Tafseer-e-Saadi - Saad : 74
اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ
اِلَّآ : سوائے اِبْلِيْسَ ۭ : ابلیس اِسْتَكْبَرَ : اس نے تکبر کیا وَكَانَ : اور وہ ہوگیا مِنَ : سے الْكٰفِرِيْنَ : کافروں
مگر شیطان اکڑ بیٹھا اور کافروں میں ہوگیا
آیت 74، 88 (قل) اے رسول ! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجئے ! (انما انا مئذر) ” میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں “۔ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمہارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، مگر میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمہیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں، لہٰذا جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لئے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ (وما من الہ الا اللہ) یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق ہو۔ (الواحد القھار) ” وہ واحد وقہار ہے “۔ اس قطعی دلیل وبرہان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات ہے کہ وہ ہر چیز پر غالب ہے، کیونکہ غلبہ وحدت کو مستلزم ہے، لہٰذا کبھی بھی یہ ممکن نہیں کہ دو ہستیاں مساوی طور پر غالب ہوں۔ پس وہ ہستی جو تمام کائنات پر غالب و قاہر ہے، وہ ایک ہی ہے۔ اس کی کوئی نظیر نہیں، وہی اس بات کی مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، جیسا کہ وہ اکیلی غالب ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے توحید ربوبیت کی دلیل کے ذریعے سے اس کو محقق کرتے ہوئے فرمایا : (رب السموت والارض و ما بینھما) ” وہ آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے “ یعنی وہ کائنات کو پیدا کرنے والا، اس کی پرورش کرنے والا اور تمام انواع تدبیر کے ذریعے سے اس کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ (العزیز) وہ ایسی قوت کا مالک ہے جس کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا۔ (الغفار) جو کوئی توبہ کرکے گناہوں سے باز آجاتا ہے وہ اس کے چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ پس یہی وہ ہستی ہے جو ہر اس ہستی کے سوا عبادت اور محبت کئے جانے کی مستحق ہے۔۔۔ جو پیدا کرسکتی ہے نہ رزق دے سکتی ہے، جو نقصان پہنچا سکتی ہے نہ نفع، جسے کسی چیز کا کچھ بھی اختیار نہیں، جس کے پاس قوت اقتدار ہے نہ اس کے قبضہء قدرت میں گناہوں کی بخشش ہے۔ (قل) آپ ان کو ڈراتے ہوئے کہہ دیجئے (ھونبوا عظیم) یعنی میں نے تمہیں حیات بعدالموت، حشر و نشر اور اعمال کی جزا اور سزا کے بارے میں جو خبر دی ہے، وہ بہت بڑی خبر ہے اور اس بات کی پوری پوری مستحق ہے کہ اس کے معاملے کو بہت اہم سمجھا جائے اور اس بارے میں غفلت کو جگہ نہ دی جائے۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ (انتم عنہ معرضون) ” تم اس سے اعراض کرتے ہو “۔ گویا تمہیں حساب و کتاب اور ثواب و عذاب کا سامنا کرنا ہی نہیں۔ اگر تمہیں میری بات میں کوئی شک اور میری خبر میں کوئی شبہ ہے تو میں تمہیں کچھ ایسی خبریں دیتا ہوں جن کا مجھے کچھ علم تھا نہ میں نے ان کو کسی کتاب میں پڑھا۔ میری خبریں کسی کمی بیشی کے بغیر صحیح ثابت ہوئی ہیں، یہ میری صداقت اور جو کچھ میں تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں، اس کی صحت پر سب سے بڑی اور سب سے واضح دلیل ہے۔ اس لئے فرمایا : (ماکان لی من علم بالملا الاعلیٰ ) ” مجھے ان بلند قدر فرشتوں (کی بات چیت) کا کچھ بھی علم نہیں “ (اذ یختصمون) ” جب وہ جھگڑتے تھے “۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے باخبر نہ کرے اور میری طرف وحی نہ کرے تو مجھے بلند قدر فرشتوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوسکتا، بنابریں فرمایا : (ان یوحی الی الا انما انا نذیر مبین) ” میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ میں واضح طور پر نذیر ہوں “۔ یعنی واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ حضرت مصطفیٰ ﷺ سے زیادہ واضح اور بلیغ کوئی ڈرانے والا نہیں ہے۔ پھر بلند قدر فرشتوں کے درمیان جھگڑے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال ربک للملکۃ) ” جب آپ کے رب نے فرشتوں کو (خبر دیتے ہوئے) فرمایا :“ (انی خالق بشرا من طین) ” میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں “۔ یعنی اس کا مادہ مٹی سے تیار ہوا ہے۔ (فاذا سویۃ) جب میں اس کے جسم کو نک سک سے درست کردوں اور وہ مکمل ہوجائے (ونفخت فیہ منروحی فقحوا لہ سجدین) ” اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گرپڑنا “۔ جب آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کی تکمیل ہوئی اور روح پھونک دی گئی تو فرشتوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل اور آدم (علیہ السلام) کی تکریم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آدم کے سامنے سجدہ کرنے کے لئے آمادہ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے بدن و روح کی تخلیق مکمل کردی تو اللہ نے آدم (علیہ السلام) اور فرشتوں کا امتحان لیا اور اس طرح فرشتوں پر حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت ظاہر ہوگئی، تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سجدہ کیا (کلھم اجمعون الا ابلیس) ” ان سب نے سوائے ابلیس کے “ اس نے سجدہ نہ کیا (استکبر) اس نے نہایت غرور سے اپنے رب کا حکم ٹھکرا دیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے تکبر کا اظہار کیا (وکان من الکفرین) ” اور وہ کافروں میں سے تھا “۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں ابلیس کافر تھا۔ (قال) اللہ تعالیٰ نے زجرو توبیخ اور عتاب کرتے ہوئے فرمایا : (مامنعک ان تسجد لما خلقت بیدی) ”(اے ابلیس ! ) جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا “۔ یعنی جسی میں نے شرف و تکریم سے سرفراز فرمایا اور اسے اس خصوصیت سے مختص کیا جس کی بناء پر اسے تمام مخلوق میں خصوصیت حاصل ہے۔ یہ چیز اس کے سامنے عدم تکبیر کا تقاضا کرتی ہے (استکبرت) کیا تو نے تکبر کی بنا پر سجدہ نہیں کیا (ام کنت من العالین) ’ ویا تو بڑے بلند درجے والوں میں سے ہے ؟ “ (قال) ابلیس نے اپنے رب کی مخالفت کرتے اور نقض وارد کرتے ہوئے کہا : (انا خیر منہ خلقتی من نار و خلقتہ من طین) ” میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا “۔ ابلیس سمجھتا تھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ یہ فاسد قیاس ہے، کیونکہ آگ کا عنصر شر، فساد، تکبر، طیش اور خفت کا مادہ ہے اور مٹی کا عنصر وقار، تواضع اور مختلف انواع کے شجر و نباتات کا مادہ ہے، مٹی آگ پر غالب ہے اسے بجھا دیتی ہے۔ آگ کسی ایسے مادے کی محتاج ہے جو اس کو قائم رکھے اور مٹی بنفسہ قائم ہے۔ یہ تھا کفار کے شیخ کا قیاس جس کی بنیاد پر اس نے اللہ تعالیٰ کے بالمشافہ حکم کی خلاف ورزی کی۔ اس قیاس کا بطلان اور فساد بالکل واضح ہے۔ جب ان کے استاد کے قیاس کا یہ حال ہے تو شاگردوں کا کیا حال ہوگا جو اپنے باطل قیاسات کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرتے ہیں، ان کے قیاسات، اس قیاس کی نسبت زیادہ باطل ہیں۔ (قال) اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا : (فاخرج منھا) یعنی عزت و تکریم کے اس مقام، آسمان سے نکل جا (فانک رجیم) ” بیشک تو مردود ہے “ یعنی دھتکارا ہوا ہے۔ ( و ان علیک لعنتی) ” اور تجھ پر میری لعنت ہے “ یعنی میری یہ پھٹکار اور اپنی رحمت سے تجھے دور کرنا (الی یوم الدین) ” قیامت کے دن تک ہے “ یعنی دائمی اور ابدالا آباد تک ہے۔ (قال رب فانظرنی الی یوم یبعثون) ” اس نے کہا، میرے رب ! مجھے اس روز تک کہ لوگ اٹھائے جائیں مہلت دے۔ “ چونکہ اسے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد سے شدید عداوت تھی اس لئے اس نے یہ درخواست کی تاکہ وہ ان لوگوں کو بدراہ کرسکے جن کے لئے بدراہ ہونا اللہ تعالیٰ نے مقدر کردیا ہے۔ (قال) اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی درخواست قبول کرتے ہوئے فرمایا : فانک من المنطرین۔ الی یوم الوقت المعلوم) ” تجھ کو مہلت دی جاتی ہے، اس روز تک جس کا وقت مقرر ہے “۔ جب ذریت آدم پوری ہوجائے گی تو امتحان بھی پایہء تکمیل کو پہنچ جائے گا۔ جب ابلیس کو معلوم ہوگیا کہ اسے مہلت دے دی گئی ہے تو اس نے اپنے خبث باطن کی بناء پر اپنے رب، آدم اور اولاد آدم کے ساتھ اپنی شدید عداوت کو ظاہر کردیا اور کہنے لگا : (فبعزتک لاغوینھم اجمعین) اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ (باء) قسم کے لئے ہو یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی عزت و جلال کی قسم کھا کر اعلان کیا کہ وہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کرکے رہے گا (الا عبادک منھم المخلصین) ” ان لوگوں کے سوا جن کو تو نے خاص کرلیا ہے “۔ ابلیس کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کے مکروفریب سے بچا لے گا۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ (باء) استعانت کے لئے ہو۔ چونکہ ابلیس کو معلوم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے عاجز اور بےبس ہے اور اللہ ترعالیٰ کی مشیت کے بغیر کسی کو گمراہ نہیں کرسکت، تو اس نے اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی عزت سے مدد چاہی، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی دشمن ہے۔۔۔ اے ہمارے رب ! ہم تیرے انتہائی عاجز اور قصور وار بندے ہیں ہم تیری ہر نعمت کا اقرار کرتے ہیں، ہم اس ہستی کی اولاد ہیں جس کو تو نے عزت و شرف اور اکرام و تکریم سے سرفراز فرمایا۔ ہم تیری عظیم عزت وقدرت اور تمام مخلوق کے لئے تیری بےپایاں رحمت کے ذریعے سے تجھد سے مدد مانگتے ہیں، جو ہم پر بھی سایہ کناں ہے جس کے ذریعے سے تو نے ہم سے اپنی ناراضی کو دور فرمایا ہے، ہمیں شیطان کی محاربت و عداوت، اس کے شر اور شرک سے سلامت رہنے میں ہماری مدد فرما۔ اے ہمارے رب ! ہم تجھ پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ تو ہماری دعا قبول فرمائے گا ہم تیرے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں جس میں تو نے فرمایا تھا : و قال ربکم ادعونی استجب لکم) (عافر : 03/06) ” اور تمہارے رب نے کہا، مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا “۔ اے ہمارے رب ! ہم نے تیرے حکم کے مطابق تجھ کو پکارا ہے پس جیسا کہ تو نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے ہماری دعا کو قبول فرما۔ (انک لا تخلف المیعاد) آل عمران : 3/391) ” بیشک تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ (قال) اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فالحق والحق اقول) ” سچ ( ہے) اور میں بھی سچ کہتا ہوں “۔ یعنی حق میرا وصف اور حق میرا قول ہے (لامئن جھنم منک و ممن تبعک منھم اجمعین) ” کہ میں تجھ سی اور ان سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھردوں گا “۔ پس جب رسول نے لوگوں سے بیان کردیا اور ان کے سامنے راہ واضح کردی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : (قال ماسئلکم علیہ) ” کہہ دیجئے ! میں نہیں مطالبہ کرتا تم سے اس پر “ یعنی تمہیں اللہ کی رطف بلانے پر (من اجر و ما انا من المتکلفین) ” کوئی بدلہ اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں “ کہ میں ایسی چیز کا دعویٰ کروں جس کا مجھے اختیار ہے نہ میں کسی ایسی بات کی ٹوہ ہی میں رہتا ہوں جس کا مجھے علم نہیں۔ میں تو صرف اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے (ان ھو) یعنی یہ وحی اور یہ قرآن (الا ذکر للعلمین) ” جہان والوں کے لئے نصیحت ہے “۔ اس سے وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں جو ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں فائدہ دیتی ہے اور تب یہ قرآن تمام جہانوں کیلئے شرف اور رفعت کا حامل اور معاندین حق کے خلاف حجت ہے۔ یہ عظیم سورت حکمت سے لبریز نصیحت اور عظیم خبر پر مشتمل ہے۔ ان لوگوں کے خلاف برہان اور حجت قائم کرتی ہے جو قران کو جھٹلا کر اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قرآن لانے والے کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ سورت اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں کے بارے میں آگاہ کرتی ہے، نیز یہ سورة مبارکہ تقویٰ شعار بندوں اور سرکش لوگوں کی جزا و سزا کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اس کی ابتداء میں قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا کہ یہ یاددہانی پر مشتمل ہے اور اس کے اختتام پر فرمایا کہ یہ تمام جہانوں کے لئے یاددہانی ہے۔ پھر اس سورت کے اندر بھی اکثر مقامات پر اس یاددہانی کا ذکر کیا ہے۔ مثلاً فرمایا ( واذکرعبدنا) ” اور یاد کرو ہمارے بندے کو “ (واذکر عبدنا) ” اور یاد کرو ہمارے بندوں کو “ (رحمۃ منا و ذکری) ” یہ رحمت ہے ہماری طرف سے اور نصیحت ہے “ (ہذا ذکر) ” یہ نصیحت ہے “۔ وغیرہ۔ اے اللہ ہم اس میں سے جس چیزکو نہیں جانتے اس کا علم عطا کر اور ہم جس چیز کو اپنی غفلت یا ترک کرنے کے باعث بھول جائیں، تو ہمیں اس کی یاددہانی کرا۔ (ولتعلمن نباہ) ” اور تم اس کی خبر جان لو گے “۔ یعنی جو اس نے خبر دی ہے (بعدحین) ” ایک وقت کے بعد “ اور یہ وہ وقت ہوگا جب ان پر عذاب واقع ہوگا اور تمام اسباب منقطع ہوجائیں گے۔
Top