Tafseer-e-Majidi - Al-Ankaboot : 6
یَّهْدِیْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
يَّهْدِيْ : ہدایت دیتا ہے بِهِ : اس سے اللّٰهُ : اللہ مَنِ اتَّبَعَ : جو تابع ہوا رِضْوَانَهٗ : اس کی رضا سُبُلَ : راہیں السَّلٰمِ : سلامتی وَيُخْرِجُهُمْ : اور وہ انہیں نکالتا ہے مِّنَ : سے الظُّلُمٰتِ : اندھیرے اِلَى النُّوْرِ : نور کی طرف بِاِذْنِهٖ : اپنے حکم سے وَيَهْدِيْهِمْ : اور انہیں ہدایت دیتا ہے اِلٰي : طرف صِرَاطٍ : راستہ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھا
اور جو کوئی محنت کرتا ہے وہ اپنے ہی لئے محنت کرتا ہے،5۔ بیشک اللہ سارے عالم سے بےنیاز ہے،6۔
5۔ (نہ یہ کہ اس سے اس کے معبود کو کوئی نفع پہنچے) (آیت) ” لنفسہ “۔ یعنی اپنے ہی نفع و راحت کے لیے۔۔ اپنے نفع کا علم ہوجانے کے بعدقدرۃ ہر مشقت آسان ہوجاتی ہے۔ مشرک جاہلی قوموں کا فلسفہ یہ تھا کہ بندے جس طرح خدا کے محتاج ہیں، خدا بھی اسی طرح ان کا محتاج ہے اور جس طرح وہ انکی نگرانی کرتا رہتا ہے یہ بھی تو برابر اس کی خدا مت میں لگے رہتے ہیں ! 6۔ (آیت) ” غنی عن العلمین “۔ ” بےنیاز “ یہاں اردو کے ” بےپروا “ کے معنی میں نہیں، غیر محتاج کے معنی میں ہے۔ ؛ یعنی تم جو خدا کو بھی کسی معنی میں اپنا محتاج دوست نگر سمجھ رہے ہو یہ تمامتر جہل ہے، وہ تو مخلوق میں سے کسی کا، کسی معنی میں بھی دست نگر نہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں مجاہدہ کے بعد عجب اور دعوی استحقاق پیدا ہونے کی جڑ کاٹ دی گئی ہے۔
Top