں “ (اذ یختصمون) ” جب وہ جھگڑتے تھے “۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوسکتا، بنابریں فرمایا : (ان یوحی الی الا انما انا نذیر مبین) ” میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طور پر نذیر ہوں “۔ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیٰ ﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔ پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال ربک للملکۃ) ” جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا :“ (انی خالق بشرا من طین) ” میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں “۔ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔ (فاذا سویۃ) جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کردوں اور وہ مکمل ہوجائے (ونفخت فیہ منروحی فقحوا لہ سجدین) ” اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گرپڑنا “۔ جب آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدم (علیہ السلام) کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کرنے کے لئے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کردی تو اللہ نے آدم (علیہ السلام) اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت ظاہر ہوگئی، تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا (کلھم اجمعون الا ابلیس) ” ان سب نے سوائے ابلیس کے “ اس نے سجدہ نہ کیا (استکبر) اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے تکبر کا اظہار کیا (وکان من الکفرین) ” اور وہ کافروں میں سے تھا “۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔ (قال) اللہ تعالیٰ نے زجرو توبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا : (مامنعک ان تسجد لما خلقت بیدی) ”(اے ابلیس ! ) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا “۔ یعنی جسی میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بناء پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبیر کا تقاضا کرتی ہے (استکبرت) کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہیں کیا (ام کنت من العالین) ’ ویا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے ؟ “ (قال) ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا : (انا خیر منہ خلقتی من نار و خلقتہ من طین) ” میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا “۔ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے، کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجر و نباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے۔ جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تو شاگردوں کا کیا حال ہوگا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔ (قال) اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا : (فاخرج منھا) یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا (فانک رجیم) ” بیشک تو مردود ہے “ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ( و ان علیک لعنتی) ” اور تجھ پر میری لعنت ہے “ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا (الی یوم الدین) ” قیامت کے دن تک ہے “ یعنی دائمی اور ابدالا آباد تک ہے۔ (قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون) ” اس نے کہا، میرے رب ! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔ “ چونکہ اسے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی اس لئے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کرسکے جن کے لئے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کردیا ہے۔ (قال) اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا : فانک من المنطرین۔ الی یوم الوقت المعلوم) ” تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے “۔ جب ذریت آدم پوری ہوجائے گی تو امتحان بھی پایہء تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ جب ابلیس کو معلوم ہوگیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بناء پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کردیا اور کہنے لگا : (فبعزتک لاغوینھم اجمعین) اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لئے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کرکے رہے گا (الا عبادک منھم المخلصین) ” ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کرلیا ہے “۔ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکروفریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لئے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بےبس ہے اور اللہ ترعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کرسکت، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔۔۔ اے ہمارے رب ! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصور وار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت وقدرت اور تمام مخلوق کے لئے تیری بےپایاں رحمت کے ذریعے سے تجھد سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا ہے، ہمیں شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب ! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا : و قال ربکم ادعونی استجب لکم) (عافر : 03/06) ” اور تمہارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا “۔ اے ہمارے رب ! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ (انک لا تخلف المیعاد) آل عمران : 3/391) ” بیشک تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ (قال) اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فالحق والحق اقول) ” سچ ( ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں “۔ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے (لامئن جھنم منک و ممن تبعک منھم اجمعین) ” کہ میں تجھ سی اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا “۔ پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اور ان کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : (قال ماسئلکم علیہ) ” کہہ دیجئے ! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر “ یعنی تمہیں اللہ کی رطف بلانے پر (من اجر و ما انا من المتکلفین) ” کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں “ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار ہے نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے (ان ھو) یعنی یہ وحی اور یہ قرآن (الا ذکر للعلمین) ” جہان والوں کے لئے نصیحت ہے “۔ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کیلئے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قران کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے، نیز یہ سورة مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتداء میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لئے یاددہانی ہے۔ پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے۔ مثلاً فرمایا ( واذکرعبدنا) ” اور یاد کرو ہمارے بندے کو “ (واذکر عبدنا) ” اور یاد کرو ہمارے بندوں کو “ (رحمۃ منا و ذکری) ” یہ رحمت ہے ہماری طرف سے اور نصیحت ہے “ (ہذا ذکر) ” یہ نصیحت ہے “۔ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیزکو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔ (ولتعلمن نباہ) ” اور تم اس کی خبر جان لو گے “۔ یعنی جو اس نے خبر دی ہے (بعدحین) ” ایک وقت کے بعد “ اور یہ وہ وقت ہوگا جب ان پر عذاب واقع ہوگا اور تمام اسباب منقطع ہوجائیں گے۔
Top